TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4438 - عرفہ کی طرف جاتے ہوئے تلبیہ اور تکبیر کہنے کا بیان - حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 3 in this chapter
عرفہ کی طرف جاتے ہوئے تلبیہ اور تکبیر کہنے کا بیان
۔ (۴۴۳۸) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ الثَّقَفِیِّ أَنَّہُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَھُمَا غَادِیَانِ إِلٰی عَرَفَۃَ: کَیْفَ کُنْتُمْ تَصْنَعُوْنَ فِیْ ھٰذَا الْیَوْمِیَعْنِییَوْمَ عَرَفَۃَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: کُنَّا یُہِلُّ الْمُہِلُّ مِنَّا، فَلَا یُنْکَرُ عَلَیْہِ وَیُکَبِّرُ ْالْمُکَبِّرُ مِنَّا وَلَا یُنْکَرُ عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۳۵۵۵)
۔ محمد بن ابی بکر ثقفی نے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس وقت یہ سوال کیا، جب وہ دونوں عرفہ کی طرف جا رہے تھے: تم لوگ عرفہ والے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اس دن کو کیا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: ہم میں سے کوئی تلبیہ پکارتا جاتا، اس پر بھی کوئی انکار نہ کیا جاتا اور کوئی تکبیر پکارتا جاتا، اس پر بھی کوئی انکار نہ کیا جاتا تھا۔
4438
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۴۴۳۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۹۷۰، ۱۶۵۹، ومسلم: ۱۲۸۵ (انظر: ۱۳۵۲۱)

Related Chapters

178
1
Chapter: The Talbiyah and the Takbir when going from Mina to 'Arafat on the day of 'Arafat
عرفہ کے دن منیٰ سے عرفات جاتے ہوئے تلبیہ اور تکبیرات کہنا
Sahih Muslim
2
باب: عرفہ جاتے ہوئے تکبیر کہنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
3
(86) CHAPTER. The recitation of Talbiya and Takbir while proceeding from Mina to Arafat.
صبح کے وقت منی سے عرفات جاتے ہوئے لبیک اور تکبیر کہنے کا بیان
Sahih Bukhari
4
باب: عرفات جاتے ہوئے تلبیہ پکارنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
5
Chapter: What Has Been Related About The Takbir For The Bowing And Prostration Positions
باب: رکوع اور سجدہ جاتے وقت اللہ اکبر کہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
تکبیر تحریمہ کے بعد، قراء ت سے پہلے، {وَلَاالضَّآلِّیْنَ} کہنے کے بعد اور سورت (کی تلاوت)کے بعد یعنی رکوع سے پہلے سکتوں کا بیان
Musnad Ahmad
7
امام کا مقتدیوں کو سنانے کے لیے نماز میں اونچی آواز سے تکبیر کہنے کے جواز کا بیان اور امام کے علاوہ کسی دوسرے کا تکبیر سنانے کا حکم
Musnad Ahmad
8
عیدین، دس دنوں اور ایام تشریق میں ذکر کرنے، اطاعت کے کام کرنے اور تکبیرات کہنے پر ابھارنے کا بیان
Musnad Ahmad
9
عرفہ سے مزدلفہ کی طرف روانگی کا وقت اور عرفہ اور مزدلفہ کے درمیان اترنے کا بیان
Musnad Ahmad
10
عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لوگوں کو سکون سے چلنے کا حکم دینے کا بیان
Musnad Ahmad
11
مشعرِ حرام یعنی مزدلفہ میں وقوف کرنے اور اس کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک کے مسائل کا بیان مزدلفہ میں وقوف، اس کے آداب، وہاں سے منی کی طرف روانگی کے وقت، اور جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ جاری رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
12
مزدلفہ سے منی کی طرف جاتے وقت سکینت کا حکم دینے اور وادیٔ محسر سے تیزی سے گزرنے کا بیان
Musnad Ahmad
13
(84) CHAPTER. To raise both hands while saying Takbir [on opening As-Salat (the prayer)] , and while bowing and on raising up the head (after bowing).
رفع یدین تکبیر تحریمہ کے وقت ، رکوع میں جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت کرنا ( سنت ہے )
Sahih Bukhari
14
(101) CHAPTER. The recitation of Talbiya and Takbir in the morning of the day of Nahr till the Ramy of Jamarat-al-Aqaba and riding behind somebody else on a riding animal.
دسویں تاریخ کو صبح تک تکبیر اور لبیک کہتے رہنا جمرہ عقبہ کی رمی تک اور چلتے ہوئے ( سواری پر کسی کو ) اپنے پیچھے بٹھا لینا
Sahih Bukhari
15
(7) CHAPTER. If anyone says Amin [during the Salat (prayer) at the end of the recitation of Surat Al-Fatiha], and the angels in heaven say the same, and the sayings of two coincide, all his past sins will be forgiven .
اس حدیث کے بیان میں کہ جب ایک تمہارا ( جہری نماز میں سورۃ الفاتحہ کے ختم پر باآواز بلند ) آمین کہتا ہے تو فرشتے بھی آسمان پر ( زور سے ) آمین کہتے ہیں اور اس طرح دونوں کی زبان سے ایک ساتھ ( با آواز بلند ) آمین نکلتی ہے تو بندے کے گزرے ہوئے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔
Sahih Bukhari
16
(36) CHAPTER. To be taken to the right side in a dream.
خواب میں دائیں طرف لے جاتے دیکھنا
Sahih Bukhari
17
Chapter: The Command to say the phrases of the Adhan twice and the phrases of the iqamah once, except the phrase, Prayer is about to begin, which is to be said twice
اذان دہری اور تکبیر اکہری کہنے کا حکم
Sahih Muslim
18
Chapter: The verse: “And when they see some merchandise or some amusement they disperse headlong to it, and leave you standing”
اللہ تعالیٰ کا فرمان :’’اور جب وہ تجارت یا کوئی مشغلہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں ‘‘
Sahih Muslim
19
Chapter: Stoning Jamrat Al-'Aqabah from the bottom of the valley; Makkah should be on to one's left and one should say Takbir with each throw
جمرہ عقبہ کو وادی کے اندر سے (اس طرح )کنکریاں مارنا کہ مکہ اس کے بائیں طرف ہو اور وہ ہر کنکری (مارنے )کے ساتھ تکبیر کہے
Sahih Muslim
20
CHAPTER: The Completion Of The Takbir.
باب: تکبیر پوری کہنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
21
CHAPTER: The Takbir After The Salat.
باب: نماز کے بعد تکبیر کہنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
22
CHAPTER: The Procedure Of The Talbiyah.
باب: تلبیہ ( لبیک کہنے ) کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
23
CHAPTER: Regarding Saying ' Allahu Akbar' When Reaching Every High Ground During A Journey.
باب: سفر میں ہر بلندی پر چڑھتے وقت تکبیر کہنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
24
نماز جنازہ میں پانچ تکبیریں کہنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
25
دوسری رکعت سے اٹھتے وقت تکبیر کہنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
26
امام کے سلام پھیرنے کے بعد تکبیر کہنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
27
باب: کعبہ کے گوشوں میں تکبیر کہنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
28
باب: صفا پر تکبیر کہنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
29
باب: عرفہ میں تلبیہ پکارنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
30
Chapter: What Has Been Related That The Imam Has be Greatest Right To The Iqamah
باب: امام کا اقامت (تکبیر) کا حق زیادہ ہے
Jam e Tirmazi
31
Chapter: [What Has Been Related] About the Virtue Of the First Takbir
باب: تکبیر اولیٰ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: [What Has Been Related] About The Takbir On The Two Eid
باب: عیدین کی تکبیرات کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About the Prophet Going To The Eid By One Route, And Returning By Another
باب: عید کے لیے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ایک راستے سے جاتے اور دوسرے سے واپس آتے
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About The Virtue OF Fasting On The Day of Arafah
باب: عرفہ کے دن کے روزے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast The Day of Arafah While At Arafat
باب: میدان عرفات میں یوم عرفہ کے روزے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Was Been Related About the Talbiyah
باب: تلبیہ کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Talbiyah And the Nahr (Sacrifice)
باب: تلبیہ اور نحر (قربانی) کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About Raising The Voice With The Talbiyah
باب: تلبیہ میں آواز بلند کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About Discontinuing The Talbiyah During Hajj
باب: حج میں تلبیہ پکارنا کب بند کیا جائے؟
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About Discontinuing The Talbiyah During Umrah
باب: عمرہ میں تلبیہ پکارنا کب بند کیا جائے؟
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About The One Who Says The Talbiyah For Hajj But He Suffers A Fracture Or Becomes Lame
باب: جو حج کا تلبیہ پکار رہا ہو پھر اس کا کوئی عضو ٹوٹ جائے یا وہ لنگڑا ہو جائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About The Takbir For the Funeral (Prayer)
باب: نماز جنازہ کی تکبیرات کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What has been related about: Suckling makes unlawful whatever lineage makes unlawful
باب: رضاعت سے بھی وہ سارے رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے ہوتے ہیں
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of At-Tasbih, At-Takbir, At-Tahlil, And At-Tahmid
باب: تسبیح، تکبیر، تہلیل اور تحمید کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: Concerning The Supplication Of The Day Of Arafah
باب: عرفہ کے دن کی دعا کا بیان
Jam e Tirmazi
46
بَابُ مَا يُقْرَأُ بَعْدَ التَّكْبِيرِ
تکبیر تحریمہ کے بعد پڑھی جانے والی چیزوں کا بیان
Mishkat
47
بَاب ثَوَابُ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ
تسبیح ، تحمید ، تہلیل اور تکبیر کے ثواب کا بیان
Mishkat
48
بَاب الْإِحْرَام والتلبية
احرام و تلبیہ کا بیان
Mishkat
49
تکبیر تحریمہ وغیرہ کے وقت رفع الیدین کرنے کا بیان (رفع الیدین قبل از رکوع و بعد از رکوع)
Musnad Ahmad
50
اسی باب کی ایک فصل اس شخص کی دلیل کے متعلق جس کے خیال کے مطابق تکبیرۂ تحریمہ کے علاوہ رفع الیدین نہیں ہے
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

17
Musnad Ahmad
89
۔ (۸۹)۔عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ الثَّقَفِیِّ ؓ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قُلْ لِیْ فِیْ الْاِسُلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْہُ أَحَدًا غَیْرَکَ، قَالَ أَبُوْ مُعَاوِیَۃَ: بَعْدَکَ، قَالَ: ((قُلْ آمَنْتُ بِاللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۴۹۴)
سیدنا سفیان بن عبد اللہ ثقفیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتائیں کہ آپ کے علاوہ (ابو معاویہ نے آپ کے بعد کے لفظ بولے ہیں) کسی سے اس کے بارے میں سوال کرنے کی گنجائش باقی نہ رہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم کہو کہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا ہوں اور پھر اس پر ڈٹ جاؤ۔
Musnad Ahmad
100
۔ (۱۰۰)۔عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی الشَّرِیْدِ (بْنِ سُوَیْدٍ الثَّقَفِیِّ ؓ) أَنَّ أُمَّہُ أَوْصَتْ أَنْ یُعْتِقَ عَنْہَا رَقَبَۃً مُؤْمِنَۃً فَسَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ذَالِکَ، فَقَالَ: عِنْدِیْ جَارِیَۃٌ سَوْدَائُ نُوْبِیََّۃٌ فَأُعْتِقُہَا؟ فَقَالَ: ((ائْتِ بِہَا۔)) فَدَعَوْتُہَا فَجَائَ تْ فَقَالَ لَہَا: (( مَنْ رَبُّکِ؟)) قَالَتْ: اللّٰہُ، قَالَ: ((مَنْ أَنَا؟)) فَقَالَتْ: رَسُوْلُُ اللّٰہِ، فَقَالَ: ((أَعْتِقْہَا فَإِنَّہَا مُؤْمِنَۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۱۰۹)
سیدنا ابو شرید بن سوید ثقفیؓ سے مروی ہے کہ اس کی ماں نے یہ وصیت کی تھی کہ وہ اس کی طرف سے مسلمان غلام آزاد کرے، پس اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ سوال کیا کہ اس کے پاس کالے رنگ کی سوڈانی لونڈی ہے، کیا وہ اس کو آزاد کر سکتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کو میرے پاس لے آؤ۔ پس میں نے اس کو بلایا اور وہ آگئی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے فرمایا: تیرا ربّ کون ہے؟ اس نے کہا: اللہ تعالی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پھر فرمایا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کو آزاد کر دے، کیونکہ یہ مؤمنہ ہے۔
Musnad Ahmad
126
۔ (۱۲۶)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: ثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ النُّعْمَانِ قَالَ: سَمِعْتُ أُوَیْسًا (یَعْنِی بْنَ أَبِی أُوَیْسٍ الثَّقَفِیِّؓ) یَقُوْلُ: أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ فِی وَفْدِ ثَقِیْفٍ فَکُنَّا فِی قُبَّۃٍ فَقَامَ مَنْ کَانَ فِیْہَا غَیْرِیْ وَ غَیْرَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَجَائَ رَجُلٌ فَسَارَّہُ فَقَالَ: اذْہَبْ فَاقْتُلْہُ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَلَمَّا وَلَّی الرَّجُلُ دَعَاہُ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) ثُمَّ قَالَ: ((أَلَیْسَ یَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔)) قَالَ: بَلٰی! وَلٰکِنَّہُ یَقُوْلُہَا تَعَوُّذًا، فَقَالَ: ((رُدُّوْہُ۔)) (وَفِی رِوَایَۃٍ: اذْہَبُوْا فَخَلُّوْا سَبِیْلَہُ) ثُمَّ قَالَ: ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَقُوْلُو ا لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّّٰہُ، فَاِذَا قَالُوْہَا حَرُمَتْ عَلَیَّ دِمَائُہُمْ وَ أَمْوَالُہُمْ إِلَّا بِحَقِّہَا، فَقُلْتُ لِشُعْبَۃَ: أَلَیْسَ فِی الْحَدِیْثِ ثُمَّ قَالَ: أَلَیْسَ یَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ أَنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ؟ قَالَ شُعبَۃُ: أَظُنُّہَا مَعَہَا وَلَا أَدْرِیْ۔ (مسند أحمد: ۱۶۲۶۰)
سیدنا اویس بن ابو ایس ثقفی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ثقیف کے وفد میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا، ہم ایک قبّہ میں تھے، ہوا یوں کہ میرے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے علاوہ سارے لوگ چلے گئے، اتنے میں ایک آدمی آیا اور اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے کوئی سرگوشی کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو پھر جاؤ اور اس کو قتل کر دو۔ ایک روایت میں ہے: جب وہ بندہ جانے لگا تورسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اسے بلایا اور پوچھا: کیا وہ لَا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی گواہی دیتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، لیکن وہ یہ کلمہ تو محض بچنے کے لیے کہتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کو چھوڑ دو۔ ایک روایت میں ہے: جاؤ اور اس کو جانے دو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے اس وقت تک لوگوں سے قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جب تک وہ لَا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ نہیں کہہ دیتے، جب وہ یہ کلمہ کہہ دیتے ہیں تو ان کے خون اورمال مجھ پر حرام ہو جاتے ہیں، مگر ان کے حق کے ساتھ۔ میں (محمد بن جعفر) نے امام شعبہ سے کہا: کیا حدیث کے الفاظ اس طرح نہیں تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پوچھا کہ کیا وہ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ أَ نِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ کی گواہی دیتا ہے۔ انھوں نے کہا: میرا خیال ہے کہ یہ الفاظ بھی تھے، لیکن اب مجھے یاد نہیں ہے۔
Musnad Ahmad
605
۔ (۶۰۵)۔ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَانِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُفْیَانَ الثَّقَفِیِّ أَنَّہُمْ غَزَوْا غَزْوَۃَ السَّـلَاسِلِ فَفَاتَہُمُ الْغَزْوُ فَرَابَطُوْا ثُمَّ رَجَعُوْا اِلَی مُعَاوِیَۃَ وَعِنْدَہُ أَبُوْ أَیُوْبَ وَعُقْبَۃُ بْنُ عَامِرٍؓ فَقَالَ عَاصِمٌ: یَا أَبَا أَیُوْبَ! فَاتَنَا الْغَزْوُ الْعَامَ وَقَدْ أُخْبِرْنَا أَنَّ مَنْ صَلّٰی فِی الْمَسْجِدِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فِی الْمَسَاجِدِ الْأَرْبَعَۃِ) غُفِرَ لَہُ ذَنْبُہُ، فَقَالَ: ابْنَ أَخِیْ! أَدُلُّکَ عَلَی أَیْسَرَ مِن ذٰلِکَ؟ اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ تَوَضَّأَ کَمَا أُمِرَ وَصَلّٰی کَمَا أُمِرَ غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ عَمَلٍ)) أَ کَذَاکَ یَا عُقْبَۃُ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ (مسند أحمد: ۲۳۹۹۳)
عاصم بن سفیان ثقفی کہتے ہیں: ہم لوگ غزوۂ سلاسل کیلئے گئے، لیکن یہ غزوہ رہ گیا، پس انھوںنے سرحد پر پہرہ دیا اور پھر سیدنا معاویہؓ کی طرف لوٹ آئے جبکہ ان کے پاس سیدناابوایوب اور سیدنا عقبہ بن عامر ؓبھی بیٹھے تھے، عاصم نے کہا: اے ابوایوب! اس سال ہم سے جہاد فوت ہو گیا ہے، جبکہ ہمیں بتلایا گیا ہے کہ جو آدمی چار مسجدوںمیں نماز پڑھے گا، اس کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔ انھوں نے کہا: بھتیجے! کیا میں تجھے اس سے آسان عمل نہ بتا دوں؟ بیشک میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سناہے: جس نے اس طرح وضو کیا، جس طرح اس کو حکم دیا گیا اور اس طرح نماز پڑھی، جیسے اس کو پڑھنے کا حکم دیا گیا، تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔ عقبہ! اسی طرح حدیث ہے نا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
Musnad Ahmad
756
۔ (۷۵۶)۔ (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَالِثٍ)۔عَنْ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ أَوْسِ بْنِ أَبِیْ أَوْسٍ الثَّقَفِیِّؓ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتٰی کِظَامَۃَ قَومٍ فَتَوَضَّأَ۔ (مسند أحمد: ۱۶۲۵۶)
۔ (تیسری سند) سیدنا اوس ثقفیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ قوم کی دو کنووں کے درمیان والی نالی کے پاس گئے اور وضو کیا۔
Musnad Ahmad
1228
۔ (۱۲۲۸)۔عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ عَلْقَمَۃَ الثَّقَفِیِّ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍؓ قَالَ: لَمَّا انْصَرَفْنَا مِنْ غَزْوَۃِ الْحُدَیْبِیَۃِ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ یَحْرُسُنَا اللَّیْلَۃَ؟)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: فَقُلْتُ: أَنَا، حَتّٰی عَادَ مِرَارًا، قُلْتُ: أَنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((فَأَنْتَ اِذًا۔)) فَحَرَسْتُہُمْ حَتّٰی اِذَا کَانَ وَجْہُ الصُّبْحِ أَدْرَکَنِیْ قَوْلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّکَ تَنَامُ۔)) فَنِمْتُ فَمَا أَیْقَظَنَا اِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ فِیْ ظُہُوْرِنَا، فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَنَعَ کَمَا کَانَ یَصْنَعُ مِنَ الْوُضُوْئِ وَرَکْعَتَیِ الْفَجْرِ، ثُمَّ صَلّٰی بِنَا الصُّبْحَ، فَلَمَّا اِنْصَرَفَ قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَوْ أَرَادَ أَنْ لَا تَنَامُوْا وَلٰـکِنْ أَرَادَ أَنْ تَکُوْنُوْا لِمَنْ بَعْدَکُمْ، فَہٰکَذَا لِمَنْ نَامَ أَوْ نَسِیَ۔)) قَالَ: ثُمَّ اِنَّ نَاقَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاِبِلَ الْقَوْمِ تَفَرَّقَتْ فَخَرَجَ النَّاسُ فِیْ طَلْبِہَا فَجَاؤُا بِاِبِلِہِمْ اِلَّا نَاقَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((خُذْ ہٰہُنَا۔)) فَأَخَذْتُ حَیْثُ قَالَ لِیْ فَوَجَدْتُ زِمَامَہَا قَدِ الْتَوٰی عَلٰی شَجَرَۃٍ مَا کَانَتْ لِتَحُلَّہَا اِلَّا یَدٌ، قَالَ: فَجِئْتُ بِہَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ نَبِیًّا لَقَدْ وَجَدْتُ زِمَامَہَا مُلْتَوِیًا عَلٰی شَجَرَۃٍ مَا کَانَتْ لِتَحُلَّہَا اِلَّا یَدٌ، قَالَ: وَنَزَلَتْ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُوْرَۃُ الْفَتْحِ: {اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِیْنًا}۔ (مسند أحمد: ۳۷۱۰)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: غزوۂ حدیبیہ کے موقع پر ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ واپس لوٹے (اور ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس رات کو کون ہمارا پہرہ دے گا؟ سیدنا عبد اللہ نے کہا: جی میں، (لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم تو سو جاؤ گے ) لیکن جب انھوں نے بار بار یہی بات کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو پھر تم ہی سہی۔ پس میں نے ان کا پہرہ دیا، جب صبح سے پہلے کا وقت ہوا تو میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے قول تم تو سو جاؤ گے۔ کا مصداق بن گیا اور میں سو گیا، جب سورج کی گرمی ہماری کمروں پر پڑی تو تب ہمیں جاگ آئی، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اٹھے اور عادت کے مطابق وضو کیا، فجر کی دو سنتیں پڑھیں اور پھر ہمیں نمازِ فجر پڑھائی، پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ فارغ ہوئے تو فرمایا: بیشک اگر اللہ تعالیٰ تمہارا نہ سونا چاہتا تو تم نہ سوتے، لیکن اس کا ارادہ یہ تھا کہ تم بعد والوںکے لیے اسوہ اور نمونہ بن جاؤ، پس سو جانے والے اور بھول جانے والے کے لیے یہی حکم ہے۔ پھر یوں ہوا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اونٹنی اور لوگوں کی اونٹنیاں کہیں نکل گئیں، پس لوگ ان کو تلاش کرنے کے لیے نکلے اور وہ اپنے اپنے اونٹ پکڑ کر لے آئے، ما سوائے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی اونٹنی کے، سیدنا عبد اللہ ؓ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے فرمایا: تم اس طرف جاؤ۔ پس جس طرف آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا تھا، میں اس طرف نکل پڑا اور دیکھا کہ اس کی لگام ایک درخت کے ساتھ اس طرح بل کھا گئی تھی کہ اس کو ہاتھ سے ہی کھولا جا سکتا تھا، پس میں اس کو لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا! میں نے اس کو اس حالت میں پایا کہ اس کی لگام ایک درخت کے ساتھ یوں بل کھا گئی تھی کہ اس کو ہاتھ سے ہی کھولا جا سکتاتھا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر سورۂ فتح {اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِیْنًا} نازل ہوئی۔
Musnad Ahmad
3241
۔ (۳۲۴۱) عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی زُہَیْرٍ الثَّقَفِیِّ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یَقُوْلُ بِالنَّبَائَ ۃِ أَوِ النَّبَاوَۃِ، شَکَّ نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، مِنَ الطَّائِفِ وَہُوَ یَقُوْلُ: ((یَاأَیُّہَا النَّاسُ! إِنَّکُمْ تُوشِکُوْنَ أَنْ تَعْرِفُوْا أَہْلَ الْجَنَّۃِ مِنْ أَہْلِ النَّارِ، اَوْ قَالَ: خِیَارَکُمْ مِنْ شِرَارِکُمْ)) فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ: بِمَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((بِالثَّنَائِ السَّیِّیئِ وَالثَّنَائِ الْحَسَنِ،وَأَنْتُمْ شُہَدَائُ اللّٰہِ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَعْضٍ)) (مسند احمد: ۱۵۵۱۸)
سیّدنا ابوزہیر ثقفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو طائف کے قریب نَبَائَ ۃ یا نَبَاوَۃ مقام پر یہ فرماتے ہوئے سنا: لوگو! تم جہنمیوں میں سے جنتیوں یا بروں میں سے نیکوں کو پہنچان سکتے ہو۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیسے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بری یا اچھی تعریف کے ساتھ، دراصل تم لوگ زمین میں ایک دوسرے کے حق میں اللہ کے گواہ ہو۔
Musnad Ahmad
3948
۔ (۳۹۴۸) عَنْ عُثْمَانَ بْنِ اَبِی الْعَاصِ الثَّقَفِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((صِیَامٌ حَسَنٌ: صِیَامُ ثَلَاثَۃِ اَیَّامٍ مِنَ الشَّہْرِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۸۸)
۔ سیدنا عثمان بن ابی عاص ثقفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر ماہ میں تین روزے رکھ لینا بہترین روزے ہیں۔
Musnad Ahmad
4581
۔ (۴۵۸۱) عَنِ الْوَلِیْدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ الْمَرْأَۃِ تَطُوْفُ بِالْبَیْتِ، ثُمَّ تَحِیْضُ؟ قَالَ: لِیَکُنْ آخِرُ عَہْدِھَا الطَّوَافَ بِالْبَیْتِ، قُلْتُ: کَذٰلِکَ أَفْتَانِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَرِِبْتَ عَنْ یَدَیْکَ، سَأَلْتَنِی عَنْ شَیْئٍ سَأَلْتَ عَنْہُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِکَیْ مَا أُخَالِفَ۔ (مسند احمد: ۱۵۵۱۹)
۔ سیدنا حارث بن عبداللہ ثقفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا کہ اگر ایک عورت طواف افاضہ کر چکنے کے بعد حائضہ ہو جائے تو وہ کیا کرے؟ انہوں نے کہا: اس کا آخری عمل تو بیت اللہ کا طواف (یعنی طواف وداع) ہی ہونا چاہیے۔ میں (حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ )نے کہا: مجھے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فتوی دیا تھا۔ یہ سن کر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تیرے ہاتھ ٹوٹ جائیں ، جو بات تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کر چکا ہے، مجھ سے بھی پوچھتا ہے تاکہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مخالفت کروں۔