مسنداحمد

Musnad Ahmad

احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب

حج تمتع کا بیان


۔ (۴۲۰۸) عَنْ یُوْنُسَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أَرَادَ أَنْ یَنْہٰی عَنْ مُتْعَۃِ الْحَجِّ فَقَالَ لَہُ أُبَیُّ (بْنُ کَعْبٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: لَیْسَ ذٰلِکَ لَکَ، قَدْ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَمْ یَنْہَنَا، فَأَضْرَبَ عَنْ ذَالِکَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَأَرَادَ أَنْ یَنْہٰی عَنْ حُلَلِ الْحِبْرَۃِ، لِأَنَّہَا تُصْبَغُ بِالْبَوْلِ، فَقَالَ لَہُ أُبَیٌّ: لَیْسَ ذَالِکَ لَکَ، قَدْ لَبِسَہُنَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَبِسْنَاہُنَّ فِیْ عَہْدِہِ۔ (مسند احمد: ۲۱۶۰۷)

۔ حسن سے روایت ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے حج تمتع سے منع کرنے کا ارادہ کیا تو سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: آپ حج تمتع سے منع نہیں کر سکتے، کیونکہ ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں یہ حج کیاہے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اس سے نہیں روکا، لیکن سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کی بات سے اعراض کیا اور اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یمنی چادروں سے منع کرنا چاہا کیونکہ ان کو پیشاب کے ساتھ رنگا جاتا تھا، لیکن سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: آپ اس سے بھی نہیں روک سکتے، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھییہ پہنی تھیں اور آپ کے زمانہ میں ہم نے ان کو زیب ِ تن کیا تھا۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۴۲۰۸) تخریج: ھذا الحدیث منقطع، لان الحسن البصری لم یلق عمر ولا ابیّا، لکن قد صحح نھی عمر عن متعۃ الحج، وأما الشطر الثانی فقد جاء من۔ طرق عن عمر۔(انظر: ۲۱۲۸۳)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد: …اگر واقعی وہ کپڑا پیشاب میں رنگا جاتا تھا تووہ اس وقت تک ناپاک رہے گا، جب تک اس پر پیشاب کے اثرات باقی رہیں گے، جب اس کے اثرات ختم ہو جائیں گے تو وہ پاک ہو جائے گا، ایسی صورت کپڑے کو جس رنگ میں رنگا جائے گا، وہ رنگ ناپاک نہیں ہو گا۔