TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ…کا بیان - لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ…کا بیان - ذکر کے مخصوص کلمات کی فضیلت کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of ذکر کے مخصوص کلمات کی فضیلت کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 9 · 6 Hadith
۔ (۵۴۳۷)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَالَ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ، مِائَتَیْ مَرَّۃٍ فِی کُلِّ یَوْمٍ لَمْ یَسْبِقْہُ أَحَدٌ کَانَ قَبْلَہُ، وَلَا یُدْرِکُہُ أَحَدٌ بَعْدَہُ إِلَّا بِأَفْضَلَ مِنْ عَمَلِہِ۔)) (مسند أحمد: ۶۷۴۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ایک دن دو سو (۲۰۰) بار یہ ذکر کیا: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ(نہیں ہے کوئی معبودِ برحق، مگر اللہ، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کیلئے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے) تو اس سے پہلے گزر جانے والا کوئی آدمی اس سے سبقت نہیں لے جا سکے گا اور بعد والوں میں سے کوئی شخص اس کے مقام کو نہیں پا سکے گا، مگر اس کے عمل سے زیادہ عمل کر کے۔
Takhreej
(۵۴۳۷) تخریج: صحیح، أخرجہ الحاکم: ۱/۵۰۰، والبزار: ۳۰۷۰(انظر: ۶۷۴۰)
5437
Sahih
۔ (۵۴۳۸)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ مَنَحَ مِنْحَۃَ وَرِقٍ أَوْ مِنْحَۃَ لَبَنٍ أَوْ ہَدَی زُقَاقًا فَہُوَ کَعِتَاقِ نَسَمَۃٍ، وَمَنْ قَالَ: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، فَہُوَ کَعِتَاقِ نَسَمَۃٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۷۱۰)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے چاندی کا عطیہ دیا، یا دودھ کا عطیہ دیا، یا کسی کو راستے کی رہنمائی کر دی تو اس کو ایک گردن آزاد کرنے کا ثواب ملے گا اور جس نے لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ کہا، وہ بھی ایک گردن آزاد کرنے والے کی طرح ہو گا۔
Takhreej
(۵۴۳۸) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۷۲۰۲(انظر: ۱۸۵۱۶)
Explanation
فوائد:… چاندی کے عطیے سے مراد قرض دینا ہے اور دودھ کے عطیے سے مراد یہ ہے کہ دودھ والا جانور کسی کو دے دیا جائے اور کچھ عرصہ تک دودھ کا فائدہ حاصل کرتا رہے اور پھر وہ جانور مالک کو واپس کر دے۔
5438
Sahih
۔ (۵۴۳۹)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قال: کَانَ اَکْثَرُ دُعَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ عَرَفَۃَ: ((لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ)) (مسند أحمد: ۶۹۶۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عرفہ کے دن زیادہ تر یہ دعا کیا کرتے تھے: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ۔
Takhreej
(۵۴۳۹) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الترمذی: ۳۵۸۵ (انظر: ۶۹۶۱)
Explanation
فوائد:… یہ کلمہ اللہ تعالیٰ کی ثنائ، توحید اور اس کے لیے قدرت و عظمت کے اقرار پر مشتمل ہے۔
5439
Sahih
۔ (۵۴۴۰)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَالَ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، فِی یَوْمٍ مِائَۃَ مَرَّۃٍ، کَانَتْ لَہُ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ، وَکُتِبَ لَہُ مِائَۃُ حَسَنَۃٍ، وَمُحِیَتْ عَنْہُ مِائَۃُ سَیِّئَۃٍ، وَکَانَتْ لَہُ حِرْزًا مِنَ الشَّیْطَانِ یَوْمَہُ ذٰلِکَ حَتّٰی یُمْسِیَ، وَلَمْ یَأْتِ أَحَدٌ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَائَ بِہِ إِلَّا أَحَدٌ عَمِلَ أَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ۔)) (مسند أحمد: ۸۸۶۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ایک دن میں سو (۱۰۰) بار یہ کلمہ کہا: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ۔ اس کو دس گردنیں آزاد کرنے کا ثواب ملے گا، اس کے لیے سو (۱۰۰) نیکیاں لکھی جائیں گی، اس سے سو (۱۰۰) برائیاں مٹائی جائیں گی اور یہ عمل شام تک اس کے لیے شیطان سے حفاظت ثابت ہو گا اور کوئی آدمی اس کے عمل سے زیادہ فضیلت والا عمل نہیں لائے گا، مگر وہ جو یہ عمل اس سے زیادہ مقدار میں کرے گا۔
Takhreej
(۵۴۴۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۲۹۳، ۶۴۰۳، ومسلم: ۲۶۹۱(انظر: ۸۸۷۳)
5440
Sahih
۔ (۵۴۴۱)۔ عَنْ وَاہبِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَالَ: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: وَإِنْ زَنٰی وَإِنْ سَرَقَ، قَالَ: ((وَإِنْ زَنٰی وَإِنْ سَرَقَ۔)) قُلْتُ: وَإِنْ زَنٰی وَإِنْ سَرَقَ، قَالَ: ((وَإِنْ زَنٰی وَإِنْ سَرَقَ۔)) قُلْتُ: وَإِنْ زَنٰی وَإِنْ سَرَقَ، قَالَ: ((وَإِنْ زَنٰی وَإِنْ سَرَقَ عَلٰی رَغْمِ أَنْفِ أَبِی الدَّرْدَائِ۔)) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: فَخَرَجْتُ لِأُنَادِیَ بِہَا فِی النَّاسِ، قَالَ: فَلَقِیَنِی عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: ارْجِعْ فَإِنَّ النَّاسَ إِنْ عَلِمُوا بِہٰذِہِ اتَّکَلُوا عَلَیْہَا، فَرَجَعْتُ فَأَخْبَرْتُہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صَدَقَ عُمَرُ)) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ (مسند أحمد: ۲۸۰۳۹)
۔ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو بندہ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ کہے گا، وہ وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو۔ میں نے پھر کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو، میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو، ابو درداء کا ناک خاک آلود ہونے پر۔ وہ کہتے ہیں: پس میں وہاں سے نکلا اور لوگوں میں اس حدیث کا اعلان کرنے لگا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مجھے ملے، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس واپس چلو، اگر لوگوںکو اس چیز کا علم ہو گیا تو اسی پر توکل کر کے (عمل چھوڑ دیں گے)۔ پس میں لوٹا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عمر نے سچ کہا ہے۔
Takhreej
(۵۴۴۱) صحیح، لکن من حدیث ابی ذر دون القصۃ مع عمر، کما سلف برقم (۵۴۲۸) (انظر: ۲۷۵۶۱)
5441
Sahih
۔ (۵۴۴۲)۔ عَنْ مُصْعَبِ بْن سَعْدٍ، عَنْ أَبِیہِ، أَنَّ أَعْرَابِیًّا أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: عَلِّمْنِی کَلَامًا أَقُولُہُ، قَالَ: ((قُلْ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ اللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیرًا، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیرًا، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ الْعَزِیزِ الْحَکِیمِ۔)) خَمْسًا، قَالَ: ہٰؤُلَاء ِ لِرَبِّی فَمَا لِی؟ قَالَ: ((قُلْ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ وَعَافِنِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۶۱)
۔ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدّو، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: مجھے کھچ کلمات کی تعلیم دیں، تاکہ میں ان کا ورد کروں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کلمات کہا کرو: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ اللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیرًا، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیرًا، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ الْعَزِیزِ الْحَکِیمِ۔ یہ پانچ کلمات ہیں، اس نے کہا: یہ کلمات تو میرے ربّ کے لیے ہیں، میرے لیے کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے لیے یہ دعا کیا کرو: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ وَعَافِنِیْ۔(اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھے رزق دے، مجھے ہدایت دے اور مجھے عافیت دے)۔
Takhreej
(۵۴۴۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۹۶(انظر: ۱۵۶۱)
5442
Sahih