مسنداحمد

Musnad Ahmad

جہاد کے مسائل

اسلام کی معرفت ہو جانے کے بعد لڑائی کرنے والے سے رک جانے، اس کو قتل کر دینے کی وعید اور اس کا کلام نہ سمجھنے کی وجہ سے غلطی سے اس کو قتل کر دینے والے کے عذر کا بیان

۔ (۴۹۸۰)۔ عَنْ أَبِی الْعَلَائِ، قَالَ: حَدَّثَنِی رَجُلٌ مِنَ الْحَیِّ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍ حَدَّثَہُ: أَنَّ عُبَیْسًا أَوْ ابْنَ عُبَیْسٍ فِی أُنَاسٍ مِنْ بَنِی جُشَمٍ أَتَوْہُ، فَقَالَ لَہُ أَحَدُہُمْ: الَا تُقَاتِلُ حَتّٰی لَا تَکُونَ فِتْنَۃٌ، قَالَ: لَعَلِّی قَدْ قَاتَلْتُ حَتّٰی لَمْ تَکُنْ فِتْنَۃٌ، قَالَ: أَلَا أُحَدِّثُکُمْ مَا قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ وَلَا أُرَاہُ یَنْفَعُکُمْ فَأَنْصِتُوا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اغْزُوا بَنِی فُلَانٍ مَعَ فُلَانٍ۔)) قَالَ: فَصُفَّتِ الرِّجَالُ وَکَانَتِ النِّسَائُ مِنْ وَرَائِ الرِّجَالِ، ثُمَّ لَمَّا رَجَعُوا قَالَ رَجُلٌ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ اسْتَغْفِرْ لِی غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ، قَالَ: ہَلْ أَحْدَثْتَ؟ قَالَ: لَمَّا ہُزِمَ الْقَوْمُ وَجَدْتُ رَجُلًا بَیْنَ الْقَوْمِ وَالنِّسَائِ فَقَالَ: إِنِّی مُسْلِمٌ أَوْ قَالَ أَسْلَمْتُ فَقَتَلْتُہُ، قَالَ: تَعَوُّذًا بِذٰلِکَ حِینَ غَشِیَہُ الرُّمْحُ، قَالَ: ((ہَلْ شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِہِ تَنْظُرُ إِلَیْہِ۔)) فَقَالَ: لَا، وَاللّٰہِ! مَا فَعَلْتُ فَلَمْ یَسْتَغْفِرْ لَہُ أَوْ کَمَا قَالَ، وَقَالَ فِی حَدِیثِہِ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اغْزُوا بَنِی فُلَانٍ مَعَ فُلَانٍ۔)) فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْ لُحْمَتِی مَعَہُمْ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلٰی نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! اسْتَغْفِرْ اللّٰہَ لِی غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ، قَالَ: ((وَہَلْ أَحْدَثْتَ؟)) قَالَ: لَمَّا ہُزِمَ الْقَوْمُ أَدْرَکْتُ رَجُلَیْنِ بَیْنَ الْقَوْمِ وَالنِّسَائِ فَقَالَا: إِنَّا مُسْلِمَانِ أَوْ قَالَا: أَسْلَمْنَا فَقَتَلْتُہُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَمَّا أُقَاتِلُ النَّاسَ إِلَّا عَلَی الْإِسْلَامِ وَاللّٰہِ لَا أَسْتَغْفِرُ لَکَ۔)) أَوْ کَمَا قَالَ، فَمَاتَ بَعْدُ فَدَفَنَتْہُ عَشِیرَتُہُ فَأَصْبَحَ قَدْ نَبَذَتْہُ الْأَرْضُ، ثُمَّ دَفَنُوہُ وَحَرَسُوہُ ثَانِیَۃً فَنَبَذَتْہُ الْأَرْضُ، ثُمَّ قَالُوْا: لَعَلَّ أَحَدًا جَائَ وَأَنْتُمْ نِیَامٌ فَأَخْرَجَہُ، فَدَفَنُوہُ ثَالِثَۃً ثُمَّ حَرَسُوہُ فَنَبَذَتْہُ الْأَرْضُ ثَالِثَۃً، فَلَمَّا رَأَوْا ذٰلِکَ أَلْقَوْہُ أَوْ کَمَا قَالَ۔ (مسند أحمد: ۲۰۱۷۹)

۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ عُبیس یا ابن عُبیس سمیت بنو جشم قبیلے کے کچھ لوگ ان کے پاس آئے اور ان میں ایک آدمی نے ان سے کہا: کیا تم فتنہ دب جانے تک لڑائی نہیں کرتے؟ انھوں نے کہا: شاید میں اس مقصد کے لیے قتال کر چکا ہوں کہ فتنہ نہ رہے، کیا میں تمہیں وہ بات بیان نہ کر دوں، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ارشاد فرمائی ہو؟ اور میرا خیال ہے کہ شایدہ وہ تم کو نفع نہ دے، بہرحال خاموش ہو جاؤ۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے بنو فلاں! تم بنو فلاں سے قتال کرو۔ پس یہ فرمانا ہی تھا کہ مردوں کی صفیں بنا دی گئیں اور ان کے پیچھے ان کی خواتین بھی تھیں، پھر جب وہ لوگ لوٹے تو ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ میرے لیے بخشش طلب کریں، اللہ تعالیٰ آپ کو بھی بخش دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تو نے کوئی نیا کام کر دیا ہے؟ اس نے کہا: جی جب دشمن قوم کو شکست ہو رہی تھی تو میں نے مردوں اور عورتوں کے درمیان ایک آدمی پایا، اس نے کہا: میں مسلمان ہوں، یا میں نے اسلام قبول کر لیا ہے، لیکن میں نے اس کو قتل کر دیا، دراصل جب اس نے نیزوں کی بوچھاڑ دیکھی تو ان سے بچنے کے لیے یہ بات کہی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو نے اس کا دل چاک کر کے اس کو دیکھا تھا؟ اس نے کہا: جی نہیں، اللہ کی قسم! ایسے تو میں نے نہیں کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آدمی کے لیے استغفار نہیں کیا۔ ایک روایت میں ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے بنو فلاں! تم لوگ بنوفلاں سے جہاد کرو۔ میرے رشتہ داروں میں سے ایک آدمی بھی ان کے ساتھ چل پڑا، لیکن جب وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف لوٹا تو اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کریں، اللہ تعالیٰ آپ کو بخشے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تو نے کوئی نیا کام کر دیا ہے؟ اس نے کہا: جب دشمنوں کو شکست ہو گئی تو میں نے مردوں اور عورتوں کے درمیان دو آدمیوں کو پایا، انھوں نے یہ تو کہا کہ وہ مسلمان ہیں یا انھوں نے اسلام قبول کر لیا، لیکن میں نے ان کو قتل کر دیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے لوگوں سے اسلام پر ہی جہاد کرنا ہے، اللہ کی قسم! میں تیرے لیے بخشش طلب نہیں کروں گا۔ بعد میں یہ آدمی فوت ہو گیا اور اس کے رشتہ داروں نے اس کو دفن کیا، لیکن جب صبح ہوئی تو صورتحال یہ تھی کہ زمین نے اس کو باہر پھینک دیا تھا، انھوں نے پھر اس کو دفن کیا اور باقاعدہ اس کا پہرہ دیا، لیکن زمین نے اس کو باہر پھینک دیا، انھوں نے پہرہ داروں سے کہا: شاید کسی آدمی نے آ کر اس کو نکال دیا ہو، جبکہ تم سو رہے ہو، پس انھوں نے تیسری بار اس کو دفن کیا اور پہرہ بھی دیا، لیکن زمین نے اس بار بھی اس کو باہر پھینک دیا، جب انھوں نے یہ صورتحال دیکھی تو اس کو ایسے ہی باہر ڈال دیا۔

۔ (۴۹۸۱)۔ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلَالٍ قَالَ: جَمَعَ بَیْنِی وَبَیْنَ بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ رَجُلٌ فَحَدَّثَنِی عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ مَالِکٍ، أَنَّ سَرِیَّۃً لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَشُوا أَہْلَ مَائٍ صُبْحًا، فَبَرَزَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْمَائِ، فَحَمَلَ عَلَیْہِ رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِینَ، فَقَالَ: إِنِّی مُسْلِمٌ فَقَتَلَہُ، فَلَمَّا قَدِمُوْا أَخْبَرُوا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِذٰلِکَ، فَقَامَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطِیبًا فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ الْمُسْلِمِ؟ یَقْتُلُ الرَّجُلَ وَہُوَ یَقُولُ إِنِّی مُسْلِمٌ۔)) فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّمَا قَالَہَا مُتَعَوِّذًا، فَصَرَفَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَجْہَہُ وَمَدَّ یَدَہُ الْیُمْنٰی (وَفِیْ لَفْظٍ: فَاَقْبَلَ عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَعْرِفُ الْمَسَائَۃَ فِیْ وَجْھِہِ) فَقَالَ: ((أَبَی اللّٰہُ عَلَیَّ مَنْ قَتَلَ مُسْلِمًا۔)) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ۔ (مسند أحمد: ۱۷۱۳۴)

۔ حمید بن ہلال سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے مجھے اور بشر بن عاصم کو جمع کر کے سیدنا عقبہ بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بات بیان کی: رسول للہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ایک سریہ کے لوگ صبح کے وقت پانی والوں کے پاس پہنچے، جب ان میں سے ایک آدمی باہر آیا تو مسلمانوں میں سے ایک شخص نے اس پر حملہ کر دیا، اس نے آگے سے کہا کہ وہ مسلمان ہے، لیکن اس نے اس کو قتل کر دیا، جب یہ لوگ واپس آئے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات بتلائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: أَمَّا بَعْدُ،اس مسلمان کا کیا حال ہو گا، جو ایسے آدمی کو قتل کر دیتا ہے، جویہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ وہ مسلمان ہے۔ اس آدمی نے کہا: جی اس نے یہ بات بچاؤ کی خاطر کہی تھی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا چہرہ پھیر لیا اور اپنا دایاںہاتھ لمبا کیا، ایک روایت میں ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس پر متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تو برائی کو اس کے چہرے میں پہچان لیتا ہے؟ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کسی مسلمان کو قتل کر دیا، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مجھ پر انکار کر دیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ جملہ تین بار ارشاد فرمایا۔

۔ (۴۹۸۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: بَعَثَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ إِلٰی بَنِی أَحْسِبُہُ قَالَ: جَذِیمَۃَ، فَدَعَاہُمْ إِلَی الْإِسْلَامِ، فَلَمْ یُحْسِنُوا أَنْ یَقُولُوْا: أَسْلَمْنَا، فَجَعَلُوا یَقُولُونَ: صَبَأْنَا صَبَأْنَا، وَجَعَلَ خَالِدٌ بِہِمْ أَسْرًا وَقَتْلًا، قَالَ: وَدَفَعَ إِلٰی کُلِّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِیرًا حَتّٰی إِذَا أَصْبَح یَوْمًا أَمَرَ خَالِدٌ أَنْ یَقْتُلَ کُلُّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِیرَہُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَقُلْتُ: وَاللّٰہِ، لَا أَقْتُلُ أَسِیرِی، وَلَا یَقْتُلُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِی أَسِیرَہُ، قَالَ: فَقَدِمُوا عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرُوا لَہُ صَنِیعَ خَالِدٍ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرَفَعَ یَدَیْہِ: ((اللّٰہُمَّ إِنِّی أَبْرَأُ إِلَیْکَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ)) مَرَّتَیْنِ۔ (مسند أحمد: )

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بنو جذِیمہ کی طرف روانہ کیا، انھوں نے اس قبیلے کو اسلام کی دعوت دی، وہ آگے سے اچھے انداز میں یہ نہ کہہ سکے کہ ہم مسلمان ہو گئے ہیں۔ بلکہ انھوں نے أَسْلَمْنَا کے بجائے اس طرح کہنا شروع کر دیا: صَبَأْنَا صَبَأْنَا ۔ اُدھر سے سیدنا خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو قید کرنا اور قتل کرنا

۔ (۴۹۸۳)۔ عَنْ أَبِی وَائِلٍ، عَنْ ابْنِ مُعَیْزٍ السَّعْدِیِّ، قَالَ: خَرَجْتُ أَسْقِی فَرَسًا لِی فِی السَّحَرِ، فَمَرَرْتُ بِمَسْجِدِ بَنِی حَنِیفَۃَ، وَہُمْ یَقُولُونَ إِنَّ مُسَیْلِمَۃَ رَسُولُ اللّٰہِ، فَأَتَیْتُ عَبْدَ اللّٰہِ فَأَخْبَرْتُہُ، فَبَعَثَ الشُّرْطَۃَ فَجَائُ وْا بِہِمْ فَاسْتَتَابَہُمْ فَتَابُوا فَخَلّٰی سَبِیلَہُمْ، وَضَرَبَ عُنُقَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ النَّوَّاحَۃِ، فَقَالُوْا: آخَذْتَ قَوْمًا فِی أَمْرٍ وَاحِدٍ، فَقَتَلْتَ بَعْضَہُمْ وَتَرَکْتَ بَعْضَہُمْ، قَالَ: إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدِمَ عَلَیْہِ ہٰذَا وَابْنُ أُثَالِ بْنِ حَجَرٍ، فَقَالَ: ((أَتَشْہَدَانِ أَنِّی رَسُولُ اللّٰہِ۔)) فَقَالَا: نَشْہَدُ أَنَّ مُسَیْلِمَۃَ رَسُولُ اللّٰہِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَرُسُلِہِ لَوْ کُنْتُ قَاتِلًا وَفْدًا لَقَتَلْتُکُمَا۔)) قَالَ: فَلِذٰلِکَ قَتَلْتُہٗ۔ (مسند أحمد: ۳۸۳۷)

۔ ابن معیز سعدی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سحری کی وقت اپنے گھوڑے کو پانی پلانے کے لیے نکلا، جب میں بنو حنیفہ مسجد کے پاس سے گزرا تو ان کو یہ کہتے ہوئے سنا: بیشک مسیلمہ اللہ کا رسول ہے، میں سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور ان کو اس واقعہ کی خبردی، انھوں نے لشکر کو بھیجا، وہ ان کو پکڑ کر لے آئے، انھوں نے ان سے توبہ کرنے کا مطالبہ کیا اور انھوں نے توبہ کر لی اور انھوں نے ان کو آزاد کر دیا، لیکن عبد اللہ بن نواحہ کا سر قلم کر دیا، انھوں نے کہا: یہ کیا ہوا کہ تم نے ایک قوم کو ایک جرم میں پکڑا، پھر کسی کو قتل کر دیا اور کسی کو چھوڑ دیا، میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھا، یہ آدمی اور ابن اثال بن حجر ،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے کہا: کیا تم دونوں یہ گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ انھوں نے کہا: ہم یہ گواہی دیتے ہیں کہ بیشک مسیلمہ اللہ کا رسول ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ سن کر فرمایا: میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ہوں، اگر میں نے کسی وفد کو قتل کرنا ہوتا تو تم دونوں کو قتل کر دیتا۔ انھوں نے کہا: اسی وجہ سے تو میں نے اس کو قتل کیا ہے۔

۔ (۴۹۸۴)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ حَیْثُ قُتِلَ ابْنُ النَّوَّاحَۃِ: إِنَّ ہٰذَا وَابْنَ أُثَالٍ کَانَا أَتَیَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَسُولَیْنِ لمُسَیْلِمَۃَ الْکَذَّابِ، فَقَالَ لَہُمَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَتَشْہَدَانِ أَنِّی رَسُولُ اللّٰہِ۔)) قَالَا: نَشْہَدُ أَنَّ مُسَیْلِمَۃَ رَسُولُ اللّٰہِ، فَقَالَ: ((لَوْ کُنْتُ قَاتِلًا رَسُولًا لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَکُمَا۔)) قَالَ: فَجَرَتْ سُنَّۃً أَنْ لَا یُقْتَلَ الرَّسُولُ، فَأَمَّا ابْنُ أُثَالٍ فَکَفَانَاہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ، وَأَمَّا ہٰذَا فَلَمْ یَزَلْ ذٰلِکَ فِیہِ حَتّٰی أَمْکَنَ اللّٰہُ مِنْہُ الْآنَ۔ (مسند أحمد: ۳۷۰۸)

۔ (دوسری سند) جب ابن نواحہ کو قتل کیا گیا تو سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا؛ یہ اور ابن اثال دونوں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، یہ دونوں مسیلمہ کذاب کے قاصد تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ انھوں نے کہا: ہم تو یہ شہادت دیتے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میں نے کسی قاصد کو قتل کرنا ہوتا تو میں تم دونوں کی گردنیں قلم کر دیتا۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان سے یہ طریقہ نافذ ہو گیا کہ قاصد کو قتل نہیںکیا جائے گا، رہا مسئلہ ابن اثال کا تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے کفایت کیا ہے اور یہ آدمی، یہ اسی نظرے میں لگا رہا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اب مجھے قدرت دی (اور میں نے اس کو قتل کر دیا)۔

۔ (۴۹۸۵)۔ عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ مُضَرِّبٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ لِابْنِ النَّوَّاحَۃِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَوْلَا أَنَّکَ رَسُولٌ لَقَتَلْتُکَ۔)) فَأَمَّا الْیَوْمَ فَلَسْتَ بِرَسُولٍ یَا خَرَشَۃُ قُمْ فَاضْرِبْ عُنُقَہُ۔ قَالَ: فَقَامَ إِلَیْہِ فَضَرَبَ عُنُقَہُ۔ (مسند أحمد: ۳۶۴۲)

۔ حارثہ بن مضرب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ابن نواحہ سے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ اگر تو قاصد نہ ہوتا تو میں تجھے قتل کر دیتا۔ آج تو قاصد نہیں ہے، خرشہ! اٹھو اور اس کا سر قلم کر دو۔ پس وہ اٹھے اور اس کو قتل کر دیا۔

۔ (۴۹۸۶)۔ عن نُعَیْمِ بْنِ مَسْعُودٍ الْأَشْجَعِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ حِینَ قَرَأَ کِتَابَ مُسَیْلِمَۃَ الْکَذَّابِ، قَالَ لِلرَّسُولَیْنِ: ((فَمَا تَقُولَانِ أَنْتُمَا؟۔)) قَالَا: نَقُولُ کَمَا قَالَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَاللّٰہِ لَوْلَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَکُمَا۔)) (مسند أحمد: ۱۶۰۸۵)

۔ سیدنا نعیم بن مسعود اشجعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسیلمہ کذاب کا خط پڑھا تو اس کے دو قاصدوں سے فرمایا: تم خود کیا کہتے ہو؟ انھوں نے کہا: ہم وہی کہتے ہیں، جو مسیلمہ کہتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر قاصدوں کو قتل نہ کیا جاتا ہوتا، تو میں تم دونوں کی گردنیں اڑا دیتا۔

۔ (۴۹۸۷)۔ عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ أَنَّہُ صَحِبَ قَوْمًا مِنَ الْمُشْرِکِینَ، فَوَجَدَ مِنْہُمْ غَفْلَۃً، فَقَتَلَہُمْ وَأَخَذَ أَمْوَالَہُمْ، فَجَائَ بِہَا إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَأَبٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَقْبَلَہَا۔ (مسند أحمد: ۱۸۳۳۴)

۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ مشرکوں کی ایک قوم کے ساتھی بنے، لیکن جب انھوں نے ان کو غافل پایا تو ان سب کو قتل کر دیا اور ان کا مال لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آگئے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ مال قبول کرنے سے انکار کر دیا۔