TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے اور وہاں رات بسر کرنے کا بیان - مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے اور وہاں رات بسر کرنے کا بیان - حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 20 of حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 20 of 40 · 9 Hadith
۔ (۴۴۶۷) عَنْ أَبِی أَیُّوْبَ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَمَعَ بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ بِالْمُزْدَلِفَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۳۹۴۵)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کیا تھا۔
Takhreej
(۴۴۶۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۶۷۴، ومسلم: ۱۲۸۷ (انظر: ۲۳۵۴۹)
4467
Sahih
۔ (۴۴۶۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّی الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِإِقَامَۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۳۹۷۰)
۔ (دوسری سند)نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مغرب اور عشاء کی نماز ایک اقامت کے ساتھ ادا فرماتے تھے۔
Takhreej
(۴۴۶۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
4468
Sahih
۔ (۴۴۶۹) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَمَعَ بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائَ بِجَمْعٍ، صَلَّی الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا وَالْعِشَائَ رَکْعَتَیْنِ بِإِقَامَۃٍ وَاحِدَۃٍ۔ (مسند احمد: ۴۸۹۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو، جمع کرکے مغرب کی تین اورعشاء کی دو رکعتیں، ایک ہی اقامت کے ساتھ ادا کیاتھا۔
Takhreej
(۴۴۶۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۲۸۸(انظر: ۴۸۹۴)
4469
Sahih
۔ (۴۴۶۹) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَمَعَ بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائَ بِجَمْعٍ، صَلَّی الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا وَالْعِشَائَ رَکْعَتَیْنِ بِإِقَامَۃٍ وَاحِدَۃٍ۔ (مسند احمد: ۴۸۹۴)
۔ عبد اللہ بن مالک کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ مزدلفہ میں نماز ادا کی، انہوں نے مغرب کی تین اور عشاء کی دو رکعتیں ایک اقامت کے ساتھ ادا کیں، جب خالد بن مالک نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس مقام پر ایسے ہی کیا تھا۔
Takhreej
(۴۴۷۰) تخریج: انظر الحدیث السابق
4470
Sahih
۔ (۴۴۷۱) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ: کُنَّا مَعَ ابْنِ عُمَرَ حَیْثُ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلٰی جَمْعٍ فَصَلّٰی بِنَا الْمَغْرِبَ وَمَضٰی، ثُمَّ قَالَ: اَلصَّلَاۃَ، فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ قَالَ: ھٰکَذَا فَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ ھٰذَا الْمَکَانِ کَمَا فَعَلْتُ۔ (مسند احمد: ۴۴۵۲)
۔ سعید بن جبیر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے ساتھ تھے، جب وہ عرفات سے مزدلفہ پہنچے تو انہوں نے مغرب کی نماز پڑھائی اور کوئی وقفہ کیے بغیر پھر کہہ دیا کہ (عشاء کی) نماز پڑھتے ہیں، پھرانھوں نے دو رکعتیں پڑھائیں اور پھر کہا: جس طرح میں نے کیا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس مقام پر اسی طرح کیا تھا۔
Takhreej
(۴۴۷۱) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… درج بالا بعض احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک اقامت کے ساتھ ادا کی گئیں، لیکن درج ذیل احادیث میں دو اقامتوں کا ذکر ہے:سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ((اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَتَی الْمُزْدَلِفَۃَ فَصَلّٰی بِھَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِاَذَانٍ وَاحِدٍ وَاِقَامَتَیْنِ وَلَمْ یُسَبِّحْ بَیْنَھُمَا شَیْئًا، ثُمْ اضْطَجَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی طَلَعَ الْفَجْرُ، وَصَلّٰی الْفَجْرَ حِیْنَ تَبَیَّنَ لَہُ الصُّبْحُ بِاَذَانٍ وَاِقَامَۃٍ)) … رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مزدلفہ تشریف لائے اور وہاں ایک اذان اور دو اقامتوںکے ساتھ نماز فجر ادا کی اور ان کے درمیان کوئی نفلی نماز نہیں پڑھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لیٹ گئے، یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی اور طلوع فجر کے بعد ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ نمازِ فجر ادا کی۔ (صحیح مسلم) سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزدلفہ میں دو نمازوں کو جمع کر کے ادا کیا او رہر ایک نماز اقامت کے ساتھ پڑھی اور نہ ان دو نمازوں سے پہلے کوئی نفلی نماز پڑھی اور نہ بعد میں۔ (سنن بیہقی: ۵/ ۱۲۰) ذہن نشین کر لیں کہ جس صحابی نے دو اقامتوں کا ذکر کیا، اس کے پاس زائد علم ہے، نیز اس کی روایت سے ایک اقامت والی روایات کی نفی بھی نہیں ہو رہی، کیونکہ ان احادیث سے جو اقامت ثابت ہو رہی ہے، اس کا ذکر تو دو اقامتوں والی حدیث میں بھی ہے۔ لہٰذا زائد علم کو کم علم پر اور مثبت کو منفی پر ترجیح دیتے ہوئے دو اقامتوں والی احادیث پر عمل کریں گے، ان روایات میں جمع و تطبیق کییہی صورت ممکن ہے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌نے بڑی تفصیل کے ساتھ حج نبوی کو بیان کیا ہے، وہ اس سلسلے میں دو اقامتوں کا ہی ذکر کرتے ہیں۔ جیسے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا کہ اس آدمی کی تصدیق نہ کی جائے، جو یہ کہتا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدہ کو دوسری حدیث کا علم نہیں تھا، بالکل اسی طرح ممکن ہے کہ جو صحابہ کرام اس مقام پر ایک اقامت کا ذکر کرتے ہیں، انھوں نے دوسری اقامت نہ سنی ہو۔ واللہ اعلم بالصواب۔
4471
Sahih
۔ (۴۴۷۲) عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ: کُنْتُ مَعَ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ بِجَمْعٍ، فَصَلَّی الصَّلَاتَیْنِ کُلَّ صَلَاۃٍ وَحْدَھَا بِأَذَانٍ وَإِقَامَۃٍ وَالْعَشَائُ بَیْنَہُمَا، وَصَلَّی الْفَجْرَ حِیْنَ سَطَعَ الْفَجْرُ، أَوْ قَالَ: حِیْنَ قَالَ قَائِلٌ: طَلَعَ الْفَجْرُ وَقَالَ قَائِلٌ: لَمْ یَطْلُعْ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ ھَاتَیْنِ الصَّلَاتَیْنِ تُحَوَّلَانِ عَنْ وَقْتِہِمَا فِیْ ھٰذَا الْمَکَانِ، لَا یَقْدَمُ النَّاسُ جَمْعًا حَتّٰییُعْتِمُوْا، وَصَلَاۃُ الْفَجْرِِ ھٰذِہِ السَّاعَۃَ۔)) (مسند احمد: ۳۹۶۹)
۔ عبد الرحمن بن یزید کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ مزدلفہ میں تھا کہ انہوں نے دونوں نمازیں الگ الگ اذان اور اقامت کے ساتھ پڑھائیں اور ان دو کے درمیان کھانا کھایا، پھر جب فجرطلوع ہوئی تو انھوں نے نمازِ فجر ادا کی اور اس کے بعد کہا: رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (مغرب اور فجر کی) یہ دونمازیں اس مقام پر عام معمول کے وقت سے ہٹ کر ادا کی جاتی ہیں، لوگ جب مزدلفہ میں پہنچتے ہیں تو کافی دیر ہو چکی ہوتی ہے (اس لیے مغرب تاخیر سے ادا کی جاتی ہے) اور نماز فجر اس وقت ادا کی جاتی ہے۔
Takhreej
(۴۴۷۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۶۸۳(انظر: ۳۹۶۹)
Explanation
فوائد:… مغرب و عشاء کے لیے دو اذانوں کا اہتمام کرنا، یہ عمل سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌پر موقوف ہے، اس لیے ایک اذان والی مرفوع روایات کو ہر صورت میں ترجیح دی جائے گی۔ نماز مغرب کا معتاد وقت غروبِ آفتاب کے بعد ہے ، لیکن اس مقام پر اس نماز کو عشاء کے وقت میںادا کیا جاتا ہے، اسی طرح نماز فجر کا معتاد وقت وہ ہے، جب فجر واضح طور پر ظاہر ہو جائے، لیکن مزدلفہ میں اِس کو طلوع فجر کے فوراً بعد ادا کر لیا جاتا ہے۔
4472
Sahih
۔ (۴۴۷۳) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی صَلَاۃً قَطُّ إِلَّا لِمْیَقاتِہَا إِلَّا صَلَاتَیْنِ، صَلَاۃَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ بِجَمْعٍ، وَصَلَّی الْفَجْرَ یَوْمَئِذٍ قَبْلَ مِیْقَاتِہَا، وَقَالَ ابْنُ نُمَیْرٍ: اَلْعِشَائَیْنِ فَإِنَّہُ صَلَّاھُمَا بِجَمْعٍ جَمِیْعًا۔ (مسند احمد: ۴۰۴۶)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ہمیشہ ہر نماز کو اس کے وقت پر ادا فرماتے تھے، ما سوائے (مغرب اور فجر کی) ان دو نمازوں کے، کہ آپ (مغرب کی نماز کو لیٹ کر کے) مغرب اور عشاء کی نمازیں مزدلفہ میں ادا کرتے تھے اور دوسرے دن نمازِ فجر عام معمول کے وقت سے جلدی پڑھتے تھے۔
Takhreej
(۴۴۷۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۶۸۲، ومسلم: ۱۲۸۹(انظر: ۴۰۴۶)
4473
Sahih
۔ (۴۴۷۴) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ فِیْ قِصَّۃِ حَجِّہِ مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: فَصَلّٰی بِنَا ابْنُ مَسْعُوٍد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ الْمَغْرِبَ ثُمَّ دَعَا بِعَشَائِہِ ثُمَّ تَعَشّٰی ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی الْعِشَائَ الْآخِرَۃَ، ثُمَّ رَقَدَ حَتّٰیإِذَا طَلَعَ أَوَّلُ الْفَجْرِ قَامَ فَصَلَّی الْغَدَاۃَ، قَالَ: فَقُلْتُ لَہُ: مَا کُنْتَ تُصَلِّی الصَّلَاۃَ ھٰذِہِ السَّاعَۃَ؟ قَالَ: وَکَانَ یُسْفِرُ بِالصَّلَاۃِ، قَالَ: إِنِّی رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ ھٰذَا الْیَوْمِ وَھٰذَا الْمَکَانِ یُصَلِّی ھٰذِہِ السَّاعَۃَ۔ (مسند احمد: ۳۸۹۳)
۔ عبدالرحمن بن یزید سے روایت ہے، وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ ادا کیے ہوئے اپنے حج کا قصہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں مغرب کی نمازمزدلفہ میں پڑھائی، اس کے بعد شام کا کھانا منگوایا اور وہ کھا کر عشاء کی نماز ادا کی اور پھر سو گئے، جب صبح صادق طلوع ہی ہوئی تھی کہ انھوں نے اٹھ کر نماز فجر ادا کی۔ میں نے کہا: آپ تو صبح کی نماز اس قدر سویرے ادا نہیں کرتے تھے؟ وہ روشنی کر کے نماز فجر ادا کرتے تھے، انھوں نے جواباً کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس مقام پر اور اس دن کو اسی وقت نماز پڑھتے دیکھاہے۔
Takhreej
(۴۴۷۴) تخریج: أخرجہ بنحوہ البخاری :۱۶۸۳، ومسلم: ۱۲۸۹(انظر: ۳۸۳۹)
4474
Sahih
۔ (۴۴۷۵) عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَدْ جَمَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ بِالْمُزْدَلِفَۃِ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ:) وَلَمْ یُصَلِّ بَیْنَہُمَا شَیْئًا۔ (مسند احمد: ۲۲۱۰۸)
۔ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کرکے ادا کی تھیں اور ان کے درمیان کوئی نفلی نماز نہیں پڑھی تھی۔
Takhreej
(۴۴۷۵) تخریج: أخرجہ بنحوہ تاما ومقطعا البخاری: ۱۵۴۳، ۱۵۴۴، ۱۶۶۹، ۱۶۸۶، ومسلم: ۱۲۸۰ (انظر: ۲۱۷۶۵)
Explanation
فوائد:… ابھی تک مزدلفہ میں وقوف کے مسائل جاری ہیں، اگلے باب کامطالعہ کریں۔
4475
Sahih

Chapters

40
01
حج افراد کرنے والے کا طواف
3 Hadith
02
حج قران کرنے والے کا طواف
4 Hadith
03
حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان،یعنی وہ آدمی جو شروع میں صرف عمرے کا احرام باندھتا ہے
2 Hadith
04
اہل مکہ کے طواف اور طواف سے متعلقہ احکام و مسائل اور دورانِ طواف کلام کرنے کا بیان
3 Hadith
05
طواف اور استلام کے موقع پر کیا جانے والا ذکر، جاہلیت والے لوگ طواف میںکیا کہتے تھے اور دورانِ طواف کلام نہ کرنے کا مستحب ہونا، ان سب امور کا بیان
5 Hadith
06
طواف کی دورکعتوں اور ان کی قراء ت اور ان کے بعد حجراسود کے استلام کا بیان
5 Hadith
07
صفا مروہ کی سعی
3 Hadith
08
صفا مروہ کی سعی میں صفا سے ابتدا کرنے اور اس میں چلنے یا رمل کرنے کا بیان
6 Hadith
09
کسی حاجت کے پیش نظر سوار ہو کر صفا مروہ کی سعی کرنے کا بیان
2 Hadith
10
صفااور مروہ کے اوپر وقوف کرنے اور اس دوران اللہ تعالی کا ذکر کرنے کا بیان
3 Hadith
11
حج تمتع کرنے والے کو سعی اور بال منڈوانے یا کٹوانے کے بعد احرام کھول دینے کا حکم دینے کا بیان، الّا یہ کہ وہ قربانی لے کر آیا ہو
6 Hadith
12
حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا لینا
19 Hadith
13
اس امر کا بیان کہ حج تمتع کرنے والا کس وقت احرام باندھے، لوگ کس وقت منیٰ کو روانہ ہوں، وہاں کتنا عرصہ ٹھہریں اور منیٰ میں جاکر پہلے کونسی نماز پڑھی جائے؟
6 Hadith
14
منیٰ سے عرفہ کے لیے روانگی،عرفہ میں وقوف اور وہاں سے واپسی کے ابواب منیٰ سے روانگی کا وقت، وادیٔ نمرہ میں نزول اور عرفہ میں وقوف کے وقت کا بیان
2 Hadith
15
عرفہ کی طرف جاتے ہوئے تلبیہ اور تکبیر کہنے کا بیان
3 Hadith
16
وقوفِ عرفہ کے واجب ہونے اور اس کے وقت اور عرفہ کے سارے مقام کا جائے وقوف ہونے کا بیان
7 Hadith
17
عرفہ میں سواری پر وقوف کرنے اور وہاں خطبہ دینے اور دعاکرنے کا بیان
7 Hadith
18
عرفہ سے مزدلفہ کی طرف روانگی کا وقت اور عرفہ اور مزدلفہ کے درمیان اترنے کا بیان
9 Hadith
19
عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لوگوں کو سکون سے چلنے کا حکم دینے کا بیان
3 Hadith
20
مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے اور وہاں رات بسر کرنے کا بیان
9 Hadith
21
مشعرِ حرام یعنی مزدلفہ میں وقوف کرنے اور اس کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک کے مسائل کا بیان مزدلفہ میں وقوف، اس کے آداب، وہاں سے منی کی طرف روانگی کے وقت، اور جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ جاری رکھنے کا بیان
8 Hadith
22
مزدلفہ سے منی کی طرف جاتے وقت سکینت کا حکم دینے اور وادیٔ محسر سے تیزی سے گزرنے کا بیان
4 Hadith
23
اس امر کا بیان کہ کمزور اور ضعیف خواتین کو رش سے پہلے پہلے مزدلفہ سے منیٰ کو روانہ کیا جاسکتا ہے
8 Hadith
24
جمرۂ عقبہ کی رمی سے یوم النحرکے آخر تک کے مناسک سے متعلقہ ابواب رمی جمار کی مشروعیت کا سبب اور ان کا حکم اورکنکریوں کی تعداد اور ان کے حجم کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ کنکریاں کہاں سے اٹھائی جائیں
4 Hadith
25
یوم نحریعنی دس ذوالحجہ کوجمرۂ عقبہ کی رمی کے وقت کا بیان
7 Hadith
26
وادی کے درمیان کھڑے ہو کر جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے، رمی کی کیفیت اور اس وقت کی دعا کا بیان
5 Hadith
27
جمرۂ عقبہ کی رمی کے لیے سوار ہو کر جانے اور باقی دنوں میں پیدل چل کر جانے کے مستحب ہونے کا بیان
6 Hadith
28
جمرۂ عقبہ کی رمی کے بعد حاجی کے حلال ہو جانے اور اس کے بعد دوسرے افعال کا بیان
4 Hadith
29
قربانی کرنا اور بال منڈوانا یا کترنا
7 Hadith
30
تراشنے کی بہ نسبت بالوں کو مونڈنے کی فضیلت کا بیان
11 Hadith
31
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منی سے طواف کے لیے لوٹنا اور اسی کو طوافِ افاضہ اور طوافِ زیارت کہنے اور شام تک یہ طواف نہ کر سکنے والے کے حکم کا بیان
6 Hadith
32
دس ذوالحجہ کو قربانی، حجامت، رمی اور طواف افاضہ میں تقدیم و تاخیر کے جائز ہو نے کا بیان
6 Hadith
33
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منیٰ میں خطبہ کا بیان
6 Hadith
34
منیٰ کی راتیں منیٰ میں بسر کرنے، ان دنوں میں جمروں کی رمی کرنے اور کچھ دوسرے امور کا بیان یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کے بعد والے دنوں میں کنکریاں مارنے کے وقت اور اس کے آداب کا بیان
5 Hadith
35
اس امر کا بیان کہ اونٹوں کے چرواہوں کے لئے دو دنوں کی رمی ایک دن میں کر لینا اور ضرورت مند لوگوں کا منی کی راتیں مکہ میں گزار لینا جائز ہے
3 Hadith
36
منیٰ میں نمازوں کو قصر کرکے ادا کرنے اور ان دنوں میں روزہ کے ناجائز ہونے کا بیان
3 Hadith
37
ایام تشریق کے وسط میں خطبہ دینے کا بیان
3 Hadith
38
منیٰ سے واپسی پر وادیٔ محصّب میں ٹھہرنے کا بیان
8 Hadith
39
مکہ مکرمہ سے ہجرت کر جانے والا آدمی مناسکِ حج کی ادائیگی کے بعد کتنا عرصہ وہاں قیام کرسکتا ہے؟
1 Hadith
40
طوافِ وداع کی مشروعیت اور حائضہ سے اس کے ساقط ہونے اورملتزم کے پاس دعا کرنے کا بیان طوافِ وِداع: …وہ طواف جو حج سے فراغت کے بعد مکہ مکرمہ سے رخصت ہوتے وقت کیا جاتا ہے۔
5 Hadith
No chapter matched that.