۔ سالم بن ابی الجعد کہتے ہیں: ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی معیّت میں حج کے لیے روانہ ہوئے، جب ذوالحلیفہ کے مقام پر پہنچے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تو حج اور عمرہ کو اکٹھا ادا کرنا چاہتا ہوں، لہٰذا جو آدمی اس طرح کرنا چاہتا ہو، وہ اسی طرح کہے جیسے میں کہوں، پھر انہوں نے یوں تلبیہ پڑھا: لَبَّیْکَ بِحَجٍّ وَعُمْرَۃٍ مَعًا (میں حاضر ہوں، حج اور عمرے دونوں کے ساتھ)۔ سالم کہتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتلائی: اللہ کی قسم! دورانِ سفر میری ٹانگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ٹانگ کو لگ رہی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا تلبیہ پڑھ رہے تھے۔
۔ مطرف کہتے ہیں:سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں، امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے نفع پہنچائے گا، بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج اور عمرہ کو جمع کر کے ادا کیا تھا،پھر نہ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا سے رخصت ہونے تک اس سے منع فرمایا اور نہ کوئی قرآن مجید کا ایسا حصہ نازل ہوا، جس نے اسے حرام کر دیا ہو۔ نیز میں عمران کہتا ہوں: اللہ کے فرشتے مجھے سلام کہا کرتے تھے، لیکن جب میں نے (بواسیر کے زخم کا علاج کرنے کے لیے اس کو) داغا تو انھوں نے سلام کہنا بند کر دیا، پھر جب میں نے داغنے کا یہ عمل ترک کر دیا تو وہ مجھے دوبارہ سلام کہنے لگ گئے۔
۔ ہر ماس بن زیاد کہتے ہیں: میں اپنے والد کے پیچھے سواری پر بیٹھا تھا، میں نے اس حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اونٹ پر سوار تھے اور یوں تلبیہ پکار رہے تھے: لَبَّیْکَ بِحَجَّۃٍ وَعُمْرَۃٍ مَعًا۔ ( میں حج اور عمرہ دونوں کے لئے حاضر ہوں)۔
۔ سیدنا ابو وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: صبی بن معبد بنو تغلب کا ایک بدّو آدمی تھا، وہ مذہباً عیسائی تھا، پھر اس نے اسلام قبول کر لیا، اس کے بعد اس نے پوچھا: کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ اسے بتلایا گیا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، جب اس نے جہاد کا ارادہ کیا تو اس سے پوچھا گیا: کیا تم نے حج کیا ہے؟ اس نے بتلایا: جی نہیں۔ اس سے کہا گیا: تم پہلے حج اور عمرہ کر لو، پھر جہاد کرنا، پس وہ اس مقصد کے لیے روانہ ہوگیا اور جب وہ حوابط مقام پر پہنچا تو اس نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا،،زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ نے اسے اس طرح دیکھ کر کہا: یہ تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ گمراہ ہے، یایہ تو اپنی اونٹنی سے زیادہ ہدایت والا نہیں،یہ سن کر وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان دونوں کی بات کا ان سے ذکر کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق ملی ہے۔حکم کہتے ہیں: میں نے ابووائل سے پوچھا: کیا صبی نے تم کو یہ حدیث بیان کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔
۔ سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت تک عمرہ حج میں داخل ہو گیاہے۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود حجۃ الوداع کے موقع پر ان دونوں کو ایک احرام میں جمع کیا تھا۔
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے وادیٔ عقیق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: آج رات میرے ربّ کی طرف سے ایک آنے والے (فرشتے یعنی جبریل علیہ السلام ) نے آ کر کہا: آپ اس مبارک وادی میں نماز ادا کریں اور یوں کہیں کہ یہ عمرہ حج کے ساتھ ہی ہے۔ ‘ ولید راوی کہتے ہیں: وادی سے مراد ذوالحلیفہ ہے۔
۔ مروان بن حکم کہتے ہیں: میں سیدنا علی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے ساتھ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان حاضرہوا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ حج تمتع سے اور حج اور عمرے کو ایک احرام میں جمع کرنے سے منع کر رہے تھے۔ لیکن جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھا تو انہوں نے ان دونوں کا اکٹھا تلبیہ پڑھا اور یوں کہا: لَبَّیْکَ بِعُمْرَۃٍ وَحَجٍّ مَعًا (میں حج اور عمرہ کا اکٹھا احرام باندھتا ہوں)، یہ سن کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: تم دیکھ رہے ہو کہ میں لوگوں کو ایسا کرنے سے روک رہا ہوںاور تم پھر وہی کام کر رہے ہو؟سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواباً کہا: میں کسی آدمی کے قول کی بنیاد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت چھوڑنے والا نہیں ہوں۔
۔ (دوسری سند) مروان کہتے ہیں: ہم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا رہے تھے کہ ایک آدمی حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا تلبیہ پڑھ رہا تھا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتلایا کہ یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں، تو انھوں نے کہا: کیا تم جانتے نہیں کہ میں نے اس عمل سے روکا ہوا ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جی بالکل جانتا ہوں، لیکن میں تمہارے قول کی بنیاد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کو نہیں چھوڑ سکتا۔
۔ سیدناعبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ہم سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ حجفہ کے مقام پر تھے، آپ کے ساتھ اہل شام کا ایک قافلہ بھی تھا، اس میں حبیب بن مسلمہ فہری بھی تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے حج تمتع کا ذکر کیا گیا،پس انھوں نے کہا: یہ دونوں عمل حج کے مہینوں میں نہیں ہونے چاہئیں، ان کا خیال تھا کہ تم لوگ اس عمرہ کو مؤخر کر دو اور تم دو بار بیت اللہ کی زیارت کرو تو یہ زیادہ بہتر ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اب مال و دولت میں وسعت دے دی ہے۔ اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ وادی میں اپنے اونٹ کو چرا رہے تھے۔ جب ان کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا: کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن مجید میں بندوں کو دی ہوئی سہولت اور رخصت کو ختم کرکے ان پر تنگی کرنا چاہتے ہیں اور ثابت شدہ عمل سے انہیں روکنا چاہتے ہیں؟یہ رخصت حاجت مندوں اور دور دراز علاقوں سے آنے والے لوگوں کے لئے ہے۔ بعد ازاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا تلبیہ پڑھا، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: کیا میں نے ان دونوں کو جمع کرنے سے منع کیا ہے؟ میں نے تو ایسا کرنے سے منع نہیں کیا،یہ تو میری ایک رائے تھی، جس کا میں نے اظہار کیا، اب جو چاہتا ہے، وہ اسے اختیار کر لے اور جو چاہتا ہے، وہ اسے ترک کر دے۔
۔ بکر کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتلایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں تلبیہ پڑھا تھا: لَبَّیْکَ بِعُمْرَۃٍ وَحَجٍّ (میں عمرہ اور حج دونوں کے لئے حاضر ہوں)یہ سن کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا انس رضی اللہ عنہ بھول گئے ہیں، بات یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کا تلبیہ پڑھا اور ہم نے بھی حج کا تلبیہ پڑھا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور نہیں ہیں، وہ عمرہ کے بعد احرام کھول دیں۔ بکر کہتے ہیں: جب میں نے یہ بات سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو بتائی تو وہ کہتے لگے: اصل میں تم ہمیں بچے سمجھتے ہو، (اس لیے ہماری باتوں پر اعتماد نہیں کرتے)۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے حج اور عمرہ کو ایک احرام میں جمع کیا، اس کو ان دونوں کے لئے ایک طواف کافی ہے۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج اور عمرہ کو ایک احرام میں اس اندیشہ کی وجہ سے جمع کیا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کو بیت اللہ تک جانے سے روک دیا جائے، پھر انھوں نے کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ خیال تھا کہ اگر حج نہ ہو سکا تو عمرہ تو کر لیں گے۔