مسنداحمد

Musnad Ahmad

احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب

حج تمتع کا بیان


۔ (۴۱۹۸) عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: نَزَلَتْ آیَۃُ الْمُتْعَۃِ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ وَعَمِلْنَا بِہا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ یَنْزِلْ آیَۃٌ تَنْسَخُہَا، وَلَمْ یَنْہَ عَنْہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتَّی مَاتَ۔ (مسند احمد: ۲۰۱۴۹)

۔ سیدنا عمران بن حنین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ حج تمتع کی آیت قرآن کریم میں نازل ہوئی اور ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں اس پر عمل کیا، اب اس کے بعد تو کوئی ایسی آیت نازل نہیں ہوئی جس نے اس حکم کو منسوخ کر دیا ہو اور نہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دنیا سے رخصت ہونے تک اس سے منع کیا۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۴۱۹۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۵۱۸، ومسلم: ۱۲۲۶(انظر: ۱۹۹۰۷)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… حج تمتع کی آیت سے مراد قرآن مجید کے یہ الفاظ ہیں:{فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْھَدْیِ} …’’(پس جب تم امن کی حالت میں ہو جاؤ تو) جو شخص عمرے سے لے کر حج تک تمتع کر لے۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۱۹۶)