مسنداحمد

Musnad Ahmad

حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان

مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے اور وہاں رات بسر کرنے کا بیان

۔ (۴۴۶۷) عَنْ أَبِی أَیُّوْبَ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَمَعَ بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ بِالْمُزْدَلِفَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۳۹۴۵)

۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کیا تھا۔

۔ (۴۴۶۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّی الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِإِقَامَۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۳۹۷۰)

۔ (دوسری سند)نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مغرب اور عشاء کی نماز ایک اقامت کے ساتھ ادا فرماتے تھے۔

۔ (۴۴۶۹) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَمَعَ بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائَ بِجَمْعٍ، صَلَّی الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا وَالْعِشَائَ رَکْعَتَیْنِ بِإِقَامَۃٍ وَاحِدَۃٍ۔ (مسند احمد: ۴۸۹۴)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو، جمع کرکے مغرب کی تین اورعشاء کی دو رکعتیں، ایک ہی اقامت کے ساتھ ادا کیاتھا۔

۔ (۴۴۶۹) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَمَعَ بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائَ بِجَمْعٍ، صَلَّی الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا وَالْعِشَائَ رَکْعَتَیْنِ بِإِقَامَۃٍ وَاحِدَۃٍ۔ (مسند احمد: ۴۸۹۴)

۔ عبد اللہ بن مالک کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ مزدلفہ میں نماز ادا کی، انہوں نے مغرب کی تین اور عشاء کی دو رکعتیں ایک اقامت کے ساتھ ادا کیں، جب خالد بن مالک نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس مقام پر ایسے ہی کیا تھا۔

۔ (۴۴۷۱) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ: کُنَّا مَعَ ابْنِ عُمَرَ حَیْثُ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلٰی جَمْعٍ فَصَلّٰی بِنَا الْمَغْرِبَ وَمَضٰی، ثُمَّ قَالَ: اَلصَّلَاۃَ، فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ قَالَ: ھٰکَذَا فَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ ھٰذَا الْمَکَانِ کَمَا فَعَلْتُ۔ (مسند احمد: ۴۴۵۲)

۔ سعید بن جبیر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے ساتھ تھے، جب وہ عرفات سے مزدلفہ پہنچے تو انہوں نے مغرب کی نماز پڑھائی اور کوئی وقفہ کیے بغیر پھر کہہ دیا کہ (عشاء کی) نماز پڑھتے ہیں، پھرانھوں نے دو رکعتیں پڑھائیں اور پھر کہا: جس طرح میں نے کیا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس مقام پر اسی طرح کیا تھا۔

۔ (۴۴۷۲) عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ: کُنْتُ مَعَ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ بِجَمْعٍ، فَصَلَّی الصَّلَاتَیْنِ کُلَّ صَلَاۃٍ وَحْدَھَا بِأَذَانٍ وَإِقَامَۃٍ وَالْعَشَائُ بَیْنَہُمَا، وَصَلَّی الْفَجْرَ حِیْنَ سَطَعَ الْفَجْرُ، أَوْ قَالَ: حِیْنَ قَالَ قَائِلٌ: طَلَعَ الْفَجْرُ وَقَالَ قَائِلٌ: لَمْ یَطْلُعْ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ ھَاتَیْنِ الصَّلَاتَیْنِ تُحَوَّلَانِ عَنْ وَقْتِہِمَا فِیْ ھٰذَا الْمَکَانِ، لَا یَقْدَمُ النَّاسُ جَمْعًا حَتّٰییُعْتِمُوْا، وَصَلَاۃُ الْفَجْرِِ ھٰذِہِ السَّاعَۃَ۔)) (مسند احمد: ۳۹۶۹)

۔ عبد الرحمن بن یزید کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ مزدلفہ میں تھا کہ انہوں نے دونوں نمازیں الگ الگ اذان اور اقامت کے ساتھ پڑھائیں اور ان دو کے درمیان کھانا کھایا، پھر جب فجرطلوع ہوئی تو انھوں نے نمازِ فجر ادا کی اور اس کے بعد کہا: رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (مغرب اور فجر کی) یہ دونمازیں اس مقام پر عام معمول کے وقت سے ہٹ کر ادا کی جاتی ہیں، لوگ جب مزدلفہ میں پہنچتے ہیں تو کافی دیر ہو چکی ہوتی ہے (اس لیے مغرب تاخیر سے ادا کی جاتی ہے) اور نماز فجر اس وقت ادا کی جاتی ہے۔

۔ (۴۴۷۳) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی صَلَاۃً قَطُّ إِلَّا لِمْیَقاتِہَا إِلَّا صَلَاتَیْنِ، صَلَاۃَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ بِجَمْعٍ، وَصَلَّی الْفَجْرَ یَوْمَئِذٍ قَبْلَ مِیْقَاتِہَا، وَقَالَ ابْنُ نُمَیْرٍ: اَلْعِشَائَیْنِ فَإِنَّہُ صَلَّاھُمَا بِجَمْعٍ جَمِیْعًا۔ (مسند احمد: ۴۰۴۶)

۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ہمیشہ ہر نماز کو اس کے وقت پر ادا فرماتے تھے، ما سوائے (مغرب اور فجر کی) ان دو نمازوں کے، کہ آپ (مغرب کی نماز کو لیٹ کر کے) مغرب اور عشاء کی نمازیں مزدلفہ میں ادا کرتے تھے اور دوسرے دن نمازِ فجر عام معمول کے وقت سے جلدی پڑھتے تھے۔

۔ (۴۴۷۴) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ فِیْ قِصَّۃِ حَجِّہِ مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: فَصَلّٰی بِنَا ابْنُ مَسْعُوٍد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ الْمَغْرِبَ ثُمَّ دَعَا بِعَشَائِہِ ثُمَّ تَعَشّٰی ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی الْعِشَائَ الْآخِرَۃَ، ثُمَّ رَقَدَ حَتّٰیإِذَا طَلَعَ أَوَّلُ الْفَجْرِ قَامَ فَصَلَّی الْغَدَاۃَ، قَالَ: فَقُلْتُ لَہُ: مَا کُنْتَ تُصَلِّی الصَّلَاۃَ ھٰذِہِ السَّاعَۃَ؟ قَالَ: وَکَانَ یُسْفِرُ بِالصَّلَاۃِ، قَالَ: إِنِّی رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ ھٰذَا الْیَوْمِ وَھٰذَا الْمَکَانِ یُصَلِّی ھٰذِہِ السَّاعَۃَ۔ (مسند احمد: ۳۸۹۳)

۔ عبدالرحمن بن یزید سے روایت ہے، وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ ادا کیے ہوئے اپنے حج کا قصہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں مغرب کی نمازمزدلفہ میں پڑھائی، اس کے بعد شام کا کھانا منگوایا اور وہ کھا کر عشاء کی نماز ادا کی اور پھر سو گئے، جب صبح صادق طلوع ہی ہوئی تھی کہ انھوں نے اٹھ کر نماز فجر ادا کی۔ میں نے کہا: آپ تو صبح کی نماز اس قدر سویرے ادا نہیں کرتے تھے؟ وہ روشنی کر کے نماز فجر ادا کرتے تھے، انھوں نے جواباً کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس مقام پر اور اس دن کو اسی وقت نماز پڑھتے دیکھاہے۔

۔ (۴۴۷۵) عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَدْ جَمَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ بِالْمُزْدَلِفَۃِ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ:) وَلَمْ یُصَلِّ بَیْنَہُمَا شَیْئًا۔ (مسند احمد: ۲۲۱۰۸)

۔ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کرکے ادا کی تھیں اور ان کے درمیان کوئی نفلی نماز نہیں پڑھی تھی۔