مسنداحمد

Musnad Ahmad

ہدی اور قربانی کے جانوروں کے مسائل

ہدی کا اپنے محل تک پہنچنے سے پہلے تھک جانا

۔ (۴۶۳۲)۔ عَنْ مُوسَی بْنِ سَلَمَۃَ ، قَالَ: حَجَجْتُ أَنَا وَ سِنَانُ بْنُ سَلَمَۃَ، وَ مَعَ سِنَانٍ بَدَنَۃٌ، فَأَزْحَفَتْ عَلَیْہِ، فَعَيَّ بِشَأْنِھَا، فَقُلْتُ : لَئِنْ قَدِمْتُ مَکَّۃَ لَاَسْتَبْحِثَنَّ عَنْ ھٰذَا ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا مَکَّۃَ ، قُلْتُ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ، فَدَخَلْنَا عَلَیْہِ، وَ عِنْدَہُ جَارِیَۃٌ، وَ کَانَ لِيْ حَاجَتَانِ، وَ لِصَاحِبِيْ حَاجَۃٌ، فَقَالَ: أَلا أُخْلِیکَ! قُلْتُ : لا، فَقُلْتُ: کَانَتْ مَعِيَ بَدَنَۃٌ فَأَزْحَفَتْ عَلَیْنَا، فَقُلْتُ: لَئِنْ قَدِمْتُ مَکَّۃَ، لَأَسْتَبْحِثَنَّ عَنْ ھٰذَا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْبُدْنِ مَعَ فُلَانٍ ، وَ أَمَّرَہُ فِیْھَا بَأَمْرِہِ، فَلَمَّا قَفَّا، رَجَعَ، فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ، مَا أَصْنَعُ بِمَا أَزْحَفَ عَلَيَّ مِنْھَا! قَالَ: ((اِنْحَرْھَا وَاصْبُغْ نَعْلَھَا فِيْ دَمِھَا، وَاضْرِبْہُ عَلٰی صَفْحَتِھَا، وَ لا تَأْکُلْ مِنْھَا أَنْتَ، وَ لا أَحَدٌ مِنْ رُفْقَتِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۵۱۸)

۔ موسی بن سلمہ کہتے ہیں؛ میں نے اور سنان بن سلمہ نے حج کیا، سنان کے پاس ہدی کا اونٹ تھا، ہوا یوں کہ وہ اونٹ تھک کر کھڑا ہو گیا اور چلنے سے عاجز آ گیا، میں نے کہا: جب میں مکہ مکرمہ پہنچوں گا تو اس کے بارے میں تحقیق کروں گا، پس جب ہم مکہ میں آئے تو میں نے اس سے کہا: تم ہم کو سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے پاس لے کر چلو، پس ہم ان کے پاس گئے، جبکہ ان کے پاس ایک لونڈی تھی، میری دو ضرورتیں تھیں اور میرے ساتھی کی ایک ضرورت تھی، سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے مجھ سے کہا: کیا میں تجھے علیحدگی میں لے جاؤں؟ میں نے کہا: جی نہیں، بس ایک سوال کرنا ہے کہ میرے پاس ایک اونٹ تھا اور وہ تھک کر کھڑا ہو گیا، میں نے کہا: میں مکہ پہنچ کر اس کے بارے میں تحقیق کروں گا، انھوں نے جواباً کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فلاں آدمی کے ساتھ ہدی کے اونٹ بھیجے تھے اور اس کو ان کا امیر بنایا تھا، جب وہ آدمی پیٹھ پھیر کر جانے لگا تو واپس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! جو اونٹ تھک کر کھڑا ہو جائے (اور چلنے سے عاجز آ جائے)، میں اس کے ساتھ کیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو نحر کر دینا اور اس کے جوتے کو اس کے خون میں رنگ کر اس کے پہلو پر رکھ دینا اور نہ تو نے اس سے کھانا ہے اور نہ تیری جماعت کے کسی فرد نے کھانا ہے۔

۔ (۴۶۳۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَ بِثَمَانِيْ عَشْرَۃَ بَدَنَۃَ مَعَ رَجُلٍ، فَأَمَّرَہُ فِیْھَا بِأَمْرِہِ، فَانْطَلَقَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَیْہِ فَقَالَ: أَرَأَیْتَ إِنْ أَزْحَفَ عَلَیْنَا مِنْھَا شَيْئٌ؟ فَقَالَ: ((اِنْحَرْھَا ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَھَا فِيْ دَمِھَا، ثُمَّ اجْعَلْھَا عَلٰی صَفْحَتِھَا وَ لا تَأْکُلْ مِنْھَا أَنْتَ وَ لا أَحَدٌ مِنْ أَھْلِ رُفْقَتِکَ۔)) قَالَ عَبْدَ اللّٰہ: قَالَ أَبِيْ: وَلَمْ یَسْمَعْ إِسْمَاعِیْلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ مِنْ أَبِي التَّیَّاحِ إِلاَّ ھٰذَا الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۸۶۹)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہدی کے اٹھارہ اونٹ ایک آدمی کے ساتھ بھیجے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آدمی کو اس معاملے کا امیر بنایا، پس جب وہ چل پڑا تو پھر لوٹ آیا اور اس نے کہا: جو اونٹ تھک کر کھڑا ہو جائے، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ و نے فرمایا: اس کو ذبح کر دینا اور اس کا جوتااس کے خون میں رنگ کر اس کے پہلو پر رکھ دینا، اور نہ تو نے اس سے کھانا ہے اور نہ تیری جماعت کے کسی فرد نے۔ امام احمد نے کہا: اسماعیل بن علیہ نے ابو تیاح سے صرف یہ حدیث سنی ہے۔

۔ (۴۶۳۴)۔ عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ نَاجِیَۃَ الْخُزَاعِيِّ (قَالَ: وَ کَانَ صَاحِبَ بُدْنِ رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) قَالَ: قُلْتُ (وَفِيْ لَفْظٍ: یَا رَسُولَ اللّٰہ!): کَیْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنَ الْبُدْنِ؟ قَالَ: ((اِنْحَرْہُ وَ اغْمِسْ نَعْلَہُ فِيْ دَمِہِ وَاضْرِبْ صَفْحَتَہُ وَخَلِّ بَیْنَ النَّاسِ وَ بَیْنَہُ فَلْیَأْکُلُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۱۵۱)

۔ سیدنا ناجیہ خزاعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہدی کے اونٹوں کے منتظم تھے، سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو اونٹ چلنے سے عاجز آجا ئے، میں اس کے ساتھ کیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو نحر کر دینا اور اس کے جوتے کو اس کے خون میں رنگ کر اس کے پہلو پر رکھ دینا اور پھر لوگوں اور اس کے درمیان سے ہٹ جانا، تاکہ وہ اس کو کھا لیں۔

۔ (۴۶۳۵)۔ عَنْ شَھْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِيْ الأَنْصَارِيُّ، صَاحِبُ بُدْنِ النَّبِيّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (فَذَکَرَ نَحْوَ الحَدیث الْمُتَقَدِّمِ وَفِیْہِ) أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا بَعَثَہُ قَالَ: رَجَعْتُ، فَقُلْتُ: نَعَمْ یَا رَسُولَ اللّٰہ! مَا تَأْمُرُنِيْ بِمَا عَطِبَ مِنْھَا؟ قَالَ: ((اِنْحَرْھَا، ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَھَا فِيْ دَمِھَا ثُمَّ ضَعْھَا عَلٰی صَفْحَتِھَا، أَوْ عَلٰی جَنْبِھَا، وَ لا تَأْکُلْ مِنْھَا أَنْتَ وَ لا أَحَدٌ مِنْ أَھْلِ رُفْقَتِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۲۶)

۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہدی کے اونٹوں کے منتظم انصاری صحابی بیان کرتے ہیں…، پھر سابقہ حدیث کی طرح کی روایت بیان کی …، البتہ اس میں ہے: وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بھیجا تو میں لوٹا اور کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! جو اونٹ چلنے سے عاجز آ جائے، اس کے بارے میں آپ مجھے کیا حکم فرمائیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو نحر کر دینا اور اس کے جوتے کو اس کے خون میں رنگ کر اس کے پہلو پر رکھ دینا اور نہ تو نے اس سے کھانا ہے اور نہ تیری جماعت کے کسی آدمی نے۔

۔ (۴۶۳۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ذُؤَیْبًا أَبَاقَبِیْصَۃَ حَدَّثَہُ: أَنَّ نَبِيَّ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَبْعَثُ بِالْبُدْنِ (وَفِيْ لَفْظٍ بَعَثَ مَعَہُ بِبَدَنَتَیْن) فَیَقُوْلُ: ((إِنْ عَطِبَ مِنْھَا شَيْئٌ فَخَشِیتَ عَلَیْہِ فَانْحَرْھَا وَاغْمِسْ نَعْلَھَا فِيْ دَمِھَا وَاضْرِبْ صَفْحَتَھَا وَ لا تَأْکُلْ مِنْھَا أَنْتَ وَ لا أَحَدٌ مِنْ رُفْقَتِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۳۷)

۔ سیدنا ابو قبیصہ ذؤیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے ساتھ ہدی کے دو اونٹ بھیجے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر ان میں سے کوئی جانور تھک کر چلنے سے عاجز آ جائے اور تو اس کے بارے میں ڈرنے لگے تو اس کو نحر کر دینا اور اس کے جوتے کو اس کے خون میں رنگ کر اس کے پہلو پر رکھ دینا اور نہ تو نے خود اس سے کھانا ہے اور نہ تیری جماعت کے کسی فرد نے۔

۔ (۴۶۳۷)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَۃَ الثُّمَالِيِّ، قَالَ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْھَدْيِ یَعْطَبُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنْحَرْ وَاصْبُغْ نَعْلَہُ فِيْ دَمِہِ وَاضْرِبْ بِہِ عَلٰی صَفْحَتِہِ، أَوْ قَالَ: عَلٰی جَنْبِہِ، وَ لا تَأْکُلَنَّ مِنْہُ شَیْئًا أَنْتَ وَ لَا أَھْلُ رُفْقَتِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۸۱۸)

۔ سیدنا عمرو بن خارجہ ثمالی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے چلنے سے عاجز آ جانے والی ہدی کے بارے میں دریافت کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو نحر کر دینا اور اس کے جوتے کو اس کے خون میں رنگ کر اس کے پہلو پر رکھ دینا اور ہرگز نہ تو نے اس سے کھانا ہے اور نہ تیری جماعت کے کسی فرد نے۔

۔ (۴۶۳۸)۔ عَنْ زِیَادِبْنِ جُبَیْرٍ، قَالَ : کُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِمِنٰی فَمَرَّ بِرَجُلٍ وَھُوَ یَنْحَرُ بَدَنَۃً، وَ ھِيَ بَارِکَۃٌ، فَقَالَ: ابْعَثْھَا قِیَامًا مُقَیَّدَۃً ، سُنَّۃَ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۴۴۵۹)

۔ زیاد بن جبیر کہتے ہیں: میں مِنٰی میں سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے ساتھ تھا، جب وہ ایسے آدمی کے پاس سے گزرے جو ہدی کو بٹھا کر نحر کر رہا تھا تو انھوں نے کہا: اس کو اٹھا اور (اس وقت ذبح کر) جب یہ کھڑی اور باندھی ہوئی ہو اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت کی پیروی کر۔

۔ (۴۶۳۹)۔ عَنْ جَابرِ بنِ عَبدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِيْ صفَۃِ حَجِّ رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ : فَکَانَتْ جَمَاعَۃُ الْھَدْيِ الَّذِيْ أَتٰی بِہِ عَلِيٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مِنَ الْیَمَنِ، وَ الَّذِيْ أَتٰی بِہِ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِئَۃً، فَنَحَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِہِ ثَلَاثَۃً وَ سِتِّیْنَ ثُمَّ أَعْطٰی عَلِیًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ ، وَ أَشْرَکَہُ فِيْ ھَدْیہِ، ثُمَّ أَمَرَ مِنْ کُلِ بَدَنَۃٍ بِبَضْعَۃٍ، فَجُعِلَتْ فِيْ قِدْرٍ، فَأَکَلَا مِنْ لَحْمِھَا وَ شَرِبَا مِنْ مَرَقِھَا۔ (مسند احمد: ۱۴۴۴۹)

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حج کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہدی کے جانوروں کی کل تعداد سو (۱۰۰) تھی، بعض جانور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یمن سے لائے تھے اور کچھ جانور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود لے کر گئے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک سے تریسٹھ جانور ذبح کیے، پھر باقی سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیئے اور انھوں نے ان کو ذبح کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بھی اپنے ہدیوں میں شریک کیا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا کہ ہر اونٹ سے ایک ٹکڑا لیا جائے اور ان کو ہنڈیاں میں پکایا جائے، پھر ان دونوں نے ان کا گوشت کھایا اور ان کا شوربا پیا۔

۔ (۴۶۴۰)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ، أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ لَھَا۔ وَ حَاضَتْ بِسَرِفَ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَ مَکَّۃَ ، قَالَ لَھَا : ((اِقْضِي مَا یَقْضِي الْحَاجُّ غَیْرَ أَنْ لا تَطُوفِي بِالْبَیْتِ۔)) قَالَتْ: فَلَمَّا کُنَّا بِمِنًی أُتِیتُ بِلَحْمِ بَقَرٍ، قُلْتُ: مَا ھٰذَا؟ قَالُوا: ضَحّٰی النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ أَزْوَاجِہِ بِالْبَقَرِ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۱۰)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ وہ حج کے موقع پر مکہ مکرمہ پہنچنے سے پہلے سرف مقام پر حائضہ ہو گئیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: تو باقی حاجیوں کی طرح مناسک ِ حج ادا کرتی رہ، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کر۔ وہ کہتی ہیں: جب میں مِنٰی میں تھی تو میرے پاس گائے کا گوشت لایا گیا، میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتلایا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف گائے قربان کی ہے۔

۔ (۴۶۴۱)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِيْ لَیْلٰی، عَنْ عَلِيٍّ : أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَ مَعَہُ بِھَدْیِہِ، فَأَمَرَہُ أَنْ یَتَصَدَّقَ بِلُحُومِھَا وَجُلُوْدِھَا وَ أَجِلَّتِھَا۔ (مسند احمد: ۸۹۴)

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے ساتھ اپنی ہدیاں بھیجیں اور ان کو یہ حکم دیا کہ وہ ان کے گوشت، چمڑوں اور پالانوں وغیرہ کو صدقہ کر دیں۔

۔ (۴۶۴۲)۔ عَنْ عَلِيّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: لَمَّا نَحَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بُدْنَہُ نَحَرَ بِیَدِہِ ثَلاثِیْنَ، وَ أَمَرَنِيْ فَنَحَرْتُ سَائِرَھَا، وَقَالَ: ((اِقْسِمْ لُحُوْمَھَا بَیْنَ النَّاسِ وَ جُلُودَھَا وَ جِلَالَھَا، وَ لا تُعْطِیَنَّ جَازِرًا مِنْھَا شَیْئًا۔)) (مسند احمد: ۱۳۷۴)

۔ سیدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیس جانوروں کو خود نحر کیا اور پھر مجھے حکم دیا اور میں نے باقی اونٹ نحر کیے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: ان کے گوشت، چمڑوں اور جُلّوں وغیرہ کو لوگوں میں تقسیم کر دے اور ان میں سے کوئی چیز قصاب کو ہر گز نہ دے۔

۔ (۴۶۴۳)۔ عَنْ عَلِيّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: أَمَرنِيْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ أَقُوْمَ عَلَی بُدْنِہِ: وَ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِلُحُوْمِھَا وَ جُلُودِھَا وَ أَجِلَّتِھَا، وَأَنْ لا أُعْطِيَ الْجَازِرَ مِنْھَا، قَالَ: نَحْنُ نُعْطِیْہِ مِنْ عِنْدِنَا۔ (مسند احمد: ۱۳۲۵)

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہدی کے جانوروں کی نگرانی کروں اور ان کے گوشت، چمڑوں اور پالانوں کو صدقہ کر دوں اور ان میں سے کوئی چیز قصاب کو نہ دوں۔ ہم لوگ اپنے پاس سے قصاب کی اجرت دیتے تھے۔

۔ (۴۶۴۴)۔ عَنْ قَتَادَۃَ بْنِ النُّعْمَانِ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَامَ (وَفِيْ لَفْظٍ فِيْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ) فَقَالَ: ((إِنِّي کُنْتُ أَمَرْتُکُمْ أَنْ لا تَأْکُلُوا الأضَاحِيَّ فَوْقَ ثَلَاثَۃِ أَیَّامٍ لِتَسَعَکُمْ، وَ إِنِّيْ أُحِلُّہُ لَکُمْ فَکُلُوْا مِنْہُ مَا شِئْتُمْ، وَ لا تَبِیعُوا لُحُومَ الْھَدْيِ وَالاَضَاحِيِّ، فَکُلُوْا وَ تَصَدَّقُوْا وَاسْتَمْتِعُوا بِجُلُوْدِھَا، وَ لا تَبِیعُوھَا، وَ إِنْ أُطْعِمْتُمْ مِنْ لَحْمِھَا فَکُلُوْا إِنْ شِئْتُمْ)) وَقَالَ فِيْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ: عَنْ أَبِيْ سَعِیْدٍ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَالآنَ فَکُلُوْا وَ اتَّجِرُوا وَادَّخِرُوْا۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۱۲)

۔ سیدنا قتادہ بن نعمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: میں نے تم لوگوں کو یہ حکم دیا تھا کہ تم دنوں سے زیادہ قربانیوں کا گوشت نہیں کھا سکتے، تاکہ وہ گوشت تم سب کو کفایت کرے، اب میں تمہارے لیے اس چیز کو حلال کرتا ہوں، اب جب تک چاہو تو اس گوشت کو کھا سکتے ہو، البتہ ہدی اور قربانی کا گوشت بیچنا نہیں ہے، خود کھاؤ، صدقہ کرو اور ان کے چمڑوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہو، ان کو بھی بیچ نہیں سکتے اور اگر تم کو ایسا گوشت کھلایا جائے تو کھا لیا کرو، اگر چاہو تو۔ جو روایت سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، اس میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس اب کھاؤ، صدقہ کرو اور ذخیرہ کرو۔

۔ (۴۶۴۵)۔ عَنْ أَبِيْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: إِنَّا کُنَّا نَتَزَوَّدُ مِنْ وَ شِیْقِ الْحَجِّ، حَتَّی یَکَادَ یَحُوْلُ عَلَیْہِ الْحُوْلُ۔ (مسند احمد: ۱۱۸۲۹)

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم لوگ حج کی ہدی کے جانوروں کے گوشت کے پارچے بنا کر یا گوشت کو کچھ ابال کر سفروں میں زادِ راہ کے طور پر لے جاتے تھے اور قریب ہوتا تھا کہ ان پر پورا سال گزر جائے۔

۔ (۴۶۴۶)۔ عَنْ جَابِرٍ: کُنَّا نَتَزَوَّدُ لُحُوْمَ الْھَدْيِ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَی الْمَدِیْنَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۴۳۷۰)

۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم عہد ِ نبوی میں ہدیوں کا گوشت مدینہ منورہ تک زادِ راہ میں رکھتے تھے۔

۔ (۴۶۴۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اَکَلْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْقَدِیدَ بِالْمَدِیْنَۃِ مِنْ قَدِیْدِ الأضْحٰی۔ (مسند احمد: ۱۴۵۶۳)

۔ (دوسری سند) ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ (مکہ مکرمہ میں کی گئی قربانیوں) کے پارچے مدینہ منورہ میں کھاتے تھے۔