TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نذر کے ابواب - نذر کے ابواب - Book 83 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 83 of Musnad Ahmad, with 8 chapters and 43 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

43 Hadith · 8 Chapters
اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مانی گئی نذر کا اور اس کو پورا کرنے کے وجوب کا بیان، وہ جاہلیت میں مانی گئی ہو یا اسلام میں
۔ (۵۳۵۴)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ نَذَرَ أَنْ یُطِیعَ اللّٰہَ جَلَّ وَعَزَّ فَلْیُطِعْہُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ یَعْصِیَ اللّٰہَ جَلَّ وَعَزَّ فَلَا یَعْصِہِ)) (مسند أحمد: ۲۴۵۷۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے کی نذر مانی تو وہ اس کی اطاعت کرے اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے کی نذر مانی تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے۔
Takhreej
(۵۳۵۴) تخریج:أخرجہ البخاری: ۶۶۹۶، ۶۷۰۰(انظر: ۲۴۰۷۵)
Explanation
فوائد:… نافرمانی ہر حال میں بہت بری ہے اور نذر مان کر نافرمانی کرنا مزید قبیح ہے، نذر ماننے سے کوئی برائی نیکی نہیں بن سکتی، لہذا نذر کے بہانے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنا جائز نہ ہو گا، بلکہ مزید گناہ ہو گا، اس لیے نافرمانی کی نذر پوری نہ کی جائے، بلکہ اس کا کفارہ دے دیا جائے۔
5354
Sahih
اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مانی گئی نذر کا اور اس کو پورا کرنے کے وجوب کا بیان، وہ جاہلیت میں مانی گئی ہو یا اسلام میں
۔ (۵۳۵۵)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: إِنِّی نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ نَاقَتِی وَکَیْتَ وَکَیْتَ، قَالَ: ((أَمَّا نَاقَتُکَ فَانْحَرْہَا، وَأَمَّا کَیْتَ وَکَیْتَ فَمِنْ الشَّیْطَانًًًًِ۔)) (مسند أحمد: ۶۸۸)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں نے اپنی اونٹنی کو نحر کرنے کی اور ایسی ایسی چیز وں کی نذر مانی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رہا مسئلہ تیری اونٹنی کا تو اس کو تو نحر کر دے اور رہا مسئلہ ایسی ایسی چیزوں کا تو وہ شیطان کی طرف سے ہیں۔
Takhreej
(۵۳۵۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف جابر بن یزید الجعفی، وعلی بن حسین لم یدرک جدہ علی بن ابی طالب (انظر: ۶۸۸)
Explanation
فوائد:… ممکن ہے کہ ایسی ایسی چیزوں سے مراد معصیت پر مشتمل کوئی نذر ہو یا ایسی نذر ہو جس کا ذکر کرنا مناسب نہ ہو، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو شیطان کی طرف منسوب کیا۔
5355
Zaeef
اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مانی گئی نذر کا اور اس کو پورا کرنے کے وجوب کا بیان، وہ جاہلیت میں مانی گئی ہو یا اسلام میں
۔ (۵۳۵۶)۔ عَنْ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی نَذَرْتُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ أَنْ أَعْتَکِفَ فِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ لَیْلَۃً، فَقَالَ لَہُ: ((فَأَوْفِ بِنَذْرِکَ۔)) (مسند أحمد: ۲۵۵)
۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں دورِ جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ میں مسجد حرام میں ایک رات اعتکاف کروں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی نذر کو پورا کرو۔
Takhreej
(۵۳۵۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۰۴۲، ومسلم: ۱۶۵۶(انظر: ۲۵۵)
Explanation
فوائد:… اعتکاف کے لیے نہ ماہِ رمضان ضروری ہے، نہ زیادہ ایام، اعتکاف کی درج ذیل تعریف پر غور کریں:
5356
Sahih
اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مانی گئی نذر کا اور اس کو پورا کرنے کے وجوب کا بیان، وہ جاہلیت میں مانی گئی ہو یا اسلام میں
۔ (۵۳۵۷)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنِ ابْنَۃِ کَرْدَمَۃَ عَنْ أَبِیہَا، أَنَّہُ سَأَلَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: إِنِّی نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ثَلَاثَۃً مِنْ إِبِلِی، فَقَالَ: ((إِنْ کَانَ عَلَی جَمْعٍ مِنْ جَمْعِ الْجَاہِلِیَّۃِ، أَوْ عَلَی عِیدٍ مِنْ أَعْیَادِ الْجَاہِلِیَّۃِ، أَوْ عَلَی وَثَنٍ فَلَا، وَإِنْ کَانَ عَلٰی غَیْرِ ذٰلِکَ فَاقْضِ نَذْرَکَ۔)) قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ عَلٰی أُمِّ ہٰذِہِ الْجَارِیَۃِ مَشْیًا أَفَتَمْشِیْ عَنْہَا، قَالَ: ((نَعَمْ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۵۸۳)
۔ بنت ِ کردمہ اپنے باپ سے روایت کرتی ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ سوال کیا: میں نے تین اونٹ نحر کرنے کی نذر مانی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر اس نذر کا تعلق جاہلیت کے کسی اکٹھ یا جاہلیت کی کسی عید کی مناسبت سے ہے یا کسی بت پر ہے تو اس کو پورا نہیں کیا جائے گا، اگر ان تین امور کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے ہے تو تواپنی نذر پوری کر۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس لڑکی کی ماں پر پیدل چلنے کی نذر ہے، کیا یہ لڑکی اس کی طرف سے چل سکتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں۔
Takhreej
(۵۳۵۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، عمرو بن شعیب لم یسمع من ابنۃ کردمۃ، أخرجہ ابوداود: ۳۳۱۵(انظر: ۲۳۱۹۶)
Explanation
فوائد:… جاہلیت کے اکٹھ سے مراد لوگوں کا جاہلیت کے رسم و رواج کے مطابق لہوو لعب کا اہتمام کرنا ہے،بت اور جاہلیت کی عید کے بارے میں مسئلہ ایسے ہی ہے۔
5357
Zaeef
اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مانی گئی نذر کا اور اس کو پورا کرنے کے وجوب کا بیان، وہ جاہلیت میں مانی گئی ہو یا اسلام میں
۔ (۵۳۵۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ یَزِیْدَ بْنِ مِقْسَمٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِیْ عَمَّتِیْ سَارَۃُ بِنْتُ مِقْسمٍ عَنْ مَیْمُوْنَۃَ بِنْتِ کَرْدَمٍ اَنَّ اَبَاھَا قَالَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : إِنِّی نَذَرْتُ أَنْ أَذْبَحَ عَدَدًا مِنَ الْغَنَمِ، قَالَ: لَا أَعْلَمُہُ إِلَّا قَالَ: خَمْسِینَ شَاۃً عَلٰی رَأْسِ بُوَانَۃَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ہَلْ عَلَیْہَا مِنْ ہٰذِہِ الْأَوْثَانِ شَیْئٌ؟)) قَالَ: لَا، قَالَ: ((فَأَوْفِ لِلّٰہِ بِمَا نَذَرْتَ لَہُ۔)) قَالَتْ: فَجَمَعَہَا أَبِی فَجَعَلَ یَذْبَحُہَا وَانْفَلَتَتْ مِنْہُ شَاۃٌ فَطَلَبَہَا وَہُوَ یَقُولُ: اللّٰہُمَّ أَوْفِ عَنِّی بِنَذْرِی حَتّٰی أَخَذَہَا فَذَبَحَہَا۔ (مسند أحمد: ۲۷۶۰۴)
۔ سیدنا کردم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کی کہ میں نے بوانہ مقام پر پچاس بکریاں ذبح کرنے کی نذر مانی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا وہاں ان بتوں میں سے کوئی بت ہے؟ میںنے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تم نے اللہ تعالیٰ کے لیے جو نذر مانی ہے، اس کو اس کے لیے پورا کرو۔ پس انھوں نے بکریاں جمع کر کے ان کو ذبح کرنا شروع کیا، ایک بکری بھاگ گئی، وہ اس کو پکڑنے کے لیے اس کے پیچھے دوڑنے لگے اور اس دوران وہ یہ کہہ رہے تھے: اے اللہ! میری نذر پوری کر دے، یہاں تک کہ انھوں نے اس کو پکڑ لیا اور ذبح کر دیا۔
Takhreej
(۵۳۵۸) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی ، أخرجہ ابوداود: ۳۳۱۴، وابن ماجہ (انظر: ۲۷۰۶۴)
5358
Sahih
اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مانی گئی نذر کا اور اس کو پورا کرنے کے وجوب کا بیان، وہ جاہلیت میں مانی گئی ہو یا اسلام میں
۔ (۵۳۵۹)۔ عَنْ مَیْمُونَۃَ بِنْتِ کَرْدَمٍ، عَنْ أَبِیہَا کَرْدَمِ بْنِ سُفْیَانَ أَنَّہُ سَأَلَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ نَذْرٍ نُذِرَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَ لِوَثَنٍ أَوْ لِنُصُبٍ؟۔)) قَالَ: لَا، وَلٰکِنْ لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، قَالَ: ((فَأَوْفِ لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، مَا جَعَلْتَ لَہُ انْحَرْ عَلٰی بُوَانَۃَ وَأَوْفِ بِنَذْرِکَ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۵۳۵)
۔ سیدنا کردم بن سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جاہلیت میں مانی گئی نذر کے بارے میں سوال کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا وہ کسی بت یا پتھر کے لیے تو نہیں تھی؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کے لیے تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر اللہ تعالیٰ کے لیے پورا کرو، جو کچھ تم نے مقرر کیا ہے، اس کو بوانہ پر نحر کرو اور اس طرح اپنی نذر پوری کرو۔
Takhreej
(۵۳۵۹) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ بنحوہ ابن ماجہ: ۲۱۳۱ (انظر: ۱۵۴۵۶)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ کے نام پر ذبح کرنے کی نذر قابل تعریف ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ محمود نذر کے لیے مقام کا تعین کیا جا سکتا ہے، لیکن وہ کوئی ایسی جگہ نہ ہو جس سے مشرکوں سے کوئی مشابہت لازم آتی ہو۔
5359
Sahih
اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مانی گئی نذر کا اور اس کو پورا کرنے کے وجوب کا بیان، وہ جاہلیت میں مانی گئی ہو یا اسلام میں
۔ (۵۳۶۰)۔ عن عَبْدِ اللّٰہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّ أَمَۃً سَوْدَائَ أَتَتْ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ رَجَعَ مِنْ بَعْضِ مَغَازِیہِ، فَقَالَتْ: إِنِّی کُنْتُ نَذَرْتُ إِنْ رَدَّکَ اللّٰہُ صَالِحًا أَنْ أَضْرِبَ عِنْدَکَ بِالدُّفِّ، قَالَ: ((إِنْ کُنْتِ فَعَلْتِ فَافْعَلِی، وَإِنْ کُنْتِ لَمْ تَفْعَلِی فَلَا تَفْعَلِی۔)) فَضَرَبَتْ فَدَخَلَ أَبُو بَکْرٍ وَہِیَ تَضْرِبُ، وَدَخَلَ غَیْرُہُ وَہِیَ تَضْرِبُ، ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ قَالَ: فَجَعَلَتْ دُفَّہَا خَلْفَہَا وَہِیَ مُقَنَّعَۃٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الشَّیْطَانَ لَیَفْرَقُ مِنْکَ یَا عُمَرُ! أَنَا جَالِسٌ ہَاہُنَا وَدَخَلَ ہٰؤُلَائِ فَلَمَّا أَنْ دَخَلْتَ فَعَلَتْ مَا فَعَلَتْ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۳۷۷)
۔ عبد اللہ بن بریدہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک غزوے سے واپس آئے تو سیاہ رنگ کی ایک لونڈی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو فاتح لوٹایا تو میں آپ کے پاس دف بجاؤں گی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر نذر مانی ہے تو ٹھیک ہے (دف بجا لے)، وگرنہ نہیں۔ اس نے دف بجانا شروع کیا، ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے، وہ بجاتی رہی، دوسرے صحابہ آئے، وہ اسی حالت پر رہی۔ لیکن جب سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے تو اس نے دف چھپانے کے لیے اسے اپنے نیچے رکھ دیا اور دوپٹا اوڑھ لیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عمر! شیطان تجھ سے ڈرتا ہے۔ میں اور یہ لوگ یہاں بیٹھے تھے(یہ دف بجاتی رہی) لیکن جب تم داخل ہوئے تو اس نے ایسے ایسے کر دیا۔
Takhreej
(۵۳۶۰) تخریج: اسنادہ قوی، أخرجہ الترمذی: ۳۶۹۰(انظر: ۲۲۹۸۹)
Explanation
فوائد:… اگرچہ اس موقع پر اس لونڈی کا دف بجانا جائز تھا، تبھی تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اجازت دی۔ یہ حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا رعب اور ہیبت تھی، جس کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی لحاظ کرتے تھے۔
5360
Sahih
اس نذر کو پورا کرنا نہیں ہے، جو معصیت میں ہو یا ایسی چیز میں ہو جو ابن آدم کی ملکیت میں نہ ہو
۔ (۵۳۶۱)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَتِ الْعَضْبَائُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِیْ عَقِیْلٍ، وَکانَتْ مِنْ سَوَابِقِ الْحَاجِّ، فَأُسِرَ الرَّجُلُ وَأُخِذَتِ الْعَضْبَائُ مَعَہُ… الْحَدِیْثَ وَفِیْہِ: وَحَبَسَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعَضْبَائَ لِرَحْلِہِ قَالَ: ثُمَّ إِنَّ الْمُشْرِکِینَ أَغَارُوْا عَلَی سَرْحِ الْمَدِینَۃِ، فَذَہَبُوا بِہَا وَکَانَتْ الْعَضْبَائُ فِیہِ، قَالَ: وَأَسَرُوا امْرَأَۃً مِنْ الْمُسْلِمِینَ، قَالَ: فَکَانُوا إِذَا نَزَلُوا أَرَاحُوا إِبِلَہُمْ بِأَفْنِیَتِہِمْ، قَالَ: فَقَامَتِ الْمَرْأَۃُ ذَاتَ لَیْلَۃٍ بَعْدَمَا نُوِّمُوا فَجَعَلَتْ کُلَّمَا أَتَتْ عَلَی بَعِیرٍ رَغَا حَتّٰی أَتَتْ عَلَی الْعَضْبَائِ، فَأَتَتْ عَلٰی نَاقَۃٍ ذَلُولٍ مُجَرَّسَۃٍ فَرَکِبَتْہَا ثُمَّ وَجَّہَتْہَا قِبَلَ الْمَدِینَۃِ، قَالَ: وَنَذَرَتْ إِنْ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْجَاہَا عَلَیْہَا لَتَنْحَرَنَّہَا، فَلَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِینَۃَ عُرِفَتْ النَّاقَۃُ فَقِیلَ نَاقَۃُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَأُخْبِرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَذْرِہَا أَوْ أَتَتْہُ فَأَخْبَرَتْہُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بِئْسَمَا جَزَتْہَا أَوْ بِئْسَمَا جَزَیْتِیہَا، إِنِ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی أَنْجَاہَا عَلَیْہَا لَتَنْحَرَنَّہَا۔)) قَالَ: ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا وَفَائَ لِنَذْرٍ فِی مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ، وَلَا فِیمَا لَا یَمْلِکُ ابْنُ آدَم۔)) (مسند أحمد: ۲۰۱۰۳)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ عضباء اونٹنی، بنو عقیل قبیلے کے آدمی کی تھی اور وہ حاجیوں کے قافلے سے آگے گرز جانے والی اونٹنی تھی، جب یہ بندہ قیدی ہو گیاور اس کی اونٹنی پکڑ لی گئی، …الحدیث، آگے چل کر اس حدیث میں ہے: رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس عضباء اونٹنی کو اپنی سواری کے لیے روک لیا، پھر جب مشرکوں نے مدینہ کے مویشیوں کو لوٹا تو ان میں یہ اونٹنی بھی تھی، انھوں نے ایک خاتون کو بھی قیدی کر لیا تھا، جب وہ راستے میںپڑاؤ ڈالتے تو اپنے اونٹوں کو اپنے صحنوں میں بٹھا دیتے، ایک رات کو ان کے سو چکنے کے بعد وہ خاتون اٹھ کر چل پڑی، جب وہ کسی اونٹ کے پاس آتی تو وہ آواز نکالتا، یہاں تک کہ وہ عضباء اونٹنی تک آ پہنچی، یہ ایک مطیع اور سدھائی ہوئی اونٹنی تھی، وہ اس پر سواری ہوئی اور اس کو مدینہ کی طرف متوجہ کیا اور اس نے یہ نذر بھی مان لی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو نجات دی تو وہ اس اونٹنی کو نحر کرے گی، جب وہ مدینہ پہنچی تو اس اونٹنی کو پہچان لیا گیا اور کہا جانے لگا: یہ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اونٹنی ہے، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کی نذر کا بتلایا گیا، یا جب وہ خاتون آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور اپنی نذر کے بارے میں بتلایا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے تو اس اونٹنی کو برا بدلہ دیا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو اس کے ذریعے نجارت دلا رہا ہے اور یہ اس کو نحر کرنے کی نذر مان رہی ہے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نذر کو پورا کرنا نہیں ہے، جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مانی گئی ہو اور جس کا آدمی مالک ہی نہ ہو۔
Takhreej
(۵۳۶۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۴۱(انظر: ۱۹۸۶۳)
Explanation
فوائد:… اس نذر کو پورا کرنا نہیں ہے، جس کا آدمی مالک نہ ہو۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی ایسی معین چیز کی نذر مانے، جس کا وہ مالک ہی نہ ہو، مثلا وہ یوں کہے: اگر اللہ تعالیٰ نے میرے مریض کو شفا دی تو میں فلاں آدمی کے غلام کو آزادکروں گا یا فلاں آدمی کے کپڑوں یا گھر کا صدقہ کروں گا۔
5361
Sahih
اس نذر کو پورا کرنا نہیں ہے، جو معصیت میں ہو یا ایسی چیز میں ہو جو ابن آدم کی ملکیت میں نہ ہو
۔ (۵۳۶۲)۔ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ أَخْبَرَنَا یُونُسُ قَالَ: نُبِّئْتُ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَۃَ جَائَ إِلَی الْحَسَنِ فَقَالَ: إِنَّ غُلَامًا لِی أَبَقَ فَنَذَرْتُ إِنْ أَنَا عَایَنْتُہُ أَنْ أَقْطَعَ یَدَہُ، فَقَدْ جَائَ فَہُوَ الْآنَ بِالْجِسْرِ، قَالَ: فَقَالَ الْحَسَنُ: لَا تَقْطَعْ یَدَہُ، وَحَدَّثَہُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ: إِنَّ عَبْدًا لِی أَبَقَ وَإِنِّی نَذَرْتُ إِنْ أَنَا عَایَنْتُہُ أَنْ أَقْطَعَ یَدَہُ، قَالَ: فَلَا تَقْطَعْ یَدَہُ، فَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَؤُمُّ فِینَا أَوْ قَالَ یَقُومُ فِینَا، فَیَأْمُرُنَا بِالصَّدَقَۃِ وَیَنْہَانَا عَنِ الْمُثْلَۃِ۔ (مسند أحمد: ۲۰۱۱۸)
۔ سیدنا مسور بن مخرمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ حسن بصری کے پاس آئے اور کہا: میرا ایک غلام بھاگ گیا تھا اور میں نے نذر مانی تھی کہ اگر میں نے اس کو دیکھ لیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دوں گا، اب وہ آ گیا ہے اور پل کے پاس ہے، انھوں نے کہا: تم اس کا ہاتھ نہ کاٹو، کیونکہ ایک آدمی نے سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: بیشک میرا ایک غلام بھاگ گیا ہے اور میں نے نذر مانی ہے کہ اگر میں نے اس کو دیکھ لیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دوں گا، انھوں نے کہا: تو اس کا ہاتھ نہ کاٹ، کیونکہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیںامامت کرواتے تھے یا ہمارے بیچ میں ٹھہرتے تھے تو ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیتے اور مثلہ سے منع کرتے تھے۔
Takhreej
(۵۳۶۲) حدیث حسن، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۸/ ۳۲۶، وابن حبان: ۴۴۷۳، ۵۶۱۶ (انظر:۱۹۸۷۷)
5362
Sahih
اس نذر کو پورا کرنا نہیں ہے، جو معصیت میں ہو یا ایسی چیز میں ہو جو ابن آدم کی ملکیت میں نہ ہو
۔ (۵۳۶۳)۔ عَنْ ہَیَّاجِ بْنِ عِمْرَانَ الْبُرْجُمِیِّ، أَنَّ غُلَامًا لِأَبِیہِ أَبَقَ، فَجَعَلَ لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَلَیْہِ، إِنْ قَدَرَ عَلَیْہِ أَنْ یَقْطَعَ یَدَہُ، قَالَ: فَقَدَرَ عَلَیْہِ قَالَ: فَبَعَثَنِی إِلٰی عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ، قَالَ: فَقَالَ أَقْرِئْ أَبَاکَ السَّلَامَ وَأَخْبِرْہُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَحُثُّ فِی خُطْبَتِہِ عَلَی الصَّدَقَۃِ، وَیَنْہٰی عَنِ الْمُثْلَۃِ، فَلْیُکَفِّرْ عَنْ یَمِینِہِ، وَیَتَجَاوَزْ عَنْ غُلَامِہِ، قَالَ: وَبَعَثَنِی إِلٰی سَمُرَۃَ، فَقَالَ: أَقْرِئْ أَبَاکَ السَّلَامَ وَأَخْبِرْہُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَحُثُّ فِی خُطْبَتِہِ عَلَی الصَّدَقَۃِ، وَیَنْہٰی عَنِ الْمُثْلَۃِ، فَلْیُکَفِّرْ عَنْ یَمِینِہِ وَیَتَجَاوَزْ عَنْ غُلَامِہِ۔ (مسند أحمد: ۲۰۰۸۶)
۔ ہیاج بن عمران برجمی کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ان کے باپ کا غلام بھاگ گیا اور انھوں نے نذر مانی کہ اگر وہ اس پر قادر آ گئے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے، پس وہ اس پر قادر آ گئے اور مجھے سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف بھیجا ، میں نے جب ان کے پاس جا کر ان کو ساری بات بتلائی تو انھوں نے کہا: اپنے ابو جان کو میرا سلام کہنا اور بتلانا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے خطبے میں صدقہ کرنے کی ترغیب دلاتے تھے اور مثلہ کرنے سے منع کرتے تھے، اس لیے تیرے باپ کو چاہیے کہ وہ اپنی نذر کا کفارہ دے دے اور اپنے غلام کو معاف کر دے۔ پھر میرے باپ نے مجھے سیدہ سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بھیج دیا، انھوں نے جواباً کہا: ابو جان کو سلام کہنا اور ان کو بتلانا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے خطبے میں صدقہ کی ترغیب دلاتے تھے اور مثلہ سے منع کرتے تھے، لہذا ان کو چاہیے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دیں اور اپنے غلام کو معاف کر دیں۔
Takhreej
(۵۳۶۳) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۲۶۶۷(انظر: ۱۹۸۴۶)
Explanation
فوائد:… آخری جملہ صحابی کا کلام ہے۔
5363
Sahih
اس نذر کو پورا کرنا نہیں ہے، جو معصیت میں ہو یا ایسی چیز میں ہو جو ابن آدم کی ملکیت میں نہ ہو
۔ (۵۳۶۴)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا طَلَاقَ فِیْمَا لَا تَمْلِکُوْنَ وَلَا نَذَرَ فِیْمَا لَا تَمْلِکُوْنَ، وَلَا نَذَرَ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۶۹۳۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس چیز کے تم مالک نہیں ہو، اس میںتمہاری کوئی طلاق نہیں، جس چیز کے تم مالک نہیں ہو، اس میں نذر نہیں مانی جاتی اور اللہ تعالیٰ کی معصیت میں بھی نذر نہیں مانی جاتی۔
Takhreej
(۵۳۶۴) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ أبوداود: ۳۲۷۴، والترمذی: ۱۱۸۱، والنسائی: ۷/۲۸۸، وابن ماجہ: ۲۰۴۷(انظر: ۶۹۳۲)
5364
Sahih
اس نذر کو پورا کرنا نہیں ہے، جو معصیت میں ہو یا ایسی چیز میں ہو جو ابن آدم کی ملکیت میں نہ ہو
۔ (۵۳۶۵)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا نَذَرَ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَکَفَّارَتُہٗ کَفَّارَۃُ یَمِیْنٍ)) (مسند أحمد: ۲۶۶۲۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی معصیت کوئی نذر نہیں ہے اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔
Takhreej
(۵۳۶۵) حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۳۲۹۱، وابن ماجہ: ۲۱۲۵، والنسائی: ۷/۲۶(انظر: ۲۶۰۹۸)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نذرِ معصیت کا کفارہ ادا کرنا پڑے گا، نذر کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے، ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۵۳۳۸)والا باب ۔
5365
Sahih
اس نذر کو پورا کرنا نہیں ہے، جو معصیت میں ہو یا ایسی چیز میں ہو جو ابن آدم کی ملکیت میں نہ ہو
۔ (۵۳۶۶)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا وَفَائَ لِنَذْرٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۲۱۴)(وَبِالسَّنَدِ الْمُتَقَدِّمِ) قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ، أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللّٰہِ یَقُولُ: لَا وَفَائَ لِنَذْرٍ فِی مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَمْ یَرْفَعَاہُ۔ (مسند أحمد: ۱۴۲۱۵)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مانی گئی نذر کو پورا کرنا نہیںہے۔
Takhreej
(۵۳۶۶) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۱۴۱۶۷)
5366
Sahih
اس نذر کو پورا کرنا نہیں ہے، جو معصیت میں ہو یا ایسی چیز میں ہو جو ابن آدم کی ملکیت میں نہ ہو
۔ (۵۳۶۷)۔ عَنْ ثَابِتِ بْنِ ضَحَّاکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ عَلٰی رَجُلٍ نَذْرٌ فِیْمَا لَا یَمْلِکُ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۵۰۲)
۔ سیدنا ثابت بن ضحاک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی جس چیز کا مالک نہ ہو، اس پر اس میں کوئی نذر نہیں ہوتی۔
Takhreej
(۵۳۶۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۰۴۷، ومسلم: ۱۱۰(انظر: ۱۶۳۸۹)
5367
Sahih
اس نذر کو پورا کرنا نہیں ہے، جو معصیت میں ہو یا ایسی چیز میں ہو جو ابن آدم کی ملکیت میں نہ ہو
۔ (۵۳۶۸)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ مَا قَامَ فِینَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطِیبًا إِلَّا أَمَرَنَا بِالصَّدَقَۃِ وَنَہَانَا عَنِ الْمُثْلَۃِ قَالَ وَقَالَ أَلَا وَإِنَّ مِنَ الْمُثْلَۃِ أَنْ یَنْذُرَ الرَّجُلُ أَنْ یَخْرِمَ أَنْفَہُ أَلَا وَإِنَّ مِنَ الْمُثْلَۃِ أَنْ یَنْذُرَ الرَّجُلُ أَنْ یَحُجَّ مَاشِیًا فَلْیُہْدِ ہَدْیًا وَلْیَرْکَبْ (مسند أحمد: ۲۰۰۹۷)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بھی ہم میں خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صدقہ کرنے کا حکم دیا اور مثلہ کرنے سے منع کیا۔ پھر انھوں نے کہا: خبردار! یہ مثلہ ہے کہ آدمی یہ نذر مانے کہ وہ اپنے غلام کی ناک کاٹ دے گا،یہ بھی مثلہ ہے کہ آدمی پیدل حج کرنے کی نذر مانے، اس کو چاہیے کہ وہ ایک دم دے (جانور ذبح کرے) اور سوار ہو جائے۔
Takhreej
(۵۳۶۸) تخریج: صحیح دون قولہ: وان من المثلۃ …۔ وھذا اسناد ضعیف، الحسن البصری لم یسمع من عمران، وصالح بن رستم وکثیر بن شنظیر فیھما کلام، وقد تفردا بقولہ وان من المثلۃ … ، أخرجہ ابن حبان: ۴۴۷۳، والطبرانی فی الکبیر : ۱۸/ ۳۲۶(انظر: ۱۹۸۵۷)
5368
Sahih
مباح یا غیر مشروع یا ایسی نذر ماننے والے کا بیان، جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو اور اس کا کفارہ
۔ (۵۳۶۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ:ٔ جَائَ تِ امْرَأَۃٌ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ أُخْتِی نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِیَۃً، قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ لَا یَصْنَعُ بِشَقَائِ أُخْتِکِ شَیْئًا لِتَخْرُجْ رَاکِبَۃً وَلْتُکَفِّرْ عَنْ یَمِینِہَا۔)) (مسند أحمد: ۲۸۲۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ ایک خاتون نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری بہن نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تیری بہن کی بدحالی کے ساتھ کوئی معاملہ سر انجام نہیں دینا، اس کو چاہیے کہ وہ سوار ہو کر جائے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔
Takhreej
(۵۳۶۹) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ ابوداود: ۳۲۹۵ (انظر: ۲۸۲۸)
Explanation
فوائد:… نذر کو قسم کہنے کی وجہ یہ ہے کہ نذر ماننے والا اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے اوپر ایک چیز کو لازم کر لیتا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھانے والا کسی چیز کواپنے لیے لازم کر لیتا ہے۔
5369
Sahih
مباح یا غیر مشروع یا ایسی نذر ماننے والے کا بیان، جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو اور اس کا کفارہ
۔ (۵۳۷۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سَأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: إِنَّ أُخْتَہُ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِیَ إِلَی الْبَیْتِ وَشَکَا إِلَیْہِ ضَعْفَہَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنْ نَذْرِ أُخْتِکَ فَلْتَرْکَبْ وَلْتُہْدِ بَدَنَۃً۔)) (مسند أحمد: ۲۱۳۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ اس کی بہن بیت اللہ کی طرف پیدل چل کر جانے کی نذر مانی ہے، ساتھ ہی انھوں نے اس کی کمزور کا ذکر کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تیری بہن کی اس نذر سے غنی ہے، اس لیے اس کو چاہیے کہ وہ سوار ہو جائے اور ایک اونٹ بطورِ دم پیش کرے۔
Takhreej
(۵۳۷۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۴۵(انظر: ۲۱۳۴)
Explanation
فوائد:… ابو داود کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: فَأَمَرَھَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ تَرْکَبَ وَتُھْدِیَ ھَدْیًا۔ … پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کوحکم دیا کہ وہ سوار ہو جائے اور ایک قربانی کرے۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ اونٹ، گائے اور بکری میں کسی ایک کی قربانی کفایت کرے گی ، کیونکہ ہدی کا اطلاق ان سب پر ہوتا ہے۔
5370
Zaeef
مباح یا غیر مشروع یا ایسی نذر ماننے والے کا بیان، جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو اور اس کا کفارہ
۔ (۵۳۷۱)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَدْرَکَ شَیْخًا یَمْشِی بَیْنَ ابْنَیْہِ مُتَوَکِّئًا عَلَیْہِمَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا شَأْنُ ہٰذَا الشَّیْخِ؟)) قَالَ ابْنَاہُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! کَانَ عَلَیْہِ نَذْرٌ، فَقَالَ لَہُ: ((ارْکَبْ أَیُّہَا الشَّیْخُ، فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ غَنِیٌّ عَنْکَ وَعَنْ نَذْرِکَ۔)) (مسند أحمد: ۸۸۴۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک بزرگ کو اس حال میں پایا کہ وہ اپنے دو بیٹوں کا سہارا لے کر چل رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: اس بزرگ کا کیا معاملہ ہے؟ اس کے بیٹوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان پر پیدل چلنے کی نذر تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: او بزرگا! سوار ہو جا، پس بیشک اللہ تعالیٰ تجھ سے اور تیری نذر سے غنی ہے۔
Takhreej
(۵۳۷۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۴۳(انظر: ۸۸۵۹)
5371
Sahih
مباح یا غیر مشروع یا ایسی نذر ماننے والے کا بیان، جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو اور اس کا کفارہ
۔ (۵۳۷۲)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَغَنِیٌّ اَنْ یُعَذِّبَ ھٰذَا نَفْسَہٗ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۰۶۱)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اس سے غنی ہے کہ یہ آدمی اپنے آپ کو عذاب دے۔
Takhreej
(۵۳۷۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۸۶۵، ومسلم: ۱۶۴۲(انظر: ۱۲۰۳۸)
5372
Sahih
مباح یا غیر مشروع یا ایسی نذر ماننے والے کا بیان، جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو اور اس کا کفارہ
۔ (۵۳۷۳)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ الْجُہَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ: إِنَّ أُخْتِی نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِیَ إِلٰی بَیْتِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، فَأَمَرَتْنِی أَنْ أَسْتَفْتِیَ لَہَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَاسْتَفْتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((لِتَمْشِ وَلْتَرْکَبْ۔)) قَالَ: وَکَانَ أَبُو الْخَیْرِ لَا یُفَارِقُ عُقْبَۃَ۔ (مسند أحمد: ۱۷۵۲۱)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری بہن نے بیت اللہ کی طرف پیدل چل کر جانے کی نذر مانی اور مجھے حکم دیا کہ میں اس کے بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کروں، پس جب میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ چل بھی سکتی ہے اور سوار بھی ہو سکتی ہے۔ ابو الخیر راوی اپنے شیخ سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے جدا نہیں ہوتے تھے۔
Takhreej
(۵۳۷۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۴۴(انظر: ۱۷۳۸۶)
Explanation
فوائد:… پہلے یہ حدیث گزر چکی ہے، جس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حتمی طور پر پیدل چلنے والے کو سوار ہونے کا حکم دیا تھا، جبکہ اس حدیث میں پیدل چلنے اور سوار ہو جانے کا اختیار دے رہے ہیں، جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ وہ بوڑھا ہونے کی وجہ سے عاجز تھا، جبکہ سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بہن چلنے پر قدرت رکھتی تھی۔
5373
Sahih

Chapters

8