TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

طواف کی دورکعتوں اور ان کی قراء ت اور ان کے بعد حجراسود کے استلام کا بیان - طواف کی دورکعتوں اور ان کی قراء ت اور ان کے بعد حجراسود کے استلام کا بیان - حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 6 of حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 6 of 40 · 5 Hadith
۔ (۴۳۸۷) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِسْتَلَمَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ، ثُمَّ رَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشٰی أَرْبَعَۃً، حَتّٰی إِذَا فَرَغَ عَمَدَ إِلٰی مَقَامِ إِبْرَاھِیْمَ، فَصَلّٰی خَلْفَہُ رَکْعَتْیِن، ثُمَّ قَرَأَ: {وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاھِیْمَ مُصَلًّی} فَقَرَأَ فِیْہِمَا بِالتَّوْحِیْدِ، وَ {قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُوْنَ} ثُمَّ اسْتَلَمَ الْحَجَرَ وَخَرَجَ إِلَی الصَّفَا،… الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۴۴۹۳)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجراسود کا استلام کیا،اس کے بعد طواف کے ابتدائی تین چکروں میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رمل کیا اور باقی چار چکروں میں عام رفتار سے چلے، طواف سے فراغت کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مقام ابراہیم پر آئے اور اس کے پیچھے دو رکعت نماز ادا کی اور یہ آیت پڑھی: {وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاھِیْمَ مُصَلًّی} (اورتم مقام ابراہیم کے قریب نماز پڑھو) (سورۂ بقرہ: ۱۲۵) اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان دورکعتوں میں سورۂ اخلاص اور سورۂ کافرون کی تلاوت کی تھی، نماز کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوبارہ حجراسود کے پاس آئے اور اس کا استلام کیا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صفا کی طرف تشریف لے گئے، …۔
Takhreej
(۴۳۸۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۲۱۸(انظر: ۱۴۴۴۰)
4387
Sahih
۔ (۴۳۸۸) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَمَلَ ثَلَاثَہَ أَطْوَافٍ مِنَ الْحَجَرِ إِلَی الْحَجَرِ وَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ عَادَ إِلَی الْحَجَرِ، ثُمَّ ذَہَبَ إِلٰی زَمْزَمَ فَشَرِبَ مِنْہَا وَصَبَّ عَلٰی رَأْسِہِ ثُمَّ رَجَعَ فَاسْتَلَمَ الرُّکْنَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَی الصَّفَا فَقَالَ: ((أَبْدَئُ بِمَا بَدَأَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۳۱۴)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طواف کرکے ابتدائی تین چکروںمیں حجراسود سے حجر اسود تک رمل کیا، مکمل طواف کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دورکعت نماز ادا کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حجراسود کے پاس تشریف لائے، بعد ازاں زمزم کی طرف گئے اور وہاں جا کر یہ پانی پیا اور اپنے سر پر بھی ڈالا، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پھر حجراسود کے پاس تشریف لائے اور اس کا استلام کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صفا کی تشریف لے گئے اور فرمایا: جس سے اللہ تعالی نے ابتداکی ہے، میں بھی اسی سے ابتدا کرتا ہوں۔
Takhreej
(۴۳۸۸) تخریج: انظر الحدیث السابق۔ أخرجہ (انظر: )
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طواف کی دو رکعتوںکے بعد اور زمزم کا پانی پینے کے بعد دودفعہ حجر اسود کا استلام کیا، لیکن اس روایت کے علاوہ صحیح مسلم کی روایت کردہ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کی حدیث سمیت باقی تمام روایات میں طواف کی دو رکعتوں کے بعد ایک دفعہ استلام کرنے اور اس کے بعد صفا مروہ کی سعی شروع کر دینے کا ذکر ہے۔ واللہ اعلم۔ اس حدیث کے آخری جملے کا اس آیت کے ساتھ تعلق ہے: {اِنَّ الصَّفَا وَالْمَـرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ} … ’’بیشک صفا اور مروہ اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ہے۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۱۵۸)چونکہ اللہ تعالی نے اس آیت میں پہلے صفا پہاڑی کا نام لیا ہے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی اسی سے سعی کا آغاز کیا۔
4388
Sahih
۔ (۴۳۸۸م) وَفِیْ حَدِیْثِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: ثُمَّ رَکَعَ حِیْنَ قَضٰی طَوَافَہُ بِالْبَیْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَانْصَرَفَ فَأَتَی الصَّفَا، … الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۶۲۴۷)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی حدیث میں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طواف کے بعدمقام ابراہیم کے قریب دورکعت نماز پڑھی، پھر سلام پھیرا اور صفا کی طرف چلے گئے، …۔
Takhreej
(۴۳۸۸م) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۶۹۱، ومسلم: ۱۲۲۷ (انظر: ۶۲۴۷)
4388
Sahih
۔ (۴۳۸۹) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ السَّائِبِ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ السَّائِبِ کَانَ یَقُوْدُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما وَیُقِیْمُہُ عِنْدَ الشَّقَّۃِ الثَّالِثَۃِ مِمَّا یَلِی الْبَابَ مِمَّا یَلِیْ الْحِجْرَ، فَقُلْتُ، یَعْنِی الْقَائِلُ ابْنُ عَبَّاسٍ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ السَّائِبِ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْمُ ھَاھُنَا أَوْ یُصَلِّی ھَاھُنَا؟ فَیَقُوْلُ: نَعَمْ، فَیَقُوْمُ ابْنُ عَبَّاسٍ فَیُصَلِّی۔ (مسند احمد: ۱۵۴۶۶)
۔ محمد بن عبداللہ بن سائب سے روایت ہے کہ عبداللہ بن سائب، سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا ہاتھ تھام کر لے جاتے اور حطیم کی طرف بیت اللہ کے دروازہ کے قریب تیسرے روزن کے پاس لے جاکرکھڑا کردیتے، پھر سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، عبداللہ بن سائب سے کہتے: آیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسی مقام پر کھڑے ہوکر نماز ادا فرمایا کرتے تھے؟ وہ کہتے: جی ہاں، یہ سن کر سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما وہاں کھڑے ہوکر نماز ادا کرتے تھے۔
Takhreej
(۴۳۸۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ محمد بن عبد اللہ بن السائب، واختلفت الروایۃ عن السائب بن عمر ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۹۰۰، والنسائی: ۵/ ۲۲۱ (انظر: ۱۵۳۹۱)
4389
Zaeef
۔ (۴۳۹۰) عَنْ عُرْوَۃَ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : أَرَأَیْتِ قَوْلَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاَحَ عَلَیْہِ أَنْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا۔} فَوَاللّٰہِ مَا عَلٰی أَحَدٍ جُنَاحٌ أَنْ لَا یَطَّوَّفَ بِہِمَا، قَالَتْ: بِئْسَمَا قُلْتَ یَا ابْنَ أُخْتِی! إِنَّہَا لَوْ کَانَتْ کَمَا أَوَّلْتَہَا عَلَیْہِ کَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَنْ لَّا یَطَّوَّفَ بِہِمَا، إِنَّمَا نَزَلَتْ إِنَّ ھٰذَا الْحَیَّ مِنَ الْأَنْصَارِ کَانُوْا قَبْلَ أَنْ یُسْلِمُوْایُہِلُّوْا لِمَنَاۃَ الطَّاغِیَۃِ، الَّتِی کَانُوْایَعْبُدُوْنَ عِنْدَ الْمُشَلَّلِ، وَکَانَ مَنْ أَھَلَّ لَھَا یَتَحَرَّجُ أَنْ یَطُوْفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، فَسَأَلُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ذٰلِکَ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاَحَ عَلَیْہِ أَنْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا۔} قَالَتْ: ثُمَّ قَدْ سَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الطَّوَافَ بِہِمَا فَلَیْسَیَنْبَغِیْ لِأَحَدٍ أَنْ یَدَعَ الطَّوَافَ بِہِمَا۔ (مسند احمد: ۲۶۴۳۰)
۔ جنابِ عروہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہا کہ کیا آپ نے اس آیت پر غور نہیں کیا: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَـرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاَحَ عَلَیْہِ أَنْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا۔} (بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، پس جو کوئی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر ان کا طواف کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔) اللہ کی قسم! اس آیت سے تو ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی آدمی صفا مروہ کی سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ انھوں نے جواباً کہا: بھانجے!تم نے بڑی غلط بات کہی ہے، اگر بات اسی طرح ہوتی جیسے تم کہتے ہوتو اس آیت کی عبارت یوں ہوتی فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ أَنْ لَّا یَطَّوَّفَ بِہِمَا (اس پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان کا طواف نہ کرنے)۔ حقیقت ِ حال یہ ہے کہ یہ آیت تو اس لئے نازل ہوئی تھی کہ انصار کا یہ قبیلہ اسلام سے قبل مناۃ نامی بت کے لئے احرام باندھا کرتا تھا اور یہ لوگ مشلل کے قریب اس کی پوجا کیاکرتے تھے،اس مناۃ کے لئے احرام باندھنے والے لوگ صفا اور مروہ کی سعی کرنے کو گناہ سمجھتے تھے، جب ان لوگوں نے اس بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاَحَ عَلَیْہِ أَنْ یَطَّوَّفَ بِہِمَا۔} (بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، پس جو کوئی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر ان کا طواف کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔) (سورۂ بقرہ: ۱۵۸) اب تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان دونوں کے درمیان کی سعی کو مشروع قرار دیا ہے، لہٰذا کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اس سعی کو ترک کرے۔
Takhreej
(۴۳۹۰) تخریج: أخرجہ مطولا ومختصرا البخاری: ۱۶۴۳، ۴۸۶۱، ومسلم: ۱۲۷۷(انظر: ۲۵۹۰۵)
Explanation
فوائد:… صحیح مسلم کی روایت کے مطابق سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے صفامروہ کی سعی کے بارے میں کہا: ((مَا اَتَمَّ اللّٰہُ حَجَّ امْرِیئٍ وَلَا عُمْرَتَہٗلَمْیَطُفْ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ۔)) … اللہ تعالی اس بندے کا حج اور عمرہ پورا نہیں کرے گا، جو صفا مروہ کی سعی نہیں کرے گا۔ عروہ نے آیت کے الفاظ ’’ان کا طواف کرنے میں کوئی گناہ نہیں‘‘ سے یہ اندازہ لگایا کہ سعی کوئی مباح عمل ہے، اگر واجب ہوتی تو اس آیت کے الفاظ اس طرح نہ ہوتے۔ لیکن سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، جو تیز فہم، گہری معرفت اور لطافت ِ علم سے متصف تھیں، نے وضاحت کی کہ آیت میں تو طواف کرنے والے سے گناہ کی نفی کی گئی ہے، پھر انھوں نے بتایا کہ اس آیت سے نہ سعی کا وجوب ثابت ہوتا ہے اور نہ عدم وجوب، پھر انھوں نے شانِ نزول اور اس سیاق کی حکمت کی وضاحت کر دی۔ مکہ مکرمہ سے سمندر کی جانب قدید کے قریب ایک جگہ کا نام مُشلَّل ہے۔
4390
Sahih

Chapters

40
01
حج افراد کرنے والے کا طواف
3 Hadith
02
حج قران کرنے والے کا طواف
4 Hadith
03
حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان،یعنی وہ آدمی جو شروع میں صرف عمرے کا احرام باندھتا ہے
2 Hadith
04
اہل مکہ کے طواف اور طواف سے متعلقہ احکام و مسائل اور دورانِ طواف کلام کرنے کا بیان
3 Hadith
05
طواف اور استلام کے موقع پر کیا جانے والا ذکر، جاہلیت والے لوگ طواف میںکیا کہتے تھے اور دورانِ طواف کلام نہ کرنے کا مستحب ہونا، ان سب امور کا بیان
5 Hadith
06
طواف کی دورکعتوں اور ان کی قراء ت اور ان کے بعد حجراسود کے استلام کا بیان
5 Hadith
07
صفا مروہ کی سعی
3 Hadith
08
صفا مروہ کی سعی میں صفا سے ابتدا کرنے اور اس میں چلنے یا رمل کرنے کا بیان
6 Hadith
09
کسی حاجت کے پیش نظر سوار ہو کر صفا مروہ کی سعی کرنے کا بیان
2 Hadith
10
صفااور مروہ کے اوپر وقوف کرنے اور اس دوران اللہ تعالی کا ذکر کرنے کا بیان
3 Hadith
11
حج تمتع کرنے والے کو سعی اور بال منڈوانے یا کٹوانے کے بعد احرام کھول دینے کا حکم دینے کا بیان، الّا یہ کہ وہ قربانی لے کر آیا ہو
6 Hadith
12
حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا لینا
19 Hadith
13
اس امر کا بیان کہ حج تمتع کرنے والا کس وقت احرام باندھے، لوگ کس وقت منیٰ کو روانہ ہوں، وہاں کتنا عرصہ ٹھہریں اور منیٰ میں جاکر پہلے کونسی نماز پڑھی جائے؟
6 Hadith
14
منیٰ سے عرفہ کے لیے روانگی،عرفہ میں وقوف اور وہاں سے واپسی کے ابواب منیٰ سے روانگی کا وقت، وادیٔ نمرہ میں نزول اور عرفہ میں وقوف کے وقت کا بیان
2 Hadith
15
عرفہ کی طرف جاتے ہوئے تلبیہ اور تکبیر کہنے کا بیان
3 Hadith
16
وقوفِ عرفہ کے واجب ہونے اور اس کے وقت اور عرفہ کے سارے مقام کا جائے وقوف ہونے کا بیان
7 Hadith
17
عرفہ میں سواری پر وقوف کرنے اور وہاں خطبہ دینے اور دعاکرنے کا بیان
7 Hadith
18
عرفہ سے مزدلفہ کی طرف روانگی کا وقت اور عرفہ اور مزدلفہ کے درمیان اترنے کا بیان
9 Hadith
19
عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لوگوں کو سکون سے چلنے کا حکم دینے کا بیان
3 Hadith
20
مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے اور وہاں رات بسر کرنے کا بیان
9 Hadith
21
مشعرِ حرام یعنی مزدلفہ میں وقوف کرنے اور اس کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک کے مسائل کا بیان مزدلفہ میں وقوف، اس کے آداب، وہاں سے منی کی طرف روانگی کے وقت، اور جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ جاری رکھنے کا بیان
8 Hadith
22
مزدلفہ سے منی کی طرف جاتے وقت سکینت کا حکم دینے اور وادیٔ محسر سے تیزی سے گزرنے کا بیان
4 Hadith
23
اس امر کا بیان کہ کمزور اور ضعیف خواتین کو رش سے پہلے پہلے مزدلفہ سے منیٰ کو روانہ کیا جاسکتا ہے
8 Hadith
24
جمرۂ عقبہ کی رمی سے یوم النحرکے آخر تک کے مناسک سے متعلقہ ابواب رمی جمار کی مشروعیت کا سبب اور ان کا حکم اورکنکریوں کی تعداد اور ان کے حجم کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ کنکریاں کہاں سے اٹھائی جائیں
4 Hadith
25
یوم نحریعنی دس ذوالحجہ کوجمرۂ عقبہ کی رمی کے وقت کا بیان
7 Hadith
26
وادی کے درمیان کھڑے ہو کر جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے، رمی کی کیفیت اور اس وقت کی دعا کا بیان
5 Hadith
27
جمرۂ عقبہ کی رمی کے لیے سوار ہو کر جانے اور باقی دنوں میں پیدل چل کر جانے کے مستحب ہونے کا بیان
6 Hadith
28
جمرۂ عقبہ کی رمی کے بعد حاجی کے حلال ہو جانے اور اس کے بعد دوسرے افعال کا بیان
4 Hadith
29
قربانی کرنا اور بال منڈوانا یا کترنا
7 Hadith
30
تراشنے کی بہ نسبت بالوں کو مونڈنے کی فضیلت کا بیان
11 Hadith
31
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منی سے طواف کے لیے لوٹنا اور اسی کو طوافِ افاضہ اور طوافِ زیارت کہنے اور شام تک یہ طواف نہ کر سکنے والے کے حکم کا بیان
6 Hadith
32
دس ذوالحجہ کو قربانی، حجامت، رمی اور طواف افاضہ میں تقدیم و تاخیر کے جائز ہو نے کا بیان
6 Hadith
33
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منیٰ میں خطبہ کا بیان
6 Hadith
34
منیٰ کی راتیں منیٰ میں بسر کرنے، ان دنوں میں جمروں کی رمی کرنے اور کچھ دوسرے امور کا بیان یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کے بعد والے دنوں میں کنکریاں مارنے کے وقت اور اس کے آداب کا بیان
5 Hadith
35
اس امر کا بیان کہ اونٹوں کے چرواہوں کے لئے دو دنوں کی رمی ایک دن میں کر لینا اور ضرورت مند لوگوں کا منی کی راتیں مکہ میں گزار لینا جائز ہے
3 Hadith
36
منیٰ میں نمازوں کو قصر کرکے ادا کرنے اور ان دنوں میں روزہ کے ناجائز ہونے کا بیان
3 Hadith
37
ایام تشریق کے وسط میں خطبہ دینے کا بیان
3 Hadith
38
منیٰ سے واپسی پر وادیٔ محصّب میں ٹھہرنے کا بیان
8 Hadith
39
مکہ مکرمہ سے ہجرت کر جانے والا آدمی مناسکِ حج کی ادائیگی کے بعد کتنا عرصہ وہاں قیام کرسکتا ہے؟
1 Hadith
40
طوافِ وداع کی مشروعیت اور حائضہ سے اس کے ساقط ہونے اورملتزم کے پاس دعا کرنے کا بیان طوافِ وِداع: …وہ طواف جو حج سے فراغت کے بعد مکہ مکرمہ سے رخصت ہوتے وقت کیا جاتا ہے۔
5 Hadith
No chapter matched that.