TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

حج کے مسائل - حج کے مسائل - Book 75 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 75 of Musnad Ahmad, with 5 chapters and 18 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

18 Hadith · 5 Chapters
فوت اور احصار
۔ (۴۵۸۵)۔ عن عِکْرِمَۃَ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَہٗ۔ قَالَ: حَدَّثَنِي (الْحَجَّاجُ بْنُ عَمْرِو نِالأَ نْصَارِيُّ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ کُسِرَ أَوْ عَرَجَ فَقَدْ حَلَّ وَ عَلَیْہِ حَجَّۃٌ أُخْرٰی)) قَالَ : فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِابْنِ عَبَّاسٍ وَ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ، فَقَالَا: صَدَقَ۔ قَالَ إِسْمَاعِیْلُ : فَحَدَّثْتُ بِذَاکَ ابْنَ عَبَّاسٍ وَ أَبَا ھُرَیْرَۃَ ، فَقَالا : صَدَقَ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۲۳)
۔ سیدنا حجاج بن عمرو انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کی ہڈی ٹوٹ جائے یا وہ لنگڑا ہو جائے تو وہ حلال ہو جائے گا، لیکن اگلے سال اس پر دوسرا حج ہو گا۔ عکرمہ کہتے ہیں: جب میں نے یہ بات سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدنا ابوہریرہ f کو بتائی تو انھوں نے کہا: جی اس نے سچ کہا ہے۔
Takhreej
(۴۵۸۵) تخریج: أِسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ أبوداود: ۱۸۶۲، وابن ماجہ: ۳۰۷۷۰، والنسائی: ۵/۱۹۸، والترمذی: ۹۴۰ (انظر: ۱۵۷۳۱)
Explanation
فوائد:… احصار سے مراد یہ ہے کہ کہ محرم بیت اللہ تک نہ پہنچ سکے، خواہ دشمن رکاوٹ ڈال دے، جیسے عمرۂ حدیبیہ میں ہوا یا کوئی مرض وغیرہ انسان کو اس قدر لاچار کر دے کہ وہ سفر جاری نہ رکھ سکے۔ ہر دو صورتوں میں اگر ساتھ قربانی کا جانور ہو تو اسے ذبح کردیا جائے گا اور اگر اسے حرم بھیجا جا سکا تو بھیج دیا جائے گا، جانور کو ذبح کرنے کے بعد وہ حجامت وغیرہ کروائے اور حلال ہو جائے، اگر وہ فرض حج ہو تو آئندہ پھر کرے، بشرطیکہ استطاعت رکھتا ہو، ورنہ معاف ہے، یہی حکم عمرے کا ہے۔
4585
Sahih
محصر کو حل و حرم کے جس مقام پر بھی روک دیا جائے گا، وہ قربانی اور پھر حلق کر کے عمرہ سے حلال ہو جائے گا اور اس پر کوئی قضاء نہیں ہو گی
۔ (۴۵۸۶)۔ عَنْ عَبْد اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ مُعْتَمِرًا ، فَحَالَ کُفَّارُ قُرَیْشٍ بَیْنَہُ وَ بَیْنَ الْبَیْتِ، فَنَحَرَ ھَدْیَہُ وَ حَلَقَ رَأْسَہُ بِالْحُدَیْبِیَۃِ ، فَصَالَحَھُمْ عَلٰی أَنْ یَعْتَمِرُوا الْعَامَ الْمُقْبِلَ ، وَ لاَ یَحْمِلَ السِّلاحَ عَلَیْھِمْ ، وَ قَالَ سُرَیْجٌ : وَ لَا یَحْمِلَ سِلاحًا ، إِلاَّ سُیُوفًا ، وَ لاَ یُقِیْمَ بِھَا إِلاَّ مَا أَحَبُّوا، فَاعْتَمَرَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ۔ فَدَخَلَھَا کَمَا کَانَ صَالَحَھُمْ ، فَلَمَّا أَنْ أَقَامَ ثَلاثًا أَمَرُوہُ أَنْ یَخْرُجَ ، فَخَرَجَ۔ (مسند احمد:۶۰۶۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عمرہ کرنے کے لیے نکلے، قریش کے کافر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہو گئے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر اپنی ہدی کو نحر کیا اور سر منڈوایا اور ان کافروں سے یہ طے پایا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اگلے سال عمرہ کریں گے، تلوار کے علاوہ اسلحہ اٹھا کر نہیں لائیں گے اور اتنی دیر مکہ میں قیام کریں گے، جتنا قریشی چاہیں گے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اگلے سال عمرہ کیا، کافروں سے کی گئی مصالحت کے مطابق داخل ہوئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین دن قیام کر لیا تو انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نکل جانے کا کہا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نکل گئے۔
Takhreej
(۴۵۸۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۷۰۱، ۴۲۵۲ (انظر: ۶۰۶۷)
Explanation
فوائد:… ان روایات میں مُحْصَر کے افعال کی ترتیب بیان کی گئی ہے۔
4586
Sahih
محصر کو حل و حرم کے جس مقام پر بھی روک دیا جائے گا، وہ قربانی اور پھر حلق کر کے عمرہ سے حلال ہو جائے گا اور اس پر کوئی قضاء نہیں ہو گی
۔ (۴۵۸۷)۔ عَنِ الْمِسْوِرِ بِنْ مَخْرَمَۃَ وَ مَرْوَانَ۔ قَالا : قَلَّدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْھَدْيَ وَ أَشْعَرَہُ بِذِي الْحُلَیْفَۃِ وَ أَحْرَمَ مِنْھَا بِالْعُمْرَۃِ ، حَلَقَ بِالْحُدَیْبِیَۃِ فِي عُمْرَتِہِ ، وَ أَمَرَ أَصْحَابَہُ بِذٰلِکَ ، وَ نَحَرَ بِالحُدیْبِیَۃِ قَبْلَ أَنْ یَحْلِقَ ، وَ أَمَرَ أَصْحَابَہُ بِذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۲۸)
۔ سیدنا مسور بن مخرمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور مروان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہدی کو قلادہ ڈالا اور ذوالحلیفہ کے مقام پر اس کا شعار کیا اور عمرہ کا تلبیہ کہا، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنا سر منڈوایا اور اپنے صحابہ کو بھی یہی حکم دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سرمنڈوانے سے پہلے ہدی کو نحر کیا تھا اور اپنے صحابہ کو بھی یہی حکم دیا تھا۔
Takhreej
(۴۵۸۷) تخریج: أِسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ مختصرا البخاری: ۱۸۱۱(انظر: ۱۸۹۲۰)
4587
Sahih
طوافِ افاضہ کے بعد حائضہ ہو جانے والی خاتون کا حکم
۔ (۴۵۸۸)۔ عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ، قَالَ : إِنَّ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَ ابْنَ عَبَّاسٍ اخْتَلَفَا فِي الْمَرْأَۃِ تَحِیضُ بَعْدَ الزِّیَارَۃِ فِي یَوْمِ النَّحْرِ بَعْدَمَا طَافَتْ بِالْبَیْتِ ، فَقَالَ زَیْدٌ : یَکُونُ آخِرَ عَھْدِھَا الطَّوَافُ بِالْبَیْتِ ، وَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِذَ اطَافَتْ یَوْمَ النَّحْرِ تَنْفِرُ إِنْ شَائَ تْ ، فَقَالَ الأَ نْصَارُ : لا نُتَابِعُکَ یَا ابْنَ عَبَّاسٍ وَ أَنْتَ تُخَالِفُ زَیْدًا ، فَقَالَ : وَ اسْأَلُوا صَاحِبَتَکُمْ ( أُمَّ سُلَیْمٍ ) ، فَقَالَتْ: حِضْتُ بَعْدَمَا طُفْتُ بِالْبَیْتِ یَوْمَ النَّحْرٍ ، فَأَمَرَنيْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ أَنْفِرْ۔ وَحَاضَتْ صَفِیَّۃُ ، فَقَالَتْ لَھَا عَائِشَۃُ: الْخَیْبَۃُ لَکِ إِنَّکِ لَحَابِسَتُنَا، فَذُکِرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ : ((مُرُوھَا فَلْتَنْفِرْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۹۷۸)
۔ عکرمہ کہتے ہیں: سیدنا زید بن ثابت اور سیدنا عبد اللہ بن عباس fکا اس عورت کے بارے میں اختلاف ہو گیا، جو طوافِ زیارت کے بعد حائضہ ہو جاتی ہے، سیدنا زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: روانگی سے پہلے اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف ہی ہو گا، اور سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: اگر اس نے نحر والے دن طواف کر لیا ہو تو جب چاہے روانہ ہو سکتی ہے، انصاریوں نے اس اختلاف کو دیکھ کر کہا: اے ابن عباس! ہم تیری پیروی نہیں کریں گے، کیونکہ تو زید کے مخالف ہے، انھوں نے کہا: تم لوگ اپنے خاندان کی خاتون سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے پوچھ لو، سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: مجھے بھی نحر والے دن بیت اللہ کا طواف کرنے کے بعد حیض آیا تھا، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے (طواف وداع کے بغیر) روانہ ہو جانے کا حکم دیا تھا۔ اسی طرح جب سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا حائضہ ہو گئیں تو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے ان سے کہا: خسارہ ہو تیرے لیے، بیشک تو ہم کو روکنے والی ہے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات بتلائی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو حکم دو کہ وہ روانہ ہو جائے۔
Takhreej
(۴۵۸۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۷۵۸، ۱۷۵۹(انظر: ۲۷۴۳۲)
Explanation
فوائد:… سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو خاص کرنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ بھی طوافِ افاضہ کے بعد حائضہ ہو گئی تھیں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ روانہ ہو جائیں اور طواف وداع کو ترک کر دیں۔
4588
Sahih
طوافِ افاضہ کے بعد حائضہ ہو جانے والی خاتون کا حکم
۔ (۴۵۸۹)۔ عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : کُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ، إِذْ قَالَ لَہُ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ : أَنْتَ تُفْتِي أَنْ تَصْدُرَ الْحَائِضُ قَبْلَ أَنْ یَکُوْنَ آخِرُ عَھْدِھَا بِالْبَیْتِ؟ قَالَ : نَعَمْ، قَالَ : فَلا تُفْتِ بِذٰلِکَ ! فَقَالَ لَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِمَّا لا ، فَسَلْ فُلانَۃَ الأَ نْصَارِیَّۃَ ، ھَلْ أَمَرَھَا بِذٰلِکَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ فَرَجَعَ إِلَیْہِ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ یَضْحَکُ، وَ یَقُوْلُ : مَا أُرَاکَ إِلاَّ قَدْ صَدَقْتَ۔ (مسند احمد: ۳۲۵۶)
۔ طاؤوس کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے ساتھ تھا، سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: تم یہ فتوی دیتے ہو کہ حائضہ عورت بیت اللہ کا طواف کیے بغیر جا سکتی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: تم یہ فتوی نہ دو، سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: اگر تم نہیں مانتے تو فلاں انصاری خاتون سے پوچھ لو، کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اس چیز کا حکم دیا تھا؟ سیدنا زید وہاں سے ہنستے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے لوٹ پڑے: میرا یہی خیال ہے کہ تو نے سچ کہا ہے۔
Takhreej
(۴۵۸۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۳۲۸(انظر: ۳۲۵۶)
4589
Sahih
طوافِ افاضہ کے بعد حائضہ ہو جانے والی خاتون کا حکم
۔ (۴۵۹۰)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ، أَنَّھَا قَالَتْ : لَمَّا أَرَادَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَنْفِرَ رَأٰی صَفِیَّۃَ عَلٰی بَابِ خِبَائِھَا کَئِیبَۃً۔ أَوْ حَزِیْنَۃً۔ وحَاضَتْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَقْرٰی۔ أَوْ حَلْقٰی۔ إِنَّکِ لَحَابِسَتُنَا ، أَکُنْتِ أَفَضْتِ یَوْمَ النَّحْرِ؟)) قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : ((فَانْفِرِي إِذًا۔)) (مسند احمد: ۲۵۹۴۲)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (حجۃ الواداع سے فارغ ہو کر) روانہ ہونے کا ارادہ کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیکھا کہ سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اپنے خیمے کے دروازے پر غمزدہ ہو کر کھڑی ہیں، دراصل ان کو حیض آ گیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یا بانجھ خاتون، سر منڈی اے! تو ہمیں روکنے والی ہے؟ اچھا کیا تو نے نحر والے دن طوافِ افاضہ کر لیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر روانہ ہو جا۔
Takhreej
(۴۵۹۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۳۲۹، ۶۱۵۷، ومسلم: ۱۲۱۱ (انظر: ۲۵۴۲۸)
4590
Sahih
طوافِ افاضہ کے بعد حائضہ ہو جانے والی خاتون کا حکم
۔ (۴۵۹۱)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَریقٍ ثَانٍ) قَالَتْ : لَمَّا أَفَاضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرَادَ مِنْ صَفِیَّۃَ بَعْضَ مَا یُرِیْدُ الرَّجُلُ مِنْ أَھْلِہِ فَقِیْلَ لَہُ : إِنَّھَا حَائِضٌ، فَقَالَ : ((عَقْرٰی، أَحَابِسَتُنَا ھِيَ؟)) قَالُوْا : إِنَّھَا قَدْ طَافَتْ یَوْمَ النَّحْرِ، فَنَفَرَ بِھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔قَالَ ابْنُ مُصْعَبٍ : مَا سَمِعْتُہُ یَذْکُرُ۔ یَعْنِي الأَ وْزَاعِيْ۔ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاھِیْمَ إِلاَّ مَرَّۃً۔ (مسند احمد: ۲۵۰۶۵)
۔ (دوسری سند) جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طواف ِ افاضہ کر لیا تو سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ وہ کچھ کرنا چاہا جو خاوند اپنی بیوی سے کرتا ہے (راوی کی مراد حق زوجیت کی ادائیگی تھی)، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا گیا کہ وہ تو حائضہ ہیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: او بانجھ خاتون، کیا یہ ہم کو روک لے گی۔ پھر لوگوں نے بتایا کہ سیدہ نے نحر والے دن طوافِ افاضہ کر لیا تھا، اس وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس سمیت روانہ ہو گئے۔
Takhreej
(۴۵۹۱) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ بنحوہ البخاری: ۱۷۳۳(انظر: ۲۴۵۵۸)
4591
Sahih
طوافِ افاضہ کے بعد حائضہ ہو جانے والی خاتون کا حکم
۔ (۴۵۹۲)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَالثٍ) قَالَتْ: حَاضَتْ صَفِیَّۃُ بَعْدَمَا أَفَاضَتْ فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ : ((أَحَابِسَتُنَا ھِيَ؟)) قُلْتُ : حَاضَتْ بَعْدَ مَا أَفَاضَتْ ، قَالَ : ((فَلْتَنْفِرْ إِذًا أَوْ قَالَ : فَلَا إِذًا۔)) (مسند احمد: ۲۴۶۰۲)
۔ (تیسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا طوافِ زیارت کرنے کے بعد حائضہ ہو گئیں، جب میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان کی حیض کی بات بتلائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا یہ ہم کو روکنے والی ہے؟ میں نے کہا: جی وہ طواف ِ افاضہ کر لینے کے بعد حائضہ ہوئی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر وہ جا سکتی ہیں، ایک روایت میں ہے: تو پھر جانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
Takhreej
(۴۵۹۲) انظر الحدیث بالطریق الاول والثانی، تخریج: أِسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ عبد الرزاق: ۹۰۵۷، والطبرانی: ۱۸/ ۷۴۳، وابویعلی: ۶۷۳۳ (انظر: ۱۸۱۹)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اگر خاتون نے طواف ِ افاضہ کر لیا ہو تو حیض کی وجہ سے طواف ِ وداع چھوڑ کر اپنے قافلے کے ساتھ روانہ ہو سکتی ہے، اگر کسی عورت نے حیض کی وجہ سے ابھی تک طوافِ افاضہ ہی نہ کیا ہو تو وہ حیض ختم ہونے تک طواف ِ افاضہ کے لیے انتظار کرے گی۔
4592
Sahih
کعبہ میں داخل ہونا اور اس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نماز پڑھنے کے بارے میں صحابہ کا اختلاف
۔ (۴۵۹۳)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ کَانَ یُخْبِرُ، أَنَّ (الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ)، أَخْبَرَہُ أَنَّہُ دَخَلَ مَعَ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْبَیْتَ ، وَ أَنَّ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یُصَلِّ فِي الْبَیْتِ حِیْنَ دَخَلَہُ ، وَلٰکِنَّہُ لَمَّا خَرَجَ فَنَزَلَ رَکَعَ رَکْعَتَیْنِ عِنْدَ بَابِ الْبَیْتِ۔ (مسند احمد: ۱۸۱۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے ان کو بتلایا کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہوئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے اندر نماز نہیں پڑھی، البتہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لے آئے تو بیت اللہ کے دروازے کے پاس نماز ادا کی۔
Takhreej
(۴۵۹۳) أِسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ عبد الرزاق: ۹۰۵۷، والطبرانی: ۱۸/ ۷۴۳، وابویعلی: ۶۷۳۳ (انظر: ۱۸۱۹)
4593
Sahih
کعبہ میں داخل ہونا اور اس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نماز پڑھنے کے بارے میں صحابہ کا اختلاف
۔ (۴۵۹۴)۔ عَن ابْنِ عُمَرَ حَدَّثَ عَنْ بِلاَلٍ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی فِي الْبَیْتِ۔ قَالَ: وَ کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ یَقُوْلُ : لَمْ یُصَلِّ فِیْہِ ، وَلٰکِنَّہُ کَبَّرَ فِيْ نَوَاحِیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۴۴۱۶)
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیت اللہ میں نماز پڑھی تھی، لیکن سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس میں نماز نہیں پڑھی، البتہ اس کے کونوں میں اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کی۔
Takhreej
(۴۵۹۴) أخرجہ بنحوہ البخاری: ۳۹۷، ۱۱۶۷، ومسلم: ۱۳۲۹(انظر: ۲۳۹۱۹)
Explanation
فوائد:… سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے اپنے بھائی سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو بتلایا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز نہیں پڑھی تھی، اس بنا پر انھوں نے بھی یہی دعوی کیا تھا، نیز صحیح مسلم میں ہے کہ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے مجھے بتلایا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے کونوں میں دعا وغیرہ کی، لیکن نماز نہیں پڑھی۔
4594
Sahih
کعبہ میں داخل ہونا اور اس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نماز پڑھنے کے بارے میں صحابہ کا اختلاف
۔ (۴۵۹۵)۔ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ، قَالَ : صَلَّی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِي الْبَیْتِ۔ (مسند احمد:۲۲۱۰۲ )
۔ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیت اللہ میں نماز ادا کی۔
Takhreej
(۴۵۹۵) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۲۱۷۵۹)
Explanation
فوائد:… سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیت اللہ میں نماز کو ثابت کرنا یا اس کی نفی کرنا، اس سلسلے میں راویوں نے اختلاف کیا ہے، بعض راوی سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اثبات روایت کرتے ہیں اور بعض ان سے اس کی نفی روایت کرتے ہیں۔
4595
Sahih
کعبہ میں داخل ہونا اور اس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نماز پڑھنے کے بارے میں صحابہ کا اختلاف
۔ (۴۵۹۶)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : خَرَجَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ عِنْدِيْ وَ ھُوَ قَرِیرُ الْعَیْنِ طَیِّبُ النَّفْسِ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيَّ وَ ھُوَ حَزِیْنٌ ، فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّکَ خَرَجْتَ مِنْ عِنْدِيْ وَ أَنْتَ قَرِیْرُ الْعَیْنِ طَیِّبُ النَّفْسِ ، وَ رَجَعْتَ وَ أَنْتَ حَزِیْنٌ؟ فَقَالَ : ((إِنِّيْ أَخَافُ أَنْ أَکُوْنَ أَتْعَبْتُ أُمَّتِيْ مِنْ بَعْدِيْ۔)) (مسند احمد: ۲۵۵۷۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں؛ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس سے تشریف لے گئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آنکھوں میں سکون تھا اور بڑے خوشگوار موڈ میں تھے، لیکن جب واپس آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غمزدہ تھے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس سے تشریف لے گئے توآپ کی آنکھوں میں سرور تھا اور آپ کی طبیعت خوشگوار تھی، لیکن اب آپ غمزدہ ہو کر لوٹے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے یہ ڈر لگ رہا ہے کہ میں نے اپنے بعد اپنی امت کو تھکا دینے والا کام کر دیا ہے۔
Takhreej
(۴۵۹۶) حسن لغیرہ، أخرجہ أبوداود: ۲۰۲۹، والترمذی: ۸۷۳، وابن ماجہ: ۳۰۶۴(انظر: ۲۵۰۵۶)
4596
Sahih
کعبہ میں داخل ہونا اور اس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نماز پڑھنے کے بارے میں صحابہ کا اختلاف
۔ (۴۵۹۷)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیْقٍٍ ثَانٍ) قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا فَقَالَ : ((لَقَدْ صَنَعْتُ الْیَوْمَ شَیْئًا وَ دِدْتُ أَنِّيْ لَمْ أَفْعَلْہُ ، دَخَلْتُ الْبَیْتَ ، فَأَخْشٰی أَنْ یَجِيْئَ الرَّجُلُ مِنْ أُفُقٍ مِنَ الآفَاقِ فَلا یَسْتَطِیْعُ دُخُولَہُ، فَیَرْجِعُ وَ فِيْ نَفْسِہِ مِنْہُ شَيْئٌ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۱۲)
۔ (دوسری سند) سیدہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک دن میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: آج میں نے ایک فعل سر انجام دیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ کاش میں نے وہ نہ کیا ہوتا ہے، میں بیت اللہ میں داخل ہوا ہوں، اب مجھے ڈر یہ ہے کہ ایک آدمی کسی افق (دور کے علاقہ) سے آئے گا، لیکن جب وہ بیت اللہ میں داخل نہیں ہو سکے گا تو وہ اس حال میں لوٹے گا کہ اس کے نفس میں بے چینی سی ہو گی۔
Takhreej
(۴۵۹۷) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… جب بعد میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ احساس ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے امتی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس عمل کو سنت سمجھ کر اس کی رغبت کریں گے، اس طرح ہجوم بڑھے گا، اس سے کسی کو تکلیف ہو گی اور کسی کو موقع ہی نہ مل سکے گا، سو وہ اس سنت کے رہ جانے کی وجہ سے بے چین ہو جائے گا، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ کاش آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت اللہ میں داخل نہ ہوتے۔
4597
Sahih
کعبہ میں داخل ہونا اور اس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نماز پڑھنے کے بارے میں صحابہ کا اختلاف
۔ (۴۵۹۸)۔ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّھَا قَالَتْ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کُلُّ أَھْلِکَ قَدْ دَخَلَ الْبَیْتَ غَیْرِيْ؟ فَقَالَ : ((أَرْسِلِي إِلٰی شَیْبَۃَ فَیَفْتَحَ لَکِ الْبَابَ)) فَأَرْسَلَتْ إِلَیْہِ فَقَالَ شَیْبَۃُ : مَا اسْتَطَعْنَا فَتْحَہُ فِي جَاھِلِیَّۃٍ وَ لا إِسْلاَمٍ بِلَیْلٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صَلِّي فِي الْحِجْرِ ، فَإِنَّ قَوْمَکَ اسْتَقْصَرُوا عَنْ بِنَائِ الْبَیْتِ حِیْنَ بَنَوْہُ (وفي لفظ) صَلِّي فی الحِجْرِ إِذَا أَرَدْتِ دُخُولَ الْبَیْت فَإِنَّمَا ھُوَ قِطْعَۃٌ مِنَ الْبَیْتِ)) (مسند احمد: ۲۴۸۸۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: اے اللہ کے رسول! میرے علاوہ آپ کی ساری بیویاں بیت اللہ میں داخل ہوئی ہیں (اور میں داخل نہیں ہوئی) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم شیبہ کی طرف پیغام بھیجو کہ وہ تمہارے لیے دروازہ کھول دے۔ پس انھوں نے پیغام تو بھیجا لیکن شیبہ نے کہا: ہمیںنہ دورِ جاہلیت میں اتنی طاقت تھی اور اب نہ اسلام میں ہے کہ ہم اس کو رات کو کھول سکیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ! تو پھر حِجْر میں ہی نماز پڑھ لو، کیونکہ جب تیری قوم نے بیت اللہ کی تعمیر کی تھی تو انھوں نے (اخراجات کی کمی کی وجہ سے) اس کو کم کر دیا تھا۔ ایک روایت میں ہے: تم حجر میں ہی نماز ادا کر لو، یہ بھی بیت اللہ کا ہی ایک حصہ ہے۔
Takhreej
(۴۵۹۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ دون قولہ صلی فی الحجر فان قومک استقصروا عن بناء البیت حین بنوہ۔ فھو حسن لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۷۰۹۴ (انظر: ۲۴۳۸۴)
Explanation
فوائد:… جب قریشیوں نے کعبہ کی تعمیر کی تو وہ بیت اللہ کی شمالی جانب قواعد ِ ابراہیم کا لحاظ نہ کر سکے اور ایک
4598
Zaeef
اس چیز کا بیان کہ حاجی واپس آتے وقت کیا کہے گا یا کیا کرے گا، اسی طرح اس پر سلام کہنے، اس کے ساتھ مصافحہ کرنے اور اس سے دعا کا مطالبہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
۔ (۴۵۹۹)۔ عَن ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا قَفَلَ مِنْ غَزْوٍ، أَوْ حَجٍّ، أَوْ عُمْرَۃٍ ، فَعَلا فَدْفَدًا مِنَ الأَرْضِ ، أَوْ شَرَفًا ، قَالَ : ((اَللّٰہ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أکْبَرُ، لا اِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لا شَرِیْکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَ لَہُ الْحَمْدُ، وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِیْرٌ، آیِبُوْنَ تَائِبُونَ سَاجِدُوْنَ عَابِدُوْنَ، لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ، صَدَقَ اللّٰہُ وَعْدَہُ ، وَ نَصَرَ عَبْدَہُ، وَ ھَزَمَ الأحْزَابَ وَحْدَہُ۔)) (مسند احمد: ۴۶۳۶)
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی غزوہ یا حج یا عمرہ کے سفر سے لوٹتے اور زمین کے سخت اور بلند حصے یا کسی اونچی جگہ پر چڑھتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أکْبَرُ… وَ ھَزَمَ الأحْزَابَ وَحْدَہُ (اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، وہی معبودِ برحق ہے، اس حال میں کہ وہ اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے، بادشاہت اسی کیلئے ہے اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، ہم (اپنے وطن کی طرف) لوٹنے والے، (نافرمانی سے فرمانبرداری کی طرف) تائب ہو جانے والے، سجدہ کرنے والے، عبادت کرنے والے اور اپنے ربّ کی تعریف کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور اپنے بندے کی مدد کی اور اس اکیلے نے لشکروں کو شکست دے دی۔)
Takhreej
(۴۵۹۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۸۳۵، ومسلم: ۱۳۴۴(انظر: ۴۶۳۶)
Explanation
فوائد:… لشکروں سے مراد غزوۂ خندق میں جمع ہونے والے دشمنانِ اسلام کے لشکر ہیں، اور اس کو عموم پر محمول کرنا بھی ممکن ہے، یعنی اس سے مراد کفر کے لشکر ہیں، وہ جہاں بھی ہوں۔
4599
Sahih
اس چیز کا بیان کہ حاجی واپس آتے وقت کیا کہے گا یا کیا کرے گا، اسی طرح اس پر سلام کہنے، اس کے ساتھ مصافحہ کرنے اور اس سے دعا کا مطالبہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
۔ (۴۶۰۰)۔ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَّی حِیْنَ أَقْبَلَ مِنْ حَجَّتِہِ قَافِلاً فِي تِلْکَ الْبَطْحَائِ، قَالَ : ثُمَّ دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِیْنَۃَ، فَأَنَاخَ عَلَی بَابِ مَسْجِدِہِ، ثُمَّ دَخَلَہُ فَرَکَعَ فِیْہِ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَی بَیْتِہِ۔ قَالَ نَافِعٌ : فَکَانَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ عُمَرَ کَذٰلِکَ یَصْنَعُ۔ (مسند احمد: ۶۱۳۲)
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب حج سے واپس تشریف لائے تو وادی ٔ بطحاء میں نماز پڑھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسجد کے دروازے پر اونٹ بٹھایا اور مسجد میں داخل ہو کر نماز ادا کی، پھر اپنے گھر کی طرف تشریف لے گئے۔ امام نافع کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
Takhreej
(۴۶۰۰) تخریج: اسنادہ حسن ، أخرجہ أبوداود: ۲۷۸۲ (انظر: ۶۱۳۲)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں جس سنت کا ذکر ہے، وہ درج ذیل حدیث ِ مبارکہ سے زیادہ واضح ہو جاتی ہے:
4600
Sahih
اس چیز کا بیان کہ حاجی واپس آتے وقت کیا کہے گا یا کیا کرے گا، اسی طرح اس پر سلام کہنے، اس کے ساتھ مصافحہ کرنے اور اس سے دعا کا مطالبہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
۔ (۴۶۰۱)۔ عَنْ حَبِیْبِ بْنِ أَبِيْ ثَابِتٍ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْھُمَا نَتَلَقَّی الْحَاجَّ فَنُسَلّمُ عَلَیْھِمْ قَبْلَ أَنْ یَتَدَنَّسُوْا۔ (مسند احمد: ۶۰۱۸)
۔ حبیب بن ابی ثابت کہتے ہیں: میں سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے ساتھ ادائیگی ٔ حج سے واپس آنے والوں سے ملاقات کرنے کے لیے نکلا، ہم ان پر سلام کرتے قبل اس کے کہ وہ گناہوں کی وجہ سے میلے ہوں۔
Takhreej
(۴۶۰۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف اسماعیل بن عبد الملک (انظر: ۶۰۱۸)
Explanation
فوائد:… بہرحال احادیث سے ثابت ہے کہ ادائیگی ٔ حج سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور کسی کی نیکیوں کی وجہ سے اس سے ملاقات کرنا باعث ِ اجرو ثواب عمل ہے۔
4601
Zaeef
اس چیز کا بیان کہ حاجی واپس آتے وقت کیا کہے گا یا کیا کرے گا، اسی طرح اس پر سلام کہنے، اس کے ساتھ مصافحہ کرنے اور اس سے دعا کا مطالبہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
۔ (۴۶۰۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا لَقِیْتَ الْحَاجَّ، فَسَلِّمْ عَلَیْہِ وَصَافِحْہُ وَ مُرْہُ أَنْ یَسْتَغْفِرَلَکَ قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بَیْتَہُ، فَإِنَّہُ مَغْفُورٌ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۵۳۷۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو حاجی کو ملے تو اس پر سلام کہہ اور اس سے مصافحہ کر اور اس سے یہ مطالبہ کر کہ وہ اپنے گھر میں داخل ہونے سے پہلے تیرے لیے بخشش کی دعا کرے، کیونکہ اس وقت وہ بخشا ہوا ہوتا ہے۔
Takhreej
(۴۶۰۲) اسنادہ ضعیف جدا، محمد بن الحارث الحارثی، وعبد الرحمن ابن البیلمانی ضعیفان، ومحمد بن عبد الرحمن البیلمانی ضعیف ایضا، بل قال عنہ البخاری: منکر الحدیث (انظر: ۵۳۷۱)
Explanation
فوائد:… بہرحال نیک لوگوں سے دعا کروانا مشروع عمل ہے۔
4602
Zaeef