مسنداحمد

Musnad Ahmad

حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان

حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا لینا


۔ (۴۴۲۲) عَنْ أَبِی سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا حَتّٰی إِذَا طُفْنَا بِالْبَیْتِ، قَالَ: ((اِجْعَلُوْھَا عُمْرَۃً إِلَّا مَنْ کَانَ مَعَہُ الْھَدْیُ۔)) قَالَ: فَجَعَلْنَاھَا عُمْرَۃً فَحَلَلْنَا، فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ التَّرْوِیَۃِ صَرَخْنَا بِالْحَجِّ، وَانْطَلَقْنَاإِلٰی مِنًی۔ (مسند احمد: ۱۱۰۲۷)

۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے روانہ ہوئے، لیکن جب ہم نے بیت اللہ کا طواف کرلیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اسے عمرہ قرار دو، البتہ جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کے جانور ہیں،وہ احرام نہیںکھول سکتے۔ چنانچہ ہم نے اسے عمرہ بنالیا اور ہم حلال ہوگئے، جب آٹھ ذوالحجہ ہوئی تو ہم نے (از سرِ نو) حج کا تلبیہ پکارا اور منیٰ کی طرف روانہ ہوگئے۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۴۴۲۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۲۴۷(انظر: ۱۱۰۱۴)