مسنداحمد

Musnad Ahmad

حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان

اس امر کا بیان کہ حج تمتع کرنے والا کس وقت احرام باندھے، لوگ کس وقت منیٰ کو روانہ ہوں، وہاں کتنا عرصہ ٹھہریں اور منیٰ میں جاکر پہلے کونسی نماز پڑھی جائے؟


۔ (۴۴۳۰) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلَا فَخُذُوْا عَنِّی مَنَاسِکَکُمْ)) قَالَ: فَقَامَ الْقَوْمُ بِحِلِّہِمْ حَتّٰی إِذَا کَانَ یَوْمُ التَّرْوِیَۃِ وَأَرَادُوْا التَّوَجُّہَ إِلٰی مِنًی أَھَلُّوْا بِالْحَجِّ۔ (مسند احمد: ۱۵۰۰۶)

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! مجھ سے مناسک کی تعلیم حاصل کرو۔ پس لوگ حلال ہو گئے، یہاں تک کہ جب ترویہ والا دن آ گیا اور انھوں نے منی کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو حج کا تلبیہ کہا۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۴۴۳۰) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ الطیالسی: ۱۶۷۶(انظر: ۱۴۹۴۳)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… آٹھ ذوالحجہ کو یوم الترویہ کہتے ہیں، ’’تَرْوِیَۃ‘‘ باب ’’رَوّٰییُرَوِّیْ‘‘ کا مصدر ہے، اس کا معنی سیراب کرنا ہے، چونکہ حجاج کرام آٹھ تاریخ کو آئندہ کے لیے پانی لے لیتے ہیں اور سیرابی کا سامان کر لیتے، اس لیے اس کو ترویہ والا دن کہتے ہیں۔ یہ اس دور کی بات ہے ، جس میں کنویں اور چشمے نہیں تھے، اب چونکہ ہر مقام پر وافر مقدار میں پانی موجود ہوتا ہے، اس لیے لوگ اپنے ساتھ پانی اٹھانے یا اس کا اہتمام کرنے سے مستغنی ہو گئے ہیں۔