TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

کعبہ میں داخل ہونا اور اس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نماز پڑھنے کے بارے میں صحابہ کا اختلاف - کعبہ میں داخل ہونا اور اس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نماز پڑھنے کے بارے میں صحابہ کا اختلاف - حج کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of حج کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 5 · 6 Hadith
۔ (۴۵۹۳)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ کَانَ یُخْبِرُ، أَنَّ (الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ)، أَخْبَرَہُ أَنَّہُ دَخَلَ مَعَ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْبَیْتَ ، وَ أَنَّ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یُصَلِّ فِي الْبَیْتِ حِیْنَ دَخَلَہُ ، وَلٰکِنَّہُ لَمَّا خَرَجَ فَنَزَلَ رَکَعَ رَکْعَتَیْنِ عِنْدَ بَابِ الْبَیْتِ۔ (مسند احمد: ۱۸۱۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے ان کو بتلایا کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہوئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے اندر نماز نہیں پڑھی، البتہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لے آئے تو بیت اللہ کے دروازے کے پاس نماز ادا کی۔
Takhreej
(۴۵۹۳) أِسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ عبد الرزاق: ۹۰۵۷، والطبرانی: ۱۸/ ۷۴۳، وابویعلی: ۶۷۳۳ (انظر: ۱۸۱۹)
4593
Sahih
۔ (۴۵۹۴)۔ عَن ابْنِ عُمَرَ حَدَّثَ عَنْ بِلاَلٍ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی فِي الْبَیْتِ۔ قَالَ: وَ کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ یَقُوْلُ : لَمْ یُصَلِّ فِیْہِ ، وَلٰکِنَّہُ کَبَّرَ فِيْ نَوَاحِیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۴۴۱۶)
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیت اللہ میں نماز پڑھی تھی، لیکن سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس میں نماز نہیں پڑھی، البتہ اس کے کونوں میں اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کی۔
Takhreej
(۴۵۹۴) أخرجہ بنحوہ البخاری: ۳۹۷، ۱۱۶۷، ومسلم: ۱۳۲۹(انظر: ۲۳۹۱۹)
Explanation
فوائد:… سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے اپنے بھائی سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو بتلایا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیت اللہ کے اندر نماز نہیں پڑھی تھی، اس بنا پر انھوں نے بھی یہی دعوی کیا تھا، نیز صحیح مسلم میں ہے کہ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے مجھے بتلایا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے کونوں میں دعا وغیرہ کی، لیکن نماز نہیں پڑھی۔
4594
Sahih
۔ (۴۵۹۵)۔ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ، قَالَ : صَلَّی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِي الْبَیْتِ۔ (مسند احمد:۲۲۱۰۲ )
۔ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیت اللہ میں نماز ادا کی۔
Takhreej
(۴۵۹۵) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۲۱۷۵۹)
Explanation
فوائد:… سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیت اللہ میں نماز کو ثابت کرنا یا اس کی نفی کرنا، اس سلسلے میں راویوں نے اختلاف کیا ہے، بعض راوی سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اثبات روایت کرتے ہیں اور بعض ان سے اس کی نفی روایت کرتے ہیں۔
4595
Sahih
۔ (۴۵۹۶)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : خَرَجَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ عِنْدِيْ وَ ھُوَ قَرِیرُ الْعَیْنِ طَیِّبُ النَّفْسِ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيَّ وَ ھُوَ حَزِیْنٌ ، فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّکَ خَرَجْتَ مِنْ عِنْدِيْ وَ أَنْتَ قَرِیْرُ الْعَیْنِ طَیِّبُ النَّفْسِ ، وَ رَجَعْتَ وَ أَنْتَ حَزِیْنٌ؟ فَقَالَ : ((إِنِّيْ أَخَافُ أَنْ أَکُوْنَ أَتْعَبْتُ أُمَّتِيْ مِنْ بَعْدِيْ۔)) (مسند احمد: ۲۵۵۷۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں؛ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس سے تشریف لے گئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آنکھوں میں سکون تھا اور بڑے خوشگوار موڈ میں تھے، لیکن جب واپس آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غمزدہ تھے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس سے تشریف لے گئے توآپ کی آنکھوں میں سرور تھا اور آپ کی طبیعت خوشگوار تھی، لیکن اب آپ غمزدہ ہو کر لوٹے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے یہ ڈر لگ رہا ہے کہ میں نے اپنے بعد اپنی امت کو تھکا دینے والا کام کر دیا ہے۔
Takhreej
(۴۵۹۶) حسن لغیرہ، أخرجہ أبوداود: ۲۰۲۹، والترمذی: ۸۷۳، وابن ماجہ: ۳۰۶۴(انظر: ۲۵۰۵۶)
4596
Sahih
۔ (۴۵۹۷)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیْقٍٍ ثَانٍ) قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا فَقَالَ : ((لَقَدْ صَنَعْتُ الْیَوْمَ شَیْئًا وَ دِدْتُ أَنِّيْ لَمْ أَفْعَلْہُ ، دَخَلْتُ الْبَیْتَ ، فَأَخْشٰی أَنْ یَجِيْئَ الرَّجُلُ مِنْ أُفُقٍ مِنَ الآفَاقِ فَلا یَسْتَطِیْعُ دُخُولَہُ، فَیَرْجِعُ وَ فِيْ نَفْسِہِ مِنْہُ شَيْئٌ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۱۲)
۔ (دوسری سند) سیدہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک دن میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: آج میں نے ایک فعل سر انجام دیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ کاش میں نے وہ نہ کیا ہوتا ہے، میں بیت اللہ میں داخل ہوا ہوں، اب مجھے ڈر یہ ہے کہ ایک آدمی کسی افق (دور کے علاقہ) سے آئے گا، لیکن جب وہ بیت اللہ میں داخل نہیں ہو سکے گا تو وہ اس حال میں لوٹے گا کہ اس کے نفس میں بے چینی سی ہو گی۔
Takhreej
(۴۵۹۷) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… جب بعد میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ احساس ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے امتی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس عمل کو سنت سمجھ کر اس کی رغبت کریں گے، اس طرح ہجوم بڑھے گا، اس سے کسی کو تکلیف ہو گی اور کسی کو موقع ہی نہ مل سکے گا، سو وہ اس سنت کے رہ جانے کی وجہ سے بے چین ہو جائے گا، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ کاش آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت اللہ میں داخل نہ ہوتے۔
4597
Sahih
۔ (۴۵۹۸)۔ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّھَا قَالَتْ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کُلُّ أَھْلِکَ قَدْ دَخَلَ الْبَیْتَ غَیْرِيْ؟ فَقَالَ : ((أَرْسِلِي إِلٰی شَیْبَۃَ فَیَفْتَحَ لَکِ الْبَابَ)) فَأَرْسَلَتْ إِلَیْہِ فَقَالَ شَیْبَۃُ : مَا اسْتَطَعْنَا فَتْحَہُ فِي جَاھِلِیَّۃٍ وَ لا إِسْلاَمٍ بِلَیْلٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صَلِّي فِي الْحِجْرِ ، فَإِنَّ قَوْمَکَ اسْتَقْصَرُوا عَنْ بِنَائِ الْبَیْتِ حِیْنَ بَنَوْہُ (وفي لفظ) صَلِّي فی الحِجْرِ إِذَا أَرَدْتِ دُخُولَ الْبَیْت فَإِنَّمَا ھُوَ قِطْعَۃٌ مِنَ الْبَیْتِ)) (مسند احمد: ۲۴۸۸۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: اے اللہ کے رسول! میرے علاوہ آپ کی ساری بیویاں بیت اللہ میں داخل ہوئی ہیں (اور میں داخل نہیں ہوئی) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم شیبہ کی طرف پیغام بھیجو کہ وہ تمہارے لیے دروازہ کھول دے۔ پس انھوں نے پیغام تو بھیجا لیکن شیبہ نے کہا: ہمیںنہ دورِ جاہلیت میں اتنی طاقت تھی اور اب نہ اسلام میں ہے کہ ہم اس کو رات کو کھول سکیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ! تو پھر حِجْر میں ہی نماز پڑھ لو، کیونکہ جب تیری قوم نے بیت اللہ کی تعمیر کی تھی تو انھوں نے (اخراجات کی کمی کی وجہ سے) اس کو کم کر دیا تھا۔ ایک روایت میں ہے: تم حجر میں ہی نماز ادا کر لو، یہ بھی بیت اللہ کا ہی ایک حصہ ہے۔
Takhreej
(۴۵۹۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ دون قولہ صلی فی الحجر فان قومک استقصروا عن بناء البیت حین بنوہ۔ فھو حسن لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۷۰۹۴ (انظر: ۲۴۳۸۴)
Explanation
فوائد:… جب قریشیوں نے کعبہ کی تعمیر کی تو وہ بیت اللہ کی شمالی جانب قواعد ِ ابراہیم کا لحاظ نہ کر سکے اور ایک
4598
Zaeef