مسنداحمد

Musnad Ahmad

حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان

اس امر کا بیان کہ حج تمتع کرنے والا کس وقت احرام باندھے، لوگ کس وقت منیٰ کو روانہ ہوں، وہاں کتنا عرصہ ٹھہریں اور منیٰ میں جاکر پہلے کونسی نماز پڑھی جائے؟

۔ (۴۴۳۰) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلَا فَخُذُوْا عَنِّی مَنَاسِکَکُمْ)) قَالَ: فَقَامَ الْقَوْمُ بِحِلِّہِمْ حَتّٰی إِذَا کَانَ یَوْمُ التَّرْوِیَۃِ وَأَرَادُوْا التَّوَجُّہَ إِلٰی مِنًی أَھَلُّوْا بِالْحَجِّ۔ (مسند احمد: ۱۵۰۰۶)

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! مجھ سے مناسک کی تعلیم حاصل کرو۔ پس لوگ حلال ہو گئے، یہاں تک کہ جب ترویہ والا دن آ گیا اور انھوں نے منی کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو حج کا تلبیہ کہا۔

۔ (۴۴۳۱) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمِنًییَوْمَ التَّرْوِیَۃِ الظَّہْرَ۔ (مسند احمد: ۲۳۰۶)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ترویہ والے دن منی میں نمازِ ظہر ادا کی۔

۔ (۴۴۳۲) عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہُ کَانَ یُحِبُّ إِذَا اسْتَطَاعَ أَنْ یُصَلِّیَ الظُّہْرَ بِمِنًی مِنْ یَوْمِ التَّرْوِیَۃِ، وَذَالِکَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَّی الظُّہْرَ بِمِنًی۔ (مسند احمد: ۶۱۳۱)

۔ جنابِ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ بات پسند تھی کہ اگر ان کے لیے ممکن ہو تو وہ ترویہ والے دن ظہرکی نماز منیٰ میں جاکر ادا کریں، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ظہر کی نماز منیٰ میں اداکی تھی۔

۔ (۴۴۳۳) عَنْ عَبْدِالْعَزِیْزِ بْنِ رُفَیْعٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قُلْتُ: أَخْبِرْنِیْ بِشَیْئٍ عَقَلْتَہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَیْنَ صَلَّی الظُّہْرَ یَوْمَ التَّرْوِیَۃِ؟ قَالَ: بِمِنًی، وَأَیْنَ صَلَّی الْعَصْرَ یَوْمَ النَّفْرِ؟ قَالَ: بِالْأَبْطَحِ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: اِفْعَلْ کَمَا یَفْعَلُ أُمَرَاؤُکَ۔ (مسند احمد: ۱۱۹۹۸)

۔ عبدالعزیزبن رفیع کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اگر آپ کو یاد ہے تو مجھے بتلائیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آ ٹھ ذوالحجہ کو ظہر کی نماز کہاں ادا کی تھی؟ انہوں نے کہا: منیٰ میں۔ میں نے پھر کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حج کے بعد واپس جاتے ہوئے عصر کی نماز کہاں اداکی تھی؟ انہوں نے کہا: ابطح وادی میں۔اس کے بعد سیدناانس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے کہا ؛تم اسی طرح کیا کرو، جیسے تمہارے حکمران کرتے ہیں۔

۔ (۴۴۳۴)عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: صَلَّی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمِنًی خَمْسَ صَلَوَاتٍ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۰)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منیٰ میں پانچ نمازیں ادا کی تھیں۔

۔ (۴۴۳۵)وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَّی الظُّہْرَ یَوْمَ التَّرْوِیَۃِ بِمنًی وَصَلَّی الْغَدَاۃَیَوْمَ عَرَفَۃَ بِہَا۔ (مسند احمد: ۲۷۰۱)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آٹھ ذوالحجہ کی نمازِ ظہر اور عرفہ والے دن (یعنی نو ذوالحجہ) کو نمازِ فجر منی میں ادا کی۔