مسنداحمد

Musnad Ahmad

امان، صلح اور عارضی جنگ بندی کے ابواب

معاہدہ پورا کرنے اور امان والے آدمی سے دھوکہ نہ کرنے کا بیان

۔ (۵۱۳۷)۔ عن حُذَیْفَۃ بْنِ الْیَمَانِ، قَالَ: مَا مَنَعَنِی أَنْ أَشْہَدَ بَدْرًا إِلَّا أَنِّی خَرَجْتُ، أَنَا وَأَبِی حُسَیْلٌ فَأَخَذَنَا کُفَّارُ قُرَیْشٍ، فَقَالُوْا: إِنَّکُمْ تُرِیدُونَ مُحَمَّدًا، قُلْنَا: مَا نُرِیدُ إِلَّا الْمَدِینَۃَ، فَأَخَذُوا مِنَّا عَہْدَ اللّٰہِ وَمِیثَاقَہُ لَنَنْصَرِفَنَّ إِلَی الْمَدِینَۃِ وَلَا نُقَاتِلُ مَعَہُ، فَأَتَیْنَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرْنَاہُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: ((انْصَرِفَا نَفِیْ بِعَہْدِہِمْ وَنَسْتَعِینُ اللّٰہَ عَلَیْہِمْ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۷۴۶)

۔ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے غزوۂ بدر میں شرکت کرنے سے روکنے والی چیز یہ تھی کہ میں اور میرے باپ سیدنا حُسَیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نکلے، لیکن کفار ِ قریش نے ہم کو پکڑ لیا اور انھوں نے کہا: بیشک تم محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کے پاس جانا چاہتے ہو، ہم نے کہا: ہم تو صرف مدینہ جا رہے ہیں، پھر انھوں نے ہم سے اللہ تعالیٰ کا عہد اور پکا وعدہ لیا کہ ہم واقعی مدینہ جائیں گے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مل کر قتال نہیں کریں گے، پس جب ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو واقعہ کی خبر دی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب تم چلے جاؤ، ہم ان سے کیے گئے تمہارے معاہدے کو پورا کریں گے اور ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کریں گے۔

۔ (۵۱۳۸)۔ عَنْ سُلَیْمِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: کَانَ مُعَاوِیَۃُ یَسِیرُ بِأَرْضِ الرُّومِ، وَکَانَ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَہُ أَمَدٌ، فَأَرَادَ أَنْ یَدْنُوَ مِنْہُمْ، فَإِذَا انْقَضَی الْأَمَدُ غَزَاہُمْ، فَإِذَا شَیْخٌ عَلٰی دَابَّۃٍ یَقُولُ: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، وَفَائٌ لَا غَدْرٌ، إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ کَانَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ قَوْمٍ عَہْدٌ فَلَا یَحُلَّنَّ عُقْدَۃً وَلَا یَشُدَّہَا حَتّٰی یَنْقَضِیَ أَمَدُہَا أَوْ یَنْبِذَ إِلَیْہِمْ عَلٰی سَوَائٍ۔)) فَبَلَغَ ذٰلِکَ مُعَاوِیَۃَ فَرَجَعَ وَإِذَا الشَّیْخُ عَمْرُو بْنُ عَبَسَۃَ۔ (مسند أحمد: ۱۷۱۴۰)

۔ سلیم بن عامر کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روم کی سرزمین میں چل رہے تھے، جبکہ اُن کے اور اِن کے مابین معاہدہ تھا، سیدنا امیر معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ارادہ کیا کہ ان کے قریب ہو جائیں، تاکہ جب عہد کی مدت ختم ہو ان پر حملہ کر دیا جائے،لیکن ایک بزرگ، جو کسی چوپائے پر سوار تھا، نے کہا: اللہ اکبر، اللہ اکبر، عہد پورا کیجیے، عہد شکنی مت کیجیے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر کسی آدمی نے کسی قوم سے کوئی عہد کیا ہو تو وہ نہ عہد شکنی کرے اور نہ اس کو مضبوط کرے، یہاں تک کہ مدت ختم ہو جائے یا (ان سے دھوکے کے ڈر کی وجہ سے) انھیں معاہدہ توڑنے کی خبر دے (تاکہ مد مقابل بھی عہد توڑنے میں) اس کے برابر ہو جائے۔ جب سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس بات کا علم ہوا تو وہ لوٹ گئے، یہ بزرگ سیدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے۔

۔ (۵۱۳۹)۔ عَنْ أَبِی رَافِعٍ قَالَ: بَعَثَتْنِی قُرَیْشٌ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَلَمَّا رَأَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَعَ فِی قَلْبِی الْإِسْلَامُ، فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! لَا أَرْجِعُ إِلَیْہِمْ، قَالَ: ((إِنِّی لَا أَخِیسُ بِالْعَہْدِ، وَلَا أَحْبِسُ الْبُرُدَ، وَارْجِعْ إِلَیْہِمْ، فَإِنْ کَانَ فِی قَلْبِکَ الَّذِی فِیہِ الْآنَ فَارْجِعْ۔)) قَالَ بُکَیْرٌ: وَأَخْبَرَنِی الْحَسَنُ أَنَّ أَبَا رَافِعٍ کَانَ قِبْطِیًّا۔(مسند أحمد: ۲۴۳۵۸)

۔ سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: قریشیوں نے مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف بھیجا، جب میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام داخل ہو گیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ان کی طرف نہیں لوٹوں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نہ معاہدہ توڑتا ہوں اور نہ قاصدوں کو روکتا ہوں، تو اب ان کی طرف لوٹ جا، اگر تیرے دل میں وہ خیال رہا جو اب ہے تو لوٹ آنا۔ بکیر راوی کہتے ہیں: حسن نے مجھے بتلایا کہ سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ قبطی تھے۔

۔ (۵۱۴۰)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَا خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَّا قَالَ: ((لَا اِیْمَانَ لِمَنْ لَا اَمَانَۃَ لَہٗ وَلَا دِیْنَ لِمَنْ لَا عَھْدَ لَہٗ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۵۹۵)

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب بھی ہم سے خطاب کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس شخص کا کوئی ایمان نہیں، جو امانت پوری نہیں کرتا اور اس آدمی کا کوئی دین نہیں، جس میں معاہدے کی پاسداری نہیں۔

۔ (۵۱۴۱)۔ عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاھَدَۃً بِغَیْرِ حِلِّھَا، حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ اَن یَّجِدَ رِیْحَھَا۔)) (مسند أحمد: ۲۰۶۶۸)

۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے بغیر کسی حق کے ذمی کو قتل کر دیا، اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو اس طرح حرام کر دے گا کہ وہ اس کی خوشبو بھی نہیں پا سکے گا۔

۔ (۵۱۴۲)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہِ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِیْ خُطْبَتِہِ وَھُوَ مُسْنِدٌ ظَھْرَہٗ اِلَی الْکَعْبَۃِ: ((لَا یُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِکَافِرٍ وَلَا ذُوْ عَھْدٍ فِیْ عَہْدِہِ۔)) (مسند أحمد: ۶۶۹۰)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے ایک خطاب میں فرمایا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کعبہ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کو کافر کے بدلے اورذمی کو اس کے عہد میں قتل نہیں کیا جائے گا۔

۔ (۵۱۴۳)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ عِنْدَ حُجْرَۃِ عَائِشَۃَ یَقُوْلُ: ((یُنْصَبُ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَائٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا غَدْرَۃَ اَعْظَمُ مِنْ غَدْرَۃِ اِمَامِ عَامَۃٍ۔)) (مسند أحمد: ۵۳۷۸)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے حجرے کے پاس فرمایا تھا: روزِ قیامت ہر دھوکہ باز کے لیے جھنڈا گاڑھا جائے گا اور عوام کے حکمران کے دھوکے سے بڑا دھوکہ کوئی نہیں ہے۔

۔ (۵۱۴۵)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَائٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یُعْرَفُ بِہِ)) (مسند أحمد: ۱۲۴۷۰)

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ہر دھوکہ باز کے لیے ایک جھنڈا ہو گا، اس کے ذریعے اس کو پہچانا جائے گا۔

۔ (۵۱۴۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہٗ قَالَ: ((لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَائٌ وَیُقَالُ ھٰذِہِ غَدْرَۃُ فُلَانٍ۔)) (مسند أحمد: ۳۹۵۹)

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر دھوکے باز کا ایک جھنڈا ہو گا اور ساتھ کہا جائے گا کہ یہ فلاں کا دھوکہ ہے۔