TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا لینا - حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا لینا - حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 12 of حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 12 of 40 · 19 Hadith
۔ (۴۴۱۱)عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صُبْحَ أَرْبَعٍ مَضَیْنَ مِنْ ذِی الْحِجَّۃِ مُہَلِّیْنَ بِالْحَجِّ کُلُّنا، فَأَمَرَنَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَطُفْنَا بِالْبَیْتِ وَصَلَّیْنَا الرَّکْعَتَیْنِ وَسَعَیْنَا بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، ثُمَّ أَمَرَنَا فَقَصَّرْنَا ثُمَّ قَالَ: ((أَحِلُّوْا۔)) قُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! حِلُّ مَاذَا؟ قَالَ: ((حِلُّ مَا یَحِلُّ لِلْحَلَالِ مِنَ النِّسَائِ وَالطِّیْبِ۔)) قَالَ: فَغُشِیَتِ النِّسَائُ وَسَطَعَتِ الْمَجَامِرُ، قَالَ خَلَفٌ: وَبَلَغَہُ أَنَّ بَعْضَہُمْ یَقُوْلُ: یَنْطَلِقُ اَحَدُنَا اِلٰی مِنًی وَذَکَرُہٗیَقْطُرُ مَنِیًّا، قَالَ: فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ (وَفِیْ لَفْظٍ: فَقَالَ: فَقَدْ بَلَغَنِی الَّذِیْ قُلْتُمْ وَإِنِّی لَأَتْقَاکُمْ وَأَبَرُّکُمْ)۔)) ثُمَّ قَالَ: ((إِنِّی لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِی مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْہَدْیَ، وَلَوْ لَمْ أَسُقِ الْھَدْیَ لَأَحْلَلْتُ۔)) قَالَ: ((فَخُذُوْا عَنِّی مَنَاسِکَکُمْ۔)) قَالَ: فَاَقَامَ الْقَوْمُ بِحِلِّہِمْ حَتّٰی إِذَا کَانَ یَوْمُ التَّرْوِیَۃِ، وَأَرَادُوْا التَّوَجُّہَ إِلٰی مِنًی أَھَلُّوْا بِالْحَجِّ، قَالَ: فَکَانَ الْھَدْیُ عَلٰی مَنْ وَجَدَ، وَالصِّیَامُ عَلٰی مَنْ لَمْ یَجِدْ وَأَشْرَکَ بَیْنَہُمْ فِیْ ھَدْیِہِمْ، اَلْجَزُوْرُ بَیْنَ سَبْعَۃٍ، وَالْبَقْرَۃُ بَیْنَ سَبْعَۃٍ وَکَانَ طَوَافُہُمْ بِالْبَیْتِ وَسَعْیُہُمْ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ لِحَجِّہِمْ وَعُمْرَتِہِمْ طَوَافًا وَاحِدًا وَسَعْیًا وَاحِدًا۔ (مسند احمد: ۱۵۰۰۶)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ہم سارے کے سارے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے چار ذوالحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے، ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا، اس کے بعد دودورکعت نماز پڑھی، پھر ہم نے صفا مروہ کی سعی کی، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں بال کٹوانے کاحکم دیا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حلال ہوجائو یعنی احرام کھول دو۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کس چیز کے لیے حلال ہونا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر وہ چیز حلال سمجھو جو احرام کے بغیر حلال ہوتی ہے، مثلاً خوشبو اور بیوی وغیرہ۔ پس عورتوں سے مجامعت کی گئی اور خوشبوئیں مہک اٹھیں۔خلف کہتے ہیں:جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات موصول ہوئی کہ بعض لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس حکم کے بارے میں کہا: اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب ہم منیٰ کی طرف جارہے ہوں گے تو ہماری شرم گاہیں منی ٹپکا رہی ہوں گی، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں خطبہ دیا اور اللہ تعالی کی حمد وثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: تمہاری باتیں مجھ تک پہنچ چکی ہیں، میں تم سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور سب سے زیادہ نیک ہوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس بات کا مجھے بعد میں پتہ چلا، اگر پہلے معلوم ہو جاتی تو میں سرے سے قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا اور اگر میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لایاہوتا تو میں بھی حلال ہوجاتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم مجھ سے حج کے احکام ومسائل سیکھ لو۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: پس لوگ حلال ہوگئے اور اسی حالت پر برقرار رہے، یہاں تک کہ جب آٹھ ذوالحجہ کا دن آ گیا اور وہ منیٰ کو جانے لگے تو انہوں نے حج کا احرام باندھا، جو لوگ صاحبِ استطاعت تھے انہوں نے قربانیکی اور جو لوگ صاحب استطاعت نہ تھے انہوں نے قربانی کے عوض دس روزے رکھے اور آپ نے صحابہ کو اونٹ اور گائے کی قربانی میں سات سات آدمیوں کو شریک کیا اور حج قران والوں کے لئے بیت اللہ کے طواف اور صفا مروہ کی سعی کے لئے ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی تھی۔
Takhreej
(۴۴۱۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۵۵۷، ۲۵۰۶، ۴۳۵۲، ۷۳۶۷، ومسلم: ۱۲۱۶ (انظر: ۱۴۹۴۳)
Explanation
فوائد:… صرف عمرہ کا تلبیہ کہنے والے صحابہ بھی موجود تھے، سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کا کہنا کہ سارے لوگ حج کا تلبیہ کہہ رہے تھے، اس کو اکثریت پر یا سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کے علم پر محمول کیا جائے گا۔ اس معاملے میںصحابہ کی کل تین قسمیں تھیں: کسی نے حج اور عمرے دونوںکا، کسی نے صرف حج کا اور کسی نے صرف عمرے کا تلبیہ کہا تھا۔ حج قران کرنے والے مکہ مکرمہ پہنچ کر طوافِ قدوم اور صفا مروہ کی سعی کرتے ہیں اور پھر (۱۰) ذوالحجہ کو صرف طواف افاضہ کرتے ہیں، اس طرح ان کی طوافِ قدوم کے بعد والی سعی اور طواف افاضہ ان کو حج اور عمرہ دونوں سے کفایت کرتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ حج کی نیت کو عمرہ کی نیت میں تبدیل کر دینا درست ہے۔
4411
Sahih
۔ (۴۴۱۲) عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابُہٗقَالَ: فَأَحْرَمْنَابِالْحَجِّ،فَلَمَّاقَدِمْنَامَکَّۃَ، قَالَ: ((اِجْعَلُوْا حَجَّکُمْ عُمْرَۃً۔)) قَالَ: فَقَالَ النَّاسُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَدْ أَحْرَمْنَا بِالْحَجِّ، فَکَیْفَ نَجْعَلُہَا عُمْرَۃً؟ قَالَ: ((اُنْظُرُوْا مَا آمُرُکُمْ بِہِ، فَافْعَلُوْا، فَرَدُّوْا عَلَیْہِ الْقَوْلَ فَغَضِبَ، ثُمَّ انْطَلَقَ، حَتّٰی دَخَلَ عَلٰی عَائِشَۃَ غَضْبَانَ فَرَاَتِ الْغَضَبَ فِیْ وََجْھِہٖفَقَالَتْ: مَنْاَغْضَبَکَأَغْضَبَہُ اللّٰہُ؟ قَالَ: ((وَمَا لِی لَا أَغْضَبُ وَأَنَا آمُرُ فَلَا أُتْبَعُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۷۲۲)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ حج کیلئے روانہ ہوئے، ہم نے حج کا احرام باندھا ہوا تھا، جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنے حج کے احرام کو عمرہ کا احرام قرار دو۔ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم نے تو حج کا احرام باندھا تھا، اب ہم اسے عمرہ کا احرام کیسے قراردیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمہیں جو حکم دے رہاہوں، اس پر غور کرو اور اسے سر انجام دو۔ لیکن لوگوں نے پھر وہی بات دوہرائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غضب ناک ہوگئے اور غصہ کی حالت میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس تشریف لے گئے، جب انہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرہ پر غضب کے آثاردیکھے تو کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کس نے ناراض کر دیا،اللہ اس پر ناراض ہو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں ناراض کیوں نہ ہوں، بات یہ ہے کہ میں کوئی حکم دیتا ہوںاور میری پیروی نہیں کی جاتی۔
Takhreej
(۴۴۱۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، سماع ابی بکر بن عیاش من ابی اسحاق السبیعی لیس بذاک القوی، ثم ان ابا اسحاق لم یصرح بسماعہ من البرائ۔ ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۹۸۲(انظر: ۱۸۵۲۳)
4412
Zaeef
۔ (۴۴۱۳) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّہَا قَالَتْ: قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأَرْبَعٍ مَضَیْنَ مِنْ ذِی الْحِجَّۃِ، فَدَخَلَ عَلَیَّ وَھُوَ غَضْبَانُ، فَقُلْتُ: مَنْ أَغْضَبَکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ أَدْخَلَہُ اللّٰہُ النَّاَر۔ فَقَالَ: ((وَمَا شَعَرْتِ أَنِّی أَمَرْتُ النَّاسَ بِأَمْرٍ فَإِذَا ھُمْ یَتَرَدَّدُوْنَ۔)) (قَالَ الْحَکَمُ: کَأَنَّہُمْ، أَحْسِبُ) وَلَوْ أَنِّی اِسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِی مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْھَدْیَ مَعِیَ حَتّٰی أَشْتَرِیَہُ ثُمَّ أَحِلُّ کَمَا أَحَلُّوْا۔)) قَالَ رَوْحٌ: یَتَرَدَّدُوْنَ فِیْہِ، (قَالَ الْحَکَمُ: کَأَنَّہُمْ ھَابُوْا أَحْسِبُ)۔ (مسند احمد: ۲۵۹۳۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چار ذوالحجہ کو مکہ مکرمہ تشریف لائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے ہاں تشریف لائے جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غصہ کی حالت میں تھے، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! کس نے آپ کو غصہ دلایا، اللہ اسے جہنم رسید کرے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تجھے معلوم نہیں کہ میں نے لوگوں کو ایک حکم دیاہے، لیکن وہ اس پر عمل کرنے میں متردد ہیں، جو خیال مجھے بعد میں آیا ہے، اگر یہ پہلے آ جاتا تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا، بلکہ یہیں سے خریدلیتا اور میں بھی ان لوگوں کی طرح احرام کھول دیتا۔
Takhreej
(۴۴۱۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۲۱۱(انظر: ۲۵۴۲۵)
Explanation
فوائد:… قارئین کرام! یہ تو آپ جانتے ہیں کہ اس امت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی فرمانبرداری کا سب سے زیادہ حق ادا کرنے والے صحابۂ کرام ہی تھے، اس حقیقت کی غمازی کرنے والی اَن گنت مثالیں موجود ہیں۔تو پھر مذکورہ بالا حدیث میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم پر ان کے متردد ہونے کا کیا معنی و مفہوم ہے، کچھ دوسری احادیث میں بھی اس قسم کی مثالیں ملتی ہیں، مثلا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سفر میں روزہ توڑ دیا تھا، لیکن بعض صحابہ تردّد میں پڑ گئے تھے۔اس کا جواب یہ ہے کہ ایسے موقعوں پر صحابہ کرام نے یہ سمجھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اُن پر شفقت کرتے ہوئے اور ان کی مجبوری کو مد نظر رکھ کر محض ان کو رخصت دی ہے، جبکہ اُن کا نظریہیہ ہوتا تھا کہ وہ اس عمل کو پورا کرنے کے لیے تیار ہیں اور وہ اس رخصت کی ضرورت محسوس نہیں کر رہے۔ پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسئلے کی پوری وضاحت کرتے کہ یہ صرف رخصت والی بات نہیں ہے، بلکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حکم ہے، تو وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اطاعت کے تمام تقاضے پورے کرنے کے لیے تیار ہو جاتے تھے۔ کیا آپ غور نہیں کرتے کہ جن صحابہ کو حج کے موقع پر عمرہ ادائیگی کے بعد احرام کھولنے میں تردّد ہوا تھا، وہی بعد میں اسی حج تمتع کا فتوی دیا کرتے تھے۔
4413
Sahih
۔ (۴۴۱۴) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کَانُوْا یَرَوْنَ الْعُمْرَۃَ فِی أَشْہُرِ الْحَجِّ مِنْ أَفْجَرِ الْفُجُوْرِ فِی الْأَرْضِ وَیَجْعَلُوْنَ الْمُحَرَّمَ صَفَرًا، وَیَقُوْلُوْنَ: إِذَا بَرَأَ الدَّبَرْ، وَعَفَا الْأَثَرْ، وَانْسَلَخَ صَفَرْ، حَلَّتِ الْعُمْرَۃُ لِمَنِ اعْتَمَرْ۔ فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابُہٗلِصَبِِیْحَۃِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِصُبْحِ) رَابِعَۃٍ مُہِلِّیْنَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَہُمْ أَنْ یَجْعَلُوْھَا عُمْرَۃً، فَتَعَاظَمَ ذَالِکَ عِنْدَھُمْ، فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَیُّ الْحِلِّ؟ قَالَ: ((اَلْحِلُّ کُلُّہُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں کہ لوگ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کو روئے زمین پر سب سے بڑا گناہ سمجھتے تھے، اس لئے وہ لوگ مہینوں میں تقدیم وتاخیر کرتے اور محرم کو صفرقراردیتے اور وہ کہا کرتے تھے:جب سفر کی وجہ سے اونٹوں کو آئے ہوئے زخم درست ہوجائیں، راستوں سے قافلوں کی آمدورفت کے نشانات مٹ جائیں اور صفر کامہینہ گزر جائے تو عمرہ کرنے والوں کے لئے عمرہ کرنا حلال ہو گا۔ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ چارذوالحجہ کو حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے پہنچے توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں حکم فرمایا کہ وہ اسے حج کی بجائے عمرہ کا احرام قراردیں اور عمرہ کرکے احرام کھول دیں۔ لیکن انھوں نے تو اس بات کو بہت بڑا خیال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا حلال ہونا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مکمل طور پرحلال ہونا۔
Explanation
فوائد:… دورِ جاہلیت کے لوگ اپنے ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے حرمت والے مہینوں میں تقدیم و تاخیر کر لیتے تھے، اس کا ایک انداز یہ بھی تھا کہ وہ سال کو تیرہ مہینوں کا تصور کر لیتے ہوئے صفر کو سال کا اور اشہر الحج کا آخری مہینہ قرار دیتے تھے، اس طرح حج کے بعد حج کے مہینوں کے چالیس پچاس دن بچ جاتے تھے اور اتنے عرصے میں اونٹوں کے زخم مندمل ہو جاتے تھے۔ ان الفاظ کی مزید شرح حدیث نمبر (۴۱۰۶) میں گزر چکی ہے۔ دورِ جاہلیت میں حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا بہت بڑا جرم سمجھا جاتا تھا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے اس نظریے کو ردّ کر دیا اور سال کے بارہ مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی کو جائز قرار دیا، حرمت والا مہینہ ہو یا کوئی اور۔
4414
Sahih
۔ (۴۴۱۵) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِصُبْحِ رَابِعَۃٍ مُہِلِّیْنَ بِالْحِجِّ فَأَمَرَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَجْعَلُوْھَا عُمْرَۃً إِلَّا مَنْ کَانَ مَعَہُ الْھَدْیُ، قَالَ: فَلُبِسَتِ الْقُمُصُ وَسَطَعَتِ الْمَجَامِرُ وَنُکِحَتِ النِّسَائُ۔ (مسند احمد: ۲۶۴۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چارذوالحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے، لوگ حج کا تلبیہ پکاررہے تھے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اسے عمرہ قراردیں اور جن لوگوں کے پاس قربانی کے جانور ہیں، وہ اپنے احرام ہی میں رہیں۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں: چنانچہ قمیصیں پہن لی گئیں، خوشبوئیں مہک اٹھیں اور بیویوں سے مجامعت کی گئی۔
Takhreej
(۴۴۱۵) تخریج: انظر الحدیث السابق (انظر: ۲۶۴۱)
4415
Sahih
۔ (۴۴۱۶) عَنْ مُجَاھِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ھٰذِہِ عُمْرَۃٌ اِسْتَمْتَعْنَا بِہَا، فَمَنْ لَمْ یَکُنْ مَعَہُ ھَدْیٌ فَلْیَحِلَّ الْحِلَّ کُلَّہُ، فَقَدْ دَخَلَتِ الْعُمْرَۃُ فِی الْحَجِّ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۳۱۷۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم اس عمرہ کا فائدہ اٹھا رہے ہیں، جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کا جانور نہیں ہے، وہ مکمل طور پر حلال ہوجائیں، قیامت تک عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے، (یعنی قیامت تک حج کے مہینوں میں عمرہ کیاجاسکتا ہے)۔
Takhreej
(۴۴۱۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۲۴۱(انظر: ۳۱۷۲)
4416
Sahih
۔ (۴۴۱۷) عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: مَنْ قَدِمَ حَاجًّا وَطَافَ بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ فَقَدِ انْقَضَتْ حَجَّتُہُ، وَصَارَتْ عُمْرَۃً کَذٰلِکَ سُنَّۃُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَسُنَّۃُ رَسُوْلِہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۲۲۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ جو لوگ حج کے ارادہ سے آئے ہیں اور وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کرچکے ہیں، ان کا حج پورا ہوگیا اور ان کا یہ عمل عمرہ بن گیا ہے، یہی اللہ تعالی اور رسول اللہ کی سنت ہے۔
Takhreej
(۴۴۱۷) تخریج: عبد اللہ بن میمون الرقی شیخ احمد لم یذکروہ بجرح ولا تعدیل، وباقی رجالہ ثقات۔ أخرجہ الطبرانی: ۱۱۴۸۳(انظر: ۲۲۲۳)
Explanation
فوائد:… دراصل سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کا یہ خیال تھا کہ حج افراد کرنے واالا طواف نہ کرے، وگرنہ اس کو حج فسخ کرنا پڑے گا، جیسا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ کوحکم دیا تھا، یہاں وہ اسی رائے کو بیان کر رہے ہیں۔ لیکن جمہور اہل علم سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی اس رائے سے متفق نہیںہیں۔
4417
Sahih
۔ (۴۴۱۸) عَنْ کُرَیْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قُلْتُ لَہٗ: یَا أَبَا الْعَبَّاسِ! أَرَأَیْتَ قَوْلَکَ مَاحَجَّ رَجُلٌ لَمْ یَسُقِ الْھَدْیَ مَعَہُ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَیْتِ إِلَّا حَلَّ بِعُمْرَۃٍ، وَمَا طَافَ بِہَا حَاجٌّ قَدْ سَاقَ مَعَہُ الْھَدْیَ إِلَّا اجْتَمَعَتْ لَہُ عُمْرَۃٌ وَحَجَّۃٌ، وَالنَّاسُ لَا یَقُوْلُوْنَ ھٰذَا؟ فَقَالَ: وَیْحَکَ إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ وَمَنْ مَعَہُ مِنْ أَصْحَابِہِ لَا یَذْکُرُوْنَ إِلَّا الْحَجَّ، فَأَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَنْ لَمْ یَکُنْ مَعَہُ الْھَدْیُ أَنْ یَطُوْفَ بِالْبَیْتِ وَیَحِلَّ بِعُمْرَۃٍ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنْہُمْ یَقُوْلُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّمَا ھُوَ الْحَجُّ، فَیَقُوْلُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّہُ لَیْسَ بِالْحَجِّ وَلٰکِنَّھَا عُمْرَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۳۶۰)
۔ مولائے ابن عباس جناب کریب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے ابو العباس!آپ کے اس قول کا کیا مطلب ہے کہ جو آدمی حج کی نیت سے آئے اور قربانی کا جانور اس کے ہمراہ نہ ہو، تو وہ بیت اللہ کا طواف کرکے عمرہ مکمل کر کے حلال ہوجائے اور جس کے ہمراہ قربانی کا جانور ہو اس کا حج اور عمرہ جمع ہوجائے گا، جبکہ دوسرے لوگوں کی رائے اس طرح نہیں ہے؟ انھوں نے کہا: تجھ پر افسوس! بات یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ تشریف لائے اورصحابہ حج کا تلبیہ پکاررہے تھے، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے بارے میں یہ حکم دیا کہ جن لوگوں کے ساتھ قربانی کے جانور نہیں ہیں، وہ بیت اللہ کا طواف کرکے عمرہ کے بعد حلال ہوجائیں،بعض لوگ کہنے لگے: اللہ کے رسول!ہم نے تو حج کا ارادہ کیاتھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ حج نہیں ہے، بلکہ یہ تو عمرہ ہے۔
Takhreej
(۴۴۱۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۵۶۴، ۳۸۳۲، ومسلم: ۱۲۳۹، ۱۲۴۰(انظر: ۲۳۶۰)
4418
Sahih
۔ (۴۴۱۹) عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی حَسَّانَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِیْ الْھُجَیْمِ: یَا أَبَا عَبَّاسٍ! مَا ھٰذَا الْفُتْیَا الَّتِی تَفَشَّتْ بِالنَّاسِ، أَنَّ مَنْ طَافَ بِالْبَیْتِ، فَقَدْ حَلَّ؟ فَقَالَ: سُنَّۃُ نَبِیِّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَإِنْ رَغِمْتُمْ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ بَعْدَ قَوْلِہِ: وَإِنْ رَغِمْتُمْ) قَالَ: ھَمَّامٌ: یَعْنِی مَنْ لَمْ یَکُنْ مَعَہُ ھَدْیٌ۔ (مسند احمد: ۲۵۱۳)
۔ بنوہجیم کے ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے کہا: ابوالعباس! یہ آپ کا کیسا فتویٰ لوگوں میں مشہورہوا ہے کہ جو آدمی بیت اللہ کاطواف کرتا ہے، وہ حلال ہوجاتا ہے؟ انھوں نے کہا: تمہارے نبی کییہی سنت ہے، خواہ تم لوگ اسے پسند نہ کرو۔ہمام نے کہا: اس کا مطلب ہے کہ جس کے ہمراہ قربانی کا جانور نہ ہو تو وہ (عمرہ کر کے) حلال ہوجائے۔
Takhreej
(۴۴۱۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۲۴۴(انظر: ۲۵۱۳)
4419
Sahih
۔ (۴۴۲۰) عَنْ مُجَاھِدٍ قَالَ: قَالَ: عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الزُّبَیْرِ: أَفْرِدُوْا الْحَجَّ وَدَعُوْا قَوْلَ ھٰذَا، یَعْنِی ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَلَا تَسْأَلُ أُمَّکَ عَنْ ھٰذَا؟ فَأَرْسَلَ إِلَیْہَا فَقَالَتْ: صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ، خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حُجَّاجًا فَأَمَرَنَا فَجَعَلْنَاھَا عُمْرَۃً فَحَلَّ لَنَا الْحَلَالُ حَتّٰی سَطَعَتِ الْمَجَامِرُ بَیْنَ النِّسَائِ وَالرِّجَالِ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۵۶)
۔ مجاہد سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: لوگو! حج افراد کیاکرو اور سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی بات کو چھوڑ دو۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے جواباً کہا: آپ اس بارے میں اپنی والدہ سے کیوں نہیں پوچھ لیتے؟ پس انھوں نے ان کی خدمت میں ایک آدمی کو بھیج کر مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی بات صحیح ہے، کیونکہ جب ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ حج کے ارادہ سے چلے تھے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے اسے عمرہ میں تبدیل کرلیاتھا، اس کے بعد ہمارے لئے (احرام کی وجہ سے ممنوع ہو جانے والی) ہر حلال چیز حلال ہوگئی،یہاں تک کہ عورتوں اور مردوں کے درمیان سے خوشبوئیں مہک اٹھیں۔
Takhreej
(۴۴۲۰) تخریج: حدیث حسن، وھذا اسنادہ ضعیف ۔ أخرجہ مسلم: ۱۲۳۸مثلہ (انظر: ۲۶۹۱۷)
4420
Sahih
۔ (۴۴۲۱) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجْنَا بِالْحَجِّ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَکَّۃَ أَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ نَجْعَلَہَا عُمْرَۃً وَقَالَ: ((لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِی مَا اسْتَدْبَرْتُ لَجَعَلْتُہَا عُمْرَۃً وَلٰکِنِّی سُقْتُ الْھُدْیَ وَقَرَنْتُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۳۸۴۹)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے روانہ ہوئے،لیکن جب مکہ مکرمہ پہنچے تورسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے عمرہ قراردیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو خیال مجھے بعد میں آیا ہے، اگر پہلے آ جاتا تو میں بھی اس کو عمرہ بنا دیتا، لیکن میں اپنے ہمراہ قربانی کا جانور لایا ہوں اور میں نے حج و عمرہ کو جمع کر رکھا ہے۔
Takhreej
(۴۴۲۱) تخریج: حدیث صحیح، وھذا اسناد فیہ جہالۃ ۔ أخرجہ ابویعلی: ۴۳۴۵، والبطرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۱۰۷۳ (انظر: ۱۳۸۱۳)
4421
Sahih
۔ (۴۴۲۲) عَنْ أَبِی سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا حَتّٰی إِذَا طُفْنَا بِالْبَیْتِ، قَالَ: ((اِجْعَلُوْھَا عُمْرَۃً إِلَّا مَنْ کَانَ مَعَہُ الْھَدْیُ۔)) قَالَ: فَجَعَلْنَاھَا عُمْرَۃً فَحَلَلْنَا، فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ التَّرْوِیَۃِ صَرَخْنَا بِالْحَجِّ، وَانْطَلَقْنَاإِلٰی مِنًی۔ (مسند احمد: ۱۱۰۲۷)
۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے روانہ ہوئے، لیکن جب ہم نے بیت اللہ کا طواف کرلیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اسے عمرہ قرار دو، البتہ جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور ہیں،وہ احرام نہیںکھول سکتے۔ چنانچہ ہم نے اسے عمرہ بنالیا اور ہم حلال ہوگئے، جب آٹھ ذوالحجہ ہوئی تو ہم نے (از سرِ نو) حج کا تلبیہ پکارا اور منیٰ کی طرف روانہ ہوگئے۔
Takhreej
(۴۴۲۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۲۴۷(انظر: ۱۱۰۱۴)
4422
Sahih
۔ (۴۴۲۳) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حُجَّاجًا فَأَمَرَھُمْ، فَجَعَلُوْھَا عُمْرَۃً، ثُمَّ قَالَ: ((لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِی مَا اسْتَدْبَرْتُ لَفَعَلْتُ کَمَا فَعَلُوْا، وَلٰکِنْ دَخَلَتِ الْعُمْرَۃُ فِیْ الْحَجِّ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) ثُمَّ أَنْشَبَ أَصَابِعَہُ بَعْضَہَا فِی بَعْضٍ، فَحَلَّ النَّاسُ إِلَّا مَنْ کَانَ مَعَہُ ھَدْیٌ، وَقَدِمَ عَلِیٌّ مِنَ الْیَمَنِ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بِمَ أَھْلَلْتَ؟)) قَالَ: أَھْلَلْتُ بِمَا أَھْلَلْتَ بِہِ، قَالَ: فَہَلْ مَعَکَ ھَدْیٌ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَأَقِمْ کَمَا أَنْتَ، وَلَکَ ثُلُثُ ھَدْیِیْ،قَالَ: وَکَانَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِائَۃُ بَدَنَۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۲۸۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج کے ارادہ سے آئے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو حکم دیا تو انھوں نے اسے عمرہ بنالیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو خیال مجھے بعد میں آیا ہے، اگر یہ پہلے آ جاتا تو میں بھی اسی طرح کرتا جیسے ان لوگوں نے کیا ہے، لیکن اب بات یہ ہے کہ قیامت تک عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کیا، (یعنی اب حج کے دنوں میں عمرہ کیا جاسکتا ہے)، چنانچہ جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور تھے، ان کے علاوہ باقی سب لوگ حلال ہوگئے، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یمن سے آئے تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے پوچھا: تم نے تلبیہ کیسے پکارا؟ انہوں نے کہا: میں نے وہی احرام باندھا ہے، جو آپ نے باندھا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیاتمہارے ساتھ قربانی کا جانور ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم احرام کی حالت میں ہی رہو اور میرے قربانیوں کا ایک تہائی حصہ تمہارے لیے ہے۔ اس وقت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ ایک سواونٹ تھے۔
Takhreej
(۴۴۲۳) تخریج: حسن لغیرہ ۔ أخرجہ الترمذی: ۹۳۲، (انظر: ۲۲۸۷)
4423
Sahih
۔ (۴۴۲۴) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا نَحْسِبُ إِلَّا أَنَّنَا حُجَّاجًا، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَکَّۃَ نُوْدِیَ فِیْنَا: مَنْ کَانَ مِنْکُمْ لَیْسَ مَعَہُ ھَدْیٌ فَلْیَحْلِلْ، وَمَنْ کَانَ مَعَہُ ھَدْیٌ فَلْیُقِمْ عَلٰی إِحْرَامِہِ، قَالَ: فَأَحَلَّ النَّاسُ بِعُمْرَۃٍ إِلَّا مَنْ کَانَ سَاقَ الْھَدْیَ، قَالَ: وَبَقِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَمَعَہُ مِائَۃُ بَدَنَۃٍ، وَقَدِمَ عَلِیٌّ مِنَ الْیَمَنِ، …۔ الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۵۰۰۷)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے، ہمارا خیال صرف یہ تھا کہ ہم حج کرنے کے لیے جا رہے ہیں، لیکن جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو یہ اعلان کیاگیا: تم میں سے جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور نہیں ہیں، وہ عمرہ کے بعد حلال ہوجائیں اور جن کے ہمراہ قربانی کے جانور ہیں، وہ احرام کی حالت میں رہیں۔ پس جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور تھے، ان کے علاوہ باقی سب لوگ عمرہ کرکے حلال ہوگئے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ سو اونٹ تھے اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یمن سے آئے تھے، …۔
Takhreej
(۴۴۲۴) تخریج:أخرجہ البخاری: ۱۵۵۷، ۲۵۰۶، ۴۳۵۲، ۷۳۶۷، واخرجہ مسلم: ۱۲۱۳، ۱۲۱۶، ۲۶۴۸ مفرقا(انظر: ۱۴۹۴۴)
4424
Sahih
۔ (۴۴۲۵) وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَحْوِہِ۔ (مسند احمد: ۴۸۲۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۴۴۲۵) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم ۔ أخرجہ بنحوہ وباختصار البخاری: ۴۳۵۳، ۴۳۵۴، ومسلم: ۱۲۳۲ (انظر: ۴۸۲۲)
4425
Sahih
۔ (۴۴۲۶) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَھَلَّ وَأَصْحَابُہٗبِالْحَجِّوَلَیْسَ مَعَ أَحَدٍ مِنْہُمْ یَوْمَئِذٍ ھَدْیٌ إِلَّا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَطَلْحَۃَ، وَکَانَ عَلِیٌّ قَدِمَ مِنَ الْیَمَنِ وَمَعَہُ الْھَدْیُ، فَقَالَ: أَھْلَلْتُ بِمَا أَھَلَّ بِہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ أَصْحَابَہُ أَنْ یَجْعَلُوْھَا عُمْرَۃً وَیَطُوْفُوْا ثُمَّ یُقَصِّرُوْا وَیَحِلُّوْا إِلَّا مَنْ کَانَ مَعَہُ الْھَدْیُ۔ فَقَالُوْا: نَنْطَلِقُ إِلٰی مِنًی وَذَکَرُ أَحْدِنَا یَقْطُرُ، فَبَلَغَ ذَالِکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((لَوْ أَنِّی أَسْتَقْبِلُ مِنْ أَمْرِی مَا أَسْتَدْبِرُ مَا أَھْدَیْتُ، وَلَوْ َلا أَنَّ مَعِیَ الْھَدْیَ لأَحْلَلْتُ۔)) وَأَنَّ عَائِشَۃَ حَاضَتْ فَنَسَکَتِ الْمَنَاسِکَ کُلَّہَا غَیْرَ أَنَّہَا لَمْ تَطُفْ بِالْبَیْتِ، فَلَمَّا طَافَتْ، قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ أَتَنْطَلِقُوْنَ بِحَجٍّ وَعُمْرَۃٍ وَأَنْطَلِقُ بِالْحَجِّ؟ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ أَنْ یَخْرُجَ مَعَہَا إِلَی التَّنْعِیْمِ فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ فِیْ ذِیْ الْحِجَّۃِ، وَأَنَّ سُرَاقَۃَ بْنَ مَالِکِ بْنِ جُعْشَمٍ لَقِیَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ بِالْعَقَبَۃِ، وَھُوَ یَرْمِیْہَا، فَقَالَ: أَلَکُمْ ھٰذِہِ خَاصَّۃًیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((لَا، بَلْ لِلْأَبَدِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۳۰)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ نے حج کا احرام باندھا اور اس کا تلبیہ پکارا،صرف نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ قربانی کے جانور تھے، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یمن سے آئے تھے، ان کے ہمراہ بھی قربانی کا جانور تھا۔ انہوں نے (احرام باندھتے وقت یوں) کہا تھا: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم والا احرام باندھتا ہوں۔نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ اپنے تلبیہیا احرام کو عمرہ میں تبدیل کردیں اور بیت اللہ کا طواف اور سعی کے بعد بال کٹوا کر حلال ہوجائیں، البتہ جن کے پاس قربانی کے جانور ہیں، وہ حلال نہیں ہوسکتے۔ لیکن لوگ کہنے لگے: کیا ہم منیٰ کی طرف اس حال میں جائیں گے کہ ہماری شرم گاہوں سے منی کے قطرات ٹپکتے ہوں گے؟ جب ان کییہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو خیال مجھے اب آیا ہے، اگر یہ پہلے آ یا ہوتا تو میں قربانی کا جانورساتھ نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی حلال ہوجاتا۔ اسی سفر میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حیض شروع ہو گیا تھا، لیکن انہوں نے تمام مناسک ادا کئے تھے، صرف بیت اللہ کا طواف نہیں کیا تھا اور جب وہ حیض سے پاک ہو گئی تھیں تب طواف کیا تھا۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ لوگ، حج اور عمرہ دوعبادتیں کرکے جارہے ہیں اور میں صرف حج کرکے؟ یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ تنعیم تک جائیں (اور ان کو عمرہ کروا کر لائیں) چنانچہ سیدہ نے حج کے بعد ذوالحجہ میں ہی عمرہ کیا تھا۔ سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جمرۃ عقبہ کے قریب ملاقات ہوئی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس وقت رمی کررہے تھے، انھوں نے کہا: اللہ کے رسول! (کیا حج کے دنوں میں عمرہ کرنا) صرف آپ کے ساتھ اسی سال کیلئے مخصوص ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی نہیں، بلکہ یہ حکم ہمیشہ کیلئے ہے۔
Takhreej
(۴۴۲۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۶۵۱، ۱۷۸۵، ۷۲۳۰، واخرجہ مسلم: ۱۲۱۳ بقصۃ عائشۃ منہ فقط (انظر: ۱۴۲۷۹)
Explanation
فوائد:… سیدنا طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کے علاوہ کچھ دوسرے صحابہ کے پاس بھی ہدی کے جانور تھے، جیسا کہ اگلی حدیث سے پتہ چل رہا ہے، سیدنا جابر اپنے علم کے مطابق بات کر رہے ہیں۔
4426
Sahih
۔ (۴۴۲۷) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: کَانَتْ عَائِشَۃُ تَقُوْلُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا نَذْکُرُ إِلَّا الْحَجَّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا سَرِفَ، طَمِثْتُ، فَدَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا أَبْکِیْ، فَقَالَ: ((مَا یُبْکِیْکِ؟)) قُلْتُ: وَدِدْتُّ أَنِّیْ لَمْ أَخْرُجِِ الْعَامَ، قَالَ: ((لَعَلَّکِ نَفِسْتِ؟)) یَعْنِی حِضْتِ۔ قَالَتْ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((إِنَّ ھٰذَا شَیْئٌ کَتَبَہُ اللّٰہُ عَلٰی بَنَاتِ آدَمَ، فَافْعَلِی مَا یَفْعَلُ الْحَاجُّ غَیْرَ أَنْ لَّا تَطُوْفِی بِالْبَیْتِ حَتّٰی تَطْہُرِی۔)) فَلَمَّا قَدِمْنَا مَکَّۃَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأَصْحَابِہٖ: ((اِجْعَلُوْھَا عُمْرَۃً، فَحَلَّ النَّاسُ إِلَّا مَنْ کَانَ مَعَہٗھَدْیٌ۔)) وَکَانَ الْہَدْیُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبِی بَکْرٍ وَذَوِی الْیَسَّارَۃِ، قَالَتْ: ثُمَّ رَاحُوْا مُہِلِّیْنَ بِالْحَجِّ فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ النَّحْرِ طَہَرْتُ، فَأَرْسَلَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَفَضْتُ یَعْنِی طُفْتُ، قَالَتْ: فَأُتِیْنَا بِلَحْمِ بَقَرٍ فَقُلْتُ: مَا ھٰذَا؟ قَالُوْا: ھٰذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَبَحَ عَنْ نِسَائِہِ الْبَقَرَ، قَالَتْ: فَلَمَّا کَانَتْ لَیْلَۃُ الْحَصْبَۃِ، قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! یَرْجِعُ النَّاسُ بِحَجَّۃٍ وَعُمْرَۃٍ وَأَرْجِعُ بِحَجَّۃٍ، فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ أَبِی بَکْرٍفَأَرْدَفَنِی عَلٰی جَمَلِہِ، قَالَتْ: فَإِنِّی لَأَذْکُرُ وَأَنَا جَارِیَۃٌ حَدِیْثَۃُ السِّنِّ أَنِّیْ أَنْعُسُ فَتَضْرِبُ وَجْہِیْ مُؤْخِرَۃُ الرَّحْلِ، حَتّٰی جَائَ بِیَ التَّنْعِیْمَ، فَاَھْلَلْتُ بِعُمْرَۃٍ جَزَائً لِعُمْرَۃِ النَّاسِ الَّتِیْ اِعْتَمَرُوْا۔ (مسند احمد: ۲۶۸۷۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے، ہم صرف حج کا تذکرہ کر رہے تھے، جب ہم سرف کے مقام پر پہنچے تو میں حائضہ ہو گئی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو میں رورہی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کیوں رورہی ہو؟ میں نے عرض کیا: کاش! میں اس سال حج کے لئے نہ آتی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لگتا ہے کہ تمہیں حیض آ گیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے بناتِ آدم پر یہ چیز لکھ دی ہے، تم وہ تمام مناسک اداکرو جو حاجی لوگ ادا کریں، البتہ تم اس وقت تک بیت اللہ کا طواف نہ کروجب تک حیض سے پاک نہ ہوجائو۔ جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ سے فرمایا: تم ان مناسک کوعمرہ بنالو، جن لوگوں کے پاس قربانی کے جانور نہیں تھے، وہ سب حلال ہو گئے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ،اور دیگر صاحب ِاستطاعت لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور تھے۔ سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: یہ لوگ بعد میں حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے روانہ ہوئے۔ میں دس ذوالحجہ کو حیض سے پاک ہوئی، اس وقت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بھیجا تاکہ میں طواف افاضہ کرآئوں۔ پھر ہمارے پاس گائے کا گوشت لایاگیا، میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ تو بتانے والوں نے بتایا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے ذبح کی ہے۔ پھر جب حصبہ کی رات تھی (اور لوگ مدینہ منورہ کی طرف واپسی کے موقع پر وادیٔ حصبہ میں ٹھہرے) تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول!لوگ حج اور عمرہ کرکے جارہے ہیں اور میں صرف حج کر کے واپس ہو رہی ہوں، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے بھائی سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا تو وہ مجھے اپنے پیچھے اونٹ پر بٹھا کر (عمرہ کرا کر لائے)، مجھے خوب یا دہے میں نو عمر تھی اور جب مجھے اونگھ آ جاتی تو میرا چہرہ پالان کی پچھلی لکڑی کو جالگتا تھا، بہرحال میرے بھائی مجھے تنعیم لے گئے، اور میں نے وہاں سے عمرے کا احرام باندھ کر عمرہ ادا کیا،یہ اس عمرہ کے عوض تھاجو لوگ کرچکے تھے۔
Takhreej
(۴۴۲۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۰۵، ومسلم: ۱۲۱۱(انظر: ۲۶۳۴۴)
4427
Zaeef
۔ (۴۴۲۸) عَنِ الْحَارِثِ بْنِ بِلَالٍ عَنْ أَبِیْہِ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَسْخُ الْحَجِّ لَنَا خَاصَّۃً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّۃً؟ قَالَ: ((بَلْ لَنَا خَاصَّۃً۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۴۷)
۔ سیدنا بلال بن حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا لینا، کیایہ حکم صرف ہمارے لئے خاص ہے یا سب لوگوں کے لیے عام ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : یہ صرف ہمارے لیے خاص ہے۔
Takhreej
(۴۴۲۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال الحارث بن بلال۔ أخرجہ ابوداود: ۱۸۰۸، وابن ماجہ: ۲۹۸۴، والنسائی: ۵/ ۱۷۹(انظر: ۱۵۸۵۳)
4428
Sahih
۔ (۴۴۲۹)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ مُتْعَۃَ الْحَجِّ، لَنَا خَاصَّۃً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّۃً؟ فَقَالَ: ((لَا، بَلْ لَنَا خَاصَّۃً۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۴۸)
۔ (دوسری سند) سیدنا بلال بن حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول!حج کے احرام کو عمرہ میں تبدیل کرکے حج تمتع کر لینے کی اجازت ہمارے لیے خاص ہے یا سب لوگوں کے لیے عام ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی نہیں،یہ صرف ہمارے لیے خاص ہے۔
Takhreej
(۴۴۲۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
4429
Sahih

Chapters

40
01
حج افراد کرنے والے کا طواف
3 Hadith
02
حج قران کرنے والے کا طواف
4 Hadith
03
حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان،یعنی وہ آدمی جو شروع میں صرف عمرے کا احرام باندھتا ہے
2 Hadith
04
اہل مکہ کے طواف اور طواف سے متعلقہ احکام و مسائل اور دورانِ طواف کلام کرنے کا بیان
3 Hadith
05
طواف اور استلام کے موقع پر کیا جانے والا ذکر، جاہلیت والے لوگ طواف میںکیا کہتے تھے اور دورانِ طواف کلام نہ کرنے کا مستحب ہونا، ان سب امور کا بیان
5 Hadith
06
طواف کی دورکعتوں اور ان کی قراء ت اور ان کے بعد حجراسود کے استلام کا بیان
5 Hadith
07
صفا مروہ کی سعی
3 Hadith
08
صفا مروہ کی سعی میں صفا سے ابتدا کرنے اور اس میں چلنے یا رمل کرنے کا بیان
6 Hadith
09
کسی حاجت کے پیش نظر سوار ہو کر صفا مروہ کی سعی کرنے کا بیان
2 Hadith
10
صفااور مروہ کے اوپر وقوف کرنے اور اس دوران اللہ تعالی کا ذکر کرنے کا بیان
3 Hadith
11
حج تمتع کرنے والے کو سعی اور بال منڈوانے یا کٹوانے کے بعد احرام کھول دینے کا حکم دینے کا بیان، الّا یہ کہ وہ قربانی لے کر آیا ہو
6 Hadith
12
حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا لینا
19 Hadith
13
اس امر کا بیان کہ حج تمتع کرنے والا کس وقت احرام باندھے، لوگ کس وقت منیٰ کو روانہ ہوں، وہاں کتنا عرصہ ٹھہریں اور منیٰ میں جاکر پہلے کونسی نماز پڑھی جائے؟
6 Hadith
14
منیٰ سے عرفہ کے لیے روانگی،عرفہ میں وقوف اور وہاں سے واپسی کے ابواب منیٰ سے روانگی کا وقت، وادیٔ نمرہ میں نزول اور عرفہ میں وقوف کے وقت کا بیان
2 Hadith
15
عرفہ کی طرف جاتے ہوئے تلبیہ اور تکبیر کہنے کا بیان
3 Hadith
16
وقوفِ عرفہ کے واجب ہونے اور اس کے وقت اور عرفہ کے سارے مقام کا جائے وقوف ہونے کا بیان
7 Hadith
17
عرفہ میں سواری پر وقوف کرنے اور وہاں خطبہ دینے اور دعاکرنے کا بیان
7 Hadith
18
عرفہ سے مزدلفہ کی طرف روانگی کا وقت اور عرفہ اور مزدلفہ کے درمیان اترنے کا بیان
9 Hadith
19
عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لوگوں کو سکون سے چلنے کا حکم دینے کا بیان
3 Hadith
20
مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے اور وہاں رات بسر کرنے کا بیان
9 Hadith
21
مشعرِ حرام یعنی مزدلفہ میں وقوف کرنے اور اس کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک کے مسائل کا بیان مزدلفہ میں وقوف، اس کے آداب، وہاں سے منی کی طرف روانگی کے وقت، اور جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ جاری رکھنے کا بیان
8 Hadith
22
مزدلفہ سے منی کی طرف جاتے وقت سکینت کا حکم دینے اور وادیٔ محسر سے تیزی سے گزرنے کا بیان
4 Hadith
23
اس امر کا بیان کہ کمزور اور ضعیف خواتین کو رش سے پہلے پہلے مزدلفہ سے منیٰ کو روانہ کیا جاسکتا ہے
8 Hadith
24
جمرۂ عقبہ کی رمی سے یوم النحرکے آخر تک کے مناسک سے متعلقہ ابواب رمی جمار کی مشروعیت کا سبب اور ان کا حکم اورکنکریوں کی تعداد اور ان کے حجم کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ کنکریاں کہاں سے اٹھائی جائیں
4 Hadith
25
یوم نحریعنی دس ذوالحجہ کوجمرۂ عقبہ کی رمی کے وقت کا بیان
7 Hadith
26
وادی کے درمیان کھڑے ہو کر جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے، رمی کی کیفیت اور اس وقت کی دعا کا بیان
5 Hadith
27
جمرۂ عقبہ کی رمی کے لیے سوار ہو کر جانے اور باقی دنوں میں پیدل چل کر جانے کے مستحب ہونے کا بیان
6 Hadith
28
جمرۂ عقبہ کی رمی کے بعد حاجی کے حلال ہو جانے اور اس کے بعد دوسرے افعال کا بیان
4 Hadith
29
قربانی کرنا اور بال منڈوانا یا کترنا
7 Hadith
30
تراشنے کی بہ نسبت بالوں کو مونڈنے کی فضیلت کا بیان
11 Hadith
31
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منی سے طواف کے لیے لوٹنا اور اسی کو طوافِ افاضہ اور طوافِ زیارت کہنے اور شام تک یہ طواف نہ کر سکنے والے کے حکم کا بیان
6 Hadith
32
دس ذوالحجہ کو قربانی، حجامت، رمی اور طواف افاضہ میں تقدیم و تاخیر کے جائز ہو نے کا بیان
6 Hadith
33
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منیٰ میں خطبہ کا بیان
6 Hadith
34
منیٰ کی راتیں منیٰ میں بسر کرنے، ان دنوں میں جمروں کی رمی کرنے اور کچھ دوسرے امور کا بیان یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کے بعد والے دنوں میں کنکریاں مارنے کے وقت اور اس کے آداب کا بیان
5 Hadith
35
اس امر کا بیان کہ اونٹوں کے چرواہوں کے لئے دو دنوں کی رمی ایک دن میں کر لینا اور ضرورت مند لوگوں کا منی کی راتیں مکہ میں گزار لینا جائز ہے
3 Hadith
36
منیٰ میں نمازوں کو قصر کرکے ادا کرنے اور ان دنوں میں روزہ کے ناجائز ہونے کا بیان
3 Hadith
37
ایام تشریق کے وسط میں خطبہ دینے کا بیان
3 Hadith
38
منیٰ سے واپسی پر وادیٔ محصّب میں ٹھہرنے کا بیان
8 Hadith
39
مکہ مکرمہ سے ہجرت کر جانے والا آدمی مناسکِ حج کی ادائیگی کے بعد کتنا عرصہ وہاں قیام کرسکتا ہے؟
1 Hadith
40
طوافِ وداع کی مشروعیت اور حائضہ سے اس کے ساقط ہونے اورملتزم کے پاس دعا کرنے کا بیان طوافِ وِداع: …وہ طواف جو حج سے فراغت کے بعد مکہ مکرمہ سے رخصت ہوتے وقت کیا جاتا ہے۔
5 Hadith
No chapter matched that.