۔ سیدنا عمران بن حنین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حج تمتع کی آیت قرآن کریم میں نازل ہوئی اور ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں اس پر عمل کیا، اب اس کے بعد تو کوئی ایسی آیت نازل نہیں ہوئی جس نے اس حکم کو منسوخ کر دیا ہو اور نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا سے رخصت ہونے تک اس سے منع کیا۔
۔ ابو جمرہ ضبعی کہتے تھے: میں نے حج تمتع کرنا چاہا لیکن لوگوں نے مجھے ایسا کرنے سے منع کردیا، پس میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا اور ان سے اس بارے میں پوچھا، انہوں نے مجھے حج تمتع کرنے کا حکم دیا، سو میں بیت اللہ کی طرف روانہ ہوا اور وہاں جا کر سو گیا،میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی میرے پاس آیا اور اس نے کہا: یہ تو عمرۂ مقبولہ اور حج مبرور ہے۔ میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو اپنا خواب بیان کیا، تو انہوںنے تعجب کرتے ہوئے بار بار کہا: اللّٰہُ أَکْبَرُ،اللّٰہُ أَکْبَرُ یہ عمل تو ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے، پھر سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ہدی کے بارے میں کہاکہ وہ ایک اونٹ یا ایک گائے یا ایک بکرییا بھیڑ ہو سکتی ہے یا ایک جانور میں حصہ بھی ڈالا جا سکتا ہے۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے، سیدنا ابوبکر نے، سیدنا عمر نے اور سیدنا عثمان نے دنیا سے رخصت ہونے تک تمتع کی اجازت دیئے رکھی۔سب سے پہلے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کیا، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے ان کے حج تمتع سے منع کرنے پر تعجب ہوا، کیونکہ انہوں نے خود مجھے بیان کیا تھا کہ انہوں نے تیر کے چوڑے پھل کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال تراشے تھے۔
۔ غنیم کہتے ہیں: میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے تمتع کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: ہم نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ) اُس وقت تمتع کیا تھا، جب یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ کے گھروں میں ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔
۔ محمد بن عبد اللہ بن حارث کہتے ہیں: میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ سے اس سال سنا، جس سال سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے حج کیا تھا، یہ دونوں حج تمتع کا ذکر کر رہے تھے، ضحاک نے کہا: وہی آدمییہ حج کرے گا، جو اللہ تعالی کے حکم سے جاہل ہو گا۔یہ سن کر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: بھتیجے! تم نے بڑی غلط بات کہی ہے، آگے سے سیدنا ضحاک نے کہا: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بھی اس سے منع کیا ہے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے جواباًکہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور ہم نے آپ کی معیت میں حج تمتع کیا۔
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نکاح متعہ اور حج تمتع دونوں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں اجازت تھی، لیکن جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں ان سے منع کیا تو ہم رک گئے۔
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ حج تمتع کے جواز کا فتویٰ دیا کرتے تھے، ایک آدمی نے ان سے کہا: ذرا اپنے بعض فتووں سے رک جاؤ،کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ آپ کے بعد امیر المومنین نے مناسک ِ حج کے بارے میں کیا حکم جاری کیا ہے۔ بعد میں سیدناابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جانتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور صحابہ کرام نے حج تمتع کیا ہے، مگر میں یہ پسند نہیں کرتا کہ یہ لوگ رات کو اَرَاک درختوں کے نیچے اپنی بیویوں کے ساتھ ہم بستری کریں اور پھر جب حج کے لئے روانہ ہوں تو ان کے سروں سے غسل کے پانی کے قطرے گر رہے ہوں۔
۔ (دوسری سند) سیدناابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: حج تمتع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے، مگر اس بات کا اندیشہ ہے کہ یہ لوگ اَرَاک کے درختوں کے نیچے اپنی بیویوں سے ہم بستری کریں گے اور پھر حج کا احرام باندھ کر چل پڑیں گے۔
۔ سالم بن عبد اللہ بن عمرسے مروی ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے مطابق حج تمتع کے جواز کا فتویٰ دیا کرتے تھے ۔ جب لوگ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہتے کہ آپ کے والد تو حج تمتع سے منع کرتے ہیں، تو پھر آپ ان کے حکم کی مخالفت کیوں کرتے ہو تو وہ ان کو یوں جواب دیتے تھے: تم پر افسوس ہے، کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے؟اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کیاہے تو ان کا ارادہ بھی خیر کاہی ہو گا کہ تم مستقل طور پر عمرہ کرو، اب تم اسے حرام کیوں سمجھتے ہو؟ جبکہ اللہ نے اسے حلال کیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر عمل کیا ہے۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتباع کے زیادہحقدار ہیںیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فعل؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تم سے یہ تو نہیں کہا کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا حرام ہے، ان کا کہنا تو یہ تھا کہ مکمل عمرہ یہ ہے کہ تم اس کو حج کے مہینوں کے علاوہ مستقل طور پر ادا کرو۔
۔ ابو نضرہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے کہاکہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ حج تمتع سے منع کرتے ہیںاور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اس کا حکم دیتے ہیں، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: حج سے متعلقہ یہ حدیث میرے ہاتھ پر گھومتی ہے، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور پھر سیدنا ابو بکر کے ساتھ حج تمتع کیا تھا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوںنے لوگوں کو خطبہ دیا اور کہا: بیشک قرآن قرآن ہے اور اللہ کے رسول بھی رسول ہیں، بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں متعہ کی دو قسمیں رائج تھیں، ایک حج والا متعہ اور دوسرا عورتوں والا۔
۔ حسن سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حج تمتع سے منع کرنے کا ارادہ کیا تو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ حج تمتع سے منع نہیں کر سکتے، کیونکہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں یہ حج کیاہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس سے نہیں روکا، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی بات سے اعراض کیا اور اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یمنی چادروں سے منع کرنا چاہا کیونکہ ان کو پیشاب کے ساتھ رنگا جاتا تھا، لیکن سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ اس سے بھی نہیں روک سکتے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھییہ پہنی تھیں اور آپ کے زمانہ میں ہم نے ان کو زیب ِ تن کیا تھا۔
۔ سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ وادیٔ عسفان میںاکٹھے ہو گئے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ حج تمتع اور عمرہ سے منع کرتے تھے، لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ اس عمل سے روکنا چاہتے ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود کیا تھا، لیکن انھوں نے آگے سے کہا: آپ اپنی باتوں سے ہمیں معاف ہی رکھیں۔
۔ اسحاق بن یسار کہتے ہیں: ہم مکہ مکرمہ میں تھے کہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں تشریف لائے اور حج تمتع کرنے سے منع کیا اور انہوں نے اس بات کا بھی انکار کیا کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایسا حج کیا ہو، جب یہ بات سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو اس کا کیا علم؟ اسے چاہیے کہ وہ اپنی ماں اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ سے جا کر پوچھ لے، اگر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے احرام نہ کھولا ہو اور ان کی ماں نے کھول دیا ہو۔ جب یہ بات سیدہ اسماء نے سنی تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو معاف فرمائے، انھوں نے نامناسب بات کی ہے، بہرحال اللہ کی قسم ہے کہ انھوں نے سچی بات کی ہے، لوگوں نے واقعی احرام کھول دیئے تھے اور ہم نے بھی احرام کھول دیتے تھے اور لوگوں نے اپنی بیویوں سے ہم بستری بھی کی تھی۔
۔ مسلم قری کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے حج تمتع کی بابت پوچھا، انہوںنے اس میں رخصت دے دی، لیکن سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کر دیا،یہ دیکھ کر سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ابن زبیر رضی اللہ عنہ تو حج تمتع سے منع کرتے ہیں، جبکہ ان کی والدہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی اجازت دی ہے، تم جا کر ان سے پوچھ لو۔ مسلم قری کہتے ہیں: چنانچہ ہم ان کے ہاں گئے، وہ ایک بھاری بھر کم خاتون تھیں اور نابینا ہو چکی تھیں، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واقعی اس کی اجازت دی ہے۔
۔ عبد اللہ بن شریک عامری کہتے ہیں: میں نے سنا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن زبیر سے حج سے قبل عمرہ کر لینے کے متعلق پوچھا گیا تو ان سب نے کہا: جی ہاں، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے، جب تو مکہ مکرمہ پہنچے تو بیت اللہ کا طواف اور صفاو مروہ کی سعی کرکے حلال ہو جا (اس طرح یہ عمرہ ہو جائے گا)، خواہ یہ عمل عرفہ سے ایک دن پہلے ہو، اس کے بعد تم حج کا احرام باندھ لو، اس طرح اللہ تعالیٰ تمہیں حج اور عمرہ دونوں کو ادا کرنے کا موقع دے دے گا۔
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم احرام باندھ کر سفر پر روانہ ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کا جانور ہے ،وہ احرام کی حالت میںرہیں گے اور جن کے ساتھ یہ جانور نہیں ہے، وہ عمرہ کرکے حلال ہو جائیں۔ اب میرے پاس قربانی کا جانور نہیں تھا، اس لیے میں حلال ہو گئییعنی احرام کھول دیا، لیکن میرے شوہر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ قربانی کا جانور تھا، سو وہ حلال نہ ہوئے۔ میں نے احرام کھول کر عام کپڑے پہن لیے اور اپنے شوہر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے قریب چلی گئی، لیکن انھوں نے کہا: مجھ سے دور ہٹ جائو۔ میں نے کہا: کیا آپ اس سے ڈرتے ہیں کہ میں آپ پر کود پڑوں گی؟
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں کو حکم دیتے ہوئے فرمایا: تم میں سے جو کوئی حج سے قبل عمرہ کرنا چاہتا ہو، وہ کر سکتا ہے، بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج افراد کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرہ نہیں کیا تھا۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: ہم حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہم نے عمرہ کا تلبیہ پکارا، بعد ازاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جن لوگوں کے ساتھ قربانی کا جانور ہے وہ حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا تلبیہ پکاریں، وہ ان دونوں سے اکٹھے حلال ہوں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: جب میں مکہ پہنچی تو مجھے حیض آ گیا، لہٰذا میں بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی نہ کر سکی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات کا شکوہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سر کھول دو اورکنگھی کرکے حج کا احرام باندھ لو اور عمرے کو ترک کر دو۔ پس میں نے اسی طرح کیا، جب ہم حج سے فارغ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے میرے بھائی عبد الرحمن کے ساتھ تنعیم کی طرف بھیجا، تاکہ میں عمرہ کر آئوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے عمرے کا متبادل ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا، وہ بیت اللہ کا طواف اورصفا مروہ کی سعی کرکے حلال ہو گئے،اس کے بعد انہوں نے منیٰ سے آ کر حج کا طواف کیا اور جن لوگوں نے حج اور عمرہ کو جمع کیا تھا یعنی حج قران کیا تھا انہوں نے ایک ہی طواف کیا۔