۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! مجھ سے مناسک کی تعلیم حاصل کرو۔ پس لوگ حلال ہو گئے، یہاں تک کہ جب ترویہ والا دن آ گیا اور انھوں نے منی کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو حج کا تلبیہ کہا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ترویہ والے دن منی میں نمازِ ظہر ادا کی۔
۔ جنابِ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بات پسند تھی کہ اگر ان کے لیے ممکن ہو تو وہ ترویہ والے دن ظہرکی نماز منیٰ میں جاکر ادا کریں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز منیٰ میں اداکی تھی۔
۔ عبدالعزیزبن رفیع کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر آپ کو یاد ہے تو مجھے بتلائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آ ٹھ ذوالحجہ کو ظہر کی نماز کہاں ادا کی تھی؟ انہوں نے کہا: منیٰ میں۔ میں نے پھر کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کے بعد واپس جاتے ہوئے عصر کی نماز کہاں اداکی تھی؟ انہوں نے کہا: ابطح وادی میں۔اس کے بعد سیدناانس رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا ؛تم اسی طرح کیا کرو، جیسے تمہارے حکمران کرتے ہیں۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منیٰ میں پانچ نمازیں ادا کی تھیں۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آٹھ ذوالحجہ کی نمازِ ظہر اور عرفہ والے دن (یعنی نو ذوالحجہ) کو نمازِ فجر منی میں ادا کی۔