مسنداحمد

Musnad Ahmad

آزادی کے احکام کے ابواب

غلام کو آزاد کرنے والے کا، یا اس پر اپنی خدمت کی شرط لگانے والے کا، محرم رشتہ کا مالک بننے والے کا اور غیر ملکیتی غلام کو آزاد کرنے والے کا بیان

۔ (۵۲۶۱)۔ عَنْ سَفِیْنَۃَ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ: اَعْتَقَتْنِیْ اُمُّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا وَاشْتَرَطَتْ عَلَیَّ اَنْ اَخْدَمَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا عَاشَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۲۷۲)

۔ سیدنا ابو عبد الرحمن سفینہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے مجھے آزاد کیا، لیکن شرط یہ لگائی کہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت کروں گا، جب تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بقید ِ حیات رہے۔

۔ (۵۲۶۲)۔ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ رَفَعَہٗ قَالَ: ((مَنْ مَلَکَ ذَا رَحِمٍ فَھُوَ حُرٌّ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۴۲۹)

۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مَحرم رشتہ دار کا مالک بنا، وہ آزاد ہو جائے گا۔

۔ (۵۲۶۲م)۔ وَعَنْہٗ بِالسَّنَدِ الْاَوَّلِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ مَلَکَ ذَا رَحِمٍ مُحَرَّمٍ فَھُوَ عَتِیْقٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۴۶۷)

۔ پہلی سند کے ساتھ سیدنا سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی محرم رشتہ دار کا مالک بنے گا تو ایسا غلام آزاد ہو جائے گا۔

۔ (۵۲۶۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَجْزِی وَلَدٌ وَالِدَہٗ اِلَّا اَنْ یَجِدَہٗ مَمْلُوْکًا فَیَشْتَرِیْہِ فَیُعْتِقَہٗ۔)) (مسند أحمد: ۷۱۴۳)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی بچہ اپنے باپ یا ماں کو بدلہ نہیں دے سکتا، الا یہ کہ وہ اس کو غلام پائے اور خرید کر آزاد کر دے۔

۔ (۵۲۶۴)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ جَدِّہِ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ عَلٰی رَجُلٍ طَلَاقٌ فِیْمَا لَا یَمْلِکُ وَلَا عِتَاقَ فِیْمَا لَا یَمْلِکُ، وَلَا بَیْعَ فِیْمَا لَا یَمْلِکُ۔)) (مسند أحمد: ۶۷۶۹)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس چیز میں آدمی پر کوئی طلاق نہیں ہے، جس کا وہ مالک نہ ہو، اس چیز میں کوئی آزادی نہیں ہے، جس کا وہ مالک نہ ہو اور اس چیز میں کوئی سودا نہیں ہے، جو اس کی ملکیت میں نہ ہو۔