TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

عورتوں، بچوں، پادریوں اور انتہائی بوڑھے لوگوں کو بالارادہ قتل کرنے سے روکنے کا بیان

Chapter 27 of جہاد کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 27 of 53 · 8 Hadith
۔ (۴۹۹۳)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاٰی فِیْ بَعْضِ مَغَازِیْہِ امْرَاَۃً مَقْتُوْلَۃً فَنَھٰی عَنْ قَتْلِ النِّسَائِ وَالصِّبْیَانِ۔ (مسند أحمد: ۵۴۵۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے بعض غزووں میں ایک عورت کو قتل شدہ پایا اور پھر عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کر دیا۔
Takhreej
(۴۹۹۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۰۱۵، ومسلم: ۱۷۴۴(انظر: ۵۴۵۸)
4993
Sahih
۔ (۴۹۹۴)۔ عَنْ رَبَاحِ بْنِ الرَّبِیعِ أَخِی حَنْظَلَۃَ الْکَاتِبِ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی غَزْوَۃٍ غَزَاہَا، وَعَلَی مُقَدِّمَتِہِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ، فَمَرَّ رَبَاحٌ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی امْرَأَۃٍ مَقْتُولَۃٍ مِمَّا أَصَابَتِ الْمُقَدِّمَۃُ، فَوَقَفُوا یَنْظُرُونَ إِلَیْہَا، وَیَتَعَجَّبُونَ مِنْ خَلْقِہَا حَتّٰی لَحِقَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی رَاحِلَتِہِ، فَانْفَرَجُوْا عَنْہَا، فَوَقَفَ عَلَیْہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: ((مَا کَانَتْ ہٰذِہِ لِتُقَاتِلَ، فَقَالَ لِأَحَدِہِمْ: ((الْحَقْ خَالِدًا فَقُلْ لَہُ لَا تَقْتُلُونَ ذُرِّیَّۃً وَلَا عَسِیفًا۔)) (مسند أحمد: ۱۶۰۸۸)
۔ سیدنا رباح بن ربیع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ حنظلہ کاتب کے بھائی تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں نکلے، لشکر کے مقدمہ پر سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مامور تھے، جب رباح اور دوسرے صحابہ ایک مقتول عورت کے پاس سے گزرے، جس کو مقدمہ نے قتل کیا تھا، تو وہ کھڑے ہو گئے، اس کو دیکھنے لگ گئے اور اس کی جسامت پر تعجب کرنے لگے، یہاں تک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو آملے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی سواری پر سوار تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی اس عورت کے پاس ٹھہر گئے اور فرمایا: یہ تو قتال کرنے والی نہیں تھی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک صحابی سے فرمایا: خالد کو ملو اور اس کو کہو کہ عورت اور بچے اور مزدور کو قتل مت کرو۔
Takhreej
(۴۹۹۴) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ أبوداود: ۲۶۶۹، وابن ماجہ: ۲۸۴۲(انظر: ۱۵۹۹۲)
Explanation
فوائد:… مزدور سے مراد وہ شخص ہے جو چوپائیوں کی حفاظت کے لیے یا اس قسم کے مقصد کے لیے رکھا جائے، اس سے مراد وہ شخص نہیں ہے، جو مزدوری پر لڑنے کے لیے آیا ہو۔
4994
Sahih
۔ (۴۹۹۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَجُلًا اَخَذَ اِمْرَاۃً فَنَازَعَتْہٗ قَائِمَ سَیْفِہِ فَقَتَلَھَا، فَمَرَّ عَلَیْھَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاُخْبِرَ بِاَمْرِھَا فَنَھٰی عَنْ قَتْلِ النِّسَائِ۔ (مسند أحمد: ۲۳۱۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ایک عورت کو بطورِ قیدی لیا، جب اس خاتون نے اس مرد سے اس کی تلوار کا دستہ پکڑ کر تلوار کھینچنا چاہا تو اس نے اس کو قتل کر دیا، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے پاس سے گزرے اور آپ کو بتلایا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عورتوں کوقتل کرنے سے منع کر دیا۔
Takhreej
(۴۹۹۵) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ بنحوہ ابن ابی شیبۃ: ۱۴/ ۴۷۰ (انظر: ۲۳۱۶)
4995
Sahih
۔ (۴۹۹۶)۔ عَنْ اَیُّوْبَ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنَّا یُحَدِّثُ عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ سَرِیَّۃً کُنْتُ فِیْھَا، فَنَھَانَا اَنْ نَقْتُلَ الْعُسَفَائَ وَالْوُصَفَائَ۔ (مسند أحمد: ۱۵۴۹۸)
۔ ایوب راوی کہتے ہیں: میں نے اپنے قبیلے کے آدمی سے سنا، وہ اپنے باپ سے بیان کر رہا تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک سریّہ روانہ کیا، وہ بھی اس میں تھا، پسآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں مزدوروں،غلاموں اور لونڈیوں کو قتل کرنے سے منع کر دیا۔
Takhreej
(۴۹۹۶) تخریج: صحیح، أخرجہ عبد الرزاق: ۹۳۷۹ (انظر: ۱۵۴۲۰)
4996
Sahih
۔ (۴۹۹۷)۔ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِیعٍ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَغَزَوْتُ مَعَہُ، فَأَصَبْتُ ظَہْرًا، فَقَتَلَ النَّاسُ یَوْمَئِذٍ حَتّٰی قَتَلُوا الْوِلْدَانَ، وَقَالَ مَرَّۃً: الذُّرِّیَّۃَ، فَبَلَغَ ذٰلِکَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَا بَالُ أَقْوَامٍ جَاوَزَہُمُ الْقَتْلُ الْیَوْمَ، حَتّٰی قَتَلُوا الذُّرِّیَّۃَ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّمَا ہُمْ أَوْلَادُ الْمُشْرِکِینَ؟ فَقَالَ: ((أَلَا إِنَّ خِیَارَکُمْ أَبْنَائُ الْمُشْرِکِینَ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((أَلَا لَا تَقْتُلُوا ذُرِّیَّۃً أَلَا لَا تَقْتُلُوا ذُرِّیَّۃً۔)) قَالَ: ((کُلُّ نَسَمَۃٍ تُولَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ حَتّٰی یُعْرِبَ عَنْہَا لِسَانُہَا فَأَبَوَاہَا یُہَوِّدَانِہَا وَیُنَصِّرَانِہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۵۶۷۴)
۔ سیدنا اسود بن سریع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مل کرجہاد کیا، مجھے ایک سواری بھی مل گئی، اس دن لوگوں نے قتل کا ایسا سلسلہ قائم کیا کہ بچوں اور عورتوںکو بھی قتل کر دیا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پتہ چلا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، آج قتل تجاوز کر گیا ہے، یہاں تک کہ انھوں نے عورتوں اور بچوں کو بھی قتل کر دیا ہے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ تو مشرکوں کی اولاد ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! تم میں سے پسندیدہ افراد بھی مشرکوں کی ہی اولاد ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! تم بچوں اور عورتوں کو قتل مت کرو، خبردار! تم بچوں اور عورتوں کو قتل نہ کرو۔ پھر فرمایا: ہر جان فطرت پر پیدا ہوتی ہے، یہاں تک کہ اس کی اپنی زبان وضاحت کرنے لگ جائے اور اس کے والدین اس کو یہودی یا نصرانی بنا دیں۔
Takhreej
(۴۹۹۷) تخریج: رجالہ ثقات رجال الشیخین لکن سماع الحسن من الاسود لا یثبت عند بعضھم، أخرجہ النسائی فی الکبری : ۸۶۱۶، والدارمی: ۲/ ۲۲۳(انظر: ۱۵۵۸۹)
Explanation
فوائد:… تم میں سے پسندیدہ افراد بھی مشرکوں کی ہی اولاد ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کامقصد یہ ہے کہ جلیل القدر صحابۂ کرام بھی تو مشرکوں کی اولاد ہیں، دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس آدمی کے فہم کا ردّ کر رہے ہیں۔
4997
Sahih
۔ (۴۹۹۸)۔ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِیعٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعَثَ سَرِیَّۃً یَوْمَ حُنَیْنٍ، فَقَاتَلُوا الْمُشْرِکِینَ، فَأَفْضٰی بِہِمْ الْقَتْلُ إِلَی الذُّرِّیَّۃِ، فَلَمَّا جَائُ وْا، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا حَمَلَکُمْ عَلٰی قَتْلِ الذُّرِّیَّۃِ؟)) قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّمَا کَانُوا أَوْلَادَ الْمُشْرِکِینَ؟ قَالَ: ((أَوَہَلْ خِیَارُکُمْ إِلَّا أَوْلَادُ الْمُشْرِکِینَ، وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ مَا مِنْ نَسَمَۃٍ تُولَدُ إِلَّا عَلَی الْفِطْرَۃِ حَتّٰی یُعْرِبَ عَنْہَا لِسَانُہَا)) (مسند أحمد: ۱۵۶۷۳)
۔ سیدنا اسود بن سریع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حنین والے دن ایک سریّہ بھیجا، اس نے مشرکوں سے قتال کیا اور اس میں قتل کا سلسلہ بچوں اور عورتوں تک جا پہنچا، جب وہ واپس آئے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کو بچے اور عورتیں قتل کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ تو مشرکوںکی اولاد ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے پسندیدہ افراد بھی تو مشرکوں کی ہی اولاد ہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جان ہے! ہر جان فطرت ِ اسلام پر پیدا ہوتی ہے، یہاں تک کہ اس کی زبان اس کی طرف سے وضاحت کر دے۔
Takhreej
(۴۹۹۸) تخریج: رجالہ ثقات رجال الشیخین لکن سماع الحسن من الاسود لا یثبت عند بعضھم، أخرجہ النسائی فی الکبری : ۸۶۱۶، والحاکم: ۲/۱۲۳(انظر: ۱۵۵۸۸)
4998
Sahih
۔ (۴۹۹۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا بَعَثَ جُیُوشَہُ، قَالَ: ((اخْرُجُوا بِسْمِ اللّٰہِ، تُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ مَنْ کَفَرَ بِاللّٰہِ، لَا تَغْدِرُوْا، وَلَا تَغُلُّوْا، وَلَا تُمَثِّلُوْا، وَلَا تَقْتُلُوا الْوِلْدَانَ، وَلَا أَصْحَابَ الصَّوَامِعِ)) (مسند أحمد: ۲۷۲۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب اپنے لشکروں کو روانہ کرتے تو فرماتے: اللہ کے نام کے ساتھ نکلو، اللہ تعالیٰ کی راہ میں اس کے ساتھ کفر کرنے والوں سے قتال کرو، نہ دھوکہ کرو، نہ خیانت کرو، نہ مثلہ کرو، نہ بچوں کو قتل کرو اور نہ گرجا گھروالوں کو۔ ‘
Takhreej
(۴۹۹۹) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ البزار: ۱۶۷۷، والطبرانی: ۱۱۵۶۲، والبیھقی: ۹/ ۹۰، وابویعلی: ۲۶۵۰(انظر: ۲۷۲۸)
4999
Sahih
۔ (۵۰۰۰)۔ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اقْتُلُوا شُیُوخَ الْمُشْرِکِینَ، وَاسْتَحْیُوا شَرْخَہُمْ۔)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: سَأَلْتُ أَبِی عَنْ تَفْسِیرِ ہٰذَا الْحَدِیثِ: اقْتُلُوا شُیُوخَ الْمُشْرِکِینَ، قَالَ: یَقُولُ الشَّیْخُ: لَا یَکَادُ أَنْ یُسْلِمَ وَالشَّابُّ أَیْ یُسْلِمُ کَأَنَّہُ أَقْرَبُ إِلَی الْإِسْلَامِ مِنْ الشَّیْخِ، قَالَ: الشَّرْخُ الشَّبَابُ۔ (مسند أحمد: ۲۰۴۰۷)
۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم مشرکوں کے بہادری اور جنگ والے قوی افراد کو قتل کرو اور نابالغ بچوں کو چھوڑ دو۔ عبد اللہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ امام احمد i سے اس کی حدیث اُقْتُلُوا شُیُوخَ الْمُشْرِکِینَ کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: شیخ کا مسئلہ یہ ہے کہ قریب نہیں ہوتا ہے کہ وہ مسلمان ہو جائے، جبکہ لڑکا، شیخ کی بہ نسبت اسلام قبول کرنے کے قریب ہوتا ہے۔ اَلشَّرْح سے مراد لڑکے ہیں۔
Takhreej
(۵۰۰۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، أخرجہ ابوداود: ۲۶۷۰، والترمذی: ۱۵۸۳(انظر: ۲۰۱۴۵)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں شُیُوْخ سے مراد وہ لوگ ہیں، جن کی عمر چالیس برس ہوچکی ہو، یعنی مضبوط جنگ جو مرد، ان سے مراد وہ عمر رسیدہ بوڑھے نہیں ہیں، جن میں قوت اور رائے کی صلاحت ختم ہو جاتی ہے۔
5000
Zaeef

Chapters

53
01
جہاد، رباط اور مجاہدین کی فضیلت جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
11 Hadith
02
جہاد کا واجب ہونا اور اس کی رغبت دلانا
8 Hadith
03
اللہ تعالیٰ کی راہ میں رباط اور پہرے کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
04
اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت
24 Hadith
05
بحری جہاد کرنے والوں کی فضیلت
4 Hadith
06
جہاد میں نیت کو خالص کرنا اور اس میں اجرت لینے کا بیان
12 Hadith
07
مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
12 Hadith
08
مجاہدوں کی بیویوں کی حرمت اور مجاہد کے اہل کے معاملے میں خیانت کرنے والے کی وعید کا بیان
4 Hadith
09
شہادت اور شہداء کی فضیلت کے ابواب اللہ تعالیٰ کی راہ میں ملنے والی شہادت کی فضیلت
6 Hadith
10
شہداء کی فضیلت
13 Hadith
11
ایسے شخص کا بیان، جو اللہ کی راہ میں شہید ہو جائے اور اس پر قرضہ بھی ہو
4 Hadith
12
اللہ کے راستہ کے شہداء کی اقسام اور ان کی نیتوں کے اعتبار سے ان کے درجات کا بیان
6 Hadith
13
شہداء کا جامع تذکرہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے علاوہ شہداء کی اقسام کا بیان
18 Hadith
14
اس بات کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شہید کی وفات پائی
2 Hadith
15
اس آدمی کا بیان جو جہاد کا ارادہ کرے اور اس کے والدین زندہ ہوں
7 Hadith
16
اس چیز کا بیان کہ امام لشکر کے سپہ سالاروں سے مشورہ کرے، ان کی خیرخواہی کرے، ان کے ساتھ نرمی برتے اور ان سے ان کی ذمہ داریاں نبھانے کا عہد لے
3 Hadith
17
اس امر کا بیان کہ لشکر والوں پر ان کے امیر کی اطاعت فرض ہے، جب تک وہ ان کو نافرمانی کا حکم نہ دے اور پڑاؤ ڈالتے وقت بکھر جانے کی کراہت کا بیان
6 Hadith
18
قتال سے پہلے اسلام کی دعوت دینے اور امام کا لشکر کے امیر کو وصیت کرنے کا بیان
6 Hadith
19
لڑائی میں دھوکہ دینے، توریہ کرنے، بات کو چھپانے اور جاسوسوں کو بھیجنے کے جواز کا بیان
7 Hadith
20
سرایا اور جیوش کو ترتیب دینے اور جھنڈوں اور ان کے رنگوں کا اہتمام کرنے کا بیان
4 Hadith
21
مجاہد کو الوداع کہنے، اس کا استقبال کرنے اور امام کا اس کو وصیت کرنے کا بیان
12 Hadith
22
مخصوص اوقات میں غزوہ کے لیے روانہ ہونے کے مستحب ہونے، دشمن سے لڑائی شروع کرنے، صفوں کو ترتیب دینے اور مسلمانوں کے شعار کا بیان
10 Hadith
23
جنگ میں فخر کرنے کے مستحب ہونے اور دشمنوں سے مقابلہ کرنے کی تمنا کرنے اور لشکر کی اکثریت سے دھوکہ کھانے کی ممانعت کا بیان
5 Hadith
24
جس کے ہاں اسلام کی علامت موجود ہو، اس پر شب خون مارنے کے وقت رک جانے کا بیان
2 Hadith
25
اسلام کی معرفت ہو جانے کے بعد لڑائی کرنے والے سے رک جانے، اس کو قتل کر دینے کی وعید اور اس کا کلام نہ سمجھنے کی وجہ سے غلطی سے اس کو قتل کر دینے والے کے عذر کا بیان
8 Hadith
26
کافروں پر اچانک حملہ کرنے کا بیان، اگرچہ اس میں ان کے بچے قتل ہو جائیں
5 Hadith
27
عورتوں، بچوں، پادریوں اور انتہائی بوڑھے لوگوں کو بالارادہ قتل کرنے سے روکنے کا بیان
8 Hadith
28
مثلہ، جلانے، درخت کاٹنے اور عمارتیں گرانے سے ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی ضرورت اور مصلحت ہو
9 Hadith
29
لڑائی کے وقت بھاگ جانے کی حرمت کا بیان، الا یہ کہ آدمی نے اپنی جماعت کو ملنا ہو، اگرچہ وہ جماعت دور ہو
3 Hadith
30
فتح والے مقام میں تین دن ٹھہرنے کے مستحب ہونے کا بیان
2 Hadith
31
اس امر کا بیان کہ غنیمت کا حلال ہونانبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کی امت کے خصائص میں سے ہے اور تقسیم سے قبل غنیمت سے متعلقہ احکام کاذکر
9 Hadith
32
جس جس عامل نے میدان جنگ میں اپنی طاقت کے بقدر کام کیا،ان میں برابری کے ساتھ مالِ غنیمت تقسیم کرنے کا بیان
4 Hadith
33
غنیمت کے خُمُس کا اللہ اور اس کے رسول کے لیے فرض ہونے اور اس کی تقسیم کا بیان
9 Hadith
34
غنیمت کے پانچ حصوں میں چار حصوں کی تقسیم، گھوڑ سوار اور پیادہ کا حق اور خاتون اور غلام وغیرہ کو معمولی مقدار میںعطیہ دینا
9 Hadith
35
اس چیز کا بیان کہ سلب قاتل کا ہو گا اور اس میں سے خُمُس نہیں لیا جائے گا
9 Hadith
36
لشکر کے بعض افراد کو اس بنا پر زائد حصہ دینے کا بیان کہ انھوں نے لڑائی لڑی یا مشکلات کو برداشت کیا
2 Hadith
37
لشکر کے سریہ کو زائد حصہ دینے اور پھر ان دونوں کو غنیمت میں شریک کرنے کا بیان
6 Hadith
38
مالِ فے کے مصرف کا بیان
6 Hadith
39
تالیف ِ قلبی کے لیے دینے کا بیان
2 Hadith
40
امیر اور عامل کے تحائف
2 Hadith
41
خیانت کے حرام ہونے اور اس میں سختی کا بیان، نیز خائن کا سامانِ سفر جلانے اور لوٹ مار کا بیان
12 Hadith
42
قیدیوں کے حق میں احسان کرنے، ان سے فدیہ لینے اور ان سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب ہوازن کے وفود پر ان کے قیدیوں کے معاملے میں احسان کرنے کا باب
2 Hadith
43
سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قید اور فدیے اور اس معاملے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ایک معجزے کا بیان
2 Hadith
44
اس آدمی کا بیان جس نے اپنے باپ کے فدیے میں چار ہزار درہم دیئے
3 Hadith
45
سیدہ زینب بنت رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے خاوند سیدنا ابو العاص کا فدیہ
1 Hadith
46
ایک مشرک کے فدیے میں دو مسلمان لینے کا بیان ان قیدیوں کا بیان جنھوں نے اپنے فدیے میں انصاریوں کے بچوں کو کتابت کی تعلیم دی
4 Hadith
47
بدر کے قیدیوں کے فدیے اور اس کی وجہ سے نازل ہونے والے قرآن کا بیان
3 Hadith
48
ان امور سے ممانعت کابیان: احتلام ہونے یا زیر ناف بالوں کے اگنے سے پہلے قیدی کو قتل کرنا، دوسرے کے قیدی کو قتل کرنا، قیدیوں میں والدہ اور اس کی اولاد میں تفریق ڈالنا، حاملہ قیدی خواتین سے جماع کرنا اور قیدی کو باندھ کر مارنا
10 Hadith
49
اس قیدی کا بیان جو قید سے پہلے قبولیت ِ اسلام کا دعوی کر دے، نیز اسلام قبول کرنے والے قیدی کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
50
مسلمان ہونے والے قیدی کا مسلمانوں کی ملکیت میں ہی رہنے کا اور عربوں کو غلام بنانے کے جواز کا بیان
3 Hadith
51
اس چیز کا بیان کہ جاسوس کے ساتھ کیا کیا جائے، وہ مسلمان ہو یا حربی یا ذمی
3 Hadith
52
اس چیز کا بیان کہ جب کافر کا غلام مسلمان ہو کر ہمارے پاس آ جائے تو وہ آزاد ہو گا
4 Hadith
53
اس چیز کا بیان کہ اگر حربی قابو میں آنے سے پہلے مسلمان ہو گیا تو اپنے مال کو بچا لے گا، نیز غنیمت والی زمین کا حکم
6 Hadith
No chapter matched that.