۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے دن فرمایا: جس نے اپنا دروازہ بند کر لیا، وہ امن والا ہو گا اور جو ابو سفیان کے گھر داخل ہو گا، اسے بھی امان حاصل ہو گی۔
Takhreej
(۵۱۳۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۷۸۰(انظر: ۷۹۲۲)
Explanation
فوائد:… یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ کو عطا کیا گیا شرف تھا۔
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب مومنوں کے خون برابر ہیں، ادنی مؤمن بھی امان دے سکے گا، وہ سب اپنے غیروں پر ایک ہاتھ کی مانند ہیں، خبردار! مومن کو کافر کے بدلے اور ذمی کو اس کے معاہدے کے زمانے میں قتل نہیں کیا جائے گا۔
فوائد:… معاشرے کے افراد اعلی ہوں یا ادنی، سب کے خون کی حیثیت برابر کی ہو گی، جاہلیت کے قوانین کے مطابق کوئی فرق نہیں کیا جائے گا۔ اگر کوئی مؤمن، خواہ وہ عورت یا مردیا اعلی یا ادنی، کسی کافر کو پناہ دے دے تو سب مسلمانوں پر لازم ہو گا کہ وہ اس کی پناہ کا احترام کریں۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کی امان ایک ہے، ادنی مسلمان بھی وہ امان دے سکتا ہے، جس نے کسی مسلمان کی امان کو توڑ دیا، اس پر اللہ تعالی، فرشتوں اور تمام لوگوںکی لعنت ہو گی اور اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس کی فرضی عبادت قبول کرے گا نہ نفلی۔
۔ سیدنا یزید بن عبد اللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو زہیر بن اُقیش کی طرف یہ پیغام لکھا تھا: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ، یہ خط محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے بنو زہیر بن اقیش کو لکھا گیا ہے، اگر تم لوگ نماز ادا کرتے رہے، زکوۃ دیتے رہے، غنیمتوں میں سے خمس، اپنے نبی کا حصہ اور منتخب حصہ دیتے رہے تو تم اللہ کی امان اور اس کے رسول کی امان کے ساتھ با امن رہو گے۔
فوائد:… اَلصَّفِیِّ (منتخب و چیدہ حصہ): مالِ غنیمت کا وہ حصہ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبل از تقسیم اپنے لیے مقرر کر لیتے تھے، پچھلے ابواب میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مسلمان آدمی نے کسی شخص کو پناہ دے دی، اس لشکر کے امیر سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے، سیدنا خالد بن ولید اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم اس کو پناہ نہیں دیں گے، لیکن سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اس کو پناہ دیں گے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: کوئی ایک مسلمان تمام مسلمانوں پر پناہ دے سکتا ہے۔
۔ سیدہ ام ہانی فاختہ بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: فتح مکہ والے دن میں نے اپنے دو سسرالی رشتہ داروں کو پناہ دی اور ان کو گھر میں داخل کر کے دروازہ بند کر دیا، میری اپنی ماں کا بیٹا سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ آئے اور ان پر تلوار سونت لی، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے نہ مل سکے، البتہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا موجود تھیں، لیکن وہ میرے معاملے میں مجھ پر اپنے خاوند سے بھی زیادہ سختی کرنے والی تھیں، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گردو غبار کا اثر تھا، جب میں نے اپنی بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ام ہانی! جن کو تو نے پناہ دی، ہم نے بھی ان کو پناہ دی اور جن کو تو نے امن دیا، ہم نے بھی ان کو امن دے دیا۔
فوائد:… اس باب میں جہاں معاہدے کی پاسداری کو ضروری قرار دیا، وہاں مسلمان کی بحیثیت ِ مسلمان عظمت کا اندازہ لگائیں کہ اگر کوئی ادنی مسلمان کسی کافر کو پناہ دے دیتا ہے تو پوری امت پر فرض ہو گا کہ وہ اس امان کا پاس و لحاظ رکھے۔
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے غزوۂ بدر میں شرکت کرنے سے روکنے والی چیز یہ تھی کہ میں اور میرے باپ سیدنا حُسَیل رضی اللہ عنہ نکلے، لیکن کفار ِ قریش نے ہم کو پکڑ لیا اور انھوں نے کہا: بیشک تم محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے پاس جانا چاہتے ہو، ہم نے کہا: ہم تو صرف مدینہ جا رہے ہیں، پھر انھوں نے ہم سے اللہ تعالیٰ کا عہد اور پکا وعدہ لیا کہ ہم واقعی مدینہ جائیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر قتال نہیں کریں گے، پس جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو واقعہ کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تم چلے جاؤ، ہم ان سے کیے گئے تمہارے معاہدے کو پورا کریں گے اور ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کریں گے۔
۔ سلیم بن عامر کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ روم کی سرزمین میں چل رہے تھے، جبکہ اُن کے اور اِن کے مابین معاہدہ تھا، سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ ان کے قریب ہو جائیں، تاکہ جب عہد کی مدت ختم ہو ان پر حملہ کر دیا جائے،لیکن ایک بزرگ، جو کسی چوپائے پر سوار تھا، نے کہا: اللہ اکبر، اللہ اکبر، عہد پورا کیجیے، عہد شکنی مت کیجیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کسی آدمی نے کسی قوم سے کوئی عہد کیا ہو تو وہ نہ عہد شکنی کرے اور نہ اس کو مضبوط کرے، یہاں تک کہ مدت ختم ہو جائے یا (ان سے دھوکے کے ڈر کی وجہ سے) انھیں معاہدہ توڑنے کی خبر دے (تاکہ مد مقابل بھی عہد توڑنے میں) اس کے برابر ہو جائے۔ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس بات کا علم ہوا تو وہ لوٹ گئے، یہ بزرگ سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ تھے۔
فوائد:… مذکورہ حدیث میں عہد و پیمان کی مدت تو پوری ہو چکی تھی، دراصل بات یہ ہے کہ جب رومیوں سے معاہدہ طے ہوا تھا ، اس وقت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے ملک میں تھے۔ جب اس معاہدے کی مدت ختم ہو گی تو اس وقت بھی ان کو اپنے ملک میں ہی ہونا چاہئے تھا، نہ کہ وہ معاہدے کی مدت میں روم کے قریب پہنچ جائیں اور جونہی مدت ختم ہو تو ان پر چڑھائی کر دی جائے۔ ماحصل یہ ہے کہ جب معاہدے کی مدت ختم ہو تو دونوں فریق اپنے اپنے ممالک میں ہوں، پھر نئی پالیسی پر عمل کیا جائے۔ (ماخوذ از تحفۃ الاحوذی)
۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: قریشیوں نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا، جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام داخل ہو گیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ان کی طرف نہیں لوٹوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نہ معاہدہ توڑتا ہوں اور نہ قاصدوں کو روکتا ہوں، تو اب ان کی طرف لوٹ جا، اگر تیرے دل میں وہ خیال رہا جو اب ہے تو لوٹ آنا۔ بکیر راوی کہتے ہیں: حسن نے مجھے بتلایا کہ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ قبطی تھے۔
فوائد:… اسلام سے متأثر ہو جانے والے قاصدوں کو نہ روکنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو کفر اور ارتداد کی طرف واپس لوٹا رہے ہیں، بلکہ قاصد کا واپس جانے کے باوجود اسلام پر برقرار رہنا ممکن ہے۔ مسند احمد کی دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ بعد میں واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لوٹ آئے تھے اور اسلام قبول کر لیا تھا، اگر ایسے مقام پر مسلمان ہو جانے والے قاصدوں کو روک لیا جائے تو اس سے پیغام رسانی اور قاصدیت کا نظام متاثر ہو گا اور قاصدوں کے بارے میں کسی سے دھوکہ کرنے کا امکان پیدا ہو جائے گا۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب بھی ہم سے خطاب کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کا کوئی ایمان نہیں، جو امانت پوری نہیں کرتا اور اس آدمی کا کوئی دین نہیں، جس میں معاہدے کی پاسداری نہیں۔
۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے بغیر کسی حق کے ذمی کو قتل کر دیا، اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو اس طرح حرام کر دے گا کہ وہ اس کی خوشبو بھی نہیں پا سکے گا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ایک خطاب میں فرمایا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کو کافر کے بدلے اورذمی کو اس کے عہد میں قتل نہیں کیا جائے گا۔
Takhreej
(۵۱۴۲) تخریج: صحیح، أخرجہ أبوداود: ۴۵۰۶، وابن ماجہ: ۲۶۵۹(انظر: ۶۶۹۰)
Explanation
فوائد:… ذمی اس شخص کو کہتے ہیں جس سے معاہدہ کر کے اس کے جان و مال، عزت و آبرو اور مذہب کی حفاظت کا ذمہ لیا گیا ہو۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس فرمایا تھا: روزِ قیامت ہر دھوکہ باز کے لیے جھنڈا گاڑھا جائے گا اور عوام کے حکمران کے دھوکے سے بڑا دھوکہ کوئی نہیں ہے۔
فوائد:… غدر اور دھوکہ مطلق طور پر حرام ہے، بالخصوص اس وقت اس کی حرمت بڑھ جاتی ہے، جب حکمران اس جرم میںملوث ہو جائے، کیونکہ اس کے ضرر سے خلق کثیر متأثر ہو سکتی ہے۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ہر دھوکہ باز کے لیے ایک جھنڈا ہو گا، اس کے ذریعے اس کو پہچانا جائے گا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر دھوکے باز کا ایک جھنڈا ہو گا اور ساتھ کہا جائے گا کہ یہ فلاں کا دھوکہ ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سرزمینِ حجاز سے یہود ونصاری کو جلاوطن کیا، اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر پر غالب آ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ کیا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غالب آ گئے تھے تو وہ زمین اللہ تعالی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں کی ہو گئی تھی، بہرحال جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ کیا تو یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ مطالبہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو یہیں برقرار رکھیں، وہ نصف پھل کے عوض اس علاقے کی کھیتیوں کا کام کریں گے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ہم جب تک چاہیں گے، تم لوگوں کو یہاں برقرار رکھیں گے۔ پس وہ وہیں ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو تیماء اور اریحاء کی طرف جلا وطن کر دیا تھا۔
فوائد:… نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں سے صلح کرتے ہوئے ان کو خیبر میں رہنے کی اجازت دے دی، شرط یہ تھی کہ وہ ان کھیتوں میں کام کریں گے اور اس کام کے عوض نصف پیداوار ان کو دی جائے گی۔
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل حدیبیہ سے مصالحت کی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے معاہدہ تحریر کیا، انھوں نے معاہدے میں محمد رسول اللہ کے الفاظ لکھے، لیکن مشرکوں نے کہا: محمد رسول اللہ کے الفاظ نہ لکھو، اگر آپ ہمارے نزدیک اللہ کے رسول ہوتے تو ہم آپ سے قتال ہی نہ کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: یہ الفاظ مٹا دو۔ انھوں نے کہا: میں ان الفاظ کو نہیں مٹاؤںگا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان الفاظ کو خود مٹا دیا ا ور ان مشرکوں سے جن امور پر مصالحت کی تھی، ان میں سے ایک یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ تین دنوں تک مکہ میں رہیں گے اور اپنے ساتھ صرف بند ہتھیار لائیں گے، وہ بھی میان سمیت چمڑے کے تھیلوں میں ہوں گی۔ راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا: جُلُبَّانُ السِّلَاحِ سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: چمڑے کے تھیلے کے اندر جو کچھ ہوتا ہے، اس سمیت اس تھیلے کو کہتے ہیں۔
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ والے دن مشروکوں سے تین امور پر معاہدہ کیا: (۱) نبی کریم کے پاس سے جو آدمی مشرکوں کے پاس آ جائے گا، وہ اس کو ہر گز نہیں لوٹائیں گے، لیکن مشرکوں میں سے جو آدمی اہل مدینہ کے پاس آئے گا، وہ اس کو لوٹا دیں گے، (۲) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ اگلے سال عمرہ کے لیے آئیں گے اور مکہ میں صرف تین دن تک قیام کریں گے، اور (۳) وہ صرف اس طرح داخل ہوں گے کہ تلوار اور قوس وغیرہ تھیلوں میں ہوں گے۔