مسنداحمد

Musnad Ahmad

حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان

طواف کی دورکعتوں اور ان کی قراء ت اور ان کے بعد حجراسود کے استلام کا بیان


۔ (۴۳۸۸) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَمَلَ ثَلَاثَہَ أَطْوَافٍ مِنَ الْحَجَرِ إِلَی الْحَجَرِ وَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ عَادَ إِلَی الْحَجَرِ، ثُمَّ ذَہَبَ إِلٰی زَمْزَمَ فَشَرِبَ مِنْہَا وَصَبَّ عَلٰی رَأْسِہِ ثُمَّ رَجَعَ فَاسْتَلَمَ الرُّکْنَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَی الصَّفَا فَقَالَ: ((أَبْدَئُ بِمَا بَدَأَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۳۱۴)

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طواف کرکے ابتدائی تین چکروںمیں حجراسود سے حجر اسود تک رمل کیا، مکمل طواف کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دورکعت نماز ادا کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حجراسود کے پاس تشریف لائے، بعد ازاں زمزم کی طرف گئے اور وہاں جا کر یہ پانی پیا اور اپنے سر پر بھی ڈالا، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پھر حجراسود کے پاس تشریف لائے اور اس کا استلام کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صفا کی تشریف لے گئے اور فرمایا: جس سے اللہ تعالی نے ابتداکی ہے، میں بھی اسی سے ابتدا کرتا ہوں۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۴۳۸۸) تخریج: انظر الحدیث السابق۔ أخرجہ (انظر: )
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طواف کی دو رکعتوںکے بعد اور زمزم کا پانی پینے کے بعد دودفعہ حجر اسود کا استلام کیا، لیکن اس روایت کے علاوہ صحیح مسلم کی روایت کردہ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کی حدیث سمیت باقی تمام روایات میں طواف کی دو رکعتوں کے بعد ایک دفعہ استلام کرنے اور اس کے بعد صفا مروہ کی سعی شروع کر دینے کا ذکر ہے۔ واللہ اعلم۔ اس حدیث کے آخری جملے کا اس آیت کے ساتھ تعلق ہے: {اِنَّ الصَّفَا وَالْمَـرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ} … ’’بیشک صفا اور مروہ اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ہے۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۱۵۸)چونکہ اللہ تعالی نے اس آیت میں پہلے صفا پہاڑی کا نام لیا ہے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی اسی سے سعی کا آغاز کیا۔