مسنداحمد

Musnad Ahmad

حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان

عرفہ کی طرف جاتے ہوئے تلبیہ اور تکبیر کہنے کا بیان

۔ (۴۴۳۸) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ الثَّقَفِیِّ أَنَّہُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَھُمَا غَادِیَانِ إِلٰی عَرَفَۃَ: کَیْفَ کُنْتُمْ تَصْنَعُوْنَ فِیْ ھٰذَا الْیَوْمِیَعْنِییَوْمَ عَرَفَۃَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: کُنَّا یُہِلُّ الْمُہِلُّ مِنَّا، فَلَا یُنْکَرُ عَلَیْہِ وَیُکَبِّرُ ْالْمُکَبِّرُ مِنَّا وَلَا یُنْکَرُ عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۳۵۵۵)

۔ محمد بن ابی بکر ثقفی نے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس وقت یہ سوال کیا، جب وہ دونوں عرفہ کی طرف جا رہے تھے: تم لوگ عرفہ والے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اس دن کو کیا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: ہم میں سے کوئی تلبیہ پکارتا جاتا، اس پر بھی کوئی انکار نہ کیا جاتا اور کوئی تکبیر پکارتا جاتا، اس پر بھی کوئی انکار نہ کیا جاتا تھا۔

۔ (۴۴۳۹) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَدْ غَدَوْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی عَرَفَاتٍ، مِنَّا الْمُکَبِّرُ وَمِنَّا الْمُلَبِّیْ۔ (مسند احمد: ۴۴۵۸)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ عرفات کو روانہ ہوئے تو ہم میں سے کوئی تکبیر کہنے والا ہوتا تھا اور کوئی تلبیہ پکارنے والا۔

۔ (۴۴۴۰) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ ا للّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَبِیْحَۃَ عَرَفَۃَ، مِنَّا الْمُکَبِّرُ وَمِنَّا الْمُہِلُّ، أَمَّا نَحْنُ نُکَبِّرُ، قَالَ: قُلْتُ: الْعَجَبُ لَکُمْ، کَیْفَ لَمْ تَسْأَلُوْہ کَیْفَ صَنَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۴۸۵۰)

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم عرفہ کی صبح کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جارہے تھے،ہم میں کوئی تکبیر کہنے والا تھا اور کوئی تلبیہ پکارنے والا تھا،تاہم ہم تو تکبیریں کہہ رہے تھے۔عبداللہ بن ابی سلمہ نے عبد اللہ بن عبد اللہ بن عمر سے کہا: تم پر بڑا تعجب ہے، تم نے (سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) سے یہ کیوں نہیں پوچھا تھا کہ خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیا کچھ کیا تھا؟