۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے کی نذر مانی تو وہ اس کی اطاعت کرے اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے کی نذر مانی تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے۔
فوائد:… نافرمانی ہر حال میں بہت بری ہے اور نذر مان کر نافرمانی کرنا مزید قبیح ہے، نذر ماننے سے کوئی برائی نیکی نہیں بن سکتی، لہذا نذر کے بہانے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنا جائز نہ ہو گا، بلکہ مزید گناہ ہو گا، اس لیے نافرمانی کی نذر پوری نہ کی جائے، بلکہ اس کا کفارہ دے دیا جائے۔
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں نے اپنی اونٹنی کو نحر کرنے کی اور ایسی ایسی چیز وں کی نذر مانی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رہا مسئلہ تیری اونٹنی کا تو اس کو تو نحر کر دے اور رہا مسئلہ ایسی ایسی چیزوں کا تو وہ شیطان کی طرف سے ہیں۔
Takhreej
(۵۳۵۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف جابر بن یزید الجعفی، وعلی بن حسین لم یدرک جدہ علی بن ابی طالب (انظر: ۶۸۸)
Explanation
فوائد:… ممکن ہے کہ ایسی ایسی چیزوں سے مراد معصیت پر مشتمل کوئی نذر ہو یا ایسی نذر ہو جس کا ذکر کرنا مناسب نہ ہو، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو شیطان کی طرف منسوب کیا۔
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں دورِ جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ میں مسجد حرام میں ایک رات اعتکاف کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی نذر کو پورا کرو۔
۔ بنت ِ کردمہ اپنے باپ سے روایت کرتی ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سوال کیا: میں نے تین اونٹ نحر کرنے کی نذر مانی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اس نذر کا تعلق جاہلیت کے کسی اکٹھ یا جاہلیت کی کسی عید کی مناسبت سے ہے یا کسی بت پر ہے تو اس کو پورا نہیں کیا جائے گا، اگر ان تین امور کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے ہے تو تواپنی نذر پوری کر۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس لڑکی کی ماں پر پیدل چلنے کی نذر ہے، کیا یہ لڑکی اس کی طرف سے چل سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔
Takhreej
(۵۳۵۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، عمرو بن شعیب لم یسمع من ابنۃ کردمۃ، أخرجہ ابوداود: ۳۳۱۵(انظر: ۲۳۱۹۶)
Explanation
فوائد:… جاہلیت کے اکٹھ سے مراد لوگوں کا جاہلیت کے رسم و رواج کے مطابق لہوو لعب کا اہتمام کرنا ہے،بت اور جاہلیت کی عید کے بارے میں مسئلہ ایسے ہی ہے۔
۔ سیدنا کردم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی کہ میں نے بوانہ مقام پر پچاس بکریاں ذبح کرنے کی نذر مانی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا وہاں ان بتوں میں سے کوئی بت ہے؟ میںنے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم نے اللہ تعالیٰ کے لیے جو نذر مانی ہے، اس کو اس کے لیے پورا کرو۔ پس انھوں نے بکریاں جمع کر کے ان کو ذبح کرنا شروع کیا، ایک بکری بھاگ گئی، وہ اس کو پکڑنے کے لیے اس کے پیچھے دوڑنے لگے اور اس دوران وہ یہ کہہ رہے تھے: اے اللہ! میری نذر پوری کر دے، یہاں تک کہ انھوں نے اس کو پکڑ لیا اور ذبح کر دیا۔
۔ سیدنا کردم بن سفیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جاہلیت میں مانی گئی نذر کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا وہ کسی بت یا پتھر کے لیے تو نہیں تھی؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کے لیے تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اللہ تعالیٰ کے لیے پورا کرو، جو کچھ تم نے مقرر کیا ہے، اس کو بوانہ پر نحر کرو اور اس طرح اپنی نذر پوری کرو۔
فوائد:… اللہ تعالیٰ کے نام پر ذبح کرنے کی نذر قابل تعریف ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ محمود نذر کے لیے مقام کا تعین کیا جا سکتا ہے، لیکن وہ کوئی ایسی جگہ نہ ہو جس سے مشرکوں سے کوئی مشابہت لازم آتی ہو۔
۔ عبد اللہ بن بریدہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک غزوے سے واپس آئے تو سیاہ رنگ کی ایک لونڈی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو فاتح لوٹایا تو میں آپ کے پاس دف بجاؤں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر نذر مانی ہے تو ٹھیک ہے (دف بجا لے)، وگرنہ نہیں۔ اس نے دف بجانا شروع کیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، وہ بجاتی رہی، دوسرے صحابہ آئے، وہ اسی حالت پر رہی۔ لیکن جب سیدناعمر رضی اللہ عنہ آئے تو اس نے دف چھپانے کے لیے اسے اپنے نیچے رکھ دیا اور دوپٹا اوڑھ لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمر! شیطان تجھ سے ڈرتا ہے۔ میں اور یہ لوگ یہاں بیٹھے تھے(یہ دف بجاتی رہی) لیکن جب تم داخل ہوئے تو اس نے ایسے ایسے کر دیا۔
فوائد:… اگرچہ اس موقع پر اس لونڈی کا دف بجانا جائز تھا، تبھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت دی۔ یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا رعب اور ہیبت تھی، جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی لحاظ کرتے تھے۔
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عضباء اونٹنی، بنو عقیل قبیلے کے آدمی کی تھی اور وہ حاجیوں کے قافلے سے آگے گرز جانے والی اونٹنی تھی، جب یہ بندہ قیدی ہو گیاور اس کی اونٹنی پکڑ لی گئی، …الحدیث، آگے چل کر اس حدیث میں ہے: رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عضباء اونٹنی کو اپنی سواری کے لیے روک لیا، پھر جب مشرکوں نے مدینہ کے مویشیوں کو لوٹا تو ان میں یہ اونٹنی بھی تھی، انھوں نے ایک خاتون کو بھی قیدی کر لیا تھا، جب وہ راستے میںپڑاؤ ڈالتے تو اپنے اونٹوں کو اپنے صحنوں میں بٹھا دیتے، ایک رات کو ان کے سو چکنے کے بعد وہ خاتون اٹھ کر چل پڑی، جب وہ کسی اونٹ کے پاس آتی تو وہ آواز نکالتا، یہاں تک کہ وہ عضباء اونٹنی تک آ پہنچی، یہ ایک مطیع اور سدھائی ہوئی اونٹنی تھی، وہ اس پر سواری ہوئی اور اس کو مدینہ کی طرف متوجہ کیا اور اس نے یہ نذر بھی مان لی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو نجات دی تو وہ اس اونٹنی کو نحر کرے گی، جب وہ مدینہ پہنچی تو اس اونٹنی کو پہچان لیا گیا اور کہا جانے لگا: یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی ہے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی نذر کا بتلایا گیا، یا جب وہ خاتون آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اپنی نذر کے بارے میں بتلایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے تو اس اونٹنی کو برا بدلہ دیا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو اس کے ذریعے نجارت دلا رہا ہے اور یہ اس کو نحر کرنے کی نذر مان رہی ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نذر کو پورا کرنا نہیں ہے، جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مانی گئی ہو اور جس کا آدمی مالک ہی نہ ہو۔
Takhreej
(۵۳۶۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۴۱(انظر: ۱۹۸۶۳)
Explanation
فوائد:… اس نذر کو پورا کرنا نہیں ہے، جس کا آدمی مالک نہ ہو۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی ایسی معین چیز کی نذر مانے، جس کا وہ مالک ہی نہ ہو، مثلا وہ یوں کہے: اگر اللہ تعالیٰ نے میرے مریض کو شفا دی تو میں فلاں آدمی کے غلام کو آزادکروں گا یا فلاں آدمی کے کپڑوں یا گھر کا صدقہ کروں گا۔
۔ سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ حسن بصری کے پاس آئے اور کہا: میرا ایک غلام بھاگ گیا تھا اور میں نے نذر مانی تھی کہ اگر میں نے اس کو دیکھ لیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دوں گا، اب وہ آ گیا ہے اور پل کے پاس ہے، انھوں نے کہا: تم اس کا ہاتھ نہ کاٹو، کیونکہ ایک آدمی نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے کہا: بیشک میرا ایک غلام بھاگ گیا ہے اور میں نے نذر مانی ہے کہ اگر میں نے اس کو دیکھ لیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دوں گا، انھوں نے کہا: تو اس کا ہاتھ نہ کاٹ، کیونکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیںامامت کرواتے تھے یا ہمارے بیچ میں ٹھہرتے تھے تو ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیتے اور مثلہ سے منع کرتے تھے۔
۔ ہیاج بن عمران برجمی کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ان کے باپ کا غلام بھاگ گیا اور انھوں نے نذر مانی کہ اگر وہ اس پر قادر آ گئے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے، پس وہ اس پر قادر آ گئے اور مجھے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا ، میں نے جب ان کے پاس جا کر ان کو ساری بات بتلائی تو انھوں نے کہا: اپنے ابو جان کو میرا سلام کہنا اور بتلانا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خطبے میں صدقہ کرنے کی ترغیب دلاتے تھے اور مثلہ کرنے سے منع کرتے تھے، اس لیے تیرے باپ کو چاہیے کہ وہ اپنی نذر کا کفارہ دے دے اور اپنے غلام کو معاف کر دے۔ پھر میرے باپ نے مجھے سیدہ سمرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا، انھوں نے جواباً کہا: ابو جان کو سلام کہنا اور ان کو بتلانا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خطبے میں صدقہ کی ترغیب دلاتے تھے اور مثلہ سے منع کرتے تھے، لہذا ان کو چاہیے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دیں اور اپنے غلام کو معاف کر دیں۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس چیز کے تم مالک نہیں ہو، اس میںتمہاری کوئی طلاق نہیں، جس چیز کے تم مالک نہیں ہو، اس میں نذر نہیں مانی جاتی اور اللہ تعالیٰ کی معصیت میں بھی نذر نہیں مانی جاتی۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی معصیت کوئی نذر نہیں ہے اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مانی گئی نذر کو پورا کرنا نہیںہے۔
۔ سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی جس چیز کا مالک نہ ہو، اس پر اس میں کوئی نذر نہیں ہوتی۔
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی ہم میں خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ کرنے کا حکم دیا اور مثلہ کرنے سے منع کیا۔ پھر انھوں نے کہا: خبردار! یہ مثلہ ہے کہ آدمی یہ نذر مانے کہ وہ اپنے غلام کی ناک کاٹ دے گا،یہ بھی مثلہ ہے کہ آدمی پیدل حج کرنے کی نذر مانے، اس کو چاہیے کہ وہ ایک دم دے (جانور ذبح کرے) اور سوار ہو جائے۔
Takhreej
(۵۳۶۸) تخریج: صحیح دون قولہ: وان من المثلۃ …۔ وھذا اسناد ضعیف، الحسن البصری لم یسمع من عمران، وصالح بن رستم وکثیر بن شنظیر فیھما کلام، وقد تفردا بقولہ وان من المثلۃ … ، أخرجہ ابن حبان: ۴۴۷۳، والطبرانی فی الکبیر : ۱۸/ ۳۲۶(انظر: ۱۹۸۵۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری بہن نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تیری بہن کی بدحالی کے ساتھ کوئی معاملہ سر انجام نہیں دینا، اس کو چاہیے کہ وہ سوار ہو کر جائے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔
فوائد:… نذر کو قسم کہنے کی وجہ یہ ہے کہ نذر ماننے والا اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے اوپر ایک چیز کو لازم کر لیتا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھانے والا کسی چیز کواپنے لیے لازم کر لیتا ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ اس کی بہن بیت اللہ کی طرف پیدل چل کر جانے کی نذر مانی ہے، ساتھ ہی انھوں نے اس کی کمزور کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تیری بہن کی اس نذر سے غنی ہے، اس لیے اس کو چاہیے کہ وہ سوار ہو جائے اور ایک اونٹ بطورِ دم پیش کرے۔
Takhreej
(۵۳۷۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۴۵(انظر: ۲۱۳۴)
Explanation
فوائد:… ابو داود کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: فَأَمَرَھَا النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَنْ تَرْکَبَ وَتُھْدِیَ ھَدْیًا۔ … پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کوحکم دیا کہ وہ سوار ہو جائے اور ایک قربانی کرے۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ اونٹ، گائے اور بکری میں کسی ایک کی قربانی کفایت کرے گی ، کیونکہ ہدی کا اطلاق ان سب پر ہوتا ہے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک بزرگ کو اس حال میں پایا کہ وہ اپنے دو بیٹوں کا سہارا لے کر چل رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اس بزرگ کا کیا معاملہ ہے؟ اس کے بیٹوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان پر پیدل چلنے کی نذر تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: او بزرگا! سوار ہو جا، پس بیشک اللہ تعالیٰ تجھ سے اور تیری نذر سے غنی ہے۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اس سے غنی ہے کہ یہ آدمی اپنے آپ کو عذاب دے۔
۔ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری بہن نے بیت اللہ کی طرف پیدل چل کر جانے کی نذر مانی اور مجھے حکم دیا کہ میں اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کروں، پس جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ چل بھی سکتی ہے اور سوار بھی ہو سکتی ہے۔ ابو الخیر راوی اپنے شیخ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے جدا نہیں ہوتے تھے۔
Takhreej
(۵۳۷۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۴۴(انظر: ۱۷۳۸۶)
Explanation
فوائد:… پہلے یہ حدیث گزر چکی ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حتمی طور پر پیدل چلنے والے کو سوار ہونے کا حکم دیا تھا، جبکہ اس حدیث میں پیدل چلنے اور سوار ہو جانے کا اختیار دے رہے ہیں، جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ وہ بوڑھا ہونے کی وجہ سے عاجز تھا، جبکہ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ کی بہن چلنے پر قدرت رکھتی تھی۔