مسنداحمد

Musnad Ahmad

جہاد کے مسائل

کافروں پر اچانک حملہ کرنے کا بیان، اگرچہ اس میں ان کے بچے قتل ہو جائیں

۔ (۴۹۸۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَۃَ، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! الدَّارُ مِنْ دُورِ الْمُشْرِکِینَ نُصَبِّحُہَا لِلْغَارَۃِ، فَنُصِیبُ الْوِلْدَانَ تَحْتَ بُطُونِ الْخَیْلِ، وَلَا نَشْعُرُ، فَقَالَ: ((إِنَّہُمْ مِنْہُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۸۰۶)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا صعب بن جثامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! مشرکوں کی بستی ہو اور ہم اس پر صبح کے وقت اچانک حملہ کر دیں اور ان کے بچے گھوڑوں کے نیچے آ کر مارے جائیں، جبکہ ہمیں سمجھ ہی نہ آئے تو (ان بچوں کا قتل کیسا ہو گا)؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک ان کے بچے بھی ان ہی میں سے ہیں۔

۔ (۴۹۸۹)۔ عَنْ سَلْمَۃَ بْنِ الْاَکْوَعِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَیَّتْنَا ھَوَازَنَ مَعَ اَبِیْ بَکْرِنِالصِّدِّیْقِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَکَانَ اَمَّرَہُ عَلَیْنَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسندأحمد:۱۶۶۱۱)

۔ سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قیادت میں ہوازن پر رات کو حملہ کیا تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو ہمارا امیر بنایا تھا۔

۔ (۴۹۹۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قِیْلَ لَہٗ: لَوْ اَنَّ خَیْلًا اَغَارَتْ مِنَ اللَّیْلِ فَاَصَابَتْ مِنْ اَبْنَائِ الْمُشْرِکِیْنَ؟ قَالَ: ((ھُمْ مِنْ آبَائِھِمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۵۳۸)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا صعب بن جثامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ کسی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا: اگر مسلمانوں کا کوئی لشکر رات کو حملہ کر دے اور بیچ میںمشرکوں کے بچے بھی رگڑے جائیں تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ بچے اپنے آباء میں سے ہی ہیں۔

۔ (۴۹۹۱)۔ عَنِ الْمُھْلَبِ بْنِ اَبِیْ صُفْرَۃَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا اَرَاھُمُ اللَّیْلَۃَ اِلَّا سَیُبَیِّتُوْنَکُمْ، فَاِنْ فَعَلُوْا فَشِعَارُکُمْ حم لَا یُنْصَرُوْنَ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۵۹۱)

۔ مہلب بن ابو صفرہ، ایک صحابی ٔ رسول (سیدنا براء بن عازب) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرا خیال یہی ہے کہ وہ لوگ (یعنی ابو سفیان اور اس کی قوم) رات کو تم پر حملہ کر دیں گے، اگر ایسے ہوا تو تمہارا شعار یہ ہو گا: {حم لَا یُنْصَرُوْنَ}۔

۔ (۴۹۹۲)۔ عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ،سُئِلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ اَھْلِ الدَّارِ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ یُبَیِّتُوْنَ فَیُصَابُ مِنْ نِسَائِھِمْ وَذَرَارِیِّھِمْ، فَقَالَ: ((ھُمْ مِنْھُمْ۔)) ثُمَّ یَقُوْلُ الزُّھْرِیُّ: ثُمَّ نَھٰی عَنْ ذٰلِکَ بَعْدُ۔ (مسند أحمد: ۱۶۷۹۰)

۔ سیدنا صعب بن جثامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مشرکوں کے ان گھروںکے بارے میں سوال کیا گیا، جن پر رات کو حملہ کیا جاتا ہے اور اس طرح ان کی عورتیں اور بچے بھی قتل کر دیئے جاتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ بھی ان میں سے ہی ہیں۔ امام زہری کہتے ہیں: لیکن اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کر دیا تھا۔