۔ سیدنا عبد اللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے گھر سے راہِ خدا میں جہاد کرنے کے لیے نکلا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی تین انگلیوں یعنی درمیانی انگلی، شہادت والی انگلی اور انگوٹھے سے (اس کی جان، اسلحہ اور گھوڑے کی طرف) اشارہ کیا، اس آدمی نے کہا: اور مجاہدین کہاں ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لیکن وہ آدمی اپنی سواری سے گرا اور فوت ہو گیا، اللہ تعالیٰ پر اس کا اجر ثابت ہو گیا، یا کسی جانور نے اس ڈس لیا، پھر بھی اس کا اجر اللہ تعالیٰ پر ثابت ہو گیا، یا وہ طبعی موت فوت ہو گیا، پھر بھی اس کا اجر اللہ تعالیٰ پر واقع ہو گیا۔ راوی کہتاہے: اللہ کی قسم! یہ ایسا کلمہ ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے میں نے کسی عرب سے نہیں سنا، اور جو مجاہد کسی ضرب کی وجہ سے فوت ہو گیا، اس نے اپنے لیے اچھی پناہ گاہ (یعنی جنت) واجب کر لی۔
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہاد کی دو قسمیں ہیں، (۱) جو آدمی اللہ تعالیٰ کی رضامندی تلاش کرتا ہے، امیر کی اطاعت کرتا ہے، عمدہ مال خرچ کرتا ہے، اپنے ساتھی پر آسانی کرتا ہے اور فساد سے گریز کرتا ہے، ایسے آدمی کا سونا اور جاگنا، غرضیکہ ہر چیز باعث ِ اجر ہے۔ (۲) جس نے فخر اور ریاکاری کرتے ہوئے جہاد کیا، امیر کی نافرمانی کی اور زمین میں فساد برپا کیا، وہ تو برابر سرابر بھی نہیں لوٹے گا۔
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے راہِ خدا میں جہاد کیا، جبکہ اس کی نیت صرف ایک رسی کا حصول تھا تو اس کو وہی کچھ ملے گا، جو اس نے نیت کی ہو گی۔
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک آدمی بہادری کا اظہار کرنے کے لیے، ایک حمیت کی خاطر اور ایک ریاکاری کرنے کے لیے قتال کرتا ہے، ان میں راہِ خدا میں کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس مقصد کے لیے قتال کرے گا کہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو جائے، وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہو گا۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک آدمی جہاد فی سبیل اللہ کا ارادہ کرتا ہے، لیکن وہ بیچ میں دنیا کا ساز و سامان بھی حاصل کرنا چاہتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے کوئی اجر نہیں ہے۔ جب لوگوں پر یہ بات گراں گزری تو انھوں نے اس آدمی سے کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دوبارہ سوال کر، شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیرا سمجھ نہیں پائے، اس نے دوبارہ سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں کہہ رہا ہوں کہ ایک آدمی جہاد فی سبیل اللہ کا ارادہ کرتا ہے، لیکن وہ دنیوی ساز و سامان بھی تلاش کرنا چاہتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے کوئی اجر نہیں ہے۔ اس آدمی تیسری بار سوال دوہرا دیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہی جواب دیتے ہوئے فرمایا: (میں کہہ تو رہا ہوں کہ) اس کے لیے کوئی اجر نہیں ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو جماعت راہِ خدا میں قتال کرتی ہے اور مالِ غنیمت بھی حاصل کر لیتی ہے تو وہ آخرت میں ملنے والے اجر کا دو تہائی وصول کر لینے میںجلدی کر لیتی ہے، ایک تہائی اجر باقی رہ جاتا ہے اور اگر وہ مالِ غنیمت حاصل نہ کر سکیں تو ان کے لیے آخرت کا اجر پورا ہو جاتا ہے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم خیبر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کا دعوی کرنے والے ایک شخص کے بارے میں فرمایا: یہ جہنمی ہے۔ جب ہم نے لڑنا شروع کیا، تو اس شخص نے بڑی سخت لڑائی لڑی اور وہ زخمی بھی ہو گیا، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! جس شخص کے بارے میں آپ نے فرمایا تھا کہ وہ جہنمی ہے، اس نے تو آج بڑی سخت لڑائی لڑی ہے اور اب تو وہ وفات پا چکا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آگ کی طرف گیا ہے۔ قریب تھا کہ اس فرمان کی وجہ سے بعض لوگ شک و شبہ میں پڑ جائیں، بہرحال لوگ اسی حالت میں تھے کہ کسی نے کہا: وہ آدمی ابھی تک مرا نہیںہے، البتہ بڑا سخت زخمی ہو چکا ہے، جب رات ہوئی تو وہ شخص زخم پر صبر نہ کر سکا اور اس نے خود کشی کر لی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے بارے میں بتلایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اَللَّہُ أَکْبَر، میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک میں اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور انھوں نے لوگوں میں یہ اعلان کیا کہ بیشک صورتحال یہ ہے کہ صرف مسلمان جان جنت میں داخل ہو گی، اور اللہ تعالیٰ فاجر آدمی کے ذریعے بھی اس دین کی تائید کر دیتا ہے۔
۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کسی غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک آدمی تھا، اس نے جنگ میں پوری بہادری کا مظاہرہ کیا اور مسلمانوں کو اس کی اس بہادری پر بڑا تعجب ہوا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: خبردار! بیشک وہ آگ والوں میں سے ہے۔ ہم نے کہا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ راہِ خدا میں ہے، بہرحال اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، وہ آدمی نکلا، جب اس کے زخموں میں زیادہ تکلیف ہوئی تو اس نے اپنا سینہ تلوار کی دھار پر رکھا اور پھر اس کو اوپر سے دبایا، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: جس آدمی کے بارے میں آپ نے اس طرح فرمایا تھا، میں نے اس کو دیکھا کہ وہ حرکت کر رہا تھا اور تلوار اس کی ہڈیوں میں پیوست تھی، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ایک آدمی اہل جنت والے عمل کرتا رہتاہے، یہاں تک کہ وہ لوگوں کو ایسے معلوم ہوتا ہے، (کہ وہ جنتی ہے) جبکہ وہ جہنمی لوگوں میں سے ہوتا ہے، اسی طرح ایک آدمی لوگوں کی نظروں کے مطابق جنہمیوں کے عمل کر رہا ہوتا ہے، جبکہ وہ اہل جنت میں سے ہوتا ہے، دراصل اعمال کا دارومدار خاتموں پر ہے۔
۔ سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے مختلف سریوں میں بھیجتے رہتے تھے، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک سریہ میں بھیجا، ایک آدمی میرا سامان مرتّب کرنے اور اس کو اونٹ پر لادنے میں میری مدد کر رہا تھا، میں نے اس سے کہا: تو بھی میرے ساتھ چل، بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک سریہ میں بھیجا ہے، اس نے کہا: میں تو تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا، میں نے کہا: وہ کیوں؟ اس نے کہا: یہاں تکہ کہ تو میرے لیے تین دیناروں کا تعین نہیں کر دے گا، میں نے کہا: میں نے ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو الوداع کہا تھا، اب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف تو نہیں لوٹ سکتا، بہرحال تو ہمارے ساتھ چل اور تجھے تین دینار مل جائیں گے، پس جب میں اپنے غزوے سے واپس لوٹا تو میں نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے اس غزوے میں سے اور اس کی دنیا و آخرت میں سے نہیں ہے، مگر یہی تین دینار۔
۔ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک شہروں کو تم پر فتح کیا جائے گا، پھر (جہاد کے لیے امراء کو) کئی لشکر بھیجنے کی ضرورت پڑے گی، لیکن ایک آدمی اس لشکر میں جانے سے انکار کر دے گا، پھر وہ اپنے قوم سے نکل کر اپنے نفس کو دوسرے قبیلوں پر پیش کرے گا اور کہے گا: میں فلاں فلاں لشکر کے لیے کس کو کفایت کروں، خبردار! یہ شخص اپنے خون کا آخری قطرہ بہنے تک مزدور ہی رہے گا۔
۔ سیدنا رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوہ کیا، وہ کہتے ہیں: ایسے ہوتا تھا کہ ہم میں سے ایک آدمی ملنے والی غنیمت کے نصف پر اونٹنی لے لیتا تھا اور اس میں سے کسی کو تیر کی لکڑی ملتی، کسی کو پھلکا ملتا اور کسی کو پر۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہاد کرنے والے کے لیے اس کا اجر ہے اور اس کو تیار کرنے والے کو اپنا اجر بھی ملے گا اور غازی کا اجر بھی ملے گا۔