TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

تلبیہ اور اس کی کیفیت اور احکام کا بیان تلبیہ کے الفاظ اور اس کی فضیلت کا بیان - تلبیہ اور اس کی کیفیت اور احکام کا بیان تلبیہ کے الفاظ اور اس کی فضیلت کا بیان - احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 12 of احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 12 of 22 · 9 Hadith
۔ (۴۲۲۰)عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کَانَ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَبَّیْکَ، اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ، لاَ شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ، لاَ شَرِیْکَ لَکَ۔)) قَالَ نَافِعٌ: وَکَانَ ابْنُ عَمَرَ یَقُوْلُ: وَزِدْتُ أَنَا لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ، وَالْخَیْرُ فِیْیَدَیْکَ، لَبَّیْکَ واَلرَّغْبَائُ إِلَیْکَ وَالْعَمَلُ۔ (مسند احمد: ۵۰۷۱)
۔ نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہا کرتے تھے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان الفاظ کے ساتھ تلبیہ پکارتے ہوئے سنا: ((لَبَّیْکَ، اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ…)) (میں حاضر ہوں، اے اللہ ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، تمام تعریفیں اور نعمتیں تیرے لیے ہیں اور بادشاہت بھی تیرے لیے ہے، تیرا کوئی شریک نہیں)۔ نافع کہتے ہیں: سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس تلبیہ میں میں ان الفاظ کا اضافہ بھی کرتا ہوں: ((لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ)) (میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں اور میں حاضر ہوں، اور بھلائیتیرے ہاتھوںمیں ہے اور رغبت اور عمل بھی تیری طرف ہے۔)
Takhreej
(۴۲۲۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۵۴۰، ۱۵۴۹، ۵۹۱۵، ومسلم: ۱۱۸۴(انظر: ۵۰۷۱)
Explanation
فوائد: …’’لَبَّیْکَ‘‘یہ لفظ تثنیہ ہے اور ’’کَ‘‘ ضمیر کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے نونِ تثنیہ گر گیا ہے اور یہ باب ’’لَبَّ یَلُبُّ‘‘ سے ماخوذ ہے، جس کے معانی ہیں: قیام کرنا، برقرار رہنا، حاضر ہونا،جم جانا۔ تثنیہ دو چیزوں کو ظاہر کرنے کے لیے آتا ہے، لیکن ’’لَبَّیْکَ‘‘ میں تثنیہ دو کے لیے نہیں، بلکہ تاکید، تکثیر اور مبالغہ کے لیے استعمال ہوا ہے، یعنی اے میرے اللہ! میں تیرے سامنے بار بار حاضر ہوں، مسلسل مقیم و موجود ہوں اور تیری اطاعت کو چمٹا ہوا ہوں۔ یہی معاملہ ’’سَعْدَیْکَ‘‘ کا ہے، البتہ اس کے معانییہ ہیں: ((مُسَاعَدَۃً لِطَاعَتِکَ بَعْدَ مُسَاعَدَۃٍ)) اور ’’مُسَاعَدَۃً‘‘ کے معانی مدد، امداد، تقویت اور سہارے کے ہیں۔ قارئین کرام! ذہن نشین کر لیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جس تلبیہ کی تعلیم دی، اس کے مخصوص الفاظ آپ کے سامنے ہیں، سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نے جن الفاظ کی زیادتی کی تھی، ان کا مقصد یہ نہیں تھا کہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے الفاظ کو نامکمل اور ناکافی سمجھ رہے تھے جبکہ شریعت کا یہ مطالبہ نہیں ہے کہ محرِم حالت ِ احرام میں صرف وہی اذکار کرتا رہے، جن کی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عملاً تعلیم دی ہے،دراصل بات یہ ہے کہ محرِم اپنے آپ کو ہر معاملے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پابند سمجھتا ہے، بسا اوقات وہ اپنی طبع کے مطابق اللہ تعالی کا ذکر کرنے کو مناسب سمجھتا ہے، یہی معاملہ یہاں ہے کہ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌مسنون تلبیہ کے پابند تھے اور وہ یہ تلبیہ پڑھنے کے بعد اپنے الفاظ بھی دوہرا دیتے تھے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ہم لوگ تلبیہ کہنے کے بعد اپنی اپنی زبانوں میں اللہ تعالی کی شان بیان کرنا اور دعا کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ حدیث نمبر (۴۱۲۳) میں یہ بات گزر چکی ہے کہ لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے تلبیہ کے الفاظ میں ’’ذَا الْمَعَارِج‘‘ کے الفاظ کا اضافہ کرتے تھے۔
4220
Sahih
۔ (۴۲۲۱) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُہِلُّ مُلَبِّدًا، یَقُوْلُ: ((لَبَّیْکَ، اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ۔)) لَا یَزِیْدُ عَلٰی ہٰؤُلاَئِ الْکَلِمَاتِ۔ (مسند احمد: ۶۰۲۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے احرام کی حالت میں بالوں کو بکھرنے سے بچانے کے لیے کوئی چیز لگائی ہوئی تھی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان الفاظ کے ساتھ تلبیہ کہہ رہے تھے: ((لَبَّیْکَ، اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، …)) (میں حاضر ہوں، اے اللہ ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، تمام تعریفیں اور نعمتیں تیرے لیے ہیں اور بادشاہت بھی تیرے لیے ہے، تیرا کوئی شریک نہیں)
Takhreej
(۴۲۲۱) تخریج: انظر الحدیث السابق
4221
Sahih
۔ (۴۲۲۲)عَنِ الضَّحَّاکِ (بْنِ مُزَاحِمٍ) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کَانَتْ تَلْبِیَۃُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ، اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے تلبیہ کے الفاظ یہ تھے: ((لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ، اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ۔
Takhreej
(۴۲۲۲) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۲۷۵۴)
4222
Sahih
۔ (۴۲۲۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِذَالَبَّیٰیَقُوْلُ لَبَّیْکَ الَلّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، (فَذَکَرَ مِثْلَ الطَّرِیْقِ الْأُوْلٰی ثُمَّ قاَل)َ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ انْتَہِ إِلَیْہَا، فَإِنَّہَا تَلْبِیَۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۴۰۴)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب تلبیہ پکارتے تو یوں کہتے: لَبَّیْکَ، اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ… ـــ (پہلی سند والا تلبیہ ذکر کیا)، پھر سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ان ہی الفاظ پر رک جائو، کیونکہیہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تلبیہ ہے۔
Takhreej
(۴۲۲۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
4223
Sahih
۔ (۴۲۲۴)عَنْ أَبِی عَطِیَّۃَ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : إِنِّی لأَعْلَمُ کَیْفَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُلَبِّیْ، قَالَ: ثُمَّ سَمِعْتُہَا تُلَبِّیْ تَقُوْلُ: لَبَّیْکَ، اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ، لَا شَرِیْکَ لَکَ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۴۱)
۔ ابوعطیہ سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: میں خوب جانتی ہوں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تلبیہ کیسے پکارتے تھے۔ ابوعطیہ نے کہا: پھر میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو یوں تلبیہ پکارتے ہوئے سنا: ((لَبَّیْکَ، اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ، لَا شَرِیْکَ لَکَ۔ ))
Takhreej
(۴۲۲۴) تخریج: أخرجہ : ۱۵۵۰(انظر: ۲۴۰۴۰)
4224
Sahih
۔ (۴۲۲۵) عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کَانَ مِنْ تَلْبِیَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَبَّیْکَ إِلٰہَ الْحَقِّ۔)) (مسند احمد: ۸۶۱۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے تلبیہ میں یہ الفاظ بھی تھے: ((لَبَّیْکَ إِلٰہَ الْحَقِّ))
Takhreej
(۴۲۲۴) تخریج: أخرجہ : ۱۵۵۰(انظر: ۲۴۰۴۰)
4225
Sahih
۔ (۴۲۲۶) عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْمُزَنِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یُحَدِّثُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُلَبِّیْ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ جَمِیْعًا، فَحَدَّثْتُ ابْنَ عُمَرَ بِذٰلِکَ فَقَالَ: لَبیّٰ بِالْحَجِّ وَحْدَہُ، فَلَقِیْتُأَنَسًا فَحَدَّثْتُہُ بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: مَا تَعُدُّوْنَنَا إِلَّا صِبْیَانًا، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَبَّیْکَ عُمْرَۃً وَحَجًّا۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۸۳)
۔ بکر بن عبد اللہ مزنی کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سناکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج اور عمرہ کا اکٹھا تلبیہ پکارا تھا، پھر جب میں نے یہ بات سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ بات بتلائی تو انہوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو صرف حج کا تلبیہ پکارا تھا، بعد میں جب سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بات کا ذکر کیا، انھوں نے کہا: دراصل تم لوگ ہمیں صرف بچے ہی سمجھتے ہو، جب کہ حقیقتیہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خود اس طرح تلبیہ کہتے ہوئے سنا تھا: ((لَبَّیْکَ عُمْرَۃً وَحَجًّا))(میں حاضر ہوں عمرہ کے لیے اور حج کے لیے)۔
Takhreej
(۴۲۲۴) تخریج: أخرجہ : ۱۵۵۰(انظر: ۲۴۰۴۰)
Explanation
فوائد: …لَبَّیْکَ عُمْرَۃً وَحَجًّا، لَبَّیْکَ عُمْرَۃً اور لَبَّیْکَ َحَجًّا کے الفاظ ابتدائے احرام کے وقت کہہ کر ارادے کا اظہار کیا جاتا ہے، اس کے بعد دورانِ احرام بھی کہے جا سکتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا انس دونوں کی باتیں صحیح ہیں، دراصل سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کو سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کی حدیث کا علم نہیں تھا۔
4226
Sahih
۔ (۴۲۲۷) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ سَلْمَۃَ أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِی وَقَاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سَمِعَ رَجُلاً یَقُوْلُ: لَبَّیْکَ ذَا الْمَعَارِجِ، فَقَالَ: إِنَّہُ لَذُوْ الْمَعَارِجِ وَلٰکِنَّا کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا نَقُوْلُ ذَالِکَ۔ (مسند احمد: ۱۴۷۵)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک آدمی کو یوں تلبیہ پکارتے ہوئے سنا: لَبَّیْکَ ذَا الْمَعَارِجِ‘ ‘(اے بلندیوں والے! میں حاضر ہوں)،یہ سن کر سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: واقعی اللہ تعالیٰ بلندیوں والا ہے، لیکن بات یہ ہے کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اس قسم کے الفاظ نہیں کہتے تھے۔
Takhreej
(۴۲۲۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، عبد اللہ بن ابی سلمۃ الماجشون لم یدرک سعدا ۔ أخرجہ البزار: ۱۰۹۴، وابو یعلی: ۷۲۴(انظر: ۱۴۷۵)
Explanation
فوائد: …لیکن ’’لَبَّیْکَ ذَا الْمَعَارِج‘‘ کے الفاظ درست ہیں، جیسا کہ حدیث نمبر (۴۱۲۳) میں یہ بات گزر چکی ہے۔
4227
Zaeef
۔ (۴۲۲۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَنْ أَضْحٰییَوْمًا مُحْرِمًا مُلَبِّیًا حَتّٰی غَرَبَتِ الشَّمْسُ غَرَبَتْ بِذُنُوْبِہِ کَیَوْمِ وَلَدَتْہُ أُمُّہُ۔ (مسند احمد: ۱۵۰۷۲)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی ایک دن احرام کی حالت میں تلبیہ پکارتا رہے، یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے، تو وہ اپنے گناہوں سے یوں پاک ہو گا جیسے وہ اس دن تھا، جس دن کو اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔
Takhreej
(۴۲۲۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، عاصم بن عمر بن حفص وعاصم بن عبید اللہ ضعیفان ۔أخرجہ ابن ماجہ: ۲۹۲۵(انظر: ۱۵۰۰۸)
Explanation
فوائد: …اس باب سے صرف تلبیہ کے الفاظ کا پتہ چلا، مزید احکام کا بیان اگلے ابواب میں آ رہا ہے۔ تلبیہ کی فضیلت درج ذیل احادیث سے ثابت ہوتی ہے: سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((مَا أَھَلَّ مُھِلٌّ قَطُّ إِلَّابُشِّرَ، وَلَا کَبَّرَ مُکَبِّرٌ قَطُّ إِلَّا بُشِّرَ۔)) قِیْلَ: بِالْجَنَّۃِ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) … ’’نہیں ہے کوئی تلبیہ پڑھنے والا، جو تلبیہ پڑھے، مگر اس کوبشارت دی جاتی ہے اور نہیں ہے کوئی تکبیر کہنے والا، جو تکبیر کہے، مگر اس کو بھی خوشخبری سنائی جاتی ہے۔‘‘ کہا گیا: کیا جنت کی خوشخبری؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’جی ہاں۔‘‘ (معجم اوسط: ۷۹۴۳، صحیحہ:۱۶۲۱) سیدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((مَا مِنْ مُلَبٍّ یُلَبِّی اِلّا لَبّٰی مَا عَنْ یَمِیْنِہِ وَشِمَالِہِ، مِن حَجَرٍ اَوْ شَجَرٍ اَوْ مَدَرٍ، حَتّٰی تَنْقَطِعَ الْاَرْضُ مِنْ ھٰھُنٰا وَ ھٰھُنٰا۔)) … ’’ جب کوئی تلبیہ کہنے والا تلبیہ کہتا ہے تواس کے دائیں اور بائیں زمین کے آخری کناروں تک تمام پتھر، درخت اور کنکریاں سب لبیک پکارتے ہیں۔‘‘ (ابن ماجہ: ۲۹۲۱)
4228
Zaeef

Chapters

22
01
مواقیت ِاحرام کے مقامات کا بیان
13 Hadith
02
صحابہ کرام کا اس بارے میں اختلاف کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کس جگہ سے تلبیہ پڑھا تھا
5 Hadith
03
احرام کا ارادہ کرنے والے کا غسل کرنا اور خوشبو لگانا
8 Hadith
04
حیض اور نفاس والی عورتیں احرام سے پہلے اور اس کے بعد کیا کریں، ان امور کا بیان
5 Hadith
05
احرام میں شرط لگانے کا بیان
6 Hadith
06
مطلق طور پر احرام باندھنے والے یا اس شخص کا بیان جو یہ کہے: میں نے وہ احرام باندھا جو فلاں نے باندھا
2 Hadith
07
حج تمتع، حج افراد اور حج قران میں سے کوئی ایک ادا کر لینے کا اختیار دینے کا بیان
4 Hadith
08
… حج افراد کا بیان
5 Hadith
09
حج قران کا بیان
12 Hadith
10
حج تمتع کا بیان
18 Hadith
11
حج کے مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی کے جائز ہونے اور کسی رکاوٹ کی بنا پر احرام کھول دینے کا بیان
4 Hadith
12
تلبیہ اور اس کی کیفیت اور احکام کا بیان تلبیہ کے الفاظ اور اس کی فضیلت کا بیان
9 Hadith
13
تلبیہ کا حکم اور اسے بآواز بلند پکارنا
8 Hadith
14
تلبیہ کے دورانیہ اور نمازوں کے بعد تلبیہ پکارنے کا بیان
7 Hadith
15
محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان محرم کا سلے ہوئے کپڑے اتار دینے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ کون سے کپڑے اور خوشبو اس کے لیے ناجائز ہے
15 Hadith
16
محرم کے لیے سینگی لگوانے، سرمہ لگانے اور سر دھونے کا بیان
8 Hadith
17
احرام کی حالت میں گرمی وغیرہ سے بچنے کے لئے سایہ کرنے، مرد کا سر کو اور عورت کا چہرہ کو ڈھانپنے اور محرم کا اپنے خادم کو مارنے کا بیان
5 Hadith
18
سیدنا کعب بن عجرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی حدیث اور اس کے متعدد طرق کا بیان
8 Hadith
19
احرام کی حالت میں نکاح کرنے یا کروانے یا نکاح کا پیغام بھیجنے کا بیان
8 Hadith
20
محرم کے لئے خشکی کا شکار کرنے اور اس کو کھانے کے حرام ہونے کا بیان
7 Hadith
21
اس امر کا بیان کہ اگر محرم نہ تو خود شکار کرے اور نہ اس کی خاطر کیا جائے تو اس کے لیے اس کا کھانا جائز ہو گا
11 Hadith
22
ان حیوانات کا بیان، جن کو حرم کی حدود کے اندر اور باہر قتل کرنا محرم کے لئے جائز ہے
10 Hadith
No chapter matched that.