۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بعض غزووں میں ایک عورت کو قتل شدہ پایا اور پھر عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کر دیا۔
۔ سیدنا رباح بن ربیع رضی اللہ عنہ ، جو کہ حنظلہ کاتب کے بھائی تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں نکلے، لشکر کے مقدمہ پر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مامور تھے، جب رباح اور دوسرے صحابہ ایک مقتول عورت کے پاس سے گزرے، جس کو مقدمہ نے قتل کیا تھا، تو وہ کھڑے ہو گئے، اس کو دیکھنے لگ گئے اور اس کی جسامت پر تعجب کرنے لگے، یہاں تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو آملے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اس عورت کے پاس ٹھہر گئے اور فرمایا: یہ تو قتال کرنے والی نہیں تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک صحابی سے فرمایا: خالد کو ملو اور اس کو کہو کہ عورت اور بچے اور مزدور کو قتل مت کرو۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ایک عورت کو بطورِ قیدی لیا، جب اس خاتون نے اس مرد سے اس کی تلوار کا دستہ پکڑ کر تلوار کھینچنا چاہا تو اس نے اس کو قتل کر دیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس سے گزرے اور آپ کو بتلایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کوقتل کرنے سے منع کر دیا۔
۔ ایوب راوی کہتے ہیں: میں نے اپنے قبیلے کے آدمی سے سنا، وہ اپنے باپ سے بیان کر رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک سریّہ روانہ کیا، وہ بھی اس میں تھا، پسآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں مزدوروں،غلاموں اور لونڈیوں کو قتل کرنے سے منع کر دیا۔
۔ سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کرجہاد کیا، مجھے ایک سواری بھی مل گئی، اس دن لوگوں نے قتل کا ایسا سلسلہ قائم کیا کہ بچوں اور عورتوںکو بھی قتل کر دیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، آج قتل تجاوز کر گیا ہے، یہاں تک کہ انھوں نے عورتوں اور بچوں کو بھی قتل کر دیا ہے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ تو مشرکوں کی اولاد ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! تم میں سے پسندیدہ افراد بھی مشرکوں کی ہی اولاد ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! تم بچوں اور عورتوں کو قتل مت کرو، خبردار! تم بچوں اور عورتوں کو قتل نہ کرو۔ پھر فرمایا: ہر جان فطرت پر پیدا ہوتی ہے، یہاں تک کہ اس کی اپنی زبان وضاحت کرنے لگ جائے اور اس کے والدین اس کو یہودی یا نصرانی بنا دیں۔
۔ سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حنین والے دن ایک سریّہ بھیجا، اس نے مشرکوں سے قتال کیا اور اس میں قتل کا سلسلہ بچوں اور عورتوں تک جا پہنچا، جب وہ واپس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کو بچے اور عورتیں قتل کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ تو مشرکوںکی اولاد ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پسندیدہ افراد بھی تو مشرکوں کی ہی اولاد ہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے! ہر جان فطرت ِ اسلام پر پیدا ہوتی ہے، یہاں تک کہ اس کی زبان اس کی طرف سے وضاحت کر دے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنے لشکروں کو روانہ کرتے تو فرماتے: اللہ کے نام کے ساتھ نکلو، اللہ تعالیٰ کی راہ میں اس کے ساتھ کفر کرنے والوں سے قتال کرو، نہ دھوکہ کرو، نہ خیانت کرو، نہ مثلہ کرو، نہ بچوں کو قتل کرو اور نہ گرجا گھروالوں کو۔ ‘
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مشرکوں کے بہادری اور جنگ والے قوی افراد کو قتل کرو اور نابالغ بچوں کو چھوڑ دو۔ عبد اللہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ امام احمد i سے اس کی حدیث اُقْتُلُوا شُیُوخَ الْمُشْرِکِینَ کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: شیخ کا مسئلہ یہ ہے کہ قریب نہیں ہوتا ہے کہ وہ مسلمان ہو جائے، جبکہ لڑکا، شیخ کی بہ نسبت اسلام قبول کرنے کے قریب ہوتا ہے۔ اَلشَّرْح سے مراد لڑکے ہیں۔