TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اس آدمی کا بیان جو جہاد کا ارادہ کرے اور اس کے والدین زندہ ہوں - اس آدمی کا بیان جو جہاد کا ارادہ کرے اور اس کے والدین زندہ ہوں - جہاد کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 15 of جہاد کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 15 of 53 · 7 Hadith
۔ (۴۹۱۸)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: ہَاجَرَ رَجُلٌ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْیَمَنِ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ہَجَرْتَ الشِّرْکَ وَلٰکِنَّہُ الْجِہَادُ، ہَلْ بِالْیَمَنِ أَبَوَاکَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((أَذِنَا لَکَ؟)) قَالَ: لَا، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ارْجِعْ إِلَی أَبَوَیْکَ فَاسْتَأْذِنْہُمَا فَإِنْ فَعَلَا وَإِلَّا فَبَرَّہُمَا۔)) (مسند أحمد: ۱۱۷۴۴)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے یمن سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف ہجرت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: تو نے شرک کو چھوڑ دیا ہے، لیکن اب جہاد باقی ہے، اچھا یہ بتا کہ کیا تیرے والدین یمن میں زندہ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا انھوں نے تجھے اجازت دی ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تو اپنے والدین کی طرف لوٹ جا اور ان سے اجازت طلب کر، اگر انھوں نے اجازت دے دی تو ٹھیک، وگرنہ ان ہی کے ساتھ نیکی کرتے رہنا۔
Takhreej
(۴۹۱۸) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، أخرجہ أبوداود: ۲۵۳۰(انظر: ۱۱۷۲۱)
4918
Sahih
۔ (۴۹۱۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَحْتَ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ، إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ ہٰذَا الشِّعْبِ، فَسَلَّمَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، ثُمَّ قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی قَدْ أَرَدْتُ الْجِہَادَ مَعَکَ أَبْتَغِی بِذٰلِکَ وَجْہَ اللّٰہِ وَالدَّارَ الْآخِرَۃَ، قَالَ: ((ہَلْ مِنْ أَبَوَیْکَ أَحَدٌ حَیٌّ؟)) قَالَ: نَعَمْ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ! کِلَاہُمَا، قَالَ: ((فَارْجِعْ ابْرَرْ أَبَوَیْکَ۔)) (وَفِیْ لَفْظٍ: فَفِیْھِمَا فَجَاھِدْ) قَالَ: فَوَلّٰی رَاجِعًا مِنْ حَیْثُ جَائََ۔ (مسند أحمد: ۶۵۲۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کو اس درخت کے نیچے دیکھا ، اس گھاٹی میں سے ایک آدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام دیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کے ساتھ جہاد کا ارادہ کیا ہے، میں اس عمل کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضامندی اور آخرت کے گھر کو تلاش کرنا چاہتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تیرے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! دونوں زندہ ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تو لوٹ جا اور ان کے ساتھ نیکی کر۔ ایک روایت میں ہے: ان میں جہاد کر۔ پس وہ جہاں سے آیا تھا، اسی جہت کی طرف لوٹ گیا۔
Takhreej
(۴۹۱۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۰۰۴، ۵۹۷۲، ومسلم: ۲۵۴۹(انظر: ۶۵۲۵)
Explanation
فوائد:… والدین میں جہاد کر : اس کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں: (۱)ان کی رضامندی حاصل کرنے کے لیے اور ان کی خواہشات کو اپنی تمناؤں پر ترجیح دینے کے لیے اپنے نفس سے یا شیطان سے جہاد کر۔
4919
Sahih
۔ (۴۹۲۰)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ جَاہِمَۃَ، جَائَ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَرَدْتُ الْغَزْوَ وَجِئْتُکَ أَسْتَشِیرُکَ، فَقَالَ: ((ہَلْ لَکَ مِنْ أُمٍّ؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: ((الْزَمْہَا فَإِنَّ الْجَنَّۃَ عِنْدَ رِجْلِہَا۔)) ثُمَّ الثَّانِیَۃَ ثُمَّ الثَّالِثَۃَ فِی مَقَاعِدَ شَتّٰی کَمِثْلِ ہٰذَا الْقَوْلِ۔ (مسند أحمد: ۱۵۶۲۳)
۔ سیدنا معاویہ بن جاہمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں جہاد کرنا چاہتا ہوں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مشورہ کرنے کے لیے آیا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تیری ماں موجود ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی خدمت میں لگ جا، پس بیشک اس کے پاؤں کے پاس جنت ہے۔ پھر اس نے مختلف مجلسوں میں دوسری بار اور پھر تیسری بار یہی بات دوہرائی۔
Takhreej
(۴۹۲۰) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ النسائی: ۶/۱۱، وابن ماجہ: ۲۷۸۱(انظر: ۱۵۵۳۸)
Explanation
فوائد:… جنت ماں کے پاؤں تلے ہے یہ ایک محاورہ ہے، مقصود یہ ہے کہ اس کی خدمت کرنے سے تجھے جنت ملے گی، پھر اس کی خدمت تیرا فرض بھی ہے، جہاد سے بھی جنت ہی حاصل ہو گی، مگر وہ تجھ پر فرض نہیں، لہذا اپنا فرض ادا کر کے جنت حاصل کر۔ مسلمان کا مقصود اللہ تعالیٰ کی رضامندی کا حصول ہونا چاہیے، شرعی احکام کے مطابق وہ جہاد میں ملے یا اس سے آسان عمل میں ۔
4920
Sahih
۔ (۴۹۲۱)۔ حَدَّثَنَا خُبَیْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ، قَالَ: أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یُرِیدُ غَزْوًا أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ قَوْمِی وَلَمْ نُسْلِمْ، فَقُلْنَا: إِنَّا نَسْتَحْیِی أَنْ یَشْہَدَ قَوْمُنَا مَشْہَدًا لَا نَشْہَدُہُ مَعَہُمْ، قَالَ: ((أَوَ أَسْلَمْتُمَا؟)) قُلْنَا: لَا، قَالَ: ((فَإِنَّا لَا نَسْتَعِینُ بِالْمُشْرِکِینَ عَلَی الْمُشْرِکِینَ۔)) قَالَ: فَأَسْلَمْنَا وَشَہِدْنَا مَعَہُ، فَقَتَلْتُ رَجُلًا، وَضَرَبَنِی ضَرْبَۃً، وَتَزَوَّجْتُ بِابْنَتِہِ بَعْدَ ذٰلِکَ، فَکَانَتْ تَقُولُ: لَا عَدِمْتَ رَجُلًا وَشَّحَکَ ہَذَا الْوِشَاحَ، فَأَقُولُ: لَا عَدِمْتِ رَجُلًا عَجَّلَ أَبَاکِ النَّارَ۔ (مسند أحمد: ۱۵۸۵۵)
۔ سیدنا خبیب بن یساف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور میری قوم کا ایک آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک غزوے کے لیے جانا چاہ رہے تھے، ابھی تک ہم مسلمان نہیں ہوئے تھے، پس ہم نے کہا: بیشک ہم اس چیز سے شرم محسوس کرتے ہیں کہ ہماری قوم ایک لڑائی میں شریک ہو اور ہم ان کے ساتھ شامل نہ ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم مسلمان ہو گئے ہو؟ انھوں نے کہا: نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک ہم مشرکوںکی مخالفت میں مشرکوں سے مدد طلب نہیں کرتے۔ یہ ارشاد سن کر ہم مسلمان ہو گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اس غزوے میں حاضر ہوئے، میں نے ایک آدمی کو قتل کیا اور اس نے بھی مجھے ایک ضرب لگائی تھی، پھر میں نے اس کی بیٹی سے شادی کر لی تھی، وہ کہا کرتی تھی: تو اس آدمی کو گم نہ پائے، جس نے تجھے کندھے اور پہلو کے درمیان ضرب لگائی تھی، اور میں اس کو کہتا تھا: تو اس آدمی کو گم نہ پائے، جس نے تیری باپ کو جلدی جلدی آگ میں بھیج دیا۔
Takhreej
(۴۹۲۱) تخریج: اسنادہ ضعیف دون قولہ: فلا نستعین بالمشرکین علی المشرکین۔ فھو صحیح لغیرہ، عبد الرحمن بن خبیب فی عداد المجھولین، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۲/ ۳۹۴، والطبرانی فی الکبیر : ۴۱۹۶، والحاکم: ۲/ ۱۲۱(انظر: ۱۵۷۶۳)
Explanation
فوائد:… یہ غزوۂ بدر کا واقعہ تھا، سیدنا خبیب اور ان کا ساتھی اوس قبیلے سے تھے، جبکہ اوس قبیلہ کی پوری جماعت مسلمان ہو کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ شریک ِ جہاد تھی، اس لیے انھوں نے اپنی قوم کے ساتھ مل کر لڑنا چاہا، جبکہ یہ ابھی تک کافر تھے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اسلام کے بغیر قبول نہ کیا، پس وہ مسلمان ہو گئے۔ بعض مؤرخین کہتے ہیں کہ سیدنا خبیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جس کافر کو مارا تھا، وہ امیہ بن خلف تھا۔
4921
Zaeef
۔ (۴۹۲۲)۔ عَـنْ عُـرْوَۃَ، عَـنْ عَـائِشَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ إِلَی بَدْرٍ، فَتَبِعَہُ رَجُلٌ مِنْ الْمُشْرِکِینَ، فَلَحِقَہُ عِنْدَ الْجَمْرَۃِ، فَقَالَ: إِنِّی أَرَدْتُ أَنْ أَتْبَعَکَ وَأُصِیبَ مَعَکَ، قَالَ: ((تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِہِ؟)) قَالَ: لَا، قَالَ: ((ارْجِعْ فَلَنْ نَسْتَعِینَ بِمُشْرِکٍ۔)) قَالَ: ثُمَّ لَحِقَہُ عِنْدَ الشَّجَرَۃِ، فَفَرِحَ بِذَاکَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَانَ لَہُ قُوَّۃٌ وَجَلَدٌ، فَقَالَ: جِئْتُ لِأَتْبَعَکَ وَأُصِیبَ مَعَکَ، قَالَ: ((تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَرَسُولِہِ۔)) قَالَ: لَا، قَالَ: ((ارْجِعْ فَلَنْ أَسْتَعِینَ بِمُشْرِکٍ۔)) قَالَ: ثُمَّ لَحِقَہُ حِینَ ظَہَرَ عَلَی الْبَیْدَائِ، فَقَالَ لَہُ مِثْلَ ذٰلِکَ، قَالَ: ((تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَرَسُولِہِ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَخَرَجَ بِہِ۔ (مسند أحمد: ۲۵۶۷۳)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بدر کی طرف نکلے، ایک مشرک آدمی بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے چلا اور جمرہ کے پاس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پا لیا اور اس نے کہا: میں بھی چاہتا ہوں کہ آپ کے ساتھ مل کر لڑوں اور مالِ غنیمت حاصل کروں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تو لوٹ جا، پس بیشک ہم کسی مشرک مدد طلب نہیں کرتے۔ لیکن پھر وہ درخت کے پاس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جا ملا، صحابۂ کرام کو اس سے بڑی خوشی ہوئی، کیونکہ یہ بڑا مضبوط اور سخت آدمی تھا، اس نے کہا: میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مل کر لڑنے اور مالِ غنیمت حاصل کرنے کے لیے آیا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر لوٹ جا، پس بیشک میں ہرگز مشرک سے مدد طلب نہیں کرتا۔ پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیداء مقام پر چڑھے تو وہی آدمی پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو آ ملا اور وہی بات کہی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس اس بار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو لے کر آگے بڑھے۔
Takhreej
(۴۹۲۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۸۱۷(انظر: ۲۵۱۵۸)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہو اکہ مسلمانوں کو جہاد میں مشرکوں سے مدد حاصل نہیں کرنی چاہیے۔
4922
Sahih
۔ (۴۹۲۳)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تَسْتَضِیئُوْا بِنَارِ الْمُشْرِکِینَ، وَلَا تَنْقُشُوا خَوَاتِیمَکُمْ عَرَبِیًّا۔)) (مسند أحمد: ۱۱۹۷۶)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مشرکوں کی آگ سے روشنی حاصل نہ کرو اور اپنی انگوٹھیوں پر عربی نقش نہ بنواؤ۔
Takhreej
(۴۹۲۳) اسنادہ ضعیف لجھالۃ الازھر بن راشد البصری، أخرجہ النسائی: ۸/ ۱۷۶ (انظر: ۱۱۹۵۴)
Explanation
فوائد:… مشرکوں کی آگ سے روشنی حاصل نہ کرنی چاہیے تاکہ مسلمانوں پر ان کا کوئی احسان نہ ہو سکے، جبکہ مسلمان شرف و عزت والے ہیں۔
4923
Zaeef
۔ (۴۹۲۴)۔ عَنْ ذِی مِخْمَرٍ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((سَیُصَالِحُکُمْ الرُّومُ صُلْحًا آمِنًا، ثُمَّ تَغْزُونَ وَہُمْ عَدُوًّا، فَتُنْصَرُونَ وَتَسْلَمُونَ وَتَغْنَمُونَ۔)) الحدیث (مسند أحمد: ۱۶۹۵۰)
۔ صحابی ٔ رسول سیدنا ذی مخمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم عنقریب رومیوں سے امن والی صلح کرو گے، پھر تم اور وہ مل کر ایک دشمن سے لڑو گے، اور تمہاری مدد کی جائے گی اور تم سالم رہو گے اور مالِ غنیمت بھی حاصل کرو گے۔
Takhreej
(۴۹۲۴) حدیث صحیح، أخرجہ أبوداود: ۲۷۶۷، ۴۲۹۲، وابن ماجہ: ۴۰۸۹(انظر: ۱۶۸۲۵)
Explanation
فوائد:… یہ روایت مختصر ہے،مکمل حدیث یوں ہیں:
4924
Sahih

Chapters

53
01
جہاد، رباط اور مجاہدین کی فضیلت جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
11 Hadith
02
جہاد کا واجب ہونا اور اس کی رغبت دلانا
8 Hadith
03
اللہ تعالیٰ کی راہ میں رباط اور پہرے کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
04
اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت
24 Hadith
05
بحری جہاد کرنے والوں کی فضیلت
4 Hadith
06
جہاد میں نیت کو خالص کرنا اور اس میں اجرت لینے کا بیان
12 Hadith
07
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
12 Hadith
08
مجاہدوں کی بیویوں کی حرمت اور مجاہد کے اہل کے معاملے میں خیانت کرنے والے کی وعید کا بیان
4 Hadith
09
شہادت اور شہداء کی فضیلت کے ابواب اللہ تعالیٰ کی راہ میں ملنے والی شہادت کی فضیلت
6 Hadith
10
شہداء کی فضیلت
13 Hadith
11
ایسے شخص کا بیان، جو اللہ کی راہ میں شہید ہو جائے اور اس پر قرضہ بھی ہو
4 Hadith
12
اللہ کے راستہ کے شہداء کی اقسام اور ان کی نیتوں کے اعتبار سے ان کے درجات کا بیان
6 Hadith
13
شہداء کا جامع تذکرہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے علاوہ شہداء کی اقسام کا بیان
18 Hadith
14
اس بات کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شہید کی وفات پائی
2 Hadith
15
اس آدمی کا بیان جو جہاد کا ارادہ کرے اور اس کے والدین زندہ ہوں
7 Hadith
16
اس چیز کا بیان کہ امام لشکر کے سپہ سالاروں سے مشورہ کرے، ان کی خیرخواہی کرے، ان کے ساتھ نرمی برتے اور ان سے ان کی ذمہ داریاں نبھانے کا عہد لے
3 Hadith
17
اس امر کا بیان کہ لشکر والوں پر ان کے امیر کی اطاعت فرض ہے، جب تک وہ ان کو نافرمانی کا حکم نہ دے اور پڑاؤ ڈالتے وقت بکھر جانے کی کراہت کا بیان
6 Hadith
18
قتال سے پہلے اسلام کی دعوت دینے اور امام کا لشکر کے امیر کو وصیت کرنے کا بیان
6 Hadith
19
لڑائی میں دھوکہ دینے، توریہ کرنے، بات کو چھپانے اور جاسوسوں کو بھیجنے کے جواز کا بیان
7 Hadith
20
سرایا اور جیوش کو ترتیب دینے اور جھنڈوں اور ان کے رنگوں کا اہتمام کرنے کا بیان
4 Hadith
21
مجاہد کو الوداع کہنے، اس کا استقبال کرنے اور امام کا اس کو وصیت کرنے کا بیان
12 Hadith
22
مخصوص اوقات میں غزوہ کے لیے روانہ ہونے کے مستحب ہونے، دشمن سے لڑائی شروع کرنے، صفوں کو ترتیب دینے اور مسلمانوں کے شعار کا بیان
10 Hadith
23
جنگ میں فخر کرنے کے مستحب ہونے اور دشمنوں سے مقابلہ کرنے کی تمنا کرنے اور لشکر کی اکثریت سے دھوکہ کھانے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
24
جس کے ہاں اسلام کی علامت موجود ہو، اس پر شب خون مارنے کے وقت رک جانے کا بیان
2 Hadith
25
اسلام کی معرفت ہو جانے کے بعد لڑائی کرنے والے سے رک جانے، اس کو قتل کر دینے کی وعید اور اس کا کلام نہ سمجھنے کی وجہ سے غلطی سے اس کو قتل کر دینے والے کے عذر کا بیان
8 Hadith
26
کافروں پر اچانک حملہ کرنے کا بیان، اگرچہ اس میں ان کے بچے قتل ہو جائیں
5 Hadith
27
عورتوں، بچوں، پادریوں اور انتہائی بوڑھے لوگوں کو بالارادہ قتل کرنے سے روکنے کا بیان
8 Hadith
28
مثلہ، جلانے، درخت کاٹنے اور عمارتیں گرانے سے ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی ضرورت اور مصلحت ہو
9 Hadith
29
لڑائی کے وقت بھاگ جانے کی حرمت کا بیان، الا یہ کہ آدمی نے اپنی جماعت کو ملنا ہو، اگرچہ وہ جماعت دور ہو
3 Hadith
30
فتح والے مقام میں تین دن ٹھہرنے کے مستحب ہونے کا بیان
2 Hadith
31
اس امر کا بیان کہ غنیمت کا حلال ہونانبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کی امت کے خصائص میں سے ہے اور تقسیم سے قبل غنیمت سے متعلقہ احکام کاذکر
9 Hadith
32
جس جس عامل نے میدان جنگ میں اپنی طاقت کے بقدر کام کیا،ان میں برابری کے ساتھ مالِ غنیمت تقسیم کرنے کا بیان
4 Hadith
33
غنیمت کے خُمُس کا اللہ اور اس کے رسول کے لیے فرض ہونے اور اس کی تقسیم کا بیان
9 Hadith
34
غنیمت کے پانچ حصوں میں چار حصوں کی تقسیم، گھوڑ سوار اور پیادہ کا حق اور خاتون اور غلام وغیرہ کو معمولی مقدار میںعطیہ دینا
9 Hadith
35
اس چیز کا بیان کہ سلب قاتل کا ہو گا اور اس میں سے خُمُس نہیں لیا جائے گا
9 Hadith
36
لشکر کے بعض افراد کو اس بنا پر زائد حصہ دینے کا بیان کہ انھوں نے لڑائی لڑی یا مشکلات کو برداشت کیا
2 Hadith
37
لشکر کے سریہ کو زائد حصہ دینے اور پھر ان دونوں کو غنیمت میں شریک کرنے کا بیان
6 Hadith
38
مالِ فے کے مصرف کا بیان
6 Hadith
39
تالیف ِ قلبی کے لیے دینے کا بیان
2 Hadith
40
امیر اور عامل کے تحائف
2 Hadith
41
خیانت کے حرام ہونے اور اس میں سختی کا بیان، نیز خائن کا سامانِ سفر جلانے اور لوٹ مار کا بیان
12 Hadith
42
قیدیوں کے حق میں احسان کرنے، ان سے فدیہ لینے اور ان سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب ہوازن کے وفود پر ان کے قیدیوں کے معاملے میں احسان کرنے کا باب
2 Hadith
43
سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قید اور فدیے اور اس معاملے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ایک معجزے کا بیان
2 Hadith
44
اس آدمی کا بیان جس نے اپنے باپ کے فدیے میں چار ہزار درہم دیئے
3 Hadith
45
سیدہ زینب بنت رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے خاوند سیدنا ابو العاص کا فدیہ
1 Hadith
46
ایک مشرک کے فدیے میں دو مسلمان لینے کا بیان ان قیدیوں کا بیان جنھوں نے اپنے فدیے میں انصاریوں کے بچوں کو کتابت کی تعلیم دی
4 Hadith
47
بدر کے قیدیوں کے فدیے اور اس کی وجہ سے نازل ہونے والے قرآن کا بیان
3 Hadith
48
ان امور سے ممانعت کابیان: احتلام ہونے یا زیر ناف بالوں کے اگنے سے پہلے قیدی کو قتل کرنا، دوسرے کے قیدی کو قتل کرنا، قیدیوں میں والدہ اور اس کی اولاد میں تفریق ڈالنا، حاملہ قیدی خواتین سے جماع کرنا اور قیدی کو باندھ کر مارنا
10 Hadith
49
اس قیدی کا بیان جو قید سے پہلے قبولیت ِ اسلام کا دعوی کر دے، نیز اسلام قبول کرنے والے قیدی کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
50
مسلمان ہونے والے قیدی کا مسلمانوں کی ملکیت میں ہی رہنے کا اور عربوں کو غلام بنانے کے جواز کا بیان
3 Hadith
51
اس چیز کا بیان کہ جاسوس کے ساتھ کیا کیا جائے، وہ مسلمان ہو یا حربی یا ذمی
3 Hadith
52
اس چیز کا بیان کہ جب کافر کا غلام مسلمان ہو کر ہمارے پاس آ جائے تو وہ آزاد ہو گا
4 Hadith
53
اس چیز کا بیان کہ اگر حربی قابو میں آنے سے پہلے مسلمان ہو گیا تو اپنے مال کو بچا لے گا، نیز غنیمت والی زمین کا حکم
6 Hadith
No chapter matched that.