فوائد: …اس باب سے صرف تلبیہ کے الفاظ کا پتہ چلا، مزید احکام کا بیان اگلے ابواب میں آ رہا ہے۔ تلبیہ کی فضیلت درج ذیل احادیث سے ثابت ہوتی ہے: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا أَھَلَّ مُھِلٌّ قَطُّ إِلَّابُشِّرَ، وَلَا کَبَّرَ مُکَبِّرٌ قَطُّ إِلَّا بُشِّرَ۔)) قِیْلَ: بِالْجَنَّۃِ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) … ’’نہیں ہے کوئی تلبیہ پڑھنے والا، جو تلبیہ پڑھے، مگر اس کوبشارت دی جاتی ہے اور نہیں ہے کوئی تکبیر کہنے والا، جو تکبیر کہے، مگر اس کو بھی خوشخبری سنائی جاتی ہے۔‘‘ کہا گیا: کیا جنت کی خوشخبری؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جی ہاں۔‘‘ (معجم اوسط: ۷۹۴۳، صحیحہ:۱۶۲۱) سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا مِنْ مُلَبٍّ یُلَبِّی اِلّا لَبّٰی مَا عَنْ یَمِیْنِہِ وَشِمَالِہِ، مِن حَجَرٍ اَوْ شَجَرٍ اَوْ مَدَرٍ، حَتّٰی تَنْقَطِعَ الْاَرْضُ مِنْ ھٰھُنٰا وَ ھٰھُنٰا۔)) … ’’ جب کوئی تلبیہ کہنے والا تلبیہ کہتا ہے تواس کے دائیں اور بائیں زمین کے آخری کناروں تک تمام پتھر، درخت اور کنکریاں سب لبیک پکارتے ہیں۔‘‘ (ابن ماجہ: ۲۹۲۱)