TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قتال سے پہلے اسلام کی دعوت دینے اور امام کا لشکر کے امیر کو وصیت کرنے کا بیان - قتال سے پہلے اسلام کی دعوت دینے اور امام کا لشکر کے امیر کو وصیت کرنے کا بیان - جہاد کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 18 of جہاد کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 18 of 53 · 6 Hadith
۔ (۴۹۳۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَا قَاتَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَوْمًا حَتّٰی یَدْعُوْھُمْ۔ (مسند أحمد: ۲۰۵۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب کسی قوم سے لڑائی کی، پہلے ان کو اسلام کی دعوت دی۔
Takhreej
(۴۹۳۴) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الطبرانی: ۱۱۲۷۱، وابن ابی شیبۃ: ۱۲/ ۳۶۵، وابویعلی: ۲۴۹۴ (انظر: ۲۰۵۳)
4934
Sahih
۔ (۴۹۳۵)۔ عَنْ أَبِی حَازِمٍ، أَخْبَرَنِی سَہْلُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ یَوْمَ خَیْبَرَ: ((لَأُعْطِیَنَّ ہٰذِہِ الرَّایَۃَ غَدًا رَجُلًا یَفْتَحُ اللّٰہُ عَلٰی یَدَیْہِ، یُحِبُّ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ وَیُحِبُّہُ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ۔)) قَالَ: فَبَاتَ النَّاسُ یَدُوکُونَ لَیْلَتَہُمْ أَیُّہُمْ یُعْطَاہَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، کُلُّہُمْ یَرْجُو أَنْ یُعْطَاہَا، فَقَالَ: ((أَیْنَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ؟)) فَقَالَ: ہُوَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! یَشْتَکِی عَیْنَیْہِ، قَالَ: فَأَرْسِلُوا إِلَیْہِ فَأُتِیَ بِہِ، فَبَصَقَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی عَیْنَیْہِ وَدَعَا لَہُ، فَبَرَأَ حَتّٰی کَأَنْ لَمْ یَکُنْ بِہِ وَجَعٌ، فَأَعْطَاہُ الرَّایَۃَ، فَقَالَ عَلِیٌّ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أُقَاتِلُہُمْ حَتّٰی یَکُونُوا مِثْلَنَا، فَقَالَ: ((انْفُذْ عَلٰی رِسْلِکَ حَتّٰی تَنْزِلَ بِسَاحَتِہِمْ، ثُمَّ ادْعُہُمْ إِلَی الْإِسْلَامِ، وَأَخْبِرْہُمْ بِمَا یَجِبُ عَلَیْہِمْ مِنْ حَقِّ اللّٰہِ فِیہِ، فَوَاللّٰہِ لَأَنْ یَہْدِیَ اللّٰہُ بِکَ رَجُلًا وَاحِدًا، خَیْرٌ لَکَ مِنْ أَنْ یَکُونَ لَکَ حُمْرُ النَّعَمِ))(مسند أحمد: ۲۳۲۰۹)
۔ سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خیبر والے دن فرمایا: کل میں ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا کہ اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں پر فتح عطا فرمائے گا، وہ شخص اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ لوگوں نے وہ رات اس حال میں گزاری کہ وہ غور و فکر کرتے رہے کہ کس شخص کو یہ جھنڈا دیا جائے گا، جب صبح ہوئی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے تو ہر ایک کو جھنڈا ملنے کی امید تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: علی بن ابی طالب کہاں ہے؟ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان کی آنکھ خراب ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کی طرف پیغام بھیج کر ان کا بلاؤ۔ پس ان کو لایا گیا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی آنکھوں میں تھوکا اور ان کے لیے دعا کی، وہ یوں شفایاب ہوئے کہ گویا ان کو کوئی تکلیف ہی نہ تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو جھنڈا عطا کر دیا۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ان سے قتال کرتا رہوں گا، یہاں تک کہ وہ ہماری طرح ہو جائیں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سلامتی کے ساتھ چل، یہاں تک کہ ان کے صحن میں جا اتر اور ان کو اسلام کی دعوت دے اور ان کو بتلا کہ اللہ تعالیٰ کا کون سا حق ان پر واجب ہے، اللہ کی قسم ہے! اگر اللہ تعالیٰ نے تیری وجہ سے کسی ایک بندے کو بھی ہدایت دے دی تو وہ تیرے لیے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہو گا۔
Takhreej
(۴۹۳۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۰۰۹، ۴۲۱۰، ومسلم: ۲۴۰۶(انظر: ۲۲۸۲۱)
Explanation
فوائد:… اس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی منقبت کا بیان ہے۔
4935
Sahih
۔ (۴۹۳۶)۔ عَنْ بُرَیْدَۃَ الْاَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا بَعَثَ أَمِیرًا عَلٰی سَرِیَّۃٍ أَوْ جَیْشٍ أَوْصَاہُ فِی خَاصَّۃِ نَفْسِہِ بِتَقْوَی اللّٰہِ، وَمَنْ مَعَہُ مِنْ الْمُسْلِمِینَ خَیْرًا، وَقَالَ: ((اغْزُوا بِسْمِ اللّٰہِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، قَاتِلُوْا مَنْ کَفَرَ بِاللّٰہِ، فَإِذَا لَقِیتَ عَدُوَّکَ مِنَ الْمُشْرِکِینَ فَادْعُہُمْ إِلٰی إِحْدٰی ثَلَاثِ خِصَالٍ أَوْ خِلَالٍ، فَأَیَّتُہُنَّ مَا أَجَابُوکَ إِلَیْہَا فَاقْبَلْ مِنْہُمْ وَکُفَّ عَنْہُمْ، ادْعُہُمْ إِلَی الْإِسْلَامِ فَإِنْ أَجَابُوکَ فَاقْبَلْ مِنْہُمْ، ثُمَّ ادْعُہُمْ إِلَی التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِہِمْ إِلٰی دَارِ الْمُہَاجِرِینَ، وَأَعْلِمْہُمْ إِنْ ہُمْ فَعَلُوا ذٰلِکَ أَنَّ لَہُمْ مَا لِلْمُہَاجِرِینَ، وَأَنَّ عَلَیْہِمْ مَا عَلَی الْمُہَاجِرِینَ، فَإِنْ أَبَوْا وَاخْتَارُوْا دَارَہُمْ، فَأَعْلِمْہُمْ أَنَّہُمْ یَکُونُونَ کَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِینَ، یَجْرِی عَلَیْہِمْ حُکْمُ اللّٰہِ الَّذِی یَجْرِی عَلَی الْمُؤْمِنِینَ، وَلَا یَکُونُ لَہُمْ فِی الْفَیْئِ وَالْغَنِیمَۃِ نَصِیبٌ إِلَّا أَنْ یُجَاہِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِینَ، فَإِنْ ہُمْ أَبَوْا فَادْعُہُمْ إِلٰی إِعْطَائِ الْجِزْیَۃِ، فَإِنْ أَجَابُوا فَاقْبَلْ مِنْہُمْ وَکُفَّ عَنْہُمْ، فَإِنْ أَبَوْا فَاسْتَعِنِ اللّٰہَ ثُمَّ قَاتِلْہُمْ)) وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ: ((وَإِذَا حَاصَرْتَ أَہْلَ حِصْنٍ، فَأَرَادُوکَ أَنْ تَجْعَلَ لَہُمْ ذِمَّۃَ اللّٰہِ وَذِمَّۃَ نَبِیِّکَ، فَلَا تَجْعَلْ لَہُمْ ذِمَّۃَ اللّٰہِ وَلَا ذِمَّۃَ نَبِیِّہِ، وَلٰکِنْ اجْعَلْ لَہُمْ ذِمَّتَکَ وَذِمَّۃَ أَبِیکَ وَذِمَمَ أَصْحَابِکَ، فَإِنَّکُمْ إِنْ تُخْفِرُوْا ذِمَمَکُمْ وَذِمَمَ آبَائِکُمْ أَہْوَنُ مِنْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَّۃَ اللّٰہِ وَذِمَّۃَ رَسُولِہِ، وَإِنْ حَاصَرْتَ أَہْلَ حِصْنٍ، فَأَرَادُوکَ أَنْ تُنْزِلَہُمْ عَلَی حُکْمِ اللّٰہِ، فَلَا تُنْزِلْہُمْ عَلٰی حُکْمِ اللّٰہِ، وَلٰکِنْ أَنْزِلْہُمْ عَلٰی حُکْمِکَ، فَإِنَّکَ لَا تَدْرِی أَتُصِیبُ حُکْمَ اللّٰہِ فِیہِمْ أَمْ لَا۔)) قَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ: ھٰذَا اَوْنَحْوُہٗ۔ (مسند أحمد: ۲۳۴۱۸)
۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب کسی شخص کو چھوٹے یا بڑے لشکر کا امیر بنا کر بھیجتے تو خاص طور پر اس کو اللہ سے ڈرتے اور اس کے ساتھ والے مسلمانوں کو خیر و بھلائی کی نصیحت کرتے اور فرماتے: اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ اس کی راہ میں جہاد کر، اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے والوں سے قتال کر، جب تو اپنے مشرک دشمنوں کے سامنے آئے تو ان کو تین خصلتوں میں سے ایک کی طرف دعوت دے، وہ ان میں سے جس چیز کا مثبت جواب دیں، تو ان سے وہ قبول کر لے اور ان پر حملہ کرنے سے رک جا، سب سے پہلے ان کو اسلام کی دعوت دے، اگر وہ قبول کر لیں تو تو ان سے اس چیز کو قبول کر لے، پھر ان کو دعوت دے کہ وہ اپنے گھروں سے مہاجروں کے گھروں کی طرف ہجرت کریں اور ان کو یہ بتلا کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کو وہ حقوق ملیں گے، جو مہاجرین کو ملے ہوئے ہیں اور ان پر وہ ذمہ داریاں عائد ہوں گی، جو مہاجرین پر ہیں، اگر وہ اس طرح ہجرت کرنے سے انکار کر دیں تو تو ان کو بتلا دے کہ ان کا حکم بدو مسلمانوں کا ہو گا، ان پر اللہ تعالیٰ کا وہی حکم چلے گا، جو اس قسم کے مسلمانوں پر چلتا ہے، ان کے لیے مالِ فے اور مالِ غنیمت میں سے کوئی حصہ نہیں ہو گا، الا یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد کریں، اگر وہ اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیں تو ان کو جزیہ دینے کی دعوت دے، اگر وہ مان جائیں تو تو ان سے یہ جزیہ قبول کر لے اور ان سے رک جا اور اگر وہ جزیہ دینے سے بھی انکار کر دیں تو اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کر اور ان سے قتال شروع کر دے۔ دوسری سند: اسی قسم کا متن مروی ہے، البتہ اس میں ہے: اور جب تو اہل قلعہ کا محاصرہ کر لے اور وہ تجھ سے یہ چاہیں کہ تو ان کو اللہ کا ذمہ اور اپنے نبی کا ذمہ دے، تو تونے ایسے نہیں کرنا، ان کو اللہ اور اس کے نبی کا ذمہ نہیں دینا،ہاں ان کو اپنا، اپنے باپ کا اور اپنے ساتھیوں کا ذمہ دے سکتے ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر تم نے اپنے اور اپنے آباء کے ذموں کو توڑ دیا تو یہ فعل اس سے ہلکا ہو گا کہ تم اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ توڑ دو، اسی طرح اگر تو اہل قلعہ کا محاصرہ کر لے اور وہ یہ ارادہ کریں کہ تو ان کو اللہ کے حکم پر اتارے تو تو نے ان کو اللہ کے حکم پر نہیں اتارنا، بلکہ اپنے حکم پر اتارنا ہے، کیونکہ تو نہیں جانتا کہ تو اللہ تعالیٰ کے حکم کو پا لے گا یا نہیں۔
Takhreej
(۴۹۳۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۷۳۱(انظر: ۲۳۰۳۰)
Explanation
فوائد:… اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ نہ دیا جائے،بلکہ امیر اپنا یا اپنے ساتھیوں کا ذمہ دے۔ ذمہ سے مراد مصالحت کا عقد ہے، یہ عقداللہ اور اس کے رسول کی طرف منسوب کیا جائے یا امیرِ لشکر کی طرف، ہر صورت میں اس کو توڑنا حرام ہے، لیکن اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ توڑنا زیادہ سنگین جرم ہے۔
4936
Sahih
۔ (۴۹۳۷)۔ عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ قَالَ: حَاصَرَ سَلْمَانُ الْفَارِسِیُّ قَصْرًا مِنْ قُصُورِ فَارِسَ، فَقَالَ لَہُ أَصْحَابُہُ: یَا أَبَا عَبْدِ اللّٰہِ! أَلَا تَنْہَدُ إِلَیْہِمْ؟ قَالَ: لَا، حَتّٰی أَدْعُوَہُمْ کَمَا کَانَ یَدْعُوہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَأَتَاہُمْ فَکَلَّمَہُمْ، قَالَ: أَنَا رَجُلٌ فَارِسِیٌّ، وَأَنَا مِنْکُمْ وَالْعَرَبُ یُطِیعُونِی، فَاخْتَارُوا إِحْدٰی ثَلَاثٍ، إِمَّا أَنْ تُسْلِمُوا، وَإِمَّا أَنْ تُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَدٍ وَأَنْتُمْ صَاغِرُونَ غَیْرُ مَحْمُودِینَ، وَإِمَّا أَنْ نُنَابِذَکُمْ فَنُقَاتِلَکُمْ، قَالُوا لَا نُسْلِمُ، وَلَا نُعْطِی الْجِزْیَۃَ، وَلٰکِنَّا نُنَابِذُکُمْ، فَرَجَعَ سَلْمَانُ إِلٰی أَصْحَابِہِ، قَالُوْا: أَلَا تَنْہَدُ إِلَیْہِمْ، قَالَ: لَا، قَالَ: فَدَعَاہُمْ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ فَلَمْ یَقْبَلُوْا فَقَاتَلَہُمْ فَفَتَحَہَا۔ (مسند أحمد: ۲۴۱۴۰)
۔ ابو بختری کہتے ہیں: سیدنا سلمان فارسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فارس کے محلات میں ایک محل کا محاصرہ کر لیا، ان کے ساتھیوں نے ان سے کہا: اے ابو عبد اللہ! کیا تو ان کی طرف کھڑا ہو کر (ان پر حملہ نہیں) کرتا؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، یہاں تک کہ میں ان کو دعوت دے لوں، جیسا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دعوت دیتے تھے، پس وہ ان کے پاس آئے اور ان سے یوں بات کی: میں فارسی آدمی ہوں، میں تم میں سے ہی ہوں، یہ عرب میری اطاعت کرنے والے ہیں، تین امور میں سے ایک کو پسند کر لو، یا اسلام قبول کر لو، یا اپنے ہاتھ سے جزیہ دو، اس حال میں کہ تم ذلیل ہو گے اور تمہیں سراہا نہیں جائے گا، یا پھر ہم تم سے اعلانِ جنگ کر کے قتال شروع کر تے ہیں، انھو ں نے کہا: نہ ہم اسلام قبول کرتے ہیں اور نہ جزیہ دیتے ہیں، بلکہ ہم تم سے اعلانِ جنگ کرتے ہیں، سیدنا سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ آئے، انھوں نے کہا: کیا اب آپ ان کی طرف کھڑے نہیں ہوتے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، پس انھوں نے ان کو تین دن دعوت دی، لیکن انھوں نے قبول نہ کی، پھر انھوں نے ان سے لڑائی شروع کر دی اور اس محل کو فتح کر لیا۔
Takhreej
(۴۹۳۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ بین ابی البختری وبین سلمان، وعطاء بن السائب کان قد اختلط, أخرجہ الترمذی: ۱۵۴۸(انظر: ۲۳۷۳۹)
4937
Zaeef
۔ (۴۹۳۸)۔ عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ، أَنَّ سَلْمَانَ حَاصَرَ قَصْرًا مِنْ قُصُورِ فَارِسَ، فَقَالَ لِأَصْحَابِہِ: دَعُونِی حَتّٰی أَفْعَلَ مَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَفْعَلُ، فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّی امْرُؤٌ مِنْکُمْ، وَإِنَّ اللّٰہَ رَزَقَنِی الْإِسْلَامَ، وَقَدْ تَرَوْنَ طَاعَۃَ الْعَرَبِ، فَإِنْ أَنْتُمْ أَسْلَمْتُمْ وَہَاجَرْتُمْ إِلَیْنَا، فَأَنْتُمْ بِمَنْزِلَتِنَا، یَجْرِی عَلَیْکُمْ مَا یَجْرِی عَلَیْنَا، وَإِنْ أَنْتُمْ أَسْلَمْتُمْ وَأَقَمْتُمْ فِی دِیَارِکُمْ، فَأَنْتُمْ بِمَنْزِلَۃِ الْأَعْرَابِ، یَجْرِی لَکُمْ مَا یَجْرِی لَہُمْ، وَیَجْرِی عَلَیْکُمْ مَا یَجْرِی عَلَیْہِمْ، فَإِنْ أَبَیْتُمْ وَأَقْرَرْتُمْ بِالْجِزْیَۃِ، فَلَکُمْ مَا لِأَہْلِ الْجِزْیَۃِ، وَعَلَیْکُمْ مَا عَلٰی أَہْلِ الْجِزْیَۃِ، عَرَضَ عَلَیْہِمْ ذٰلِکَ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ، ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِہِ: انْہَدُوا إِلَیْہِمْ فَفَتَحَہَا۔ (مسند أحمد: ۲۴۱۳۵)
۔ ابو بختری کہتے ہیں: سیدنا سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فارس کے محلّات میں سے ایک محل کا محاصرہ کر لیا اور اپنے ساتھیوں سے کہا: مجھے چھوڑ دو، تاکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو کچھ کیا تھا، وہ کچھ میں کر لوں، پھر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور کہا: میں تم میں سے ایک آدمی ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام عطا کیا ہے اور تم دیکھ رہے ہو کہ عرب لوگ میری اطاعت میں ہیں، اب اگر تم بھی اسلام قبول کر لو اور ہماری طرف ہجرت کرو تو تم ہمارے قائم مقام ہو گے اور ہمارے والے حقوق اور احکام تم کو مل جائیں گے، اور اگر تم اسلام قبول کر لو، لیکن اپنے علاقے میں ہی ٹھہرے رہو تو تم بدوؤں کے قائمقام ہو گے اور تم کو بدوؤں والے حقوق ملیں گے اور تم پر ذمہ داریاں عائد ہوں گی، جو بدوؤں پر عائد ہوتی ہیں، اور اگر تم اسلام کا انکار کر دو اور جزیہ کا اقرار کر لو تو تم کو وہ حقوق ملیں گے، جو اہل جزیہ کو ملتے ہیں اور تم پر وہ ذمہ داریاں عائد ہوں گی، جو اہل جزیہ پر عائد ہوتی ہیں، انھوں یہ باتیں تین دن ان پر پیش کیں، چونکہ وہ نہ مانے، اس لیے انھوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: اب کھڑے ہو جاؤ اور ان پر حملہ کر دو، پس انھوں نے اس کو فتح کر لیا۔
Takhreej
(۴۹۳۸) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… ہماری طرف ہجرت کرو تو تم ہمارے قائم مقام ہو گے اس سے مراد مال اور مال غنیمت جیسے حقوق ہیں۔
4938
Zaeef
۔ (۴۹۳۹)۔ حَدَّثَنَا یَزِیدُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْن قَالَ: کَتَبْتُ إِلٰی نَافِعٍ أَسْأَلُہُ مَا أَقْعَدَ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ الْغَزْوِ أَوْ عَنِ الْقَوْمِ، إِذَا غَزَوْا بِمَا یَدْعُونَ الْعَدُوَّ قَبْلَ أَنْ یُقَاتِلُوہُمْ، وَہَلْ یَحْمِلُ الرَّجُلُ إِذَا کَانَ فِی الْکَتِیبَۃِ بِغَیْرِ إِذْنِ إِمَامِہِ؟، فَکَتَبَ إِلَیَّ، إِنَّ ابْنَ عُمَرَ قَدْ کَانَ یَغْزُو وَلَدُہُ وَیَحْمِلُ عَلَی الظَّہْرِ، وَکَانَ یَقُولُ: إِنَّ أَفْضَلَ الْعَمَلِ بَعْدَ الصَّلَاۃِ الْجِہَادُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ تَعَالٰی، وَمَا أَقْعَدَ ابْنَ عُمَرَ عَنْ الْغَزْوِ إِلَّا وَصَایَا لِعُمَرَ، وَصِبْیَانٌ صِغَارٌ، وَضَیْعَۃٌ کَثِیرَۃٌ، وَقَدْ أَغَارَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی بَنِی الْمُصْطَلِقِ وَہُمْ غَارُّونَ یَسْقُونَ عَلٰی نَعَمِہِمْ، فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَہُمْ، وَسَبٰی سَبَایَاہُمْ، وَأَصَابَ جُوَیْرِیَۃَ بِنْتَ الْحَارِثِ، قَالَ: فَحَدَّثَنِی بِہٰذَا الْحَدِیثِ ابْنُ عُمَرَ، وَکَانَ فِی ذٰلِکَ الْجَیْشِ، وَإِنَّمَا کَانُوا یُدْعَوْنَ فِی أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، وَأَمَّا الرَّجُلُ فَلَا یَحْمِلُ عَلَی الْکَتِیبَۃِ إِلَّا بِإِذْنِ إِمَامِہِ۔ (مسند أحمد: ۴۸۷۳)
۔ ابن عون کہتے ہیں: میں نے امام نافع سے بذریعہ کتابت یہ سوالات کیے کہ کس چیز نے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو غزوے سے یا جہاد کرنے والے لوگوں سے پیچھے بٹھا دیا ہے، دشمنوں کے ساتھ لڑنے سے پہلے سب سے پہلے ان کو کس چیز کی دعوت دی جائے گی اور کیا آدمی امام کی اجازت کے بغیر کسی لشکر پر حمل کر سکتا ہے؟ انھوں نے تحریری جواب دیتے ہوئے لکھا: سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیٹا جہاد کر رہا ہے اور وہ سواریاں دے رہے ہیں، نیز وہ کہتے ہیں کہ نماز کے بعد سب سے افضل عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے، لیکن سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو غزوے سے پیچھے کر دینے والی سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وصیتیں، چھوٹے بچے اور مالِ کثیر ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بنو مصطلق پر شب خون مارا تھا، جبکہ وہ غافل تھے اور اونٹوں کو پانی پلا رہے تھے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے جنگ جوؤں کو قتل کر دیا اور ان کے باقی افراد کو قیدی بنا لیا، اسی جنگ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ جویریہ بنت ِ حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو بطورِ قیدی حاصل کیا تھا، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے اور وہ اس لشکر میں بھی موجو د تھے، کافروں کو سب سے پہلے اسلام کی دعوت دی جائے گی اور آدمی کو امام کی اجازت کے بغیر لشکر پر حملہ نہیں کرنا چاہیے۔
Takhreej
(۴۹۳۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۵۴۱، ومسلم: ۱۷۳۰(انظر: ۴۸۷۳)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو غزوے سے پیچھے کر دینے والی سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وصیتیں…۔ اس کو اس معنی پر محمول کریں کہ جب تک جہاد کا تعین نہیں ہو گا، وگرنہ یہ نہیں ہو سکتا کہ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جہاد کو ترک کر دیں اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کی نصیحت کریں۔
4939
Sahih

Chapters

53
01
جہاد، رباط اور مجاہدین کی فضیلت جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
11 Hadith
02
جہاد کا واجب ہونا اور اس کی رغبت دلانا
8 Hadith
03
اللہ تعالیٰ کی راہ میں رباط اور پہرے کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
04
اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت
24 Hadith
05
بحری جہاد کرنے والوں کی فضیلت
4 Hadith
06
جہاد میں نیت کو خالص کرنا اور اس میں اجرت لینے کا بیان
12 Hadith
07
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
12 Hadith
08
مجاہدوں کی بیویوں کی حرمت اور مجاہد کے اہل کے معاملے میں خیانت کرنے والے کی وعید کا بیان
4 Hadith
09
شہادت اور شہداء کی فضیلت کے ابواب اللہ تعالیٰ کی راہ میں ملنے والی شہادت کی فضیلت
6 Hadith
10
شہداء کی فضیلت
13 Hadith
11
ایسے شخص کا بیان، جو اللہ کی راہ میں شہید ہو جائے اور اس پر قرضہ بھی ہو
4 Hadith
12
اللہ کے راستہ کے شہداء کی اقسام اور ان کی نیتوں کے اعتبار سے ان کے درجات کا بیان
6 Hadith
13
شہداء کا جامع تذکرہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے علاوہ شہداء کی اقسام کا بیان
18 Hadith
14
اس بات کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شہید کی وفات پائی
2 Hadith
15
اس آدمی کا بیان جو جہاد کا ارادہ کرے اور اس کے والدین زندہ ہوں
7 Hadith
16
اس چیز کا بیان کہ امام لشکر کے سپہ سالاروں سے مشورہ کرے، ان کی خیرخواہی کرے، ان کے ساتھ نرمی برتے اور ان سے ان کی ذمہ داریاں نبھانے کا عہد لے
3 Hadith
17
اس امر کا بیان کہ لشکر والوں پر ان کے امیر کی اطاعت فرض ہے، جب تک وہ ان کو نافرمانی کا حکم نہ دے اور پڑاؤ ڈالتے وقت بکھر جانے کی کراہت کا بیان
6 Hadith
18
قتال سے پہلے اسلام کی دعوت دینے اور امام کا لشکر کے امیر کو وصیت کرنے کا بیان
6 Hadith
19
لڑائی میں دھوکہ دینے، توریہ کرنے، بات کو چھپانے اور جاسوسوں کو بھیجنے کے جواز کا بیان
7 Hadith
20
سرایا اور جیوش کو ترتیب دینے اور جھنڈوں اور ان کے رنگوں کا اہتمام کرنے کا بیان
4 Hadith
21
مجاہد کو الوداع کہنے، اس کا استقبال کرنے اور امام کا اس کو وصیت کرنے کا بیان
12 Hadith
22
مخصوص اوقات میں غزوہ کے لیے روانہ ہونے کے مستحب ہونے، دشمن سے لڑائی شروع کرنے، صفوں کو ترتیب دینے اور مسلمانوں کے شعار کا بیان
10 Hadith
23
جنگ میں فخر کرنے کے مستحب ہونے اور دشمنوں سے مقابلہ کرنے کی تمنا کرنے اور لشکر کی اکثریت سے دھوکہ کھانے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
24
جس کے ہاں اسلام کی علامت موجود ہو، اس پر شب خون مارنے کے وقت رک جانے کا بیان
2 Hadith
25
اسلام کی معرفت ہو جانے کے بعد لڑائی کرنے والے سے رک جانے، اس کو قتل کر دینے کی وعید اور اس کا کلام نہ سمجھنے کی وجہ سے غلطی سے اس کو قتل کر دینے والے کے عذر کا بیان
8 Hadith
26
کافروں پر اچانک حملہ کرنے کا بیان، اگرچہ اس میں ان کے بچے قتل ہو جائیں
5 Hadith
27
عورتوں، بچوں، پادریوں اور انتہائی بوڑھے لوگوں کو بالارادہ قتل کرنے سے روکنے کا بیان
8 Hadith
28
مثلہ، جلانے، درخت کاٹنے اور عمارتیں گرانے سے ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی ضرورت اور مصلحت ہو
9 Hadith
29
لڑائی کے وقت بھاگ جانے کی حرمت کا بیان، الا یہ کہ آدمی نے اپنی جماعت کو ملنا ہو، اگرچہ وہ جماعت دور ہو
3 Hadith
30
فتح والے مقام میں تین دن ٹھہرنے کے مستحب ہونے کا بیان
2 Hadith
31
اس امر کا بیان کہ غنیمت کا حلال ہونانبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کی امت کے خصائص میں سے ہے اور تقسیم سے قبل غنیمت سے متعلقہ احکام کاذکر
9 Hadith
32
جس جس عامل نے میدان جنگ میں اپنی طاقت کے بقدر کام کیا،ان میں برابری کے ساتھ مالِ غنیمت تقسیم کرنے کا بیان
4 Hadith
33
غنیمت کے خُمُس کا اللہ اور اس کے رسول کے لیے فرض ہونے اور اس کی تقسیم کا بیان
9 Hadith
34
غنیمت کے پانچ حصوں میں چار حصوں کی تقسیم، گھوڑ سوار اور پیادہ کا حق اور خاتون اور غلام وغیرہ کو معمولی مقدار میںعطیہ دینا
9 Hadith
35
اس چیز کا بیان کہ سلب قاتل کا ہو گا اور اس میں سے خُمُس نہیں لیا جائے گا
9 Hadith
36
لشکر کے بعض افراد کو اس بنا پر زائد حصہ دینے کا بیان کہ انھوں نے لڑائی لڑی یا مشکلات کو برداشت کیا
2 Hadith
37
لشکر کے سریہ کو زائد حصہ دینے اور پھر ان دونوں کو غنیمت میں شریک کرنے کا بیان
6 Hadith
38
مالِ فے کے مصرف کا بیان
6 Hadith
39
تالیف ِ قلبی کے لیے دینے کا بیان
2 Hadith
40
امیر اور عامل کے تحائف
2 Hadith
41
خیانت کے حرام ہونے اور اس میں سختی کا بیان، نیز خائن کا سامانِ سفر جلانے اور لوٹ مار کا بیان
12 Hadith
42
قیدیوں کے حق میں احسان کرنے، ان سے فدیہ لینے اور ان سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب ہوازن کے وفود پر ان کے قیدیوں کے معاملے میں احسان کرنے کا باب
2 Hadith
43
سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قید اور فدیے اور اس معاملے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ایک معجزے کا بیان
2 Hadith
44
اس آدمی کا بیان جس نے اپنے باپ کے فدیے میں چار ہزار درہم دیئے
3 Hadith
45
سیدہ زینب بنت رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے خاوند سیدنا ابو العاص کا فدیہ
1 Hadith
46
ایک مشرک کے فدیے میں دو مسلمان لینے کا بیان ان قیدیوں کا بیان جنھوں نے اپنے فدیے میں انصاریوں کے بچوں کو کتابت کی تعلیم دی
4 Hadith
47
بدر کے قیدیوں کے فدیے اور اس کی وجہ سے نازل ہونے والے قرآن کا بیان
3 Hadith
48
ان امور سے ممانعت کابیان: احتلام ہونے یا زیر ناف بالوں کے اگنے سے پہلے قیدی کو قتل کرنا، دوسرے کے قیدی کو قتل کرنا، قیدیوں میں والدہ اور اس کی اولاد میں تفریق ڈالنا، حاملہ قیدی خواتین سے جماع کرنا اور قیدی کو باندھ کر مارنا
10 Hadith
49
اس قیدی کا بیان جو قید سے پہلے قبولیت ِ اسلام کا دعوی کر دے، نیز اسلام قبول کرنے والے قیدی کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
50
مسلمان ہونے والے قیدی کا مسلمانوں کی ملکیت میں ہی رہنے کا اور عربوں کو غلام بنانے کے جواز کا بیان
3 Hadith
51
اس چیز کا بیان کہ جاسوس کے ساتھ کیا کیا جائے، وہ مسلمان ہو یا حربی یا ذمی
3 Hadith
52
اس چیز کا بیان کہ جب کافر کا غلام مسلمان ہو کر ہمارے پاس آ جائے تو وہ آزاد ہو گا
4 Hadith
53
اس چیز کا بیان کہ اگر حربی قابو میں آنے سے پہلے مسلمان ہو گیا تو اپنے مال کو بچا لے گا، نیز غنیمت والی زمین کا حکم
6 Hadith
No chapter matched that.