TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جہاد کے مسائل - جہاد کے مسائل - Book 77 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 77 of Musnad Ahmad, with 53 chapters and 348 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

348 Hadith · 53 Chapters
جہاد، رباط اور مجاہدین کی فضیلت جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
۔ (۴۷۸۲)۔ عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : أَيُّ الأَ عْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((الإِیْمَانُ بِاللّٰہِ۔)) قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ((اَلْجِھَادُ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔)) قَال: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ((ثُمَّ حَجٌّ مَبْرُوْرٌ۔)) (مسند أحمد: ۷۶۲۹)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ کون سا عمل سب سے زیادہ فضیلت والا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان۔ اس نے کہا: پھر کون سا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا۔ اس نے کہا: پھر کون سا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر حج مبرور ہے۔
Takhreej
(۴۷۸۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۶، ۱۵۱۹، ومسلم: ۸۳(انظر: ۷۶۴۱)
4782
Sahih
جہاد، رباط اور مجاہدین کی فضیلت جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
۔ (۴۷۸۳)۔ عَنْ أَبِيْ ذَرٍّ، قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((إِیْمَانٌ بِاللّٰہِ تَعَالٰی، وَ جِھَادٌ فِيْ سَبِیْلِہِ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۶۵۷)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا عمل افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔
Takhreej
(۴۷۸۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۵۱۸، ومسلم: ۸۴(انظر: ۲۱۳۳۱)
4783
Sahih
جہاد، رباط اور مجاہدین کی فضیلت جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
۔ (۴۷۸۴)۔ عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ، لَوَدِدْتُ أَنْ أُقَاتِلَ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَأُقْتَلَ، ثُمَّ أُحْیَا ثُمَّ أُقْتَلَ، ثُمَّ أُحْیَا ثُمَّ أُقْتَلَ، ثُمَّ أُحْیَا ثُمَّ أُقْتَلَ، وَلَوْ لَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ، مَا تَخَلَّفْتُ خَلْفَ سَرِیَّۃٍ تَخْرُجُ أَوْ تَغْزُو فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، وَ لٰکِنْ لا أَجِدُ سَعَۃً فَأَحْمِلَھُمْ، وَلا یَجِدُوْنَ سَعَۃً فَیَتَّبِعُوْنِيْ، وَلا تَطِیْبُ أَنْفُسُھُمْ أَنْ یَتَخَلَّفُوْا بَعْدِي، أَوْ یَقْعُدُوا بَعْدِيْ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۵۳۰)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی جان ہے! میں چاہتا ہوں کہ اللہ کے راستے میں جہاد کروں پس شہید کیا جاؤں، پھر مجھے زندہ کیا جائے اور پھر شہید کر دیا جائے، پھر زندہ کیا جائے اور پھر شہید کر دیا جائے، پھر زندہ کیا جائے اور پھر شہید کر دیا جائے، اور اگر میں مؤمنوں پر گراں نہ سمجھتا تو میں کسی ایسے لشکر سے پیچھے نہ رہتا جو اللہ تعالیٰ کی راہ میںجہاد کرتا ہے، لیکن میرے پاس اتنی گنجائش نہیں ہے کہ ان کو سواریاں دوں اور ان کے پاس بھی اتنی وسعت نہیں کہ وہ خود تیاری کر کے میرے ساتھ چلیں اور مجھ سے پیچھے رہ جانا بھی ان کے نفسوں کو گوارا نہیں ہے۔
Takhreej
(۴۷۸۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۲۲۶، ومسلم: ۱۸۷۶(انظر: ۱۰۵۲۳)
Explanation
فوائد:… یہ صرف خواہش ہے، مقصد شہادت کی فضیلت بیان کرنا ہے، ورنہ ایسا ہونا ممکن نہیں ہے،کبھی کوئی شہید زندہ نہیں ہوا، شہدائے احد نے اللہ تعالیٰ سے زندگی کی درخواست کی تھی مگر منظور نہیں ہوئی، جیسا کہ صحیح مسلم (۱۸۸۷) میں ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر شخص کا میدانِ جنگ میں جانا ضروری نہیں ہے، بلکہ حالات، وسائل اور ضرورت کا لحاظ رکھا جائے۔
4784
Sahih
جہاد، رباط اور مجاہدین کی فضیلت جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
۔ (۴۷۸۵)۔ عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ حَدَّثَہُ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! عَلِّمْنِيْ عَمَلاً یَعْدِلُ الْجِھَادَ، قَالَ: ((لا أَجِدُہُ۔)) قَالَ: ((ھَلْ تَسْتَطِیْعُ إِذَا خَرَجَ الْمُجَاھِدُ أَنْ تَدْخُلَ مَسْجِدًا فَتَقُوْمَ لا تَفْتُرُ، وَ تَصُوْمَ لا تُفْطِرُ؟)) قَالَ: لا أَسْتَطِیْعُ۔ قَالَ: قَالَ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ: إِنَّ فَرَسَ الْمُجَاھِدِ یَسْتَنُّ فِيْ طِوَلِہِ فَیُکْتَبُ لَہُ حَسَنَاتٍ۔ (مسند أحمد: ۸۵۲۱)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتلائیں جو جہاد کے برابر ہو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں ایسا عمل نہیں پاتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بھلا کیا تو طاقت رکھتا ہے کہ جب مجاہد نکل جائے تو تو مسجد میں داخل ہو جائے اور لگاتار قیام کرتا رہے اور سست نہ پڑے اور لگاتار روزے رکھتا رہے اور کوئی روزہ ترک نہ کرے؟ اس نے کہا: اتنی طاقت تو مجھے نہیں ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جب مجاہد کا گھوڑا اپنے رسی کے احاطے کے اندر اندر چلتا ہے تو اس کے لیے اس کے چلنے کی بھی نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔
Takhreej
(۴۷۸۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۷۸۵(انظر: ۸۵۴۰)
4785
Sahih
جہاد، رباط اور مجاہدین کی فضیلت جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
۔ (۴۷۸۶)۔ عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَخْبِرْنَا بِعَمَلٍ یَعْدِلُ الْجِھَادَ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((لا تُطِْٰیْقُوْنَہُ۔)) مَرَّتَیْنِ، أَوْ ثَلَاثًا، قَالَ: قَالُوْا: أَخْبِرْنَا فَلَعَلَّنَا نُطِیْقُہُ؟ قَالَ: ((مَثَلُ الْمُجَاھِدِ فِيْ سِبِیْلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الْقَانِتِ بِآیَاتِ اللّٰہِ، لا یَفْتُرُ مِنْ صِیَامٍ وَلا صَلاۃٍ، حَتّٰی یَرْجِعَ الْمُجَاھِدُ إِلٰی أَھْلِہِ۔)) (مسند أحمد: ۹۴۷۷)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں ایسے عمل کے بارے میں بتلا دیں جو جہاد کی سبیل اللہ کے برابر ہو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ دو یا تین بار ایسے ہی فرمایا، لوگوں نے کہا: آپ بتلا تو دیں، شاید ہم میں اس کی طاقت ہو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجاہد کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو لگاتار روزہ رکھنے والا ہو اور اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ مسلسل قیام کرنے والا ہو، نہ وہ روزے سے اکتاتا ہو اور نہ نماز سے، یہاں تک کہ مجاہد اپنے گھر والوںکی طرف لوٹ آئے۔
Takhreej
(۴۷۸۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۷۸۷، ومسلم: ۱۸۷۸(انظر: ۹۴۸۱)
Explanation
فوائد:… مسلسل یعنی مجاہد جب سے جہاد کو نکلا، اس وقت سے اس کی واپسی تک کوئی شخص لگاتار روزے اور نماز کی حالت میں رہے، ایک لمحہ بھی سستی نہ کرے، ظاہر ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے، گویا جہاد کے برابر کوئی اور عمل نہیں ہے۔
4786
Sahih
جہاد، رباط اور مجاہدین کی فضیلت جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
۔ (۴۷۸۷)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لِکُلِّ نَبِيٍّ رَھْبَانِیَّۃٌ وَ رَھْبَانِیَّۃُ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ الْجِھَادُ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۸۴۴)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر نبی کی رہبانیت ہے اور اس امت کی رہبانیت جہاد فی سبیل اللہ ہے۔
Takhreej
(۴۷۸۷) تخریج:اسنادہ ضعیف لضعف زید العمی، وقد اعِلّ بالارسال، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۵/ ۲۹۵ (انظر: ۱۳۸۰۷)
Explanation
فوائد:… رہبانیت: دنیا اور علائق دنیا سے منقطع ہو کر کسی جنگل، صحراء میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مگن ہو جانا۔ نصرانیوں نے یہ رسم نکالی تھی، جسے اسلام نے غلط قرار دیا۔
4787
Zaeef
جہاد، رباط اور مجاہدین کی فضیلت جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
۔ (۴۷۸۸)۔ عَنْ أَبِيْ أَیُّوْبَ الأَ نْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((غَدْوَۃٌ فِي سَبِیْلِ اللّٰہِ، أَوْ رَوْحَۃٌ، خَیْرٌ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ وَ غَرَبَتْ)) (مسند أحمد: ۲۳۹۸۴)
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں صبح یا شام کے وقت ایک دفعہ چلنا ان چیزوں سے بہتر ہے، جن پر سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے۔
Takhreej
(۴۷۸۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۸۸۳(انظر: ۲۳۵۸۶)
Explanation
فوائد:… لغت کے لحاظ سے تو سبیل اللہ کا اطلاق ہر نیکی کے کام پر ہونا چاہیے، مگر شرعی اصطلاح لغت سے زیادہ معتبر ہے اور قرآن و حدیث میں فی سبیل اللہ کا لفظ بالعموم جہاد کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
4788
Sahih
جہاد، رباط اور مجاہدین کی فضیلت جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
۔ (۴۷۸۹)۔ عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((غَدْوَۃٌ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، أَوْ رَوْحَۃٌ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَ مَا فِیْھَا۔)) (مسند أحمد: ۱۰۸۹۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں صبح یا شام کے وقت ایک دفعہ چلنا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے۔
Takhreej
(۴۷۸۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۷۹۳، ومسلم: ۱۸۸۲(انظر: ۱۰۸۸۳)
Explanation
فوائد:… جہاد میں جانے کا ثواب باقی رہنے والا ہے اور دنیا کی ہر چیز فانی ہے، لہٰذا فانی اور باقی کا کیا مقابلہ؟
4789
Sahih
جہاد، رباط اور مجاہدین کی فضیلت جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
۔ (۴۷۹۰)۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، أَيُّ الْجِھَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((مَنْ عُقِرَ جَوَادُہُ، وَ أُھْرِیْقَ دَمُہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۲۵۹)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام fنے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دی جائیں اور خود اس کا خون بہا دیا جائے۔
Takhreej
(۴۷۹۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۷۵۶(انظر: ۱۴۲۱۰)
4790
Sahih
جہاد، رباط اور مجاہدین کی فضیلت جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
۔ (۴۷۹۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قَفْلَۃٌ کَغَزْوَۃٍ۔)) (مسند أحمد: ۶۶۲۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہاد سے واپسی بھی جہاد کی طرح ہی ہے۔
Takhreej
(۴۷۹۱) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ أبوداود: ۲۴۸۷(انظر: ۶۶۲۵)
4791
Sahih
جہاد، رباط اور مجاہدین کی فضیلت جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
۔ (۴۷۹۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ: أَنَّ مُکَاتَبًا لَھَا دَخَلَ عَلَیْھَا بِبَقِیَّۃِ مُکَاتَبَیتِہِ، فَقَالَتْ لَہُ: أَنْتَ غَیْرُ دَاخِلٍ عَلَيَّ غَیْرَ مَرَّتِکَ ھٰذِہِ، فَعَلَیْکَ بِالْجِھَادِ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، فَإِنِّيْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَا خَالَطَ قَلْبَ امْرِیٍٔ مُسْلِمٍ رَھَجٌ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ إِلاَّ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ النَّارَ)) (مسند أحمد: ۲۵۰۵۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ ان کا مکاتَب اپنی مکاتبت کا بقیہ حصہ لے کر ان کے پاس آیا، انھوں نے کہا: اب کے بعد تو نے مجھے پر داخل نہیں ہونا، تو جہاد فی سبیل اللہ کو لازم پکڑ، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس مسلمان کے دل کے ساتھ اللہ کے راستے کا غبار ملے گا، اللہ تعالیٰ اس پر آگ کو حرام قرار دے گا۔
Takhreej
(۴۷۹۲) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۴۹۱۹(انظر: ۲۴۵۴۸)
4792
Sahih
جہاد کا واجب ہونا اور اس کی رغبت دلانا
۔ (۴۷۹۳)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَقُوْلُوا: لَا اِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، فَإِذَا قَالُوْھَا عَصَمُوْا مِنِّي بِھَا دِمَائَ ھُمْ وَ أَمْوَالَھُمْ إِلاَّ بِحَقِّھَا، وَحِسَابُھُمْ عَلَی اللّٰہِ، ثُمَّ قَرَأَ: {فَذَکِّرْ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَکِّرٌ لَسْتَ عَلَیْھِمْ بِمُسَیْطِرٍ} [الغاشیۃ: ۲۱،۲۲] (مسند أحمد: ۱۴۲۵۹)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مرو ی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں، یہاں تک کہ وہ لَا اِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ کہہ دیں، پس جب وہ یہ کلمہ کہہ دیں گے تو اپنے خونوں اور مالوں کو مجھ سے بچا لیں گے، مگر ان کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہو گا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیتیں پڑھیں: {فَذَکِّرْ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَکِّرٌ لَسْتَ عَلَیْھِمْ بِمُسَیْطِرٍ}… پس تو نصیحت کر، تو صرف نصیحت کرنے والا ہے ۔تو ہرگز ان پر کوئی مسلط کیا ہوا نہیں ہے۔
Takhreej
(۴۷۹۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۱ (انظر: ۱۴۲۰۹)
4793
Sahih
جہاد کا واجب ہونا اور اس کی رغبت دلانا
۔ (۴۷۹۴)۔ عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((جَاھِدُوْا الْمُشْرِکِیْنَ بِأَمْوَالِکُمْ وَ أَنْفُسِکُمْ وَ أَلْسِنَتِکُمْ)) (مسند أحمد: ۱۲۲۷۱)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے مالوں، جانوں اور زبانوں کے ساتھ مشرکوں سے جہاد کرو۔
Takhreej
(۴۷۹۴) اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ أبوداود: ۲۵۰۴، والنسائی: ۶/ ۷(انظر: ۱۲۲۴۶)
4794
Sahih
جہاد کا واجب ہونا اور اس کی رغبت دلانا
۔ (۴۷۹۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لا ھِجْرَۃَ بَعْدَ الْفَتْحِ، وَلٰکِنْ جِھَادٌ وَ نِیَّۃٌ، وَ إِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوْا۔)) (مسند أحمد: ۳۳۳۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے، البتہ جہاد اور نیت ہے اور جب تم سے نکلنے کا مطالبہ کیا جائے تو تم نکل پڑو۔
Takhreej
(۴۷۹۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۷۸۳، ۲۸۲۵، و مسلم: ص ۱۴۸۸(انظر: ۳۳۳۵)
Explanation
فوائد:… فتح مکہ کے بعد مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا حکم ختم ہو گیا، کیونکہ مکہ مکرمہ خود دار الاسلام بن گیا، البتہ کسی بھی دار الحرب سے دار الاسلام کی طرف ہجرت کا حکم باقی ہے۔
4795
Sahih
جہاد کا واجب ہونا اور اس کی رغبت دلانا
۔ (۴۷۹۶)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْجِھَادُ عَمُوْدُ الإسْلامِ وَ ذُرْوَۃُ سَنَامِہِ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۳۹۷)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جہاد اسلام کا ستون اور اس کے کوہان کی چوٹی ہے۔
Takhreej
(۴۷۹۶) تخریج: اسنادہ ضعیف بھذہ السیاقۃ، عطیۃ بن قیس لم یسمع من معاذ، وابو بکر بن عبد اللہ ضعیف، وقد اخطا فی متنہ وصوابہ الصلاۃ عمود الاسلام، والجھاد ذروۃ سنامہ۔ ، أخرجہ البزار: ۲۶۵۱ (انظر: ۲۲۰۴۷)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ صحیح ہے: ((الصَّلَاۃُ عُمُوْدُ الاِسْلَامِ، وَالْجِھَادُ ذِرْوَۃُ سَنَامِہِ۔‘)) … نماز اسلام کا ستون ہے اور جہاد اس کے کوہان کی چوٹی ہے۔
4796
Zaeef
جہاد کا واجب ہونا اور اس کی رغبت دلانا
۔ (۴۷۹۷)۔ عَنْ أَبِيْ إِسْحَاقَ، قَالَ: قُلْتُ لِلْبَرَائِ: الرَّجُلُ یَحْمِلُ عَلَی الْمُشْرِکِیْنَ أَھُوَ مِمَّنْ أَلْقٰی بِیَدِہِ إِلَی التَّھْلُکَۃِ؟ قَالَ: لا، لأَ نَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ رَسُوْلَہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: {فَقَاتِلْ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لا تُکَلَّفُ إِلاَّ نَفْسَکَ} (النسائ: ۸۴) إِنَّمَا ذَاکَ فِيْ النَّفَقَۃِ۔ (مسند أحمد: ۱۸۶۶۹)
۔ ابو اسحاق کہتے ہیں: میں نے سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: ایک آدمی مشرکوں پر ٹوٹ پڑتا ہے، کیا یہ وہ آدمی ہے جو اپنے ہاتھ کو ہلاکت کی طرف ڈالتا ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو بھیجا اور فرمایا: آپ اللہ کے راستے میں جہاد کریں، آپ کو مکلّف نہیں ٹھہرایا جائے گا، مگر اپنے نفس کا۔ یہ تو مال خرچ کرنے کے بارے میں ہے۔
Takhreej
(۴۷۹۷) سبب نزول الآیۃ صحیح من حدیث حذیفۃ، أخرجہ الحاکم: ۲/ ۲۷۵ (انظر: ۱۸۴۷۷)
Explanation
فوائد:… اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے سے مراد جہاد میں اور دوسرے امورِ خیر میں خرچ نہ کرنا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ} … اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ (سورۂ : ۱۹۵)
4797
Sahih
جہاد کا واجب ہونا اور اس کی رغبت دلانا
۔ (۴۷۹۸)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ مِرْدَاسٍ، قَالَ: أَتَیْتُ الشَّامَ أَتْیَۃً فَإِذَا رَجُلٌ غَلِیْظُ الشَّفَتَیْنِ (أَوْ قَالَ: ضَخْمُ الشَّفَتَیْنِ والأنْفِ) إِذَا بَیْنَ یَدَیْہِ سِلاحٌ فَسَأَلُوْہُ وَھُوَ یَقُوْلُ: ((یَا أَیُّھَا النَّاسُ! خُذُوا مِنْ ھٰذَا السِّلاحِ وَاسْتَصْلِحُوْہُ، وَ جَاھِدُوْا بِہِ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قُلْتُ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالُوْا: بِلالٌ۔ (مسند أحمد: ۲۴۳۹۹)
۔ عمرو بن مرداس سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں شام میں آیا اور وہاں موٹے ہونٹوں اور موٹی ناک والا آدمی دیکھا، اس کے سامنے اسلحہ پڑا ہوا تھا، پس انھوں نے اس سے سوال کیا اور وہ یہ کہہ رہا تھا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے لوگو! یہ اسلحہ لے لو اور اس کو درست کرو اور اس کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرو۔ میں نے کہا: یہ آدمی کون ہے؟ لوگوں نے بتلایا کہ یہ سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں۔
Takhreej
(۴۷۹۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ عمرو بن مرداس، وأبی الورد بن ثمامۃ، أخرجہ (انظر: )
4798
Zaeef
جہاد کا واجب ہونا اور اس کی رغبت دلانا
۔ (۴۷۹۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَلا نَخْرُجُ نُجَاھِدُ مَعَکُمْ؟ قَالَ: ((لَا، جِھَادُکُنَّ الْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ، ھَوَ لَکُنَّ جِھَادٌ)) (مسند أحمد: ۲۴۹۲۶)
۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے ساتھ جہاد کرنے کے لیے نہ نکلیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، تمہارا جہاد حج مبرور ہے، یہی تمہارا جہاد ہے۔
Takhreej
(۴۷۹۹) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ بنحوہ البخاری: ۱۵۲۰، ۲۷۸۴ (انظر: ۲۴۴۲۲)
Explanation
فوائد:… سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر جہاد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((نَعَمْ، عَلَیْھِنَّ جِھَادٌ لَا قِتَالَ فِیْہِ، اَلْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ۔)) … جی ہاں، ان پر جہاد ہے، لیکن اس میں کوئی قتال نہیں ہے اور وہ ہے حج اور عمرہ۔ (سنن ابن ماجہ: ۲۹۰۱)
4799
Sahih
جہاد کا واجب ہونا اور اس کی رغبت دلانا
۔ (۴۸۰۰)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ۔ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَلَیْکُمْ بِالْجِھَادِ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی فَإِنَّہُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ یُذْھِبُ اللّٰہُ بِہِ الْھَمَّ وَالْغَمَّ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۰۹۶)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم جہاد فی سبیل اللہ کا اہتمام کرو، کیونکہ یہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے رنج اور غم ختم کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۴۸۰۰) حسن، أخرجہ الحاکم: ۲/ ۷۴، وعبد الرزاق: ۹۲۷۸، والطبرانی فی الاوسط : ۸۳۳۰ (انظر: ۲۲۷۱۹)
4800
Sahih
اللہ تعالیٰ کی راہ میں رباط اور پہرے کی فضیلت کا بیان
۔ (۴۸۰۱)۔ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ، قَالَ: قَالَ (عُثْمَانُ) بْنُ عَفَّانَ وَ ھُوَ یَخْطُبُ عَلٰی مِنْبَرِہِ: إِنِّيْ مُحَدِّثُکُمْ حَدِیْثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا کَانَ یَمْنَعُنِيْ أَنْ أُحَدِّثَکُمْ إِلاَّ الضِّنُّ عَلَیْکُمْ، وَ إِنِيْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((حَرَسُ لَیْلَۃٍ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ لَیْلَۃٍ یُقَامُ لَیْلُھَا، وَ یُصَامُ نَھَارُھَا۔)) (مسند أحمد: ۴۳۳)
۔ سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ منبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ انھوں نے کہا: میں تم کو ایک حدیث بیان کرنے والا ہوں، میں نے خود وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے، پہلے مجھے وہ حدیث بیان کرنے سے روکنے والی چیز تم پر بخل تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک رات کا پہرہ ہزار راتوں کے قیام اور ان کے دنوں کے روزوں سے افضل ہے۔
Takhreej
(۴۸۰۱) تخریج: حسن، أخرجہ ابن ماجہ: ۲۷۶۶(انظر: ۴۳۳)
Explanation
فوائد:… اس بڑے اجر پر تعجب نہیں ہونا چاہیے، اللہ تعالیٰ کی رحمت وسیع ہے، اس کے خزانے لا متناہی ہیں اور وہ قدر دان بھی ہے، شب ِ قدر کے قیام پر بھی تو ہزار مہینوں سے زیادہ اجر ملتا ہے۔
4801
Sahih

Chapters

53
01
جہاد، رباط اور مجاہدین کی فضیلت جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
11 Hadith
02
جہاد کا واجب ہونا اور اس کی رغبت دلانا
8 Hadith
03
اللہ تعالیٰ کی راہ میں رباط اور پہرے کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
04
اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت
24 Hadith
05
بحری جہاد کرنے والوں کی فضیلت
4 Hadith
06
جہاد میں نیت کو خالص کرنا اور اس میں اجرت لینے کا بیان
12 Hadith
07
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
12 Hadith
08
مجاہدوں کی بیویوں کی حرمت اور مجاہد کے اہل کے معاملے میں خیانت کرنے والے کی وعید کا بیان
4 Hadith
09
شہادت اور شہداء کی فضیلت کے ابواب اللہ تعالیٰ کی راہ میں ملنے والی شہادت کی فضیلت
6 Hadith
10
شہداء کی فضیلت
13 Hadith
11
ایسے شخص کا بیان، جو اللہ کی راہ میں شہید ہو جائے اور اس پر قرضہ بھی ہو
4 Hadith
12
اللہ کے راستہ کے شہداء کی اقسام اور ان کی نیتوں کے اعتبار سے ان کے درجات کا بیان
6 Hadith
13
شہداء کا جامع تذکرہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے علاوہ شہداء کی اقسام کا بیان
18 Hadith
14
اس بات کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شہید کی وفات پائی
2 Hadith
15
اس آدمی کا بیان جو جہاد کا ارادہ کرے اور اس کے والدین زندہ ہوں
7 Hadith
16
اس چیز کا بیان کہ امام لشکر کے سپہ سالاروں سے مشورہ کرے، ان کی خیرخواہی کرے، ان کے ساتھ نرمی برتے اور ان سے ان کی ذمہ داریاں نبھانے کا عہد لے
3 Hadith
17
اس امر کا بیان کہ لشکر والوں پر ان کے امیر کی اطاعت فرض ہے، جب تک وہ ان کو نافرمانی کا حکم نہ دے اور پڑاؤ ڈالتے وقت بکھر جانے کی کراہت کا بیان
6 Hadith
18
قتال سے پہلے اسلام کی دعوت دینے اور امام کا لشکر کے امیر کو وصیت کرنے کا بیان
6 Hadith
19
لڑائی میں دھوکہ دینے، توریہ کرنے، بات کو چھپانے اور جاسوسوں کو بھیجنے کے جواز کا بیان
7 Hadith
20
سرایا اور جیوش کو ترتیب دینے اور جھنڈوں اور ان کے رنگوں کا اہتمام کرنے کا بیان
4 Hadith
21
مجاہد کو الوداع کہنے، اس کا استقبال کرنے اور امام کا اس کو وصیت کرنے کا بیان
12 Hadith
22
مخصوص اوقات میں غزوہ کے لیے روانہ ہونے کے مستحب ہونے، دشمن سے لڑائی شروع کرنے، صفوں کو ترتیب دینے اور مسلمانوں کے شعار کا بیان
10 Hadith
23
جنگ میں فخر کرنے کے مستحب ہونے اور دشمنوں سے مقابلہ کرنے کی تمنا کرنے اور لشکر کی اکثریت سے دھوکہ کھانے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
24
جس کے ہاں اسلام کی علامت موجود ہو، اس پر شب خون مارنے کے وقت رک جانے کا بیان
2 Hadith
25
اسلام کی معرفت ہو جانے کے بعد لڑائی کرنے والے سے رک جانے، اس کو قتل کر دینے کی وعید اور اس کا کلام نہ سمجھنے کی وجہ سے غلطی سے اس کو قتل کر دینے والے کے عذر کا بیان
8 Hadith
26
کافروں پر اچانک حملہ کرنے کا بیان، اگرچہ اس میں ان کے بچے قتل ہو جائیں
5 Hadith
27
عورتوں، بچوں، پادریوں اور انتہائی بوڑھے لوگوں کو بالارادہ قتل کرنے سے روکنے کا بیان
8 Hadith
28
مثلہ، جلانے، درخت کاٹنے اور عمارتیں گرانے سے ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی ضرورت اور مصلحت ہو
9 Hadith
29
لڑائی کے وقت بھاگ جانے کی حرمت کا بیان، الا یہ کہ آدمی نے اپنی جماعت کو ملنا ہو، اگرچہ وہ جماعت دور ہو
3 Hadith
30
فتح والے مقام میں تین دن ٹھہرنے کے مستحب ہونے کا بیان
2 Hadith
31
اس امر کا بیان کہ غنیمت کا حلال ہونانبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کی امت کے خصائص میں سے ہے اور تقسیم سے قبل غنیمت سے متعلقہ احکام کاذکر
9 Hadith
32
جس جس عامل نے میدان جنگ میں اپنی طاقت کے بقدر کام کیا،ان میں برابری کے ساتھ مالِ غنیمت تقسیم کرنے کا بیان
4 Hadith
33
غنیمت کے خُمُس کا اللہ اور اس کے رسول کے لیے فرض ہونے اور اس کی تقسیم کا بیان
9 Hadith
34
غنیمت کے پانچ حصوں میں چار حصوں کی تقسیم، گھوڑ سوار اور پیادہ کا حق اور خاتون اور غلام وغیرہ کو معمولی مقدار میںعطیہ دینا
9 Hadith
35
اس چیز کا بیان کہ سلب قاتل کا ہو گا اور اس میں سے خُمُس نہیں لیا جائے گا
9 Hadith
36
لشکر کے بعض افراد کو اس بنا پر زائد حصہ دینے کا بیان کہ انھوں نے لڑائی لڑی یا مشکلات کو برداشت کیا
2 Hadith
37
لشکر کے سریہ کو زائد حصہ دینے اور پھر ان دونوں کو غنیمت میں شریک کرنے کا بیان
6 Hadith
38
مالِ فے کے مصرف کا بیان
6 Hadith
39
تالیف ِ قلبی کے لیے دینے کا بیان
2 Hadith
40
امیر اور عامل کے تحائف
2 Hadith
41
خیانت کے حرام ہونے اور اس میں سختی کا بیان، نیز خائن کا سامانِ سفر جلانے اور لوٹ مار کا بیان
12 Hadith
42
قیدیوں کے حق میں احسان کرنے، ان سے فدیہ لینے اور ان سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب ہوازن کے وفود پر ان کے قیدیوں کے معاملے میں احسان کرنے کا باب
2 Hadith
43
سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قید اور فدیے اور اس معاملے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ایک معجزے کا بیان
2 Hadith
44
اس آدمی کا بیان جس نے اپنے باپ کے فدیے میں چار ہزار درہم دیئے
3 Hadith
45
سیدہ زینب بنت رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے خاوند سیدنا ابو العاص کا فدیہ
1 Hadith
46
ایک مشرک کے فدیے میں دو مسلمان لینے کا بیان ان قیدیوں کا بیان جنھوں نے اپنے فدیے میں انصاریوں کے بچوں کو کتابت کی تعلیم دی
4 Hadith
47
بدر کے قیدیوں کے فدیے اور اس کی وجہ سے نازل ہونے والے قرآن کا بیان
3 Hadith
48
ان امور سے ممانعت کابیان: احتلام ہونے یا زیر ناف بالوں کے اگنے سے پہلے قیدی کو قتل کرنا، دوسرے کے قیدی کو قتل کرنا، قیدیوں میں والدہ اور اس کی اولاد میں تفریق ڈالنا، حاملہ قیدی خواتین سے جماع کرنا اور قیدی کو باندھ کر مارنا
10 Hadith
49
اس قیدی کا بیان جو قید سے پہلے قبولیت ِ اسلام کا دعوی کر دے، نیز اسلام قبول کرنے والے قیدی کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
50
مسلمان ہونے والے قیدی کا مسلمانوں کی ملکیت میں ہی رہنے کا اور عربوں کو غلام بنانے کے جواز کا بیان
3 Hadith
51
اس چیز کا بیان کہ جاسوس کے ساتھ کیا کیا جائے، وہ مسلمان ہو یا حربی یا ذمی
3 Hadith
52
اس چیز کا بیان کہ جب کافر کا غلام مسلمان ہو کر ہمارے پاس آ جائے تو وہ آزاد ہو گا
4 Hadith
53
اس چیز کا بیان کہ اگر حربی قابو میں آنے سے پہلے مسلمان ہو گیا تو اپنے مال کو بچا لے گا، نیز غنیمت والی زمین کا حکم
6 Hadith
No chapter matched that.