مسنداحمد

Musnad Ahmad

نذر کے ابواب

اس شخص کا بیان جس نے سارا مال صدقہ کر دینے کی نذر مانی

۔ (۵۳۸۳)۔ عَنْ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہٗ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ مِنْ تَوْبَتِی أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِی صَدَقَۃً إِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی وَإِلٰی رَسُولِہِ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَمْسِکْ بَعْضَ مَالِکَ فَہُوَ خَیْرٌ لَکَ۔)) قَالَ: فَقُلْتُ: إِنِّی أُمْسِکُ سَہْمِی الَّذِی بِخَیْبَرَ۔ (مسند أحمد: ۲۷۷۱۷)

۔ سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میری توبہ کے قبول ہونے کا تقاضا ہے کہ میں اپنے مال کے بیچ سے نکل جاؤں اور اس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ کردوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کچھ مال اپنے پاس رہنے دو، اس میں تمہارے لیے بہتری ہو گی۔ میں نے کہا: تو پھر میں وہ حصہ اپنے پاس رکھ لیتا ہوں،جو مجھے خیبر میںملا تھا۔

۔ (۵۳۸۴)۔ عَنِ الْحُسَیْنِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِی لُبَابَۃَ أَخْبَرَ أَنَّ أَبَا لُبَابَۃَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ لَمَّا تَابَ اللّٰہُ عَلَیْہِ قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ مِنْ تَوْبَتِی أَنْ أَہْجُرَ دَارَ قَوْمِی وَأُسَاکِنَکَ، وَإِنِّی أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِی صَدَقَۃً لِلّٰہِ وَلِرَسُولِہِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُجْزِئُ عَنْکَ الثُّلُثُ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۱۷۸)

۔ سیدنا ابو لبابہ بن عبد المنذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میرے توبہ قبول ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ میں اپنی قوم کا علاقہ چھوڑ کر آپ کے پاس رہوں اوراپنے مال کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ کرتے ہوئے اس کے بیچ سے نکل جاؤں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک تہائی مال کا صدقہ تجھ سے کفایت کرے گا۔