مسنداحمد

Musnad Ahmad

احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب

تلبیہ اور اس کی کیفیت اور احکام کا بیان تلبیہ کے الفاظ اور اس کی فضیلت کا بیان

۔ (۴۲۲۰)عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کَانَ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَبَّیْکَ، اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ، لاَ شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ، لاَ شَرِیْکَ لَکَ۔)) قَالَ نَافِعٌ: وَکَانَ ابْنُ عَمَرَ یَقُوْلُ: وَزِدْتُ أَنَا لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ، وَالْخَیْرُ فِیْیَدَیْکَ، لَبَّیْکَ واَلرَّغْبَائُ إِلَیْکَ وَالْعَمَلُ۔ (مسند احمد: ۵۰۷۱)

۔ نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہا کرتے تھے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان الفاظ کے ساتھ تلبیہ پکارتے ہوئے سنا: ((لَبَّیْکَ، اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ…)) (میں حاضر ہوں، اے اللہ ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، تمام تعریفیں اور نعمتیں تیرے لیے ہیں اور بادشاہت بھی تیرے لیے ہے، تیرا کوئی شریک نہیں)۔ نافع کہتے ہیں: سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس تلبیہ میں میں ان الفاظ کا اضافہ بھی کرتا ہوں: ((لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ)) (میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں اور میں حاضر ہوں، اور بھلائیتیرے ہاتھوںمیں ہے اور رغبت اور عمل بھی تیری طرف ہے۔)

۔ (۴۲۲۱) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُہِلُّ مُلَبِّدًا، یَقُوْلُ: ((لَبَّیْکَ، اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ۔)) لَا یَزِیْدُ عَلٰی ہٰؤُلاَئِ الْکَلِمَاتِ۔ (مسند احمد: ۶۰۲۱)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے احرام کی حالت میں بالوں کو بکھرنے سے بچانے کے لیے کوئی چیز لگائی ہوئی تھی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان الفاظ کے ساتھ تلبیہ کہہ رہے تھے: ((لَبَّیْکَ، اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، …)) (میں حاضر ہوں، اے اللہ ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، تمام تعریفیں اور نعمتیں تیرے لیے ہیں اور بادشاہت بھی تیرے لیے ہے، تیرا کوئی شریک نہیں)

۔ (۴۲۲۲)عَنِ الضَّحَّاکِ (بْنِ مُزَاحِمٍ) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کَانَتْ تَلْبِیَۃُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ، اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۴)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے تلبیہ کے الفاظ یہ تھے: ((لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ، اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ۔

۔ (۴۲۲۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِذَالَبَّیٰیَقُوْلُ لَبَّیْکَ الَلّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، (فَذَکَرَ مِثْلَ الطَّرِیْقِ الْأُوْلٰی ثُمَّ قاَل)َ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ انْتَہِ إِلَیْہَا، فَإِنَّہَا تَلْبِیَۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۴۰۴)

۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب تلبیہ پکارتے تو یوں کہتے: لَبَّیْکَ، اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ… ـــ (پہلی سند والا تلبیہ ذکر کیا)، پھر سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ان ہی الفاظ پر رک جائو، کیونکہیہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تلبیہ ہے۔

۔ (۴۲۲۴)عَنْ أَبِی عَطِیَّۃَ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : إِنِّی لأَعْلَمُ کَیْفَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُلَبِّیْ، قَالَ: ثُمَّ سَمِعْتُہَا تُلَبِّیْ تَقُوْلُ: لَبَّیْکَ، اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ، لَا شَرِیْکَ لَکَ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۴۱)

۔ ابوعطیہ سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میں خوب جانتی ہوں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تلبیہ کیسے پکارتے تھے۔ ابوعطیہ نے کہا: پھر میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو یوں تلبیہ پکارتے ہوئے سنا: ((لَبَّیْکَ، اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ، لَا شَرِیْکَ لَکَ۔ ))

۔ (۴۲۲۵) عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کَانَ مِنْ تَلْبِیَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَبَّیْکَ إِلٰہَ الْحَقِّ۔)) (مسند احمد: ۸۶۱۴)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے تلبیہ میں یہ الفاظ بھی تھے: ((لَبَّیْکَ إِلٰہَ الْحَقِّ))

۔ (۴۲۲۶) عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْمُزَنِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یُحَدِّثُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُلَبِّیْ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ جَمِیْعًا، فَحَدَّثْتُ ابْنَ عُمَرَ بِذٰلِکَ فَقَالَ: لَبیّٰ بِالْحَجِّ وَحْدَہُ، فَلَقِیْتُأَنَسًا فَحَدَّثْتُہُ بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: مَا تَعُدُّوْنَنَا إِلَّا صِبْیَانًا، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَبَّیْکَ عُمْرَۃً وَحَجًّا۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۸۳)

۔ بکر بن عبد اللہ مزنی کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سناکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج اور عمرہ کا اکٹھا تلبیہ پکارا تھا، پھر جب میں نے یہ بات سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ بات بتلائی تو انہوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو صرف حج کا تلبیہ پکارا تھا، بعد میں جب سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بات کا ذکر کیا، انھوں نے کہا: دراصل تم لوگ ہمیں صرف بچے ہی سمجھتے ہو، جب کہ حقیقتیہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خود اس طرح تلبیہ کہتے ہوئے سنا تھا: ((لَبَّیْکَ عُمْرَۃً وَحَجًّا))(میں حاضر ہوں عمرہ کے لیے اور حج کے لیے)۔

۔ (۴۲۲۷) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ سَلْمَۃَ أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِی وَقَاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سَمِعَ رَجُلاً یَقُوْلُ: لَبَّیْکَ ذَا الْمَعَارِجِ، فَقَالَ: إِنَّہُ لَذُوْ الْمَعَارِجِ وَلٰکِنَّا کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا نَقُوْلُ ذَالِکَ۔ (مسند احمد: ۱۴۷۵)

۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک آدمی کو یوں تلبیہ پکارتے ہوئے سنا: لَبَّیْکَ ذَا الْمَعَارِجِ‘ ‘(اے بلندیوں والے! میں حاضر ہوں)،یہ سن کر سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: واقعی اللہ تعالیٰ بلندیوں والا ہے، لیکن بات یہ ہے کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اس قسم کے الفاظ نہیں کہتے تھے۔

۔ (۴۲۲۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَنْ أَضْحٰییَوْمًا مُحْرِمًا مُلَبِّیًا حَتّٰی غَرَبَتِ الشَّمْسُ غَرَبَتْ بِذُنُوْبِہِ کَیَوْمِ وَلَدَتْہُ أُمُّہُ۔ (مسند احمد: ۱۵۰۷۲)

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی ایک دن احرام کی حالت میں تلبیہ پکارتا رہے، یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے، تو وہ اپنے گناہوں سے یوں پاک ہو گا جیسے وہ اس دن تھا، جس دن کو اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔