۔ (۵۳۸۳)۔ عَنْ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ رضی اللہ عنہ اَنَّہٗ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ مِنْ تَوْبَتِی أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِی صَدَقَۃً إِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی وَإِلٰی رَسُولِہِ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((أَمْسِکْ بَعْضَ مَالِکَ فَہُوَ خَیْرٌ لَکَ۔)) قَالَ: فَقُلْتُ: إِنِّی أُمْسِکُ سَہْمِی الَّذِی بِخَیْبَرَ۔ (مسند أحمد: ۲۷۷۱۷)
۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میری توبہ کے قبول ہونے کا تقاضا ہے کہ میں اپنے مال کے بیچ سے نکل جاؤں اور اس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ کردوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کچھ مال اپنے پاس رہنے دو، اس میں تمہارے لیے بہتری ہو گی۔ میں نے کہا: تو پھر میں وہ حصہ اپنے پاس رکھ لیتا ہوں،جو مجھے خیبر میںملا تھا۔
Takhreej
(۵۳۸۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۹۵۰، ۳۸۸۹، ۴۶۷۶، ومسلم: ۲۷۶۹(انظر: ۲۷۱۷۵)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میںنذر کی وضاحت تو نہیں ہے، لیکن جب سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے قبولیت ِ توبہ کی وجہ سے
5383
Sahih