مسنداحمد

Musnad Ahmad

احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب

حج تمتع کا بیان


۔ (۴۲۰۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ أَبِی مُوْسیٰ (الْأَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) أَنَّ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: ہِیَ سُنَّۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعْنِی الْمُتْعَۃَ، وَلٰکِنِّی أَخْشٰی أَنْ یُعْرِسُوْا بِہِنَّ تَحْتَ الْأَرَاکِ ثُمَّ یَرُوْحُوْا بِہِنَّ حُجَّاجًا۔ (مسند احمد: ۳۴۲)

۔ (دوسری سند) سیدناابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: حج تمتع رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت ہے، مگر اس بات کا اندیشہ ہے کہ یہ لوگ اَرَاک کے درختوں کے نیچے اپنی بیویوں سے ہم بستری کریں گے اور پھر حج کا احرام باندھ کر چل پڑیں گے۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۴۲۰۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد: …سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌نے جو پابندی لگائی تھی، اس کی وجہ بیان کر دی، بہرحال یہ چیز سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کو طبعی طور پر ناگوار گزرتی تھی، وگرنہ شرعی احکام کی روشنی میں جب میاں بیوی احرام کی حالت میں نہ ہوں تو وہ حق زوجیت ادا کر سکتے ہیں،یہ حج و عمرہ کے احرام سے پہلے ہو یا کسی اور وقت۔