مسنداحمد

Musnad Ahmad

جہاد کے مسائل

مخصوص اوقات میں غزوہ کے لیے روانہ ہونے کے مستحب ہونے، دشمن سے لڑائی شروع کرنے، صفوں کو ترتیب دینے اور مسلمانوں کے شعار کا بیان

۔ (۴۹۶۳)۔ عَنْ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَقَلَّمَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْرُجُ اِذَا اَرَادَ سَفْرًا اِلَّا یَوْمَ الْخَمِیْسِ۔ (مسند أحمد: ۱۵۸۷۳)

۔ سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر کا ارادہ کرتے تو جمعرات کے علاوہ کسی اور دن کم ہی نکلتے تھے۔

۔ (۴۹۶۴)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ یَوْمَ الْخَمِیْسِ فِیْ عَزْوَۃِ تَبُوْکَ۔ (مسند أحمد: ۱۵۸۷۱)

۔ سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غزوۂ تبوک کے موقع پر جمعرات کے دن نکلے تھے۔

۔ (۴۹۶۵)۔ عَنْ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لِاُمَّتِیْ فِیْ بُکُوْرِھَا)) (مسند أحمد: ۱۳۲۰)

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری امت کے دن کے شروع والے اوقات میں برکت فرما۔

۔ (۴۹۶۶)۔ عَنْ صَخْرٍ الْغَامِدِیِّ، عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((اللّٰہُمَّ بَارِکْ لِأُمَّتِی فِی بُکُورِہِمْ)) قَالَ: فَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا بَعَثَ سَرِیَّۃً بَعَثَہَا أَوَّلَ النَّہَارِ، وَکَانَ صَخْرٌ رَجُلًا تَاجِرًا، وَکَانَ لَا یَبْعَثُ غِلْمَانَہُ إِلَّا مِنْ أَوَّلِ النَّہَارِ، فَکَثُرَ مَالُہُ حَتّٰی کَانَ لَا یَدْرِی أَیْنَ یَضَعُ مَالَہُ۔ (مسند أحمد: ۱۵۵۱۷)

۔ سیدنا صخر غامدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری امت کے دن کے شروع والے اوقات میں برکت فرما۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کوئی سریّہ بھیجتے تو اس کو دن کے شروع والے حصے میں بھیجتے۔ سیدنا صخر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خود تاجر آدمی تھے، وہ اپنے لڑکوں کو صرف دن کے شروع میں بھیجا کرتے تھے، پس ان کا مال اتنا زیادہ ہو گیا تھا کہ وہ یہ نہ جان سکتے کہ اپنا مال کہاں رکھیں۔

۔ (۴۹۶۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُحِبُّ اَنْ یَنْھَضَ اِلٰی عَدُوِّہِ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ۔ (مسند أحمد: ۱۹۳۵۴)

۔ سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زوالِ آفتاب کے وقت دشمن سے لڑائی کا آغاز کرنے کو پسند کرتے تھے۔

۔ (۴۹۶۸)۔ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ، أَنَّ عُمَرَ اسْتَعْمَلَ النُّعْمَانَ بْنَ مُقَرِّنٍ، فَذَکَرَ الْحَدِیثَ،قَالَ یَعْنِی النُّعْمَانَ: وَلٰکِنِّی شَہِدْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَکَانَ إِذَا لَمْ یُقَاتِلْ أَوَّلَ النَّہَارِ أَخَّرَ الْقِتَالَ حَتّٰی تَزُولَ الشَّمْسُ، وَتَہُبَّ الرِّیَاحُ، وَیَنْزِلَ النَّصْرُ۔ (مسند أحمد: ۲۴۱۴۵)

۔ سیدنا معقل بن یسار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا نعمان بن مقرن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو عامل بنایا، … پھر باقی حدیث ذکر کی…، سیدنا نعمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: لیکن میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ موجود تھا، اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دن کے شروع میں قتال نہ کرتے تو پھر لڑائی کو مؤخر کر دیتے، یہاں تک کہ سورج ڈھل جاتا، ہوائیں چل پڑتیں اور تائید و نصرت کا نزول شروع ہو جاتا۔

۔ (۴۹۶۹)۔ عَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَفَفْنَا یَوْمَ بَدْرٍ، فَبَدَرَتْ مِنَّا بَادِرَۃٌ اَمَامَ الصَّفِّ، فَنَظَرَ اِلَیْھِمُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَعِیَ مَعِیَ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۹۶۵)

۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے بدر والے دن صفیں بنائیں، کچھ لوگ صف سے آگے بڑھ گئے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو دیکھا اور فرمایا: میرے ساتھ رہو، میرے ساتھ رہو (یعنی آگے نہ بڑھو)۔

۔ (۴۹۷۰)۔ حَدَّثَنَا عُقْبَۃُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ، عَنْ جَدِّ أَبِیہِ الْمُخَارِقِ، قَالَ: لَقِیتُ عَمَّارًا یَوْمَ الْجَمَلِ، وَہُوَ یَبُولُ فِی قَرْنٍ، فَقُلْتُ: أُقَاتِلُ مَعَکَ فَأَکُونُ مَعَکَ، قَالَ: قَاتِلْ تَحْتَ رَایَۃِ قَوْمِکَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَسْتَحِبُّ لِلرَّجُلِ أَنْ یُقَاتِلَ تَحْتَ رَایَۃِ قَوْمِہِ۔ (مسند أحمد: ۱۸۵۰۶)

۔ عقبہ بن مغیرہ اپنے باپ کے دادا مخارق سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں جنگ ِ جمل والے دن سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملا، جبکہ وہ سینگ میں پیشاب کر رہے تھے، میں نے کہا: میں تمہارے ساتھ مل کر لڑنا چاہتا ہوں، تاکہ تمہارے ساتھ رہوں، لیکن انھوں نے کہا: تو اپنی قوم کے جھنڈے کے نیچے رہ کر لڑائی کر، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ پسند کرتے تھے کہ آدمی اپنی قوم کے جھنڈے کے نیچے رہ کر قتال کرے۔

۔ (۴۹۷۱)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّکُمْ سَتَلْقَوْنَ الْعَدُوَّ غَدًا وَاِنَّ شِعَارَکُمْ {ھُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ}۔)) (مسند أحمد: ۱۸۷۴۸)

۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے فرمایا: بیشک تم کل دشمنوں سے ملنے والے ہو، تمہارا شعار یہ ہو گا: {ھُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ}۔

۔ (۴۹۷۲)۔ عَنْ إِیَاسِ بْنِ سَلَمَۃَ بْنِ الْأَکْوَعِ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: کَانَ شِعَارُنَا لَیْلَۃَ بَیَّتْنَا فِی ہَوَازِنَ مَعَ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ، وَأَمَّرَہُ عَلَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، أَمِتْ أَمِتْ، وَقَتَّلْتُ بِیَدَیَّ لَیْلَتَئِذٍ سَبْعَۃً أَہْلَ أَبْیَاتٍ۔ (مسند أحمد: ۱۶۶۱۲)

۔ سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے جس رات کو سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ ہوازن پر حملہ کیا تھا، اس دن ہمارا شعار أَمِتْ أَمِتْ (تو مار دے،، تو مار دے) تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ہمارا امیر بنایا تھا اور میں نے اس دن اپنے ہاتھوں سے سات افراد کو قتل کیا تھا۔