TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ماہِ رجب میں عمرہ کرنے کا بیان - ماہِ رجب میں عمرہ کرنے کا بیان - عمرہ کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 8 of عمرہ کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 8 of 11 · 2 Hadith
۔ (۴۱۲۱)عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَۃُ بْنُ الزَّبَیْرِ الْمَسْجِدَ فَإِذَا نَحْنُ بِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَجَالَسْنَاہُ قَالَ: فَإِذَا رِجَالٌ یُصَلُّوْنَ الضُّحٰی، فَقُلْنَا: یَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ! مَا ہٰذِہِ الصَّلَاۃُ؟ فَقَالَ: بِدْعَۃٌ، فَقُلْنَا لَہُ: کَمِ اعْتَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: أَرْبَعًا، إِحْدَاہُنَّ فِیْ رَجَبٍ، قَالَ: فَاسْتَحْیَیْنَا أَنْ نَرُدَّ عَلَیْہِ، قَالَ: فَسَمِعْنَا اسْتِنانَ أُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، فَقَالَ لَہَا عُرْوَۃُ بْنُ الزَّبَیْرِ: یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ! أَلاَ تَسْمَعِیْ مَا یَقُوْلُ أَبُوْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ؟ یَقُوْلُ: اِعْتَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرْبَعًا إِحْدَاہُنَّ فِیْ رَجَبٍ، فَقَالَتْ: یَرْحَمُ اللّٰہُ أَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ، أَمَا إِنَّہُ لَمْ یَعْتَمِرْ عُمْرَۃً إلِاَّ وَہُوَ شَاہِدُہَا، وَمَا اعْتَمَرَ شَیْئًا فِی رَجَبٍ۔ (مسند احمد:۶۱۲۶)
۔ مجاہدکہتے ہیں: میں اور عروہ بن زبیر مسجد میں داخل ہوئے، وہاں سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تشریف فرما تھے، ہم ان کے ساتھ بیٹھ گئے، وہاں کچھ لوگ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے، ہم نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! یہ کون سی نماز ہے؟ انھوں نے کہا: یہ بدعت ہے۔ ہم نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کتنے عمرے کیے؟ انھوں نے کہا: چار اور ان میں سے ایک رجب میں تھا۔ یہ سن کر ہم اس سے شرما گئے کہ ان کی غلطی کی نشاندہی کر سکیں، اتنے میں ہم نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے مسواک کرنے کی آواز سنی، عروہ بن زبیر نے ان سے کہا: ام المؤمنین! کیا آپ سن نہیں رہیں کہ ابو عبد الرحمن کیا کہہ رہے ہیں، وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چار عمرے کیے اور ان میں سے ایک رجب میں تھا۔ یہ سن کر سیدہ نے کہا: اللہ ابو عبد الرحمن پر رحم کرے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو بھی عمرہ کیا، وہ اس موقع پر حاضر ہو تے تھے، بہرحال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا۔
Takhreej
(۴۱۲۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۷۷۴، ۱۷۷۶، ۴۲۵۳، ومسلم: ۱۲۵۵(انظر: ۶۱۲۶)
Explanation
فوائد: … نمازِ چاشت مسنون اور فضیلت والا عمل ہے، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کے اسے بدعت کہنے سے مراد اس نماز کو مسجد میں ظاہر کرنا اور اکٹھے ہو کر اس کو ادا کرنا ہے۔ ان کا مقصود یہ تھا کہ جو عمل جس انداز میں عہدِ نبوی میں سر انجام دیا گیا، اس کو اسی حالت میں برقرار رکھنا چاہیے، درج ذیل روایت سے اس تاویل کی تائید ہوتی ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌نے کچھ لوگوں کو مسجد میں اکٹھے ہو کر نمازِ چاشت پڑھتے ہوئے دیکھا، ان پر انکار کیا اور کہا: اگر یہ نماز لازمی طور پر پڑھنی ہی ہے تو اس کو اپنے گھروں میں ادا کرو۔ (ابن ابی شیبہ: ۲/ ۴۰۵)
4121
Sahih
۔ (۴۱۲۲) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَطَائً یَقُوْلُ: أَخْبِرْنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزَّبَیْرِ قَالَ: کُنْتُ أَنَا وَابْنُ عُمَرَ، مُسْتَنِدَیْنِ إِلٰی حُجْرَۃِ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا إِنَّا لَنَسْمَعُہَا، تَسْتَنُّ، قُلْتُ: أَمَّاہ! مَا تَسْمَعِیْنَ ماَ یَقُوْلُ أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ؟ قَالَتْ: مَا یَقُوْلُ؟ قُلْتُ: یَقُوْلُ اِعْتَمَر النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی رَجَبٍ، قَالَتْ: یَغْفِرُ اللّٰہُ لِأَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، نَسِیَ، مَا اعْتَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی رَجَبٍ قَالَ: وَابْنُ عُمَرَ یَسْمَعُ فَمَا قَالَ لاَ وَلَا نَعَمْ، سَکَتَ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۸۳)
۔ (دوسری سند) عروہ بن زبیر کہتے ہیں: میں اور سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حجرۂ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھے تھے اور ہم ان کے مسواک کرنے کی آواز سن رہے تھے، میں نے کہا: اماں جان! کیا آپ نے ابو عبد الرحمن کی بات نہیں سنی؟ انھوں نے کہا: وہ کیا کہہ رہے ہیں؟ میں نے کہا: وہ کہہ رہے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رجب میں عمرہ کیا، انھوں نے کہا: اللہ تعالی ابو عبد الرحمن کو بخشے، وہ بھول گئے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا تھا۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ ساری بات سن رہے تھے، لیکن انھوں نے نہ منفی میں کچھ کہا اور نہ اثبات میں، بلکہ خاموش رہے۔
Takhreej
(۴۱۲۲) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد: …نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رجب میں کوئی عمرہ ادا نہیں کیا تھا، تین عمرے ذوالقعدہ میں ادا کیے اور ایک ذوالحجہ میں، دوسری روایت کے مطابق سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کا خاموش ہو جانا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ان پر یہ معاملہ مشتبہ ہو گیا تھا، یا وہ بھول گئے تھا یا کوئی شک پڑ گیا تھا۔
4122
Sahih

Chapters

11