مسنداحمد

Musnad Ahmad

نذر کے ابواب

نذر ماننے سے ممانعت کا بیان اور اس چیز کی وضاحت کہ نذر تقدیر میں سے کسی چیز کو ردّ نہیں کر سکتی

۔ (۵۳۸۵)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: لَا یَأْتِی النَّذْرُ عَلَی ابْنِ آدَمَ بِشَیْئٍ لَمْ أُقَدِّرْہُ عَلَیْہِ، وَلٰکِنَّہُ شَیْئٌ أَسْتَخْرِجُ بِہِ مِنَ الْبَخِیلِ یُؤْتِینِی عَلَیْہِ مَا لَا یُؤْتِینِی عَلَی الْبُخْلِ۔)) (مسند أحمد: ۷۲۹۵)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: نذر، ابن آدم کے حق میں وہ چیز نہیں لاتی، جو میں نے اس کے مقدّر میں نہیں لکھی ہوتی، بلکہ میں اس کے ذریعے بخیل سے مال نکال لیتا ہوں، کیونکہ وہ اس کے ذریعے مجھے وہ چیز دے دیتا ہے، جو عام حالات میں بخل کی وجہ سے نہیں دیتا۔

۔ (۵۳۸۶)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا) أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنِ النَّذْرِ وَقَالَ: ((إِنَّہُ لَا یُقَدِّمُ شَیْئًا وَلٰکِنَّہُ یَسْتَخْرِجُ مِنْ الْبَخِیلِ۔)) وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: یُسْتَخْرَجُ بِہِ مِنْ الْبَخِیلِ۔ (مسند أحمد: ۷۲۰۷)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نذر سے منع کیا اور فرمایا: بیشک یہ کسی چیز کو مقدم نہیں کرتی، البتہ بخیل سے کچھ مال نکال لیتی ہے۔

۔ (۵۳۸۷)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تَنْذِرُوا فَإِنَّ النَّذْر لَا یَرُدُّ شَیْئًا مِنَ الْقَدَرِ، وَإِنَّمَا یُسْتَخْرَجُ بِہِ مِنَ الْبَخِیلِ۔)) (مسند أحمد: ۹۹۶۴)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نذر نہ مانا کرو، کیونکہ نذر تقدیر میں سے کسی چیز کا ردّ نہیں کرتی، البتہ اس کے ذریعے بخیل سے مال نکال لیا جاتا ہے۔

۔ (۵۳۸۸)۔ عَنِ ابْنِ عَمَرَ عَنِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہ۔ (مسند أحمد: ۵۲۷۵)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔