مسنداحمد

Musnad Ahmad

احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب

حج قران کا بیان


۔ (۴۱۹۵) عَنْ حُمَیْدٍ، عَنْ بَکْرٍ قَالَ: قُلْتُ ِلاِبْنِ عُمَرَ إِنَّ أَنَسًا أَخْبَرَنَا أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَقَالَ: ((لَبَّیْکَ بِعُمْرَۃٍ وَحَجٍّ۔)) قَالَ: وَہِلَ أَنَسٌ، خَرَجَ فَلَبّٰی بِالْحَجِّ وَلَبَّیْنَا مَعَہُ، فَلَمَّا قَدِمَ أَمَرَ مَنْ لَمْ یَکُنْ مَعَہُ الْھَدْیُ أَنْ یَجْعَلَھَا عُمْرَۃً‘ قَالَ: فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِأَنَسٍ، فَقَالَ: مَا تَعُدُّوْنَا إِلَّا صِبْیَانًا۔ (مسند احمد: ۵۱۴۷)

۔ بکر کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا کہ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں بتلایا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں تلبیہ پڑھا تھا: لَبَّیْکَ بِعُمْرَۃٍ وَحَجٍّ (میں عمرہ اور حج دونوں کے لئے حاضر ہوں)یہ سن کر سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھول گئے ہیں، بات یہ تھی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب روانہ ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج کا تلبیہ پڑھا اور ہم نے بھی حج کا تلبیہ پڑھا، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ مکرمہ پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور نہیں ہیں، وہ عمرہ کے بعد احرام کھول دیں۔ بکر کہتے ہیں: جب میں نے یہ بات سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بتائی تو وہ کہتے لگے: اصل میں تم ہمیں بچے سمجھتے ہو، (اس لیے ہماری باتوں پر اعتماد نہیں کرتے)۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۴۱۹۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۲۳۲، وأخرج بنحوہ البخاری: ۴۳۵۳، ۴۳۵۴(انظر: ۵۱۴۷)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… صحیح بات یہ ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کی بات کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے احرام کی ابتدائی حالت پر محمول کیا جائے اور سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کی بات کو احرام کی آخری اور درمیانی حالت پر محمول کیا جائے، جو صورت سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بیان کر رہے ہیں، اس کا سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کو علم نہیں تھا، جس کا سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌نے بڑا معقول جواب دیا۔