۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ طلوع فجر کے بعد شب خون مارتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کان لگاتے، اگر اذان کی آواز آ جاتی تو رک جاتے، وگرنہ حملہ کر دیتے، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کان لگائے ہوئے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مؤذن کو یہ کہتے ہوئے سنا: اَللَّہُ أَکْبَرُ اللّٰہُ أَکْبَرُ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فطرت پر ہیں۔ پھر جب اس نے کہا: أَشْہَدُ أَنْ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو آگ سے نکل گیا ہے۔
۔ سیدنا عصام مزنی رضی اللہ عنہ ، جو کہ اصحاب ِ رسول میں سے تھے، سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کوئی سریّہ روانہ کرتے تو فرماتے: جب تم مسجد دیکھ لو یا اذان سن لو تو کسی کو قتل نہ کرنا۔ ابن عصام راوی کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا عصام رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک سریّہ میں بھیجا۔