۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایک دن دو سو (۲۰۰) بار یہ ذکر کیا: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ(نہیں ہے کوئی معبودِ برحق، مگر اللہ، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کیلئے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے) تو اس سے پہلے گزر جانے والا کوئی آدمی اس سے سبقت نہیں لے جا سکے گا اور بعد والوں میں سے کوئی شخص اس کے مقام کو نہیں پا سکے گا، مگر اس کے عمل سے زیادہ عمل کر کے۔
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے چاندی کا عطیہ دیا، یا دودھ کا عطیہ دیا، یا کسی کو راستے کی رہنمائی کر دی تو اس کو ایک گردن آزاد کرنے کا ثواب ملے گا اور جس نے لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ کہا، وہ بھی ایک گردن آزاد کرنے والے کی طرح ہو گا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفہ کے دن زیادہ تر یہ دعا کیا کرتے تھے: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایک دن میں سو (۱۰۰) بار یہ کلمہ کہا: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ۔ اس کو دس گردنیں آزاد کرنے کا ثواب ملے گا، اس کے لیے سو (۱۰۰) نیکیاں لکھی جائیں گی، اس سے سو (۱۰۰) برائیاں مٹائی جائیں گی اور یہ عمل شام تک اس کے لیے شیطان سے حفاظت ثابت ہو گا اور کوئی آدمی اس کے عمل سے زیادہ فضیلت والا عمل نہیں لائے گا، مگر وہ جو یہ عمل اس سے زیادہ مقدار میں کرے گا۔
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو بندہ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ کہے گا، وہ وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو۔ میں نے پھر کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو، میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو، ابو درداء کا ناک خاک آلود ہونے پر۔ وہ کہتے ہیں: پس میں وہاں سے نکلا اور لوگوں میں اس حدیث کا اعلان کرنے لگا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجھے ملے، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس چلو، اگر لوگوںکو اس چیز کا علم ہو گیا تو اسی پر توکل کر کے (عمل چھوڑ دیں گے)۔ پس میں لوٹا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمر نے سچ کہا ہے۔
۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدّو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: مجھے کھچ کلمات کی تعلیم دیں، تاکہ میں ان کا ورد کروں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کلمات کہا کرو: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ اللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیرًا، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیرًا، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ الْعَزِیزِ الْحَکِیمِ۔ یہ پانچ کلمات ہیں، اس نے کہا: یہ کلمات تو میرے ربّ کے لیے ہیں، میرے لیے کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے لیے یہ دعا کیا کرو: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ وَعَافِنِیْ۔(اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھے رزق دے، مجھے ہدایت دے اور مجھے عافیت دے)۔