مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے اور وہاں رات بسر کرنے کا بیان - مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے اور وہاں رات بسر کرنے کا بیان - حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Chapter 20 of حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو، جمع کرکے مغرب کی تین اورعشاء کی دو رکعتیں، ایک ہی اقامت کے ساتھ ادا کیاتھا۔
۔ عبد اللہ بن مالک کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مزدلفہ میں نماز ادا کی، انہوں نے مغرب کی تین اور عشاء کی دو رکعتیں ایک اقامت کے ساتھ ادا کیں، جب خالد بن مالک نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مقام پر ایسے ہی کیا تھا۔
۔ سعید بن جبیر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے، جب وہ عرفات سے مزدلفہ پہنچے تو انہوں نے مغرب کی نماز پڑھائی اور کوئی وقفہ کیے بغیر پھر کہہ دیا کہ (عشاء کی) نماز پڑھتے ہیں، پھرانھوں نے دو رکعتیں پڑھائیں اور پھر کہا: جس طرح میں نے کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مقام پر اسی طرح کیا تھا۔
Takhreej
(۴۴۷۱) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… درج بالا بعض احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک اقامت کے ساتھ ادا کی گئیں، لیکن درج ذیل احادیث میں دو اقامتوں کا ذکر ہے:سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ((اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَتَی الْمُزْدَلِفَۃَ فَصَلّٰی بِھَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِاَذَانٍ وَاحِدٍ وَاِقَامَتَیْنِ وَلَمْ یُسَبِّحْ بَیْنَھُمَا شَیْئًا، ثُمْ اضْطَجَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حَتّٰی طَلَعَ الْفَجْرُ، وَصَلّٰی الْفَجْرَ حِیْنَ تَبَیَّنَ لَہُ الصُّبْحُ بِاَذَانٍ وَاِقَامَۃٍ)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ تشریف لائے اور وہاں ایک اذان اور دو اقامتوںکے ساتھ نماز فجر ادا کی اور ان کے درمیان کوئی نفلی نماز نہیں پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لیٹ گئے، یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی اور طلوع فجر کے بعد ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ نمازِ فجر ادا کی۔ (صحیح مسلم)
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ میں دو نمازوں کو جمع کر کے ادا کیا او رہر ایک نماز اقامت کے ساتھ پڑھی اور نہ ان دو نمازوں سے پہلے کوئی نفلی نماز پڑھی اور نہ بعد میں۔ (سنن بیہقی: ۵/ ۱۲۰)
ذہن نشین کر لیں کہ جس صحابی نے دو اقامتوں کا ذکر کیا، اس کے پاس زائد علم ہے، نیز اس کی روایت سے ایک اقامت والی روایات کی نفی بھی نہیں ہو رہی، کیونکہ ان احادیث سے جو اقامت ثابت ہو رہی ہے، اس کا ذکر تو دو اقامتوں والی حدیث میں بھی ہے۔ لہٰذا زائد علم کو کم علم پر اور مثبت کو منفی پر ترجیح دیتے ہوئے دو اقامتوں والی احادیث پر عمل کریں گے، ان روایات میں جمع و تطبیق کییہی صورت ممکن ہے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بڑی تفصیل کے ساتھ حج نبوی کو بیان کیا ہے، وہ اس سلسلے میں دو اقامتوں کا ہی ذکر کرتے ہیں۔ جیسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اس آدمی کی تصدیق نہ کی جائے، جو یہ کہتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدہ کو دوسری حدیث کا علم نہیں تھا، بالکل اسی طرح ممکن ہے کہ جو صحابہ کرام اس مقام پر ایک اقامت کا ذکر کرتے ہیں، انھوں نے دوسری اقامت نہ سنی ہو۔ واللہ اعلم بالصواب۔
۔ عبد الرحمن بن یزید کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مزدلفہ میں تھا کہ انہوں نے دونوں نمازیں الگ الگ اذان اور اقامت کے ساتھ پڑھائیں اور ان دو کے درمیان کھانا کھایا، پھر جب فجرطلوع ہوئی تو انھوں نے نمازِ فجر ادا کی اور اس کے بعد کہا: رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (مغرب اور فجر کی) یہ دونمازیں اس مقام پر عام معمول کے وقت سے ہٹ کر ادا کی جاتی ہیں، لوگ جب مزدلفہ میں پہنچتے ہیں تو کافی دیر ہو چکی ہوتی ہے (اس لیے مغرب تاخیر سے ادا کی جاتی ہے) اور نماز فجر اس وقت ادا کی جاتی ہے۔
Takhreej
(۴۴۷۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۶۸۳(انظر: ۳۹۶۹)
Explanation
فوائد:… مغرب و عشاء کے لیے دو اذانوں کا اہتمام کرنا، یہ عمل سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے، اس لیے ایک اذان والی مرفوع روایات کو ہر صورت میں ترجیح دی جائے گی۔ نماز مغرب کا معتاد وقت غروبِ آفتاب کے بعد ہے ، لیکن اس مقام پر اس نماز کو عشاء کے وقت میںادا کیا جاتا ہے، اسی طرح نماز فجر کا معتاد وقت وہ ہے، جب فجر واضح طور پر ظاہر ہو جائے، لیکن مزدلفہ میں اِس کو طلوع فجر کے فوراً بعد ادا کر لیا جاتا ہے۔
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ہمیشہ ہر نماز کو اس کے وقت پر ادا فرماتے تھے، ما سوائے (مغرب اور فجر کی) ان دو نمازوں کے، کہ آپ (مغرب کی نماز کو لیٹ کر کے) مغرب اور عشاء کی نمازیں مزدلفہ میں ادا کرتے تھے اور دوسرے دن نمازِ فجر عام معمول کے وقت سے جلدی پڑھتے تھے۔
۔ عبدالرحمن بن یزید سے روایت ہے، وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ادا کیے ہوئے اپنے حج کا قصہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں مغرب کی نمازمزدلفہ میں پڑھائی، اس کے بعد شام کا کھانا منگوایا اور وہ کھا کر عشاء کی نماز ادا کی اور پھر سو گئے، جب صبح صادق طلوع ہی ہوئی تھی کہ انھوں نے اٹھ کر نماز فجر ادا کی۔ میں نے کہا: آپ تو صبح کی نماز اس قدر سویرے ادا نہیں کرتے تھے؟ وہ روشنی کر کے نماز فجر ادا کرتے تھے، انھوں نے جواباً کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس مقام پر اور اس دن کو اسی وقت نماز پڑھتے دیکھاہے۔
۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کرکے ادا کی تھیں اور ان کے درمیان کوئی نفلی نماز نہیں پڑھی تھی۔