TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کے ذکر پر اجتماع کرنے کی دلیل کا بیان - لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کے ذکر پر اجتماع کرنے کی دلیل کا بیان - ذکر کے مخصوص کلمات کی فضیلت کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of ذکر کے مخصوص کلمات کی فضیلت کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 9 · 3 Hadith
۔ (۵۴۳۴)۔ عَنْ یَعْلَی بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنِی أَبِی شَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ، وَعُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ حَاضِرٌ یُصَدِّقُہُ، قَالَ: کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((ہَلْ فِیکُمْ غَرِیبٌ یَعْنِی أَہْلَ الْکِتَابِ)) فَقُلْنَا: لَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ، فَأَمَرَ بِغَلْقِ الْبَابِ، وَقَالَ: ((اِرْفَعُوا أَیْدِیَکُمْ، وَقُولُوا: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔)) فَرَفَعْنَا أَیْدِیَنَا سَاعَۃً ثُمَّ وَضَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدَہُ ثُمَّ قَالَ: ((الْحَمْدُ لِلّٰہِ، اَللَّہُمَّ بَعَثْتَنِی بِہٰذِہِ الْکَلِمَۃِ، وَأَمَرْتَنِی بِہَا، وَوَعَدْتَنِی عَلَیْہَا الْجَنَّۃَ، وَإِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیعَادَ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((أَبْشِرُوا فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ غَفَرَ لَکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۲۵۱)
۔ یعلی بن شداد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمارے سردار شداد بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کی، جبکہ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی موجود تھے اور ان کی تصدیق کر رہے تھے، انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم میں کوئی اجنبی آدمی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد اہل کتاب تھی، ہم نے کہا: نہیں، اے اللہ کے رسول! پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دروازے کو بند کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: اپنے ہاتھوں کو بلند کر لو اور کہو: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔ پس ہم نے کچھ دیر تک اپنے ہاتھ بلند کیے رکھے، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ نیچے رکھ دیا اور فرمایا: اللہ کا شکر ہے، اے اللہ! تو نے مجھے اس کلمہ کے ساتھ بھیجا، تو نے مجھے اس کلمہ کا حکم دیا اور مجھ سے اس پر جنت کا وعدہ کیا اور بیشک تو وعدے کی مخالفت نہیں کرتا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خوش ہو جاؤ، بیشک اللہ تعالیٰ نے تم کو بخش دیا ہے۔
Takhreej
(۵۴۳۴) اسنادہ ضعیف لضعف راشد بن داود الصنعانی، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۷۱۶۳(انظر: ۱۷۱۲۱)
5434
Zaeef
۔ (۵۴۳۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((جَدِّدُوا إِیمَانَکُمْ۔)) قِیلَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَکَیْفَ نُجَدِّدُ إِیمَانَنَا؟ قَالَ: ((أَکْثِرُوا مِنْ قَوْلِ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔)) (مسند أحمد: ۸۶۹۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنے ایمان کی تجدید کیا کرو۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کیسے اپنے ایمان کی تجدید کیا کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کثرت سے لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہا کرو۔
Takhreej
(۵۴۳۵) تخریج: اسنادہ ضعیف،صدقۃ بن موسی ضعفہ ابن معین وابوداود والنسائی وغیرھم، أخرجہ البزار: ۶۶۴(انظر: ۸۷۱۰)
Explanation
فوائد:… یہ کلمہ اللہ تعالیٰ کی توحید و الوہیت پر مشتمل ہے، آدمی اسی کلمہ کے ذریعے مشرف باسلام ہوتا ہے، اس لیے یہ شہادت دینے سے اللہ تعالیٰ کی معبودیت اور بندے کی عبدیت کا احساس تازہ ہو تا رہتا ہے اور بندے میں نور و یقین جیسی نعمت کی تجدید ہوتی رہے گی۔
5435
Zaeef
۔ (۵۴۳۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : مَنْ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِکَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَقَدْ ظَنَنْتُ یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَلَّا یَسْأَلَنِی عَنْ ہٰذَا الْحَدِیثِ أَحَدٌ أَوَّلَ مِنْکَ، لِمَا رَأَیْتُ مِنْ حِرْصِکَ عَلَی الْحَدِیثِ، أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَنْ قَالَ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ خَالِصَۃً مِنْ قِبَلِ نَفْسِہِ۔)) (مسند أحمد: ۸۸۴۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: روزِ قیامت کون لوگ آپ کی سفارش کے زیادہ مستحق ہوں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو ہریرہ! میرا خیال تھا کہ کوئی آدمی تجھ سے پہلے مجھ سے اس حدیث کے بارے میں سوال نہیں کرے گا، کیونکہ میں نے تیرے اندر حدیث کی حرص پائی ہے، قیامت کے دن میری سفارش کا سب سے زیادہ مستحق وہ شخص ہو گا، جو اپنی طرف سے اور خلوص کے ساتھ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہے گا۔
Takhreej
(۵۴۳۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۵۷۰(انظر: ۸۸۵۸)
5436
Sahih