مسنداحمد

Musnad Ahmad

جہاد کے مسائل

اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت

۔ (۴۸۳۳)۔ حَدَّثَنَا سَہْلٌ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ أَمَرَ أَصْحَابَہُ بِالْغَزْوِ، وَأَنَّ رَجُلًا تَخَلَّفَ وَقَالَ لِأَہْلِہِ: أَتَخَلَّفُ حَتّٰی أُصَلِّیَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الظُّہْرَ، ثُمَّ أُسَلِّمَ عَلَیْہِ وَأُوَدِّعَہُ فَیَدْعُوَ لِی بِدَعْوَۃٍ تَکُونُ شَافِعَۃً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، فَلَمَّا صَلَّی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَقْبَلَ الرَّجُلُ مُسَلِّمًا عَلَیْہِ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَتَدْرِی بِکَمْ سَبَقَکَ أَصْحَابُکَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، سَبَقُونِی بِغَدْوَتِہِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ! لَقَدْ سَبَقُوکَ بِأَبْعَدِ مَا بَیْنَ الْمَشْرِقَیْنِ وَالْمَغْرِبَیْنِ فِی الْفَضِیلَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۷۰۷)

۔ سہل اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ کو ایک غزوے کا حکم دیا، ان میں سے ایک آدمی پیچھے رہ گیا اور اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: میرا پیچھے رہنے کا مقصد یہ ہے کہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نمازِ ظہر ادا کر لوں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کہہ کر الوداع کر دوں گا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے حق میں ایسی دعا کر دیں گے، جو قیامت کے دن میرے لیے باعث ِ سفارش ہو گی، پس جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز ادا کی اور وہ آدمی سلام کہتے ہوئے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف متوجہ ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تو جانتا ہو کہ وہ لوگ تجھے سے کتنی سبقت لے جا چکے ہیں۔ اس نے کہا: جی ہاں، وہ صبح کے وقت نکلے ہیں (اور میں اب ظہر کے بعدنکل جاؤں گا)، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ فضیلت و عظمت میں تجھ سے اتنی سبقت لے جا چکے ہیں، جو دونوں مشرقوں اوردونوں مغربوں کی مسافت سے بھی زیادہ ہے۔

۔ (۴۸۳۴)۔ عَنْ سَھْلٍ، عَنْ أَبِیْہٖ، عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : أَنَّ امْرَأَۃً أَتَتْہُ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! انْطَلَقَ زَوْجِی غَازِیًا وَکُنْتُ أَقْتَدِی بِصَلَاتِہِ إِذَا صَلَّی وَبِفِعْلِہِ کُلِّہِ فَأَخْبِرْنِی بِعَمَلٍ یُبْلِغُنِی عَمَلَہُ حَتّٰی یَرْجِعَ، فَقَالَ لَہَا: ((أَتَسْتَطِیعِینَ أَنْ تَقُومِی وَلَا تَقْعُدِی، وَتَصُومِی وَلَا تُفْطِرِی، وَتَذْکُرِی اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَلَا تَفْتُرِی حَتّٰی یَرْجِعَ؟)) قَالَتْ: مَا أُطِیقُ ہَذَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْ طُوِّقْتِیہِ مَا بَلَغْتِ الْعُشْرَ مِنْ عَمَلِہِ حَتّٰی یَرْجِعَ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۷۱۸)

۔ سہل اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک خاتون، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے خاوند جہاد کے لیے روانہ ہو گئے ہیں، جبکہ میں ان کی نماز کی اقتدا کرتے ہوئے نماز پڑھتی تھی اور وہ جو نیک عمل کرتے تھے، میں بھی اس کو سرانجام دیتی تھی، اب آپ مجھے ایسا عمل بتائیں، جو مجھے ان کے عمل کے درجے تک پہنچا دے، یہاں تک کہ وہ لوٹ آئیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو یہ طاقت رکھتی ہے کہ قیام کرتی رہے اور وقفہ نہ کرے، روزے رکھتی رہے اور افطار نہ کرے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتی رہے اور اس میں سستی کا مظاہرہ نہ کرے، یہاں تک کہ تیرا خاوند لوٹ آئے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو اس عمل کی طاقت نہیں رکھتی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تجھے اس کی طاقت ہوتی بھی تو تب بھی تو اپنے خاوند کے عمل کے دسویں حصے تک بھی نہ پہنچ پاتی، یہاں تک وہ لوٹ آئے۔

۔ (۴۸۳۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَبْدَاللّٰہِ بْنَ رَوَاحَۃَ فِی سَرِیَّۃٍ فَوَافَقَ ذٰلِکَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، قَالَ: فَقَدَّمَ أَصْحَابَہُ، وَقَالَ: أَتَخَلَّفُ فَأُصَلِّی مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْجُمُعَۃَ ثُمَّ أَلْحَقُہُمْ، قَالَ: فَلَمَّا رَآہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مَنَعَکَ أَنْ تَغْدُوَ مَعَ أَصْحَابِکَ؟)) قَالَ: فَقَالَ: أَرَدْتُ أَنْ أُصَلِّیَ مَعَکَ الْجُمُعَۃَ ثُمَّ أَلْحَقَہُمْ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِی الْأَرْضِ مَا أَدْرَکْتَ غَدْوَتَہُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۶۶)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدناعبد اللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ایک لشکر میں بھیجا، یہ جمعہ کا دن تھا، انھوں نے اپنے ساتھیوں کو بھیج دیا اور اپنے بارے میں کہا: میں پیچھے رہ جاتا ہوں، تاکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نمازِ جمعہ ادا کر لوں، پھر ان کو جا ملوں گا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو دیکھا تو فرمایا: کس چیز نے تجھے صبح کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ نکل جانے سے روک لیا؟ انھوں نے کہا: جی میرا ارادہ یہ تھا کہ آپ کے ساتھ نمازِ جمعہ ادا کر کے ان کو جا ملوں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زمین میں جو کچھ ہے، اگر تو وہ سارا کچھ خرچ کر دے تو ان کے صبح کو روانہ ہو جانے والے اجر کو نہیں پا سکتا۔

۔ (۴۸۳۶)۔ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ: أَنَّ سَلَمَۃَ بْنَ نُفَیْلٍ أَخْبَرَہُمْ، أَنَّہُ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: إِنِّی سَئِمْتُ الْخَیْلَ وَأَلْقَیْتُ السِّلَاحَ وَوَضَعَتِ الْحَرْبُ أَوْزَارَہَا، قُلْتُ: لَا قِتَالَ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْآنَ جَائَ الْقِتَالُ، لَا تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ أُمَّتِی ظَاہِرِینَ عَلَی النَّاسِ، یَرْفَعُ اللّٰہُ قُلُوبَ أَقْوَامٍ فَیُقَاتِلُونَہُمْ، وَیَرْزُقُہُمْ اللّٰہُ مِنْہُمْ حَتّٰی یَأْتِيَ أَمْرُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ وَھُمْ عَلٰی ذٰلِکَ، أَلَا إِنَّ عُقْرَ دَارِ الْمُؤْمِنِیْنَ الشَّامُ، وَالْخَیْلُ مَعْقُوْدٌ فِيْ نَوَاصِیْھَا الْخَیْرُ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۰۹۰)

۔ سیدنا سلمہ بن نفیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے اور کہا: میں گھوڑے سے اکتا گیا ہوں، اسلحہ پھینک دیا ہے اور جنگ نے اپنے بوجھ رکھ دیئے ہیں اور جہاد ختم ہو گیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب تو قتال شروع ہوا ہے، میری امت کا ایک گروہ لوگوں پر غالب رہے گا، اللہ تعالیٰ لوگوں کے دل ٹیڑھے کرتا رہے گا ، پس یہ ان سے جہاد کرتے رہیں گے، اس طرح اللہ تعالیٰ اُن سے اِن کو رزق دیتا رہے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آ جائے گا اور وہ گروہ اسی حالت میں ہو گا، خبردار! ایمان والوں کا اصل مرکز شام ہو گا اور قیامت کے دن تک گھوڑے کی پیشانی میں خیر رکھ دی گئی ہے۔