TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مسجد ِ اقصی میں نماز کی ادائیگی کی نذر ماننے کو یہ عمل کافی ہو گا کہ وہ مسجد ِ حرام یا مسجد ِ نبوی میں نماز پڑھ لے - مسجد ِ اقصی میں نماز کی ادائیگی کی نذر ماننے کو یہ عمل کافی ہو گا کہ وہ مسجد ِ حرام یا مسجد ِ نبوی میں نماز پڑھ لے - نذر کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 8 of نذر کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 8 of 8 · 7 Hadith
۔ (۵۳۹۰)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ وَعَنْ رِجَالٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ جَائَ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْفَتْحِ، وَالنَّبِیُّ فِی مَجْلِسٍ قَرِیبٍ مِنَ الْمَقَامِ، فَسَلَّمَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! إِنِّی نَذَرْتُ لَئِنْ فَتَحَ اللّٰہُ لِلنَّبِیِّ وَالْمُؤْمِنِینَ مَکَّۃَ لَأُصَلِّیَنَّ فِی بَیْتِ الْمَقْدِسِ، وَإِنِّی وَجَدْتُ رَجُلًا مِنْ أَہْلِ الشَّامِ ہَاہُنَا فِی قُرَیْشٍ مُقْبِلًا مَعِی وَمُدْبِرًا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ہَاہُنَا فَصَلِّ)) فَقَالَ الرَّجُلُ قَوْلَہُ ہٰذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، کُلَّ ذٰلِکَ یَقُولُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ہَاہُنَا فَصَلِّ۔)) ثُمَّ قَالَ الرَّابِعَۃَ مَقَالَتَہُ ہٰذِہِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اذْہَبْ فَصَلِّ فِیہِ، فَوَالَّذِی بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ! لَوْ صَلَّیْتَ ہَاہُنَا لَقَضٰی عَنْکَ ذٰلِکَ کُلَّ صَلَاۃٍ فِی بَیْتِ الْمَقْدِسِ)) (مسند أحمد: ۲۳۵۵۶)
۔ کچھ انصاری صحابہ سے مروی ہے کہ انصاری آدمی فتح مکہ والے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مقام ابراہیم کے قریب ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سلام کیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور مومنوں کو مکہ کی فتح عطا کی تو میں بیت المقدس میں جا کر نماز پڑھوں گا، اور اب مجھے اہل شام میں سے ایک آدمی مل گیا ہے، وہ میرے ساتھ جائے گا بھی سہی اور واپس بھی آئے گا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو یہیں نماز پڑھ لے۔ اس بندے تین بار اپنی بات دوہرائی، ہربار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہی جواب دیا کہ تو یہیں نماز پڑھ لے۔ جب اس نے چوتھی دفعہ اپنی بات کو دوہرایا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر چلا جا اور وہیں نماز ادا کر، اس ذات کی قسم جس نے محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کو حق کے ساتھ مبعوث کیا، اگر تو یہاں نماز پڑھ لیتا تو یہ عمل تجھے بیت المقدس کی ہر نماز سے کفایت کرتا۔
Takhreej
(۵۳۹۰) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۳۳۰۶(انظر: ۲۳۱۶۹)
Explanation
فوائد:… مسجد ِ حرام کی فضیلت بیت المقدس سے زیادہ ہے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس صحابی کو حکم دیا کہ وہ مسجد ِ حرام میں نماز ادا کر کے اپنی نذر پوری کر سکتا ہے، لیکن جب سائل نے تعنّت اور تکلّف سے کام لیتے ہوئے اپنے لیے سختی کو پسند کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی اس کو یہی مشکل کام کرنے کا حکم دے دیا۔ مسجد ِ اقصی، مسجد ِ حرام سے چالیس دنوں کی مسافت پر ہے۔
5390
Sahih
۔ (۵۳۹۱)۔ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ یَوْمَ الْفَتْحِ: یَا رَسُولَ اللَّہِ! إِنِّی نَذَرْتُ إِنْ فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْکَ مَکَّۃَ أَنْ أُصَلِّیَ فِی بَیْتِ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ: ((صَلِّ ہَاہُنَا۔)) فَسَأَلَہُ فَقَالَ: ((صَلِّ ہَاہُنَا۔)) فَسَأَلَہُ، فَقَالَ: ((شَأْنَکَ إِذًا۔)) (مسند أحمد: ۱۴۹۸۱)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے فتح مکہ والے دن کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے مکہ فتح کر دیا تو میں بیت المقدس میں نماز پڑھوں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہیں نماز پڑھ لو۔ اس نے پھر سوال دوہرایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں کہہ رہا ہوں کہ یہیں نماز پڑھ لو۔ اس نے پھر یہی سوال دوہرا دیا، اس بار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مرضی کر۔
Takhreej
(۵۳۹۱) تخریج: اسنادہ قوی، أخرجہ ابوداود: ۳۳۰۵(انظر: ۱۴۹۱۹)
5391
Sahih
۔ (۵۳۹۲)۔ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّہُ قَالَ: إِنَّ امْرَأَۃً اشْتَکَتْ شَکْوٰی، فَقَالَتْ: لَئِنْ شَفَانِی اللّٰہُ لَأَخْرُجَنَّ فَلَأُصَلِّیَنَّ فِی بَیْتِ الْمَقْدِسِ، فَبَرِئَتْ فَتَجَہَّزَتْ تُرِیدُ الْخُرُوجَ، فَجَائَ تْ مَیْمُونَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تُسَلِّمُ عَلَیْہَا فَأَخْبَرَتْہَا ذٰلِکَ، فَقَالَتْ: اجْلِسِی فَکُلِی مَا صَنَعْتُ وَصَلِّی فِی مَسْجِدِ الرَّسُولِ، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((صَلَاۃٌ فِیہِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاۃٍ فِیمَا سِوَاہُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلَّا مَسْجِدَ الْکَعْبَۃِ)) (مسند أحمد: ۲۷۳۶۳)
۔ ابراہیم بن عبد اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک خاتون بیمار ہو گئی اور اس نے یہ نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا دی تو میں ضرور جاؤں گی اور بیت المقدس میں نماز ادا کروں گی، جب وہ شفایاب ہو گئی اور روانہ ہونے لگی تو سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس آئی، اس نے ام المومنین کو سلام کہا اور اپنی ساری بات بتلائی، سیدہ نے کہا: تو بیٹھ جا، میں نے جو کھانا تیار کیا، وہ کھا اور مسجد ِ نبوی میں نماز پڑھ لے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: میری مسجد میں ایک نماز، دوسری مسجدوں کی ایک ہزار نماز سے افضل ہے، ما سوائے مسجد ِ حرام کے۔
Takhreej
(۵۳۹۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۳۹۶(انظر: ۲۶۸۲۶)
Explanation
فوائد:… اس باب کی پہلی حدیث کی روشنی میں سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا استدلال درست ہے، یہ صورت بھی سابقہ احادیث سے ملتی جلتی ہے اور مسجد ِ نبوی کی اور اس میں نماز پڑھنے کی فضیلت بیت المقدس سے زیادہ ہے۔
5392
Sahih
۔ (۵۳۹۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ امْرَأَۃً رَکِبَتِ الْبَحْرَ فَنَذَرَتْ إِنِ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی أَنْجَاہَا أَنْ تَصُومَ شَہْرًا، فَأَنْجَاہَا اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فَلَمْ تَصُمْ حَتّٰی مَاتَتْ فَجَاء َتْ قَرَابَۃٌ لَہَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَتْ لَہٗ ذٰلِکَ فَقَالَ: ((صُوْمِیْ۔))(مسند أحمد: ۱۸۶۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ ایک خاتون نے بحری سفر کیا اور یہ نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو اس سفر سے نجات دی تو وہ ایک ماہ کے روزے رکھے گی، جب اللہ تعالیٰ نے اس کو نجات دلا دی تو ابھی اس نے روزے نہیں رکھے تھے کہ وہ فوت ہو گئی، اس کی ایک رشتہ دار خاتون، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور اس کا سارا ماجرا سنایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اس کی طرف سے روزے رکھ۔
Explanation
فوائد:… سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((مَنْ مَاتَ وَعَلَیْہِ صِیَامٌ، صَامَ عَنْہُ وَلِیُّہٗ۔)) جو آدمی مرجائے اور اس پر روزے ہوں، تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے۔ (بخاری، مسلم)
5393
Sahih
۔ (۵۳۹۴)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا): اَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سَأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ نَذْرِ کَانَ عَلٰی اُمِّہِ تُوُفِّیَتْ قَبْلَ اَنْ تَقْضِیَہٗ فَقَالَ: ((اقْضِہِ عَنْھَا۔)) (مسند أحمد: ۱۸۹۳)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس نذر کے بارے میں سوال کیا جو اس کی ماں نے مانی تھی، لیکن اس کو پورا کرنے سے پہلے فوت ہو گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو تو اس کی طرف سے پورا کر دے۔
Takhreej
(۵۳۹۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۷۶۱، ۶۶۹۸، ومسلم: ۱۶۳۸(انظر: ۱۸۹۳)
5394
Sahih
۔ (۵۳۹۵)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ أَنَّہُ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: إِنَّ أُمِّی مَاتَتْ وَعَلَیْہَا نَذْرٌ أَفَیُجْزِئُ عَنْہَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْہَا؟ قَالَ: ((أَعْتِقْ عَنْ أُمِّکَ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۳۴۷)
۔ سیدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: میری ماں وفات پا گئی ہے، جبکہ ان پر ایک نذر بھی تھی، تو اب اگر میں ان کی طرف سے گردن آزاد کر دوں، توکیا یہ عمل ان کو کفایت کرے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنی ماں کی طرف سے آزاد کرو۔
Takhreej
(۵۳۹۵) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ النسائی: ۶/ ۲۵۳(انظر: ۲۳۸۴۶)
5395
Sahih
۔ (۵۳۹۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ امْرَأَۃً نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ فَمَاتَتْ، فَأَتٰی أَخُوہَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَأَلَہُ عَنْ ذٰلِکَ، فَقَالَ: ((أَرَأَیْتَ لَوْ کَانَ عَلٰی أُخْتِکَ دَیْنٌ أَکُنْتَ قَاضِیَہُ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَاقْضُوا اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ فَہُوَ أَحَقُّ بِالْوَفَائِ)) (مسند أحمد: ۲۱۴۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ ایک خاتون نے حج ادا کرنے کی نذر مانی، لیکن وہ اس نذر کو پورا کرنے سے پہلے فوت ہو گئی، اس کا بھائی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس بارے میں دریافت کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس بارے میں تیرا کیا خیال ہے کہ اگر تیری بہن پر قرض ہوتا تو کیا تو ادا کرتا؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: تو پھر اللہ تعالیٰ کا قرض بھی ادا کرو، کیونکہ وہ ادائیگی کے زیادہ لائق ہے۔
Takhreej
(۵۳۹۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۶۹۹۹ (انظر: ۲۱۴۰)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ میت جس نذر کو پورا نہ کر سکے، اس کے لواحقین کو چاہیے کہ وہ اس کی نذر کو پورا کر دیں۔
5396
Sahih

Chapters

8