TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ذکر کے مخصوص کلمات کی فضیلت کے ابواب - ذکر کے مخصوص کلمات کی فضیلت کے ابواب - Book 85 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 85 of Musnad Ahmad, with 9 chapters and 64 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

64 Hadith · 9 Chapters
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۴۲۲)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الْإِیمَانُ أَرْبَعَۃٌ وَسِتُّونَ بَابًا، أَرْفَعُہَا وَأَعْلَاہَا قَوْلُ: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَأَدْنَاہَا إِمَاطَۃُ الْأَذَی عَنِ الطَّرِیقِ۔)) (مسند أحمد: ۸۹۱۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایمان کے چونسٹھ شعبے ہیں، ان میں بلند ترین اور سب سے اعلی شعبہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اور سب سے ادنی شعبہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے۔
Takhreej
(۵۴۲۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۹، ومسلم: ۳۵(انظر: ۸۹۲۶)
Explanation
فوائد:… لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ جو کہ ایمان کی سب سے افضل شاخ ہے، سے توحیدِ الوہیت ثابت ہوتی ہے، یعنی کائنات میں بسیرا کرنے والوں کا ایک ہی سچا اور برحق معبود ہے، جس کا نام اَللّٰہ ہے، اس کے علاوہ جن معبودوں کا تصور دنیا میں پایا جاتا ہے وہ بے بنیاد، بے تأثیر، بے اختیار، بے حقیقت اور باطل ہیں۔ اس کلمہ کی فضیلت کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۵۴۳۰)
5422
Sahih
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۴۲۳)۔ عَنْ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَوْصِنِی، قَالَ: ((إِذَا عَمِلْتَ سَیِّئَۃً فَأَتْبِعْہَا حَسَنَۃً تَمْحُہَا۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَمِنَ الْحَسَنَاتِ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، قَالَ: ((ہِیَ أَفْضَلُ الْحَسَنَاتِ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۸۱۹)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے وصیت کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب برائی ہو جائے تو اس کے بعد نیکی کر، تاکہ وہ برائی کے اثر کو مٹا دے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ بھی نیکی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تو سب سے زیادہ فضیلت والی نیکی ہے۔
Takhreej
(۵۴۲۳) تخریج: حسن لغیرہ، أخرج الشطر الاول منہ الترمذی: ۱۹۸۷ (انظر: ۲۱۴۸۷)
5423
Sahih
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۴۲۴)۔ عن عُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: تَمَنَّیْتُ أَنْ أَکُونَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَاذَا یُنْجِینَا مِمَّا یُلْقِی الشَّیْطَانُ فِی أَنْفُسِنَا، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: قَدْ سَأَلْتُہُ عَنْ ذٰلِکَ، فَقَالَ: ((یُنْجِیکُمْ مِنْ ذٰلِکَ أَنْ تَقُولُوْا مَا أَمَرْتُ عَمِّی أَنْ یَقُولَہُ فَلَمْ یَقُلْہٗ۔)) (مسند أحمد: ۳۷)
۔ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری خواہش تھی کہ کاش میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس عمل کے بارے میں دریافت کر لیا ہوتا جو ہمیں ان (وسوسوں اور مذموم امور) سے نجات دلاتا، جو شیطان ہمارے نفسوں میں ڈال دیتا ہے۔ سیدناابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جواباً فرمایا تھا: تم کو ان امور سے اس کلمے کا ذکر نجات دلائے گا، جو میں نے اپنے چچا پر پیش کیا، لیکن اس نے وہ کلمہ نہیں پڑھا تھا۔
Takhreej
(۵۴۲۴) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابویعلی: ۱۳۳(انظر: ۳۷)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو کلمہ اپنے چچا ابو طالب پر پیش کیا تھا، وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ تھا۔
5424
Sahih
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۴۲۵)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا) فَقَالَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: تَوَفَّی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِیَّہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَہُ عَنْ نَجَاۃِ ہَذَا الْأَمْرِ، قَالَ أَبُو بَکْرٍ: قَدْ سَأَلْتُہُ عَنْ ذٰلِکَ قَالَ: فَقُمْتُ إِلَیْہِ، فَقُلْتُ لَہُ: بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی أَنْتَ أَحَقُّ بِہَا، قَالَ أَبُو بَکْرٍ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا نَجَاۃُ ہٰذَا الْأَمْرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَبِلَ مِنِّی الْکَلِمَۃَ الَّتِی عَرَضْتُ عَلٰی عَمِّی فَرَدَّہَا عَلَیَّ فَہِیَ لَہُ نَجَاۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۰)
۔ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو وفات دے دی، جبکہ ابھی تک ہم نے یہ سوال ہی نہیں کیا تھا کہ اس امر کی نجات کیا ہے، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا تھا، میں اٹھ کر ان کے پاس چلا گیا اور کہا: میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں، تم ہی اس چیز کے زیادہ مستحق تھے، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس امر کی نجات کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مجھ سے وہ کلمہ قبول کر لیا، جو میں نے اپنے چچا پر پیش کیا تھا، لیکن اس نے اس کو قبول نہیں کیا تھا، تو یہ کلمہ اس کے لیے نجات ہو گا۔
Takhreej
(۵۴۲۵) تخریج: صحیح بشواھدہ (انظر: ۲۰)
Explanation
فوائد:… امر سے مراد وہ وسوسے اور شرّ کی انواع ہیں، جو شیطان بندوں کے نفسوں میں ڈالتا ہے، چونکہ سب سے زیادہ فضیلت والا، بخشش کا ذریعہ بننے والا، توحید کو ثابت کرنے والا اور شرک کی نفی کرنے والا ذکر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ہے، اس لیے ایسے عظیم ذکر سے ہی شیطان اور اس کے وسوسوں سے بچا جا سکتا ہے۔
5425
Sahih
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۴۲۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِقِّنُوْا مَوْتَاکُمْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۰۰۶)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قریب الموت لوگوںکو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی تلقین کیا کرو۔
Takhreej
(۵۴۲۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۹۱۶(انظر: ۱۰۹۹۳)
Explanation
فوائد:معلوم ہوا کہ قریب الموت لوگوں کو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی تلقین کرنی چاہئے۔عوام الناس میں مشہور کر دیا گیاہے کہ قریب المرگ آدمی کے پاس بیٹھ کر کلمہ پڑھنا چاہئے، اسے تلقین نہیں کرنی چاہئے، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تلقین قبول کرنے سے انکار کر دے۔
5426
Sahih
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۴۲۷)۔ عَنْ زَاذَانَ اَبِیْ عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنِیْ مَنْ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ لُقِّنَ عِنْدَ الْمَوْتِ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۹۸۹)
۔ ابو عمر زاذان ایک صحابی سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کو موت کے وقت لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی تلقین کر دی گئی، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
Takhreej
(۵۴۲۷) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۳۸۴۲(انظر: ۱۵۸۹۴)
5427
Sahih
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۴۲۸)۔ عَنْ أَبِی الْأَسْوَدِ الدِّیَٔلِیَّ، عن ابی ذَرٍّرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَلَیْہِ ثَوْبٌ أَبْیَضُ، فَإِذَا ہُوَ نَائِمٌ ثُمَّ أَتَیْتُہُ أُحَدِّثُہُ فَإِذَا ہُوَ نَائِمٌ، ثُمَّ أَتَیْتُہُ وَقَدْ اسْتَیْقَظَ، فَجَلَسْتُ إِلَیْہِ، فَقَالَ: ((مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، ثُمَّ مَاتَ عَلٰی ذٰلِکَ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) قُلْتُ: وَإِنْ زَنٰی وَإِنْ سَرَقَ، قَالَ: ((وَإِنْ زَنٰی وَإِنْ سَرَقَ۔)) قُلْتُ: وَإِنْ زَنٰی وَإِنْ سَرَقَ، قَالَ: ((وَإِنْ زَنٰی وَإِنْ سَرَقَ)) ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ فِی الرَّابِعَۃِ: ((عَلٰی رَغْمِ أَنْفِ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔))قَالَ: فَخَرَجَ أَبُو ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَجُرُّ إِزَارَہُ وَہُوَ یَقُولُ: وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: فَکَانَ أَبُو ذَرٍّ یُحَدِّثُ بِہٰذَا بَعْدُ وَیَقُولُ: وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ (مسند أحمد: ۲۱۷۹۸)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سفید کپڑے زیب ِ تن کیے ہوئے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سو رہے تھے، میں پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گفتگو کرنے کے لیے گیا، لیکن اس بار بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سو رہے تھے، جب میں تیسری دفعہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیدار ہو چکے تھے، میں بھی جا کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ بیٹھ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو بندہ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہے اور اسی پر فوت ہو جائے تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو۔ میں نے پھر کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ تین بار ایسے ہی ہوا، چوتھی بار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو ذر کا ناک خاک آلود ہونے پر۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ازار کو گھسیٹتے ہوئے وہاں سے نکلے اور یہ کہہ رہے تھے: اگرچہ ابو ذر کا ناک خاک آلود ہو جائے، پھر وہ جب بھی یہ حدیث بیان کرتے تو اس کے آخر میں کہتے: اگرچہ ابو ذر کا ناک خاک آلود ہو جائے۔
Takhreej
(۵۴۲۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۸۲۷، ومسلم: ۹۴(انظر: ۲۱۴۶۶)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں خوارج اور معتزلہ جیسی بدعتی فرقوں کاردّ ہے، جو یہ کہتے ہیں کہ توبہ کے بغیر مرنے والا کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔
5428
Sahih
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۴۲۹)۔ عَنْ تَمِیمٍ الدَّارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَالَ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاحِدًا أَحَدًا صَمَدًا، لَمْ یَتَّخِذْ صَاحِبَۃً وَلَا وَلَدًا، وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُوًا أَحَدٌ، عَشْرَ مَرَّاتٍ، کُتِبَتْ لَہُ أَرْبَعُونَ أَلْفَ حَسَنَۃٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۰۷۶)
۔ سیدنا تمیم داری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے یہ دعا دس بار پڑھی: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاحِدًا أَحَدًا صَمَدًا، لَمْ یَتَّخِذْ صَاحِبَۃً وَلَا وَلَدًا، وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ۔ (نہیں ہے، کوئی معبود برحق، ما سوائے اللہ کے، وہ اکیلاہے، بے نیاز ہے، اس کی نہ کوئی بیوی ہے اور نہ اولاد اور اس کا کوئی ہمسر نہیں) اس کے لیے چالیس ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی۔
Takhreej
(۵۴۲۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف خلیل بن مرۃ البصری، ولانقطاعہ، الازھر بن عبد اللہ لم یسمع من تمیم الداری، أخرجہ الترمذی: ۳۴۷۳(انظر: ۱۶۹۵۲)
Explanation
فوائد:… ہم نے صَمَد کے معانی بے نیاز کے کیے ہیں، اس لفظ کے مزید معانی یہ ہیں:
5429
Zaeef
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۴۳۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتَّی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَعْرَابِیٌ عَلَیْہِ جُبَّۃٌ مِنْ طَیَالِسَۃٍ مَکْفُوْفَۃٌ بِدِیْبَاجٍ اَوْ مَزْرُوْرَۃٌ بِدِیْبَاجٌ، فَقَالَ: اِنَّ صَاحِبَکُمْ ھٰذَا یُرِیْدُ اَنْ یَرْفَعَ کُلَّ رَاعٍ اِبْنِ رَاعٍ، وَ یَضَعَ کُلَّ فَارِسٍ ابْنِ فَارِسٍ! فَقَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُغْضِبًا فاَخَذَ بِمَجَامِعَ جُبَّتِہِ فَاجْتَذَبَہُ وَ قَالَ: ((لَا اَرَی عَلَیْکَ ثِیَابَ مَنْ لَا یَعْقِلُ۔)) ثُمَّ رَجَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَلَسَ فَقَالَ: ((اِنَّ نُوْحًا عَلَیْہِ السَّلَامُ لَمَّا حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ دَعَا اِبْنَیْہِ فَقَالَ: اِنِّیْ قَاصِرٌ عَلَیْکَمَا الْوَصِیَّۃَ، آمُرُکَمَا بِاِثْنَیْنِ وَاَنْھَاکُمَا عَنِ اثْنَتَیْنِ، اَنْھَاکُمَا عَنِ الشِّرْکِ وَالْکِبْرِ، وَآمُرُکُمَا بِلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، فَاِنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَ مَا فِیْھِمَا لَوْ وُضِعَتْ فِیْ کِفَّۃِ الْخَیْرَاتِ، وَ وُضِعَتْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ فِی الْکِفَّۃِ الْاُخْرٰی کَانَتْ اَرْجَحُ، وَلَوْ اَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ کَانَتَا حَلْقَۃً فَوُضِعَتْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ عَلَیْھِمَا لَفَصَمَتْھُمَا اَوْ لَقَصَمَتْھُمَا، وَ آمُرُکُمَا بِسُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہِ فَاِنَّھَا صَلَاۃُ کُلِّ شَیْئٍ، وَ بِھَا یُرْزَقُ کُلُّ شَیْئٍ۔)) (مسند احمد: ۷۱۰۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدّو، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، اس نے سبز شال کا جبہ پہنا ہوا تھا، اس کو ریشم کے ساتھ بند کیا گیا تھا، اس نے کہا : تمہارا یہ ساتھی چاہتا ہے کہ چرواہوں کو بلند کر دیا جائے اور گھڑسواروں کو پست کر دیا جائے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غصے کی حالت میں کھڑے ہوئے، اس کو سینے والے مقام سے پکڑ کر جھنجھوڑا اور فرمایا: میں تجھ پر بیوقوفوں کا لباس نہ دیکھنے پاؤں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس آ کر بیٹھ گئے اور فرمایا: بیشک جب نوح علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب ہوا تو انھوں نے اپنے بیٹوں کو بلایا اور کہا: میں تم کو وصیت کرنے لگا ہوں، میں تم کو دو چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور دو سے ہی منع کرتا ہوں، میں تم کو شرک اور تکبر سے منع کرتا ہوں اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا حکم دیتا ہوں، اگر آسمانوں، زمینوں اور ان کے درمیان والی چیزوں کو نیکیوں والے پلڑے میں اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کو دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو دوسرا پلڑا بھاری ہو جائے گا، اور اگر آسمان اور زمین ایک کڑا ہوتے اور پھر ان پر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کو رکھ دیا جاتا تو یہ کلمہ ان کو توڑ دیتا اور میں تم کو سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہِ کہنے کا حکم دیتا ہوں، کیونکہ یہ ہر چیز کی نماز ہے اور اسی کی وجہ سے ہر چیز کو رزق دیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۵۴۳۰) اسنادہ صحیح، أخرجہ البزار: ۳۰۶۹، والبخاری فی الادب المفرد : ۵۴۸(انظر: ۷۱۰۱)
Explanation
فوائد:… سبحان اللہ! کیا شان ہے اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی صفات اور اس کی صفات پر دلالت کرنے والے کلمات کی۔ اسی لیے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((أَکْثِرُوْا مِنْ شَھَادَۃِ أَن لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ قَبْلَ أَن یُّحَالَ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَھَا وَلَقِّنُوْھَا مَوْتَاکُمْ۔)) … کثرت سے لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُکی شہادت دیتے رہا کرو ، قبل اس کے کہ تمھارے اور اس کے مابین کوئی رکاوٹ حائل ہو جائے اور قریب المرگ لوگوں کو اس کی تلقین کیا کرو۔ (ابو یعلی: ۱۱/۸، ۶۱۴۷، الصحیحۃ:۴۶۷) سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس حدیث کو بیان کیا۔
5430
Sahih
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۴۳۱)۔ عَنْ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنَ الشَّامِ، وَکَانَ یَتْبَعُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَیَسْمَعُ قَالَ: کُنْتُ مَعَہُ فَلَقِیَ نَوْفًا، فَقَالَ: نَوْفٌ ذُکِرَ لَنَا: أَنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی قَالَ لِمَلَائِکَتِہِ: ادْعُوا لِی عِبَادِی، قَالُوْا: یَا رَبِّ کَیْفَ وَالسَّمٰوَاتُ السَّبْعُ دُونَہُمْ وَالْعَرْشُ فَوْقَ ذٰلِکَ، قَالَ: إِنَّہُمْ إِذَا قَالُوْا: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ اسْتَجَابُوا۔ (مسند أحمد: ۶۸۶۰)
۔ ثابت کہتے ہیں: شام کے ایک باشندے نے ہمیں بیان کیا، وہ آدمی سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ رہتا اور ان کی باتیں سنتا تھا، وہ کہتا ہے: ایک میں ان کے ساتھ تھا کہ وہ نوف کو ملے، نوف نے کہا: ہمیں یہ بات بتلائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا: میرے لیے میرے بندوں کو بلاؤ، انھوں نے کہا: اے ربّ! ان کو کیسے بلایا جائے، جبکہ ان کے سامنے سات آسمان حائل ہیں اور ان کے اوپر عرش ہے؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: جب وہ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہیں گے تو وہ جواب دیں گے۔
Takhreej
(۵۴۳۱) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرج المرفوع منہ ابن ماجہ: ۸۰۱ (انظر: ۶۸۶۰)
5431
Sahih
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۴۳۲)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا) عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِی أَیُّوبَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ، أَنَّ نَوْفًا وَعَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَعْنِی ابْنَ الْعَاصِی اجْتَمَعَا، فَقَالَ نَوْفٌ: لَوْ أَنَّ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا فِیہِمَا وُضِعَ فِی کِفَّۃِ الْمِیزَانِ وَوُضِعَتْ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ فِی الْکِفَّۃِ الْأُخْرٰی لَرَجَحَتْ بِہِنَّ، وَلَوْ أَنَّ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا فِیہِنَّ کُنَّ طَبَقًا مِنْ حَدِیدٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ لَخَرَقَتْہُنَّ حَتّٰی تَنْتَہِیَ إِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔ (مسند أحمد: ۶۷۵۰)
۔ سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نوف اور سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ دونوں جمع ہوئے، نوف نے کہا: اگر آسمانوں، زمینوں اور ان کے درمیان والی مخلوقات کو ایک ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کو دوسرے پلڑے میں تو دوسرا پلڑا بھائی ہو جائے گا، اور اگر آسمان، زمین اور ان کے درمیان والی مخلوق کو لوہے کی تہہ بنادیا جائے اور اس پر لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کو رکھ دیا جائے تو یہ کلمہ اس میں سوراخ کرکے اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچ جائے گا۔
Takhreej
(۵۴۳۲) تخریج: انظر الحدیث السابق
5432
Sahih
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۴۳۳)۔ عَنْ کَثِیرِ بْنِ مُرَّۃَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ لَنَا مُعَاذٌ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِی مَرَضِہِ: قَدْ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا کُنْتُ أَکْتُمُکُمُوہُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ کَانَ آخِرُ کَلَامِہِ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۳۸۴)
۔ کثیر بن مرّہ کہتے ہیں: سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مرض الموت کے دوران کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک حدیث سنی تھی، میں اس کو تم سے چھپاتا رہا، اب بیان کر دیتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کا آخری کلام لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ہو گا، اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی۔
Takhreej
(۵۴۳۳) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ البزار: ۲۶۲۵(انظر: ۲۲۰۳۴)
5433
Sahih
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کے ذکر پر اجتماع کرنے کی دلیل کا بیان
۔ (۵۴۳۴)۔ عَنْ یَعْلَی بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنِی أَبِی شَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ، وَعُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ حَاضِرٌ یُصَدِّقُہُ، قَالَ: کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((ہَلْ فِیکُمْ غَرِیبٌ یَعْنِی أَہْلَ الْکِتَابِ)) فَقُلْنَا: لَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ، فَأَمَرَ بِغَلْقِ الْبَابِ، وَقَالَ: ((اِرْفَعُوا أَیْدِیَکُمْ، وَقُولُوا: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔)) فَرَفَعْنَا أَیْدِیَنَا سَاعَۃً ثُمَّ وَضَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدَہُ ثُمَّ قَالَ: ((الْحَمْدُ لِلّٰہِ، اَللَّہُمَّ بَعَثْتَنِی بِہٰذِہِ الْکَلِمَۃِ، وَأَمَرْتَنِی بِہَا، وَوَعَدْتَنِی عَلَیْہَا الْجَنَّۃَ، وَإِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیعَادَ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((أَبْشِرُوا فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ غَفَرَ لَکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۲۵۱)
۔ یعلی بن شداد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمارے سردار شداد بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کی، جبکہ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی موجود تھے اور ان کی تصدیق کر رہے تھے، انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم میں کوئی اجنبی آدمی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد اہل کتاب تھی، ہم نے کہا: نہیں، اے اللہ کے رسول! پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دروازے کو بند کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: اپنے ہاتھوں کو بلند کر لو اور کہو: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔ پس ہم نے کچھ دیر تک اپنے ہاتھ بلند کیے رکھے، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ نیچے رکھ دیا اور فرمایا: اللہ کا شکر ہے، اے اللہ! تو نے مجھے اس کلمہ کے ساتھ بھیجا، تو نے مجھے اس کلمہ کا حکم دیا اور مجھ سے اس پر جنت کا وعدہ کیا اور بیشک تو وعدے کی مخالفت نہیں کرتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خوش ہو جاؤ، بیشک اللہ تعالیٰ نے تم کو بخش دیا ہے۔
Takhreej
(۵۴۳۴) اسنادہ ضعیف لضعف راشد بن داود الصنعانی، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۷۱۶۳(انظر: ۱۷۱۲۱)
5434
Zaeef
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کے ذکر پر اجتماع کرنے کی دلیل کا بیان
۔ (۵۴۳۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((جَدِّدُوا إِیمَانَکُمْ۔)) قِیلَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَکَیْفَ نُجَدِّدُ إِیمَانَنَا؟ قَالَ: ((أَکْثِرُوا مِنْ قَوْلِ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔)) (مسند أحمد: ۸۶۹۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنے ایمان کی تجدید کیا کرو۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کیسے اپنے ایمان کی تجدید کیا کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کثرت سے لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہا کرو۔
Takhreej
(۵۴۳۵) تخریج: اسنادہ ضعیف،صدقۃ بن موسی ضعفہ ابن معین وابوداود والنسائی وغیرھم، أخرجہ البزار: ۶۶۴(انظر: ۸۷۱۰)
Explanation
فوائد:… یہ کلمہ اللہ تعالیٰ کی توحید و الوہیت پر مشتمل ہے، آدمی اسی کلمہ کے ذریعے مشرف باسلام ہوتا ہے، اس لیے یہ شہادت دینے سے اللہ تعالیٰ کی معبودیت اور بندے کی عبدیت کا احساس تازہ ہو تا رہتا ہے اور بندے میں نور و یقین جیسی نعمت کی تجدید ہوتی رہے گی۔
5435
Zaeef
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کے ذکر پر اجتماع کرنے کی دلیل کا بیان
۔ (۵۴۳۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : مَنْ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِکَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَقَدْ ظَنَنْتُ یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَلَّا یَسْأَلَنِی عَنْ ہٰذَا الْحَدِیثِ أَحَدٌ أَوَّلَ مِنْکَ، لِمَا رَأَیْتُ مِنْ حِرْصِکَ عَلَی الْحَدِیثِ، أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَنْ قَالَ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ خَالِصَۃً مِنْ قِبَلِ نَفْسِہِ۔)) (مسند أحمد: ۸۸۴۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: روزِ قیامت کون لوگ آپ کی سفارش کے زیادہ مستحق ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو ہریرہ! میرا خیال تھا کہ کوئی آدمی تجھ سے پہلے مجھ سے اس حدیث کے بارے میں سوال نہیں کرے گا، کیونکہ میں نے تیرے اندر حدیث کی حرص پائی ہے، قیامت کے دن میری سفارش کا سب سے زیادہ مستحق وہ شخص ہو گا، جو اپنی طرف سے اور خلوص کے ساتھ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہے گا۔
Takhreej
(۵۴۳۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۵۷۰(انظر: ۸۸۵۸)
5436
Sahih
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ…کا بیان
۔ (۵۴۳۷)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَالَ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ، مِائَتَیْ مَرَّۃٍ فِی کُلِّ یَوْمٍ لَمْ یَسْبِقْہُ أَحَدٌ کَانَ قَبْلَہُ، وَلَا یُدْرِکُہُ أَحَدٌ بَعْدَہُ إِلَّا بِأَفْضَلَ مِنْ عَمَلِہِ۔)) (مسند أحمد: ۶۷۴۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ایک دن دو سو (۲۰۰) بار یہ ذکر کیا: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ(نہیں ہے کوئی معبودِ برحق، مگر اللہ، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کیلئے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے) تو اس سے پہلے گزر جانے والا کوئی آدمی اس سے سبقت نہیں لے جا سکے گا اور بعد والوں میں سے کوئی شخص اس کے مقام کو نہیں پا سکے گا، مگر اس کے عمل سے زیادہ عمل کر کے۔
Takhreej
(۵۴۳۷) تخریج: صحیح، أخرجہ الحاکم: ۱/۵۰۰، والبزار: ۳۰۷۰(انظر: ۶۷۴۰)
5437
Sahih
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ…کا بیان
۔ (۵۴۳۸)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ مَنَحَ مِنْحَۃَ وَرِقٍ أَوْ مِنْحَۃَ لَبَنٍ أَوْ ہَدَی زُقَاقًا فَہُوَ کَعِتَاقِ نَسَمَۃٍ، وَمَنْ قَالَ: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، فَہُوَ کَعِتَاقِ نَسَمَۃٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۷۱۰)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے چاندی کا عطیہ دیا، یا دودھ کا عطیہ دیا، یا کسی کو راستے کی رہنمائی کر دی تو اس کو ایک گردن آزاد کرنے کا ثواب ملے گا اور جس نے لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ کہا، وہ بھی ایک گردن آزاد کرنے والے کی طرح ہو گا۔
Takhreej
(۵۴۳۸) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۷۲۰۲(انظر: ۱۸۵۱۶)
Explanation
فوائد:… چاندی کے عطیے سے مراد قرض دینا ہے اور دودھ کے عطیے سے مراد یہ ہے کہ دودھ والا جانور کسی کو دے دیا جائے اور کچھ عرصہ تک دودھ کا فائدہ حاصل کرتا رہے اور پھر وہ جانور مالک کو واپس کر دے۔
5438
Sahih
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ…کا بیان
۔ (۵۴۳۹)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قال: کَانَ اَکْثَرُ دُعَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ عَرَفَۃَ: ((لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ)) (مسند أحمد: ۶۹۶۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عرفہ کے دن زیادہ تر یہ دعا کیا کرتے تھے: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ۔
Takhreej
(۵۴۳۹) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۳۵۸۵ (انظر: ۶۹۶۱)
Explanation
فوائد:… یہ کلمہ اللہ تعالیٰ کی ثنائ، توحید اور اس کے لیے قدرت و عظمت کے اقرار پر مشتمل ہے۔
5439
Sahih
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ…کا بیان
۔ (۵۴۴۰)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَالَ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، فِی یَوْمٍ مِائَۃَ مَرَّۃٍ، کَانَتْ لَہُ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ، وَکُتِبَ لَہُ مِائَۃُ حَسَنَۃٍ، وَمُحِیَتْ عَنْہُ مِائَۃُ سَیِّئَۃٍ، وَکَانَتْ لَہُ حِرْزًا مِنَ الشَّیْطَانِ یَوْمَہُ ذٰلِکَ حَتّٰی یُمْسِیَ، وَلَمْ یَأْتِ أَحَدٌ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَائَ بِہِ إِلَّا أَحَدٌ عَمِلَ أَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ۔)) (مسند أحمد: ۸۸۶۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ایک دن میں سو (۱۰۰) بار یہ کلمہ کہا: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ۔ اس کو دس گردنیں آزاد کرنے کا ثواب ملے گا، اس کے لیے سو (۱۰۰) نیکیاں لکھی جائیں گی، اس سے سو (۱۰۰) برائیاں مٹائی جائیں گی اور یہ عمل شام تک اس کے لیے شیطان سے حفاظت ثابت ہو گا اور کوئی آدمی اس کے عمل سے زیادہ فضیلت والا عمل نہیں لائے گا، مگر وہ جو یہ عمل اس سے زیادہ مقدار میں کرے گا۔
Takhreej
(۵۴۴۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۲۹۳، ۶۴۰۳، ومسلم: ۲۶۹۱(انظر: ۸۸۷۳)
5440
Sahih
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ…کا بیان
۔ (۵۴۴۱)۔ عَنْ وَاہبِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَالَ: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: وَإِنْ زَنٰی وَإِنْ سَرَقَ، قَالَ: ((وَإِنْ زَنٰی وَإِنْ سَرَقَ۔)) قُلْتُ: وَإِنْ زَنٰی وَإِنْ سَرَقَ، قَالَ: ((وَإِنْ زَنٰی وَإِنْ سَرَقَ۔)) قُلْتُ: وَإِنْ زَنٰی وَإِنْ سَرَقَ، قَالَ: ((وَإِنْ زَنٰی وَإِنْ سَرَقَ عَلٰی رَغْمِ أَنْفِ أَبِی الدَّرْدَائِ۔)) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: فَخَرَجْتُ لِأُنَادِیَ بِہَا فِی النَّاسِ، قَالَ: فَلَقِیَنِی عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: ارْجِعْ فَإِنَّ النَّاسَ إِنْ عَلِمُوا بِہٰذِہِ اتَّکَلُوا عَلَیْہَا، فَرَجَعْتُ فَأَخْبَرْتُہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صَدَقَ عُمَرُ)) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ (مسند أحمد: ۲۸۰۳۹)
۔ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو بندہ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ کہے گا، وہ وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو۔ میں نے پھر کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو، میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو، ابو درداء کا ناک خاک آلود ہونے پر۔ وہ کہتے ہیں: پس میں وہاں سے نکلا اور لوگوں میں اس حدیث کا اعلان کرنے لگا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مجھے ملے، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس واپس چلو، اگر لوگوںکو اس چیز کا علم ہو گیا تو اسی پر توکل کر کے (عمل چھوڑ دیں گے)۔ پس میں لوٹا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عمر نے سچ کہا ہے۔
Takhreej
(۵۴۴۱) صحیح، لکن من حدیث ابی ذر دون القصۃ مع عمر، کما سلف برقم (۵۴۲۸) (انظر: ۲۷۵۶۱)
5441
Sahih