مسنداحمد

Musnad Ahmad

نذر کے ابواب

اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مانی گئی نذر کا اور اس کو پورا کرنے کے وجوب کا بیان، وہ جاہلیت میں مانی گئی ہو یا اسلام میں

۔ (۵۳۵۴)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ نَذَرَ أَنْ یُطِیعَ اللّٰہَ جَلَّ وَعَزَّ فَلْیُطِعْہُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ یَعْصِیَ اللّٰہَ جَلَّ وَعَزَّ فَلَا یَعْصِہِ)) (مسند أحمد: ۲۴۵۷۶)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے کی نذر مانی تو وہ اس کی اطاعت کرے اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے کی نذر مانی تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے۔

۔ (۵۳۵۵)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: إِنِّی نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ نَاقَتِی وَکَیْتَ وَکَیْتَ، قَالَ: ((أَمَّا نَاقَتُکَ فَانْحَرْہَا، وَأَمَّا کَیْتَ وَکَیْتَ فَمِنْ الشَّیْطَانًًًًِ۔)) (مسند أحمد: ۶۸۸)

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں نے اپنی اونٹنی کو نحر کرنے کی اور ایسی ایسی چیز وں کی نذر مانی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رہا مسئلہ تیری اونٹنی کا تو اس کو تو نحر کر دے اور رہا مسئلہ ایسی ایسی چیزوں کا تو وہ شیطان کی طرف سے ہیں۔

۔ (۵۳۵۶)۔ عَنْ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی نَذَرْتُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ أَنْ أَعْتَکِفَ فِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ لَیْلَۃً، فَقَالَ لَہُ: ((فَأَوْفِ بِنَذْرِکَ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۵)

۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں دورِ جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ میں مسجد حرام میں ایک رات اعتکاف کروں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی نذر کو پورا کرو۔

۔ (۵۳۵۷)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنِ ابْنَۃِ کَرْدَمَۃَ عَنْ أَبِیہَا، أَنَّہُ سَأَلَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: إِنِّی نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ثَلَاثَۃً مِنْ إِبِلِی، فَقَالَ: ((إِنْ کَانَ عَلَی جَمْعٍ مِنْ جَمْعِ الْجَاہِلِیَّۃِ، أَوْ عَلَی عِیدٍ مِنْ أَعْیَادِ الْجَاہِلِیَّۃِ، أَوْ عَلَی وَثَنٍ فَلَا، وَإِنْ کَانَ عَلٰی غَیْرِ ذٰلِکَ فَاقْضِ نَذْرَکَ۔)) قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ عَلٰی أُمِّ ہٰذِہِ الْجَارِیَۃِ مَشْیًا أَفَتَمْشِیْ عَنْہَا، قَالَ: ((نَعَمْ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۵۸۳)

۔ بنت ِ کردمہ اپنے باپ سے روایت کرتی ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ سوال کیا: میں نے تین اونٹ نحر کرنے کی نذر مانی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر اس نذر کا تعلق جاہلیت کے کسی اکٹھ یا جاہلیت کی کسی عید کی مناسبت سے ہے یا کسی بت پر ہے تو اس کو پورا نہیں کیا جائے گا، اگر ان تین امور کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے ہے تو تواپنی نذر پوری کر۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس لڑکی کی ماں پر پیدل چلنے کی نذر ہے، کیا یہ لڑکی اس کی طرف سے چل سکتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں۔

۔ (۵۳۵۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ یَزِیْدَ بْنِ مِقْسَمٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِیْ عَمَّتِیْ سَارَۃُ بِنْتُ مِقْسمٍ عَنْ مَیْمُوْنَۃَ بِنْتِ کَرْدَمٍ اَنَّ اَبَاھَا قَالَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : إِنِّی نَذَرْتُ أَنْ أَذْبَحَ عَدَدًا مِنَ الْغَنَمِ، قَالَ: لَا أَعْلَمُہُ إِلَّا قَالَ: خَمْسِینَ شَاۃً عَلٰی رَأْسِ بُوَانَۃَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ہَلْ عَلَیْہَا مِنْ ہٰذِہِ الْأَوْثَانِ شَیْئٌ؟)) قَالَ: لَا، قَالَ: ((فَأَوْفِ لِلّٰہِ بِمَا نَذَرْتَ لَہُ۔)) قَالَتْ: فَجَمَعَہَا أَبِی فَجَعَلَ یَذْبَحُہَا وَانْفَلَتَتْ مِنْہُ شَاۃٌ فَطَلَبَہَا وَہُوَ یَقُولُ: اللّٰہُمَّ أَوْفِ عَنِّی بِنَذْرِی حَتّٰی أَخَذَہَا فَذَبَحَہَا۔ (مسند أحمد: ۲۷۶۰۴)

۔ سیدنا کردم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کی کہ میں نے بوانہ مقام پر پچاس بکریاں ذبح کرنے کی نذر مانی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا وہاں ان بتوں میں سے کوئی بت ہے؟ میںنے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تم نے اللہ تعالیٰ کے لیے جو نذر مانی ہے، اس کو اس کے لیے پورا کرو۔ پس انھوں نے بکریاں جمع کر کے ان کو ذبح کرنا شروع کیا، ایک بکری بھاگ گئی، وہ اس کو پکڑنے کے لیے اس کے پیچھے دوڑنے لگے اور اس دوران وہ یہ کہہ رہے تھے: اے اللہ! میری نذر پوری کر دے، یہاں تک کہ انھوں نے اس کو پکڑ لیا اور ذبح کر دیا۔

۔ (۵۳۵۹)۔ عَنْ مَیْمُونَۃَ بِنْتِ کَرْدَمٍ، عَنْ أَبِیہَا کَرْدَمِ بْنِ سُفْیَانَ أَنَّہُ سَأَلَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ نَذْرٍ نُذِرَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَ لِوَثَنٍ أَوْ لِنُصُبٍ؟۔)) قَالَ: لَا، وَلٰکِنْ لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، قَالَ: ((فَأَوْفِ لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، مَا جَعَلْتَ لَہُ انْحَرْ عَلٰی بُوَانَۃَ وَأَوْفِ بِنَذْرِکَ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۵۳۵)

۔ سیدنا کردم بن سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جاہلیت میں مانی گئی نذر کے بارے میں سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا وہ کسی بت یا پتھر کے لیے تو نہیں تھی؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کے لیے تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر اللہ تعالیٰ کے لیے پورا کرو، جو کچھ تم نے مقرر کیا ہے، اس کو بوانہ پر نحر کرو اور اس طرح اپنی نذر پوری کرو۔

۔ (۵۳۶۰)۔ عن عَبْدِ اللّٰہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّ أَمَۃً سَوْدَائَ أَتَتْ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ رَجَعَ مِنْ بَعْضِ مَغَازِیہِ، فَقَالَتْ: إِنِّی کُنْتُ نَذَرْتُ إِنْ رَدَّکَ اللّٰہُ صَالِحًا أَنْ أَضْرِبَ عِنْدَکَ بِالدُّفِّ، قَالَ: ((إِنْ کُنْتِ فَعَلْتِ فَافْعَلِی، وَإِنْ کُنْتِ لَمْ تَفْعَلِی فَلَا تَفْعَلِی۔)) فَضَرَبَتْ فَدَخَلَ أَبُو بَکْرٍ وَہِیَ تَضْرِبُ، وَدَخَلَ غَیْرُہُ وَہِیَ تَضْرِبُ، ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ قَالَ: فَجَعَلَتْ دُفَّہَا خَلْفَہَا وَہِیَ مُقَنَّعَۃٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الشَّیْطَانَ لَیَفْرَقُ مِنْکَ یَا عُمَرُ! أَنَا جَالِسٌ ہَاہُنَا وَدَخَلَ ہٰؤُلَائِ فَلَمَّا أَنْ دَخَلْتَ فَعَلَتْ مَا فَعَلَتْ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۳۷۷)

۔ عبد اللہ بن بریدہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک غزوے سے واپس آئے تو سیاہ رنگ کی ایک لونڈی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو فاتح لوٹایا تو میں آپ کے پاس دف بجاؤں گی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر نذر مانی ہے تو ٹھیک ہے (دف بجا لے)، وگرنہ نہیں۔ اس نے دف بجانا شروع کیا، ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے، وہ بجاتی رہی، دوسرے صحابہ آئے، وہ اسی حالت پر رہی۔ لیکن جب سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے تو اس نے دف چھپانے کے لیے اسے اپنے نیچے رکھ دیا اور دوپٹا اوڑھ لیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عمر! شیطان تجھ سے ڈرتا ہے۔ میں اور یہ لوگ یہاں بیٹھے تھے(یہ دف بجاتی رہی) لیکن جب تم داخل ہوئے تو اس نے ایسے ایسے کر دیا۔