TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

حج قران کا بیان - حج قران کا بیان - احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 9 of احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 9 of 22 · 12 Hadith
۔ (۴۱۸۶) عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِیْ الْجَعْدِ مَوْلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَأَتَیْنَا ذَالْحُلَیْفَۃِ فَقَالَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: إِنِّی أُرِیْدُ أَنْ أَجْمَعَ بَیْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ، فَمَنْ أَرَادَ ذٰلِکَ فَلْیَقُلْ کَمَا أَقُوْلُ، ثُمَّ لَبّٰی قَالَ: لَبَّیْکَ بِحَجٍّ وَعُمْرَۃٍ مَعًا، قَالَ: وَقَالَ سَالِمٌ وَقَدْ أَخْبَرَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: وَاللّٰہِ إِنَّ رِجْلِیْ لَتَمَسُّ رِجْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَإِنَّہُ لَیُہِلُّ بِہِمَا جَمِیْعًا۔ (مسند احمد: ۱۴۰۲۹)
۔ سالم بن ابی الجعد کہتے ہیں: ہم سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی معیّت میں حج کے لیے روانہ ہوئے، جب ذوالحلیفہ کے مقام پر پہنچے تو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں تو حج اور عمرہ کو اکٹھا ادا کرنا چاہتا ہوں، لہٰذا جو آدمی اس طرح کرنا چاہتا ہو، وہ اسی طرح کہے جیسے میں کہوں، پھر انہوں نے یوں تلبیہ پڑھا: لَبَّیْکَ بِحَجٍّ وَعُمْرَۃٍ مَعًا (میں حاضر ہوں، حج اور عمرے دونوں کے ساتھ)۔ سالم کہتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے یہ بات بتلائی: اللہ کی قسم! دورانِ سفر میری ٹانگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ٹانگ کو لگ رہی تھی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا تلبیہ پڑھ رہے تھے۔
Takhreej
(۴۱۸۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۲۵۱(انظر: ۱۳۹۸۴)
4186
Sahih
۔ (۴۱۸۷) عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلَالٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا قَالَ: قَالَ لِیْ عِمْرَانُ بْنُ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: إِنِّی أُحَدِّثُکَ حَدِیْثًا عَسَی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ أَنْ یَنْفَعَکَ بِہِ، إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ جَمَعَ بَیْنَ حَجٍّ وَعُمْرَۃٍ ثُمَّ لَمْ یَنْہَ عَنْہُ حَتّٰی مَاتَ وَلَمْ یَنْزِلْ قُرْآنٌ فِیْہِیُحَرِّمُہُ، وَإِنَّہُ کَانَ یُسَلَّمُ عَلَیَّ فَلَمَّا اکْتَوَیْتُ أُمْسِکَ عَنِّی، فَلَمَّا تَرَکْتُہُ عَادَ إِلَیَّ۔ (مسند احمد: ۲۰۰۷۱)
۔ مطرف کہتے ہیں:سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے کہا: میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں، امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے نفع پہنچائے گا، بات یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج اور عمرہ کو جمع کر کے ادا کیا تھا،پھر نہ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دنیا سے رخصت ہونے تک اس سے منع فرمایا اور نہ کوئی قرآن مجید کا ایسا حصہ نازل ہوا، جس نے اسے حرام کر دیا ہو۔ نیز میں عمران کہتا ہوں: اللہ کے فرشتے مجھے سلام کہا کرتے تھے، لیکن جب میں نے (بواسیر کے زخم کا علاج کرنے کے لیے اس کو) داغا تو انھوں نے سلام کہنا بند کر دیا، پھر جب میں نے داغنے کا یہ عمل ترک کر دیا تو وہ مجھے دوبارہ سلام کہنے لگ گئے۔
Takhreej
(۴۱۸۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۲۲۶(انظر: ۱۹۸۳۳)
Explanation
فوائد:… زخم کو داغنا جائز ہے، لیکن مکروہ ہے، کیونکہیہ توکل اور ایمان کے اعلی درجے کے منافی ہے، اسی کراہت کی بنا پر فرشتوں نے سلام کا سلسلہ منقطع کر دیا تھا۔
4187
Sahih
۔ (۴۱۸۸) عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ عَمَّارٍ عَنِ الْہِرْمَاسِ بْنِ زِیَادٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کُنْتُ رِدْفَ أَبِیْ فَرَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی بَعِیْرٍ وَہُوَ یَقُوْلُ: ((لَبَّیْکَ بِحَجَّۃٍ وَعُمْرَۃٍ مَعًا۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۶۷)
۔ ہر ماس بن زیاد کہتے ہیں: میں اپنے والد کے پیچھے سواری پر بیٹھا تھا، میں نے اس حال میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اونٹ پر سوار تھے اور یوں تلبیہ پکار رہے تھے: لَبَّیْکَ بِحَجَّۃٍ وَعُمْرَۃٍ مَعًا۔ ( میں حج اور عمرہ دونوں کے لئے حاضر ہوں)۔
Takhreej
(۴۱۸۸) تخریج: حدیث حسن دون قولہ: ((لبیک بحجۃ وعمرۃ معا۔)) فانھا زیادۃ منکرۃ، عبد اللہ بن عمران الاصبھانی اخطأ فی ھذا الحدیث۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۲/ ۵۳۴، وفی ’’الاوسط‘‘: ۴۳۲۳ (انظر: ۱۵۹۷۱)
4188
Sahih
۔ (۴۱۸۹) عَنِ الْحَکَمِ عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ أَنَّ الصُّبَیَّ بْنَ مَعْبَدٍ کَانَ نَصْرَانِیًّا تَغْلِبِیًّا أَعْرَابِیًّا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: أَنَّ رَجُلًا کَانَ نَصْرَانِیًّایُقَالَ لَہُ الصُّبَیُّ بْنُ مَعْبَدٍ) فَأَسْلَمَ فَسَأَلَ: أَیُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ فَقِیْلَ لَہُ: الْجِہَادُ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ، فَأَرَادَ أَنْ یُجَاہِدَ، فَقِیْلَ لَہُ: حَجَجْتَ؟ فَقَالَ: لَا، فَقِیْلَ: حُجَّ وَاعْتَمِرْ ثُمَّ جَاہِدْ، فَانْطَلَقَ حَتّٰی إِذَا کَانَ بِالْحَوَابِطِ، أَہَلَّ بِہِمَا جَمِیْعًا، فَرَآہُ زَیْدُ بْنُ صُوْحَانَ وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِیْعَۃَ فَقَالَا: لَہُوَ أَضَلُّ مِنْ جَمَلِہِ أَوْ مَا ہُوَ بِأَہْدٰی مِنْ نَاقَتِہِ، فَانْطَلَقَ إِلٰی عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَأَخْبَرَہُ بِقَوْلِہِمَا فَقَالَ: ہُدِیْتَ لِسُنَّۃِ نَبِیِّکَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ الْحَکَمُ: فَقُلْتُ لِأَبِی وَائِلٍ: حَدَّثَکَ الصُّبَیُّ؟ فَقَالَ: نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۸۳)
۔ سیدنا ابو وائل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: صبی بن معبد بنو تغلب کا ایک بدّو آدمی تھا، وہ مذہباً عیسائی تھا، پھر اس نے اسلام قبول کر لیا، اس کے بعد اس نے پوچھا: کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ اسے بتلایا گیا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، جب اس نے جہاد کا ارادہ کیا تو اس سے پوچھا گیا: کیا تم نے حج کیا ہے؟ اس نے بتلایا: جی نہیں۔ اس سے کہا گیا: تم پہلے حج اور عمرہ کر لو، پھر جہاد کرنا، پس وہ اس مقصد کے لیے روانہ ہوگیا اور جب وہ حوابط مقام پر پہنچا تو اس نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا،،زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ نے اسے اس طرح دیکھ کر کہا: یہ تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ گمراہ ہے، یایہ تو اپنی اونٹنی سے زیادہ ہدایت والا نہیں،یہ سن کر وہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان دونوں کی بات کا ان سے ذکر کیا۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تمہیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق ملی ہے۔حکم کہتے ہیں: میں نے ابووائل سے پوچھا: کیا صبی نے تم کو یہ حدیث بیان کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔
Takhreej
(۴۱۸۹) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۷۹۸، ۱۷۹۹، والنسائی: ۵/ ۱۴۶، وابن ماجہ: ۲۹۷۰(انظر: ۸۳)
Explanation
فوائد:… سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌تو حج و عمرہ کو جمع کرنے سے منع کرتے تھے، لیکن اس مقام پر اس عمل کو سنت کہہ رہے ہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌بعض مصلحتوں کی بنا پر اس کوجائز سمجھتے تھے۔
4189
Sahih
۔ (۴۱۹۰)عَنْ سُرَاقَۃَ بْنِ مَالِکِ بْنِ جُعْشُمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((دَخَلَتِ الْعُمْرَۃُ فِیْ الْحَجِّ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ: وَقَرَنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ۔ (مسند احمد: ۱۷۷۲۶)
۔ سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت تک عمرہ حج میں داخل ہو گیاہے۔ نیز رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود حجۃ الوداع کے موقع پر ان دونوں کو ایک احرام میں جمع کیا تھا۔
Takhreej
(۴۱۹۰) تخریج: صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۹۷۷(انظر: ۱۷۵۸۳)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کے دو معانی ہو سکتے ہیں: (۱) حج کے مہینوں میں عمرہ ادا کیا جا سکتا ہے، جبکہ اس سے پہلے دورِ جاہلیت میں اس چیز کو بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا تھا۔ (۲) حج قران کرنا، جس میں حج کے افعال میں عمرہ داخل ہو جاتا ہے اور ایک طواف اور ایک سعی حج اور عمرہ دونوں کی طرف سے کفایت کر جاتے ہیں۔
4190
Sahih
۔ (۴۱۹۱) عَنْ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ بِالْعَقِیْقِ،یَقُوْلُ: ((أَتَانِیَ اللَّیْلَۃَ آتٍ مِنْ رَبِّیْ، فَقَالَ: صَلِّ فِیْ ہٰذَا الْوَادِیْ الْمُبَارَکِ وَقُلْ عُمْرَۃٌ فِیْ حَجَّۃٍ۔)) قَالَ الْوَلِیْدُ،یَعْنِی ذَا الْحُلَیْفَۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۶۱)
۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے وادیٔ عقیق میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: آج رات میرے ربّ کی طرف سے ایک آنے والے (فرشتے یعنی جبریل علیہ السلام ) نے آ کر کہا: آپ اس مبارک وادی میں نماز ادا کریں اور یوں کہیں کہ یہ عمرہ حج کے ساتھ ہی ہے۔ ‘ ولید راوی کہتے ہیں: وادی سے مراد ذوالحلیفہ ہے۔
Takhreej
(۴۱۹۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۳۳۷ (انظر: ۱۶۱)
Explanation
فوائد:… وادیٔ عقیق سے مراد ذوالحلیفہ ہے، جو کہ اہل مدینہ کی میقات ہے، برکت کی وجوہات کا علم اللہ تعالی کو ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اس وادی جو نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا، اس سے مراد نماز فجر ہے۔
4191
Sahih
۔ (۴۱۹۲)عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ قَالَ: شَہِدْتُّ عَلِیًّا وَعُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِیْنَۃِ، وَعُثْمَانُ یَنْہَی عَنِ الْمُتْعَۃِ، وَأَنْ یُجْمَعَ بَیْنَہُمَا، فَلَمَّا رَأَی ذٰلِکَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَہَلَّ بِہِمَا فَقَالَ: لَبَّیْکَ بِعُمْرَۃٍ وَحَجٍّ مَعًا، فَقَالَ عُثْمَانُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: تَرَانِی أَنْہٰی النَّاسَ عَنْہُ وَأَنْتَ تَفْعَلُہُ؟ قَالَ: لَمْ أَکُنْ أَدَعُ سُنَّۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِقَوْلِ أَحَدٍ مِّنَ النَّاسِ۔ (مسند احمد: ۱۱۳۹)
۔ مروان بن حکم کہتے ہیں: میں سیدنا علی اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے ساتھ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان حاضرہوا، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حج تمتع سے اور حج اور عمرے کو ایک احرام میں جمع کرنے سے منع کر رہے تھے۔ لیکن جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ دیکھا تو انہوں نے ان دونوں کا اکٹھا تلبیہ پڑھا اور یوں کہا: لَبَّیْکَ بِعُمْرَۃٍ وَحَجٍّ مَعًا (میں حج اور عمرہ کا اکٹھا احرام باندھتا ہوں)، یہ سن کر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم دیکھ رہے ہو کہ میں لوگوں کو ایسا کرنے سے روک رہا ہوںاور تم پھر وہی کام کر رہے ہو؟سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جواباً کہا: میں کسی آدمی کے قول کی بنیاد پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت چھوڑنے والا نہیں ہوں۔
Takhreej
(۴۱۹۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۵۶۳ (انظر: ۱۱۳۹)
4192
Sahih
۔ (۴۱۹۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: کُنَّا نَسِیْرُ مَعَ عُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌فَإِذَا رَجُلٌ یُلَبِّیْ بِہِمَا جَمِیْعًا، فَقَالَ عُثْمَانُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: مَنْ ھٰذَا؟ فَقَالُوْا عَلِیٌّ فَقَالَ: أَلَمْ تَعْلَمْ أَنِّیْ نَہَیْتُ عَنْ ہٰذَا؟ قَالَ: بَلٰی، وَلٰکِنْ لَمْ أَکُنْ لِأَدَعَ قَوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِقَوْلِکَ۔ (مسند احمد: ۷۳۳)
۔ (دوسری سند) مروان کہتے ہیں: ہم سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ جا رہے تھے کہ ایک آدمی حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا تلبیہ پڑھ رہا تھا، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتلایا کہ یہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں، تو انھوں نے کہا: کیا تم جانتے نہیں کہ میں نے اس عمل سے روکا ہوا ہے؟ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی بالکل جانتا ہوں، لیکن میں تمہارے قول کی بنیاد پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارشاد کو نہیں چھوڑ سکتا۔
Takhreej
(۴۱۹۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… ہم پہلے یہ گزارش کر چکے ہیں کہ جن خلفاء نے حج کے ساتھ عمرہ کرنے سے منع کیا تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ یہ چاہتے تھے کہ لوگ حج کے لیے علیحدہ سفر کریں اور عمرے کے لیے علیحدہ، تاکہ وہ زیادہ اجر و ثواب کے مستحق ٹھہریں، جیسا کہ اگلی حدیث سے معلوم ہو رہا ہے، جبکہ ان کو علم تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس موسم میں عمرہ کرنے کا حکم بھی دیا تھا، سنن نسائی کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: جب سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌نے حج کے ساتھ عمرہ کرنے سے منع کیا تو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌اور ان کے ساتھیوں نے عمرہ کا تلبیہ کہا، لیکن سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نے ان کو منع نہ کیا، پھر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌نے ان سے کہا: کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ تمتع کرتے نہیں سنا تھا؟ انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں۔ اگلی حدیث اس معاملے میں زیادہ واضح ہے، جس کے مطابق سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌اپنے اس حکم کو اپنی ذاتی رائے کا نتیجہ سمجھ رہے ہیں، جو چاہے اس کو اپنا لے اور جو چاہے اس کو ترک کر دے۔
4193
Sahih
۔ (۴۱۹۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: کُنَّا نَسِیْرُ مَعَ عُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌فَإِذَا رَجُلٌ یُلَبِّیْ بِہِمَا جَمِیْعًا، فَقَالَ عُثْمَانُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: مَنْ ھٰذَا؟ فَقَالُوْا عَلِیٌّ فَقَالَ: أَلَمْ تَعْلَمْ أَنِّیْ نَہَیْتُ عَنْ ہٰذَا؟ قَالَ: بَلٰی، وَلٰکِنْ لَمْ أَکُنْ لِأَدَعَ قَوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِقَوْلِکَ۔ (مسند احمد: ۷۳۳)
۔ سیدناعبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ہم سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ حجفہ کے مقام پر تھے، آپ کے ساتھ اہل شام کا ایک قافلہ بھی تھا، اس میں حبیب بن مسلمہ فہری بھی تھے، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سامنے حج تمتع کا ذکر کیا گیا،پس انھوں نے کہا: یہ دونوں عمل حج کے مہینوں میں نہیں ہونے چاہئیں، ان کا خیال تھا کہ تم لوگ اس عمرہ کو مؤخر کر دو اور تم دو بار بیت اللہ کی زیارت کرو تو یہ زیادہ بہتر ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اب مال و دولت میں وسعت دے دی ہے۔ اس وقت سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وادی میں اپنے اونٹ کو چرا رہے تھے۔ جب ان کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا: کیا آپ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن مجید میں بندوں کو دی ہوئی سہولت اور رخصت کو ختم کرکے ان پر تنگی کرنا چاہتے ہیں اور ثابت شدہ عمل سے انہیں روکنا چاہتے ہیں؟یہ رخصت حاجت مندوں اور دور دراز علاقوں سے آنے والے لوگوں کے لئے ہے۔ بعد ازاں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا تلبیہ پڑھا، پھر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: کیا میں نے ان دونوں کو جمع کرنے سے منع کیا ہے؟ میں نے تو ایسا کرنے سے منع نہیں کیا،یہ تو میری ایک رائے تھی، جس کا میں نے اظہار کیا، اب جو چاہتا ہے، وہ اسے اختیار کر لے اور جو چاہتا ہے، وہ اسے ترک کر دے۔
Takhreej
(۴۱۹۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… چونکہ عہد ِ نبوی کی بہ نسبت خلفائے راشدین کے دور میں مختلف اسباب کی بنا پر مال و دولت میں بہت زیادہ وسعت پیدا ہو گئی تھی، اس لیےیہ خلفائے کرام چاہتے تھے کہ لوگ ایک ہی سفر میں حج و عمرہ ادا کر کے مطمئن نہ ہو جائیں، بلکہ حج کے الگ سے سفر کریں اور عمرہ کے الگ سے، اس طرح سے ان خلفاء پر کوئی طعن نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ان کا مقصد نعوذ باللہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت کی مخالفت نہیں تھا، بلکہ یہ تھا کہ لوگ زیادہ نیکیاں حاصل کر لیں، بہرحال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو گنجائش دی تھی، وہ برقرار ہے۔ اس حدیث ِ مبارکہ کے آخر میں سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌نے کتنی خوبصورت بات کی ہے کہ انھوں نے حج کے مہینوں میں عمرہ ادا کرنے سے منع نہیں کیا، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی اجازت دے چکے تھے، وہ تو دراصل لوگوں کو یہ مشورہ دینا چاہتے تھے کہ اب حج کے موقع پر صرف حج کر لو اور بعد میںعمرہ کے لیے نیا سفر کر کے آنا، تاکہ دو عبادتوں کے لیے دو مستقل سفر ہوں اور اجر و ثواب میں اضافہ ہو۔
4194
Sahih
۔ (۴۱۹۵) عَنْ حُمَیْدٍ، عَنْ بَکْرٍ قَالَ: قُلْتُ ِلاِبْنِ عُمَرَ إِنَّ أَنَسًا أَخْبَرَنَا أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَقَالَ: ((لَبَّیْکَ بِعُمْرَۃٍ وَحَجٍّ۔)) قَالَ: وَہِلَ أَنَسٌ، خَرَجَ فَلَبّٰی بِالْحَجِّ وَلَبَّیْنَا مَعَہُ، فَلَمَّا قَدِمَ أَمَرَ مَنْ لَمْ یَکُنْ مَعَہُ الْھَدْیُ أَنْ یَجْعَلَھَا عُمْرَۃً‘ قَالَ: فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِأَنَسٍ، فَقَالَ: مَا تَعُدُّوْنَا إِلَّا صِبْیَانًا۔ (مسند احمد: ۵۱۴۷)
۔ بکر کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا کہ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں بتلایا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں تلبیہ پڑھا تھا: لَبَّیْکَ بِعُمْرَۃٍ وَحَجٍّ (میں عمرہ اور حج دونوں کے لئے حاضر ہوں)یہ سن کر سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھول گئے ہیں، بات یہ تھی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب روانہ ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج کا تلبیہ پڑھا اور ہم نے بھی حج کا تلبیہ پڑھا، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ مکرمہ پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور نہیں ہیں، وہ عمرہ کے بعد احرام کھول دیں۔ بکر کہتے ہیں: جب میں نے یہ بات سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بتائی تو وہ کہتے لگے: اصل میں تم ہمیں بچے سمجھتے ہو، (اس لیے ہماری باتوں پر اعتماد نہیں کرتے)۔
Takhreej
(۴۱۹۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۲۳۲، وأخرج بنحوہ البخاری: ۴۳۵۳، ۴۳۵۴(انظر: ۵۱۴۷)
Explanation
فوائد:… صحیح بات یہ ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کی بات کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے احرام کی ابتدائی حالت پر محمول کیا جائے اور سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کی بات کو احرام کی آخری اور درمیانی حالت پر محمول کیا جائے، جو صورت سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بیان کر رہے ہیں، اس کا سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کو علم نہیں تھا، جس کا سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌نے بڑا معقول جواب دیا۔
4195
Sahih
۔ (۴۱۹۶) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَرَنَ بَیْنَ حَجَّتِہِ وَعُمْرَتِہِ أَجْزَأَہُ لَہُمَا طَوَافٌ وَاحِدٌ۔)) (مسند احمد: ۵۳۵۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے حج اور عمرہ کو ایک احرام میں جمع کیا، اس کو ان دونوں کے لئے ایک طواف کافی ہے۔
Takhreej
(۴۱۹۶) تخریج: صحیح موقوفا بھذا اللفظ،عبد العزیز بن محمد الدراوردی تفرد بہ وحدیثہ ھذا منکر، وقد رواہ غیر واحد عن عبید اللہ بن عمر ولم یرفعوہ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۹۷۵(انظر: ۵۳۵۰)
Explanation
فوائد:… لیکن مسئلہ ایسے ہی ہے کہ حج قران کرنے والے کے لیے حج اور عمرہ دونوں کی طرف سے ایک طواف اور ایک سعی کافی ہے۔
4196
Sahih
۔ (۴۱۹۷) عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِنَّمَا قَرَنَ خَشْیَۃَ أَنْ یُصَدَّ عَنِ الْبَیْتِ، وَقَالَ: ((إِنْ لَمْ یَکُنْ حَجَّۃً فَعُمْرَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۷۰۱۱)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج اور عمرہ کو ایک احرام میں اس اندیشہ کی وجہ سے جمع کیا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کو بیت اللہ تک جانے سے روک دیا جائے، پھر انھوں نے کہا: اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ خیال تھا کہ اگر حج نہ ہو سکا تو عمرہ تو کر لیں گے۔
Takhreej
(۴۱۹۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف یونس بن الحارث الثقفی(انظر: ۷۰۱۱)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث تو ضعیف ہے اور اس کے ان الفاظ کی سمجھ آ رہی ہے نہ کسی مناسبت کا پتہ چل رہا ہے، کیونکہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حجۃ الوداع ادا کر رہے تھے، اس وقت روک دیے جانے کا کوئی خطرہ نہیں تھا، کیونکہ اللہ تعالی نے اسلام کو غلبہ عطا کر دیا تھا، مکہ مکرمہ فتح ہو چکا تھا،ایک سال پہلے ایام حج میں یہ اعلان کیا جا چکاتھا کہ آئندہ کوئی مشرک اور ننگا آدمی طواف نہیں کر سکے گا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چالیس ہزار کے لگ بھگ صحابہ موجود تھے۔ بہرحال ممکن ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌نے کسی گمان کی وجہ سے یہ الفاظ کہہ دیئے ہوں، یا ان سے نیچے کسی راوی سے کوئی غلطی ہو گئی ہو، جبکہ سند بھی ضعیف ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج قران ادا کیا تھا، خلفائے راشدین کو یہ علم تھا کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا جائز ہے، اس کے باوجود انھوں نے یہ رائے دی تھی سفرِ حج میں صرف حج ادا کیا جائے اور بعد میں عمرہ کی ادائیگیکے لیے از سرِ نو سفر کیا جائے، تاکہ اجر و ثواب زیادہ ملے، ان کی اس رائے کی وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالی نے مال و دولت جیسے اسباب عطا کر دیئے تھے۔ حافظ ابن کثیر نے ’’البدایۃ والنھایۃ‘‘ میں حجۃ الوداع کے موقع پر چالیس ہزار کی تعداد کا ذکر کیا ہے، جبکہ الرحیق المختوم اور رحمۃ للعالمین اور دیگر سیرت نگاروں نے حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج کرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ چوبیسیا چوالیس ہزار ذکر کی ہے۔ (عبد اللہ رفیق)
4197
Zaeef

Chapters

22
01
مواقیت ِاحرام کے مقامات کا بیان
13 Hadith
02
صحابہ کرام کا اس بارے میں اختلاف کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کس جگہ سے تلبیہ پڑھا تھا
5 Hadith
03
احرام کا ارادہ کرنے والے کا غسل کرنا اور خوشبو لگانا
8 Hadith
04
حیض اور نفاس والی عورتیں احرام سے پہلے اور اس کے بعد کیا کریں، ان امور کا بیان
5 Hadith
05
احرام میں شرط لگانے کا بیان
6 Hadith
06
مطلق طور پر احرام باندھنے والے یا اس شخص کا بیان جو یہ کہے: میں نے وہ احرام باندھا جو فلاں نے باندھا
2 Hadith
07
حج تمتع، حج افراد اور حج قران میں سے کوئی ایک ادا کر لینے کا اختیار دینے کا بیان
4 Hadith
08
… حج افراد کا بیان
5 Hadith
09
حج قران کا بیان
12 Hadith
10
حج تمتع کا بیان
18 Hadith
11
حج کے مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی کے جائز ہونے اور کسی رکاوٹ کی بنا پر احرام کھول دینے کا بیان
4 Hadith
12
تلبیہ اور اس کی کیفیت اور احکام کا بیان تلبیہ کے الفاظ اور اس کی فضیلت کا بیان
9 Hadith
13
تلبیہ کا حکم اور اسے بآواز بلند پکارنا
8 Hadith
14
تلبیہ کے دورانیہ اور نمازوں کے بعد تلبیہ پکارنے کا بیان
7 Hadith
15
محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان محرم کا سلے ہوئے کپڑے اتار دینے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ کون سے کپڑے اور خوشبو اس کے لیے ناجائز ہے
15 Hadith
16
محرم کے لیے سینگی لگوانے، سرمہ لگانے اور سر دھونے کا بیان
8 Hadith
17
احرام کی حالت میں گرمی وغیرہ سے بچنے کے لئے سایہ کرنے، مرد کا سر کو اور عورت کا چہرہ کو ڈھانپنے اور محرم کا اپنے خادم کو مارنے کا بیان
5 Hadith
18
سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی حدیث اور اس کے متعدد طرق کا بیان
8 Hadith
19
احرام کی حالت میں نکاح کرنے یا کروانے یا نکاح کا پیغام بھیجنے کا بیان
8 Hadith
20
محرم کے لئے خشکی کا شکار کرنے اور اس کو کھانے کے حرام ہونے کا بیان
7 Hadith
21
اس امر کا بیان کہ اگر محرم نہ تو خود شکار کرے اور نہ اس کی خاطر کیا جائے تو اس کے لیے اس کا کھانا جائز ہو گا
11 Hadith
22
ان حیوانات کا بیان، جن کو حرم کی حدود کے اندر اور باہر قتل کرنا محرم کے لئے جائز ہے
10 Hadith
No chapter matched that.