مسنداحمد

Musnad Ahmad

حج کے مسائل

طوافِ افاضہ کے بعد حائضہ ہو جانے والی خاتون کا حکم


۔ (۴۵۹۰)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ، أَنَّھَا قَالَتْ : لَمَّا أَرَادَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَنْفِرَ رَأٰی صَفِیَّۃَ عَلٰی بَابِ خِبَائِھَا کَئِیبَۃً۔ أَوْ حَزِیْنَۃً۔ وحَاضَتْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَقْرٰی۔ أَوْ حَلْقٰی۔ إِنَّکِ لَحَابِسَتُنَا ، أَکُنْتِ أَفَضْتِ یَوْمَ النَّحْرِ؟)) قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : ((فَانْفِرِي إِذًا۔)) (مسند احمد: ۲۵۹۴۲)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (حجۃ الواداع سے فارغ ہو کر) روانہ ہونے کا ارادہ کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیکھا کہ سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اپنے خیمے کے دروازے پر غمزدہ ہو کر کھڑی ہیں، دراصل ان کو حیض آ گیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یا بانجھ خاتون، سر منڈی اے! تو ہمیں روکنے والی ہے؟ اچھا کیا تو نے نحر والے دن طوافِ افاضہ کر لیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر روانہ ہو جا۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۴۵۹۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۳۲۹، ۶۱۵۷، ومسلم: ۱۲۱۱ (انظر: ۲۵۴۲۸)