مسنداحمد

Musnad Ahmad

نذر کے ابواب

ٓپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان غصے میں کوئی نذر نہیں ہے اور اس کا کفارہ قسم والا کفارہ ہے کا بیان

۔ (۵۳۸۰)۔ مُحَمَّدُ بْنُ الزُّبَیْرِ: حَدَّثَنِی أَبِی، أَنَّ رَجُلًا حَدَّثَہُ أَنَّہُ سَأَلَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍ عَنْ رَجُلٍ نَذَرَ أَنْ لَا یَشْہَدَ الصَّلَاۃَ فِی مَسْجِدٍ، فَقَالَ عِمْرَانُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَا نَذْرَ فِی غَضَبٍ وَکَفَّارَتُہُ کَفَّارَۃُ یَمِینٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۱۹۷)

۔ ایک آدمی نے سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا، جس نے مسجد میں نماز کے لیے حاضر نہ ہونے کی نذر مانی، سیدناعمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: غصے میں کوئی نذر نہیں ہے اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔

۔ (۵۳۸۱)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّمَا النَّذْرُ یَمِینٌ کَفَّارَتُہَا کَفَّارَۃُ الْیَمِینِِِِِ)) (مسند أحمد: ۱۷۴۷۳)

۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نذر تو قسم ہی ہے، اس لیے اس کا کفارہ بھی نذر والا کفارہ ہے ۔