۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ہم سارے کے سارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے چار ذوالحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے، ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا، اس کے بعد دودورکعت نماز پڑھی، پھر ہم نے صفا مروہ کی سعی کی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بال کٹوانے کاحکم دیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حلال ہوجائو یعنی احرام کھول دو۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کس چیز کے لیے حلال ہونا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ چیز حلال سمجھو جو احرام کے بغیر حلال ہوتی ہے، مثلاً خوشبو اور بیوی وغیرہ۔ پس عورتوں سے مجامعت کی گئی اور خوشبوئیں مہک اٹھیں۔خلف کہتے ہیں:جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات موصول ہوئی کہ بعض لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس حکم کے بارے میں کہا: اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب ہم منیٰ کی طرف جارہے ہوں گے تو ہماری شرم گاہیں منی ٹپکا رہی ہوں گی، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں خطبہ دیا اور اللہ تعالی کی حمد وثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: تمہاری باتیں مجھ تک پہنچ چکی ہیں، میں تم سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور سب سے زیادہ نیک ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس بات کا مجھے بعد میں پتہ چلا، اگر پہلے معلوم ہو جاتی تو میں سرے سے قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا اور اگر میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لایاہوتا تو میں بھی حلال ہوجاتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مجھ سے حج کے احکام ومسائل سیکھ لو۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پس لوگ حلال ہوگئے اور اسی حالت پر برقرار رہے، یہاں تک کہ جب آٹھ ذوالحجہ کا دن آ گیا اور وہ منیٰ کو جانے لگے تو انہوں نے حج کا احرام باندھا، جو لوگ صاحبِ استطاعت تھے انہوں نے قربانیکی اور جو لوگ صاحب استطاعت نہ تھے انہوں نے قربانی کے عوض دس روزے رکھے اور آپ نے صحابہ کو اونٹ اور گائے کی قربانی میں سات سات آدمیوں کو شریک کیا اور حج قران والوں کے لئے بیت اللہ کے طواف اور صفا مروہ کی سعی کے لئے ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی تھی۔
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ حج کیلئے روانہ ہوئے، ہم نے حج کا احرام باندھا ہوا تھا، جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے حج کے احرام کو عمرہ کا احرام قرار دو۔ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم نے تو حج کا احرام باندھا تھا، اب ہم اسے عمرہ کا احرام کیسے قراردیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں جو حکم دے رہاہوں، اس پر غور کرو اور اسے سر انجام دو۔ لیکن لوگوں نے پھر وہی بات دوہرائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غضب ناک ہوگئے اور غصہ کی حالت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے، جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ پر غضب کے آثاردیکھے تو کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کس نے ناراض کر دیا،اللہ اس پر ناراض ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ناراض کیوں نہ ہوں، بات یہ ہے کہ میں کوئی حکم دیتا ہوںاور میری پیروی نہیں کی جاتی۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار ذوالحجہ کو مکہ مکرمہ تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصہ کی حالت میں تھے، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! کس نے آپ کو غصہ دلایا، اللہ اسے جہنم رسید کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے معلوم نہیں کہ میں نے لوگوں کو ایک حکم دیاہے، لیکن وہ اس پر عمل کرنے میں متردد ہیں، جو خیال مجھے بعد میں آیا ہے، اگر یہ پہلے آ جاتا تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا، بلکہ یہیں سے خریدلیتا اور میں بھی ان لوگوں کی طرح احرام کھول دیتا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کو روئے زمین پر سب سے بڑا گناہ سمجھتے تھے، اس لئے وہ لوگ مہینوں میں تقدیم وتاخیر کرتے اور محرم کو صفرقراردیتے اور وہ کہا کرتے تھے:جب سفر کی وجہ سے اونٹوں کو آئے ہوئے زخم درست ہوجائیں، راستوں سے قافلوں کی آمدورفت کے نشانات مٹ جائیں اور صفر کامہینہ گزر جائے تو عمرہ کرنے والوں کے لئے عمرہ کرنا حلال ہو گا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ چارذوالحجہ کو حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے پہنچے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم فرمایا کہ وہ اسے حج کی بجائے عمرہ کا احرام قراردیں اور عمرہ کرکے احرام کھول دیں۔ لیکن انھوں نے تو اس بات کو بہت بڑا خیال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا حلال ہونا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مکمل طور پرحلال ہونا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چارذوالحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے، لوگ حج کا تلبیہ پکاررہے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اسے عمرہ قراردیں اور جن لوگوں کے پاس قربانی کے جانور ہیں، وہ اپنے احرام ہی میں رہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: چنانچہ قمیصیں پہن لی گئیں، خوشبوئیں مہک اٹھیں اور بیویوں سے مجامعت کی گئی۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم اس عمرہ کا فائدہ اٹھا رہے ہیں، جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کا جانور نہیں ہے، وہ مکمل طور پر حلال ہوجائیں، قیامت تک عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے، (یعنی قیامت تک حج کے مہینوں میں عمرہ کیاجاسکتا ہے)۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جو لوگ حج کے ارادہ سے آئے ہیں اور وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کرچکے ہیں، ان کا حج پورا ہوگیا اور ان کا یہ عمل عمرہ بن گیا ہے، یہی اللہ تعالی اور رسول اللہ کی سنت ہے۔
۔ مولائے ابن عباس جناب کریب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابو العباس!آپ کے اس قول کا کیا مطلب ہے کہ جو آدمی حج کی نیت سے آئے اور قربانی کا جانور اس کے ہمراہ نہ ہو، تو وہ بیت اللہ کا طواف کرکے عمرہ مکمل کر کے حلال ہوجائے اور جس کے ہمراہ قربانی کا جانور ہو اس کا حج اور عمرہ جمع ہوجائے گا، جبکہ دوسرے لوگوں کی رائے اس طرح نہیں ہے؟ انھوں نے کہا: تجھ پر افسوس! بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ تشریف لائے اورصحابہ حج کا تلبیہ پکاررہے تھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں یہ حکم دیا کہ جن لوگوں کے ساتھ قربانی کے جانور نہیں ہیں، وہ بیت اللہ کا طواف کرکے عمرہ کے بعد حلال ہوجائیں،بعض لوگ کہنے لگے: اللہ کے رسول!ہم نے تو حج کا ارادہ کیاتھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ حج نہیں ہے، بلکہ یہ تو عمرہ ہے۔
۔ بنوہجیم کے ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ابوالعباس! یہ آپ کا کیسا فتویٰ لوگوں میں مشہورہوا ہے کہ جو آدمی بیت اللہ کاطواف کرتا ہے، وہ حلال ہوجاتا ہے؟ انھوں نے کہا: تمہارے نبی کییہی سنت ہے، خواہ تم لوگ اسے پسند نہ کرو۔ہمام نے کہا: اس کا مطلب ہے کہ جس کے ہمراہ قربانی کا جانور نہ ہو تو وہ (عمرہ کر کے) حلال ہوجائے۔
۔ مجاہد سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! حج افراد کیاکرو اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی بات کو چھوڑ دو۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواباً کہا: آپ اس بارے میں اپنی والدہ سے کیوں نہیں پوچھ لیتے؟ پس انھوں نے ان کی خدمت میں ایک آدمی کو بھیج کر مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی بات صحیح ہے، کیونکہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ حج کے ارادہ سے چلے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے اسے عمرہ میں تبدیل کرلیاتھا، اس کے بعد ہمارے لئے (احرام کی وجہ سے ممنوع ہو جانے والی) ہر حلال چیز حلال ہوگئی،یہاں تک کہ عورتوں اور مردوں کے درمیان سے خوشبوئیں مہک اٹھیں۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے روانہ ہوئے،لیکن جب مکہ مکرمہ پہنچے تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے عمرہ قراردیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو خیال مجھے بعد میں آیا ہے، اگر پہلے آ جاتا تو میں بھی اس کو عمرہ بنا دیتا، لیکن میں اپنے ہمراہ قربانی کا جانور لایا ہوں اور میں نے حج و عمرہ کو جمع کر رکھا ہے۔
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے روانہ ہوئے، لیکن جب ہم نے بیت اللہ کا طواف کرلیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے عمرہ قرار دو، البتہ جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور ہیں،وہ احرام نہیںکھول سکتے۔ چنانچہ ہم نے اسے عمرہ بنالیا اور ہم حلال ہوگئے، جب آٹھ ذوالحجہ ہوئی تو ہم نے (از سرِ نو) حج کا تلبیہ پکارا اور منیٰ کی طرف روانہ ہوگئے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کے ارادہ سے آئے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا تو انھوں نے اسے عمرہ بنالیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو خیال مجھے بعد میں آیا ہے، اگر یہ پہلے آ جاتا تو میں بھی اسی طرح کرتا جیسے ان لوگوں نے کیا ہے، لیکن اب بات یہ ہے کہ قیامت تک عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کیا، (یعنی اب حج کے دنوں میں عمرہ کیا جاسکتا ہے)، چنانچہ جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور تھے، ان کے علاوہ باقی سب لوگ حلال ہوگئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا: تم نے تلبیہ کیسے پکارا؟ انہوں نے کہا: میں نے وہی احرام باندھا ہے، جو آپ نے باندھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیاتمہارے ساتھ قربانی کا جانور ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم احرام کی حالت میں ہی رہو اور میرے قربانیوں کا ایک تہائی حصہ تمہارے لیے ہے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک سواونٹ تھے۔
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے، ہمارا خیال صرف یہ تھا کہ ہم حج کرنے کے لیے جا رہے ہیں، لیکن جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو یہ اعلان کیاگیا: تم میں سے جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور نہیں ہیں، وہ عمرہ کے بعد حلال ہوجائیں اور جن کے ہمراہ قربانی کے جانور ہیں، وہ احرام کی حالت میں رہیں۔ پس جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور تھے، ان کے علاوہ باقی سب لوگ عمرہ کرکے حلال ہوگئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ سو اونٹ تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تھے، …۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ نے حج کا احرام باندھا اور اس کا تلبیہ پکارا،صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ قربانی کے جانور تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تھے، ان کے ہمراہ بھی قربانی کا جانور تھا۔ انہوں نے (احرام باندھتے وقت یوں) کہا تھا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والا احرام باندھتا ہوں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ اپنے تلبیہیا احرام کو عمرہ میں تبدیل کردیں اور بیت اللہ کا طواف اور سعی کے بعد بال کٹوا کر حلال ہوجائیں، البتہ جن کے پاس قربانی کے جانور ہیں، وہ حلال نہیں ہوسکتے۔ لیکن لوگ کہنے لگے: کیا ہم منیٰ کی طرف اس حال میں جائیں گے کہ ہماری شرم گاہوں سے منی کے قطرات ٹپکتے ہوں گے؟ جب ان کییہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو خیال مجھے اب آیا ہے، اگر یہ پہلے آ یا ہوتا تو میں قربانی کا جانورساتھ نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی حلال ہوجاتا۔ اسی سفر میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کو حیض شروع ہو گیا تھا، لیکن انہوں نے تمام مناسک ادا کئے تھے، صرف بیت اللہ کا طواف نہیں کیا تھا اور جب وہ حیض سے پاک ہو گئی تھیں تب طواف کیا تھا۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ لوگ، حج اور عمرہ دوعبادتیں کرکے جارہے ہیں اور میں صرف حج کرکے؟ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ تنعیم تک جائیں (اور ان کو عمرہ کروا کر لائیں) چنانچہ سیدہ نے حج کے بعد ذوالحجہ میں ہی عمرہ کیا تھا۔ سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جمرۃ عقبہ کے قریب ملاقات ہوئی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت رمی کررہے تھے، انھوں نے کہا: اللہ کے رسول! (کیا حج کے دنوں میں عمرہ کرنا) صرف آپ کے ساتھ اسی سال کیلئے مخصوص ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، بلکہ یہ حکم ہمیشہ کیلئے ہے۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے، ہم صرف حج کا تذکرہ کر رہے تھے، جب ہم سرف کے مقام پر پہنچے تو میں حائضہ ہو گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو میں رورہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کیوں رورہی ہو؟ میں نے عرض کیا: کاش! میں اس سال حج کے لئے نہ آتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لگتا ہے کہ تمہیں حیض آ گیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے بناتِ آدم پر یہ چیز لکھ دی ہے، تم وہ تمام مناسک اداکرو جو حاجی لوگ ادا کریں، البتہ تم اس وقت تک بیت اللہ کا طواف نہ کروجب تک حیض سے پاک نہ ہوجائو۔ جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا: تم ان مناسک کوعمرہ بنالو، جن لوگوں کے پاس قربانی کے جانور نہیں تھے، وہ سب حلال ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ،اور دیگر صاحب ِاستطاعت لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور تھے۔ سیدہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: یہ لوگ بعد میں حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے روانہ ہوئے۔ میں دس ذوالحجہ کو حیض سے پاک ہوئی، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بھیجا تاکہ میں طواف افاضہ کرآئوں۔ پھر ہمارے پاس گائے کا گوشت لایاگیا، میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ تو بتانے والوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے ذبح کی ہے۔ پھر جب حصبہ کی رات تھی (اور لوگ مدینہ منورہ کی طرف واپسی کے موقع پر وادیٔ حصبہ میں ٹھہرے) تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول!لوگ حج اور عمرہ کرکے جارہے ہیں اور میں صرف حج کر کے واپس ہو رہی ہوں، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے بھائی سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو وہ مجھے اپنے پیچھے اونٹ پر بٹھا کر (عمرہ کرا کر لائے)، مجھے خوب یا دہے میں نو عمر تھی اور جب مجھے اونگھ آ جاتی تو میرا چہرہ پالان کی پچھلی لکڑی کو جالگتا تھا، بہرحال میرے بھائی مجھے تنعیم لے گئے، اور میں نے وہاں سے عمرے کا احرام باندھ کر عمرہ ادا کیا،یہ اس عمرہ کے عوض تھاجو لوگ کرچکے تھے۔
۔ سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا لینا، کیایہ حکم صرف ہمارے لئے خاص ہے یا سب لوگوں کے لیے عام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ صرف ہمارے لیے خاص ہے۔
۔ (دوسری سند) سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول!حج کے احرام کو عمرہ میں تبدیل کرکے حج تمتع کر لینے کی اجازت ہمارے لیے خاص ہے یا سب لوگوں کے لیے عام ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں،یہ صرف ہمارے لیے خاص ہے۔