۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمان کے چونسٹھ شعبے ہیں، ان میں بلند ترین اور سب سے اعلی شعبہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اور سب سے ادنی شعبہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے۔
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے وصیت کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب برائی ہو جائے تو اس کے بعد نیکی کر، تاکہ وہ برائی کے اثر کو مٹا دے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ بھی نیکی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو سب سے زیادہ فضیلت والی نیکی ہے۔
۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری خواہش تھی کہ کاش میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس عمل کے بارے میں دریافت کر لیا ہوتا جو ہمیں ان (وسوسوں اور مذموم امور) سے نجات دلاتا، جو شیطان ہمارے نفسوں میں ڈال دیتا ہے۔ سیدناابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً فرمایا تھا: تم کو ان امور سے اس کلمے کا ذکر نجات دلائے گا، جو میں نے اپنے چچا پر پیش کیا، لیکن اس نے وہ کلمہ نہیں پڑھا تھا۔
۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو وفات دے دی، جبکہ ابھی تک ہم نے یہ سوال ہی نہیں کیا تھا کہ اس امر کی نجات کیا ہے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا، میں اٹھ کر ان کے پاس چلا گیا اور کہا: میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں، تم ہی اس چیز کے زیادہ مستحق تھے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس امر کی نجات کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھ سے وہ کلمہ قبول کر لیا، جو میں نے اپنے چچا پر پیش کیا تھا، لیکن اس نے اس کو قبول نہیں کیا تھا، تو یہ کلمہ اس کے لیے نجات ہو گا۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب الموت لوگوںکو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی تلقین کیا کرو۔
۔ ابو عمر زاذان ایک صحابی سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو موت کے وقت لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی تلقین کر دی گئی، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفید کپڑے زیب ِ تن کیے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو رہے تھے، میں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گفتگو کرنے کے لیے گیا، لیکن اس بار بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو رہے تھے، جب میں تیسری دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہو چکے تھے، میں بھی جا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو بندہ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہے اور اسی پر فوت ہو جائے تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو۔ میں نے پھر کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ تین بار ایسے ہی ہوا، چوتھی بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو ذر کا ناک خاک آلود ہونے پر۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ ازار کو گھسیٹتے ہوئے وہاں سے نکلے اور یہ کہہ رہے تھے: اگرچہ ابو ذر کا ناک خاک آلود ہو جائے، پھر وہ جب بھی یہ حدیث بیان کرتے تو اس کے آخر میں کہتے: اگرچہ ابو ذر کا ناک خاک آلود ہو جائے۔
۔ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے یہ دعا دس بار پڑھی: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاحِدًا أَحَدًا صَمَدًا، لَمْ یَتَّخِذْ صَاحِبَۃً وَلَا وَلَدًا، وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ۔ (نہیں ہے، کوئی معبود برحق، ما سوائے اللہ کے، وہ اکیلاہے، بے نیاز ہے، اس کی نہ کوئی بیوی ہے اور نہ اولاد اور اس کا کوئی ہمسر نہیں) اس کے لیے چالیس ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدّو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، اس نے سبز شال کا جبہ پہنا ہوا تھا، اس کو ریشم کے ساتھ بند کیا گیا تھا، اس نے کہا : تمہارا یہ ساتھی چاہتا ہے کہ چرواہوں کو بلند کر دیا جائے اور گھڑسواروں کو پست کر دیا جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے کی حالت میں کھڑے ہوئے، اس کو سینے والے مقام سے پکڑ کر جھنجھوڑا اور فرمایا: میں تجھ پر بیوقوفوں کا لباس نہ دیکھنے پاؤں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آ کر بیٹھ گئے اور فرمایا: بیشک جب نوح علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب ہوا تو انھوں نے اپنے بیٹوں کو بلایا اور کہا: میں تم کو وصیت کرنے لگا ہوں، میں تم کو دو چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور دو سے ہی منع کرتا ہوں، میں تم کو شرک اور تکبر سے منع کرتا ہوں اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا حکم دیتا ہوں، اگر آسمانوں، زمینوں اور ان کے درمیان والی چیزوں کو نیکیوں والے پلڑے میں اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کو دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو دوسرا پلڑا بھاری ہو جائے گا، اور اگر آسمان اور زمین ایک کڑا ہوتے اور پھر ان پر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کو رکھ دیا جاتا تو یہ کلمہ ان کو توڑ دیتا اور میں تم کو سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہِ کہنے کا حکم دیتا ہوں، کیونکہ یہ ہر چیز کی نماز ہے اور اسی کی وجہ سے ہر چیز کو رزق دیا جاتا ہے۔
۔ ثابت کہتے ہیں: شام کے ایک باشندے نے ہمیں بیان کیا، وہ آدمی سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہتا اور ان کی باتیں سنتا تھا، وہ کہتا ہے: ایک میں ان کے ساتھ تھا کہ وہ نوف کو ملے، نوف نے کہا: ہمیں یہ بات بتلائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا: میرے لیے میرے بندوں کو بلاؤ، انھوں نے کہا: اے ربّ! ان کو کیسے بلایا جائے، جبکہ ان کے سامنے سات آسمان حائل ہیں اور ان کے اوپر عرش ہے؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: جب وہ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہیں گے تو وہ جواب دیں گے۔
۔ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نوف اور سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ دونوں جمع ہوئے، نوف نے کہا: اگر آسمانوں، زمینوں اور ان کے درمیان والی مخلوقات کو ایک ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کو دوسرے پلڑے میں تو دوسرا پلڑا بھائی ہو جائے گا، اور اگر آسمان، زمین اور ان کے درمیان والی مخلوق کو لوہے کی تہہ بنادیا جائے اور اس پر لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کو رکھ دیا جائے تو یہ کلمہ اس میں سوراخ کرکے اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچ جائے گا۔
۔ کثیر بن مرّہ کہتے ہیں: سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے مرض الموت کے دوران کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک حدیث سنی تھی، میں اس کو تم سے چھپاتا رہا، اب بیان کر دیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کا آخری کلام لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ہو گا، اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی۔