مسنداحمد

Musnad Ahmad

حج کے مسائل

اس چیز کا بیان کہ حاجی واپس آتے وقت کیا کہے گا یا کیا کرے گا، اسی طرح اس پر سلام کہنے، اس کے ساتھ مصافحہ کرنے اور اس سے دعا کا مطالبہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان

۔ (۴۵۹۹)۔ عَن ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا قَفَلَ مِنْ غَزْوٍ، أَوْ حَجٍّ، أَوْ عُمْرَۃٍ ، فَعَلا فَدْفَدًا مِنَ الأَرْضِ ، أَوْ شَرَفًا ، قَالَ : ((اَللّٰہ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أکْبَرُ، لا اِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لا شَرِیْکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَ لَہُ الْحَمْدُ، وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِیْرٌ، آیِبُوْنَ تَائِبُونَ سَاجِدُوْنَ عَابِدُوْنَ، لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ، صَدَقَ اللّٰہُ وَعْدَہُ ، وَ نَصَرَ عَبْدَہُ، وَ ھَزَمَ الأحْزَابَ وَحْدَہُ۔)) (مسند احمد: ۴۶۳۶)

۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی غزوہ یا حج یا عمرہ کے سفر سے لوٹتے اور زمین کے سخت اور بلند حصے یا کسی اونچی جگہ پر چڑھتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أکْبَرُ… وَ ھَزَمَ الأحْزَابَ وَحْدَہُ (اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، وہی معبودِ برحق ہے، اس حال میں کہ وہ اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے، بادشاہت اسی کیلئے ہے اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، ہم (اپنے وطن کی طرف) لوٹنے والے، (نافرمانی سے فرمانبرداری کی طرف) تائب ہو جانے والے، سجدہ کرنے والے، عبادت کرنے والے اور اپنے ربّ کی تعریف کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور اپنے بندے کی مدد کی اور اس اکیلے نے لشکروں کو شکست دے دی۔)

۔ (۴۶۰۰)۔ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَّی حِیْنَ أَقْبَلَ مِنْ حَجَّتِہِ قَافِلاً فِي تِلْکَ الْبَطْحَائِ، قَالَ : ثُمَّ دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِیْنَۃَ، فَأَنَاخَ عَلَی بَابِ مَسْجِدِہِ، ثُمَّ دَخَلَہُ فَرَکَعَ فِیْہِ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَی بَیْتِہِ۔ قَالَ نَافِعٌ : فَکَانَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ عُمَرَ کَذٰلِکَ یَصْنَعُ۔ (مسند احمد: ۶۱۳۲)

۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب حج سے واپس تشریف لائے تو وادی ٔ بطحاء میں نماز پڑھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسجد کے دروازے پر اونٹ بٹھایا اور مسجد میں داخل ہو کر نماز ادا کی، پھر اپنے گھر کی طرف تشریف لے گئے۔ امام نافع کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔

۔ (۴۶۰۱)۔ عَنْ حَبِیْبِ بْنِ أَبِيْ ثَابِتٍ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْھُمَا نَتَلَقَّی الْحَاجَّ فَنُسَلّمُ عَلَیْھِمْ قَبْلَ أَنْ یَتَدَنَّسُوْا۔ (مسند احمد: ۶۰۱۸)

۔ حبیب بن ابی ثابت کہتے ہیں: میں سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے ساتھ ادائیگی ٔ حج سے واپس آنے والوں سے ملاقات کرنے کے لیے نکلا، ہم ان پر سلام کرتے قبل اس کے کہ وہ گناہوں کی وجہ سے میلے ہوں۔

۔ (۴۶۰۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا لَقِیْتَ الْحَاجَّ، فَسَلِّمْ عَلَیْہِ وَصَافِحْہُ وَ مُرْہُ أَنْ یَسْتَغْفِرَلَکَ قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بَیْتَہُ، فَإِنَّہُ مَغْفُورٌ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۵۳۷۱)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو حاجی کو ملے تو اس پر سلام کہہ اور اس سے مصافحہ کر اور اس سے یہ مطالبہ کر کہ وہ اپنے گھر میں داخل ہونے سے پہلے تیرے لیے بخشش کی دعا کرے، کیونکہ اس وقت وہ بخشا ہوا ہوتا ہے۔