مسنداحمد

Musnad Ahmad

جہاد کے مسائل

لشکر کے سریہ کو زائد حصہ دینے اور پھر ان دونوں کو غنیمت میں شریک کرنے کا بیان

۔ (۵۰۵۷)۔ عَنْ حَبِیبِ بْنِ مَسْلَمَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَفَّلَ الرُّبُعَ بَعْدَ الْخُمُسِ فِی بَدْأَتِہِ، وَنَفَّلَ الثُّلُثَ بَعْدَ الْخُمُسِ فِی رَجْعَتِہِ۔ (مسند أحمد: ۱۷۶۰۴)

۔ سیدنا حبیب بن مسلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (غزوے کے سفر کی) ابتداء میں خمس نکالنے کے بعد ایک چوتھائی حصہ اور واپسی پر خمس نکالنے کے بعد ایک تہائی حصہ زائد دیا۔

۔ (۵۰۵۸)۔ عَنْ حَبِیبِ بْنِ مَسْلَمَۃَ، قَالَ: شَہِدْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَفَّلَ الرُّبُعَ فِی الْبَدْأَۃِ وَالثُّلُثَ فِی الرَّجْعَۃِ، قَالَ أَبُو عَبْدالرَّحْمٰنِ: سَمِعْتُ أَبِی یَقُولُ: لَیْسَ فِی الشَّامِ رَجُلٌ أَصَحُّ حَدِیثًا مِنْ سَعِیدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ یَعْنِی التَّنُوخِیَّ۔ (مسند أحمد: ۱۷۶۰۸)

۔ سیدنا حبیب بن مسلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شروع میں ایک چوتھائی اور واپسی پر ایک تہائی حصہ زائد دیا۔ ابو عبد الرحمن نے کہا: میں نے اپنے باپ کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں نے شام میں کوئی ایسا آدمی نہیں دیکھا جو سعید بن عبد العزیز تنوخی سے زیادہ صحیح احادیث والا ہو۔

۔ (۵۰۵۹)۔ وَعَنْ عُبَادَۃَ بْنِ صَامِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَفَّلَ فِی الْبَدَائَۃِ الرُّبْعَ وَفِی الرَّجْعَۃِ الثُّلُثَ۔ (مسند أحمد: ۲۳۱۰۵)

۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابتدا میں ایک چوتھائی حصہ اور واپسی پر ایک تہائی حصہ زائد دیا۔

۔ (۵۰۶۰)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا أَغَارَ فِی أَرْضِ الْعَدُوِّ نَفَّلَ الرُّبُعَ، وَإِذَا أَقْبَلَ رَاجِعًا وَکَلَّ النَّاسُ نَفَلَ الثُّلُثَ، وَکَانَ یَکْرَہُ الْأَنْفَالَ، وَیَقُولُ: ((لِیَرُدَّ قَوِیُّ الْمُؤْمِنِینَ عَلٰی ضَعِیفِہِم۔)) (مسند أحمد: ۲۳۱۴۲)

۔ سیدنا عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دشمن کی زمین میں حملے کے لیے جا رہے ہوتے تھے تو ایک چوتھائی حصہ زائد دیتے اور جب لوٹ رہے ہوتے تھے، اور لوگ تھکے ہوئے ہوتے تو ایک تہائی حصہ زائد دیتے، دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زائد حصوں کو ناپسند کرتے اور فرماتے: چاہیے کہ قوی مؤمن، کمزوروں پر لوٹا دے۔

۔ (۵۰۶۱)۔ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَعَثَنَا نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَرِیَّۃٍ بَلَغَتْ سُھْمَانُنَا اِثْنَیْ عَشَرَ بَعِیْرًا، وَنَفَّلَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعِیْرًا بَعِیْرًا۔ (مسند أحمد: ۵۱۸۰)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا، ہمارے حصوں میں بارہ بارہ اونٹ آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک ایک اونٹ ہمیں زائد بھی دیا۔

۔ (۵۰۶۲)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہٗ کَانَ یَنْفُلُ فِیْ مَغَازِیْہِ۔ (مسند أحمد: ۱۹۸۳۰)

۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے غزووں میں زائد حصہ دیا کرتے تھے۔