مسنداحمد

Musnad Ahmad

جہاد کے مسائل

جس کے ہاں اسلام کی علامت موجود ہو، اس پر شب خون مارنے کے وقت رک جانے کا بیان

۔ (۴۹۷۸)۔ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُغِیرُ عِنْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ، فَیَسْتَمِعُ فَإِذَا سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَکَ وَإِلَّا أَغَارَ، قَالَ: فَتَسَمَّعَ ذَاتَ یَوْمٍ، قَالَ: فَسَمِعَ رَجُلًا یَقُولُ: اللّٰہُ أَکْبَرُ اللّٰہُ أَکْبَرُ، فَقَالَ: ((عَلَی الْفِطْرَۃِ۔)) فَقَالَ: أَشْہَدُ أَنْ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، فَقَالَ: ((خَرَجْتَ مِنْ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۳۷۶)

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ طلوع فجر کے بعد شب خون مارتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کان لگاتے، اگر اذان کی آواز آ جاتی تو رک جاتے، وگرنہ حملہ کر دیتے، ایک دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کان لگائے ہوئے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مؤذن کو یہ کہتے ہوئے سنا: اَللَّہُ أَکْبَرُ اللّٰہُ أَکْبَرُ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فطرت پر ہیں۔ پھر جب اس نے کہا: أَشْہَدُ أَنْ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو آگ سے نکل گیا ہے۔

۔ (۴۹۷۹)۔ عَنْ عِصَامٍ الْمُزَنِیِّ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا بَعَثَ السَّرِیَّۃَ یَقُولُ: ((إِذَا رَأَیْتُمْ مَسْجِدًا أَوْ سَمِعْتُمْ مُنَادِیًا فَلَا تَقْتُلُوا أَحَدًا۔)) قَالَ ابْنُ عِصَامٍ عَنْ أَبِیہِ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی سَرِیَّۃٍ۔ (مسند أحمد: ۱۵۸۰۵)

۔ سیدنا عصام مزنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ اصحاب ِ رسول میں سے تھے، سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب کوئی سریّہ روانہ کرتے تو فرماتے: جب تم مسجد دیکھ لو یا اذان سن لو تو کسی کو قتل نہ کرنا۔ ابن عصام راوی کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا عصام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایک سریّہ میں بھیجا۔