TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

استغفار اور اس کی فضیلت کا بیان - استغفار اور اس کی فضیلت کا بیان - ذکر کے مخصوص کلمات کی فضیلت کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 8 of ذکر کے مخصوص کلمات کی فضیلت کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 8 of 9 · 7 Hadith
۔ (۵۴۷۸)۔ عَن عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ أَکْثَرَ مِنْ الِاسْتِغْفَارِ، جَعَلَ اللّٰہُ لَہُ مِنْ کُلِّ ہَمٍّ فَرَجًا، وَمِنْ کُلِّ ضِیقٍ مَخْرَجًا، وَرَزَقَہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ)) (مسند أحمد: ۲۲۳۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کثرت سے استغفار کیا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر غم سے نجات اور ہر تنگی سے نکلنے کی راہ پیدا کر دے گا اور اس کو وہاں سے رزق دے گا، جہاں سے اس کو وہم و گمان تک نہیں ہو گا۔
Takhreej
(۵۴۷۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، الحاکم بن مصعب مجھول، أخرجہ ابوداود: ۱۵۱۸، وابن ماجہ: ۳۸۱۹(انظر: ۲۲۳۴)
Explanation
فوائد:… درج ذیل آیات سے ثابت ہوا کہ رزق کا حصول اور غموں سے نجات استغفار کے فوائد میں سے ہیں:
5478
Zaeef
۔ (۵۴۷۹)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّ إِبْلِیسَ قَالَ لِرَبِّہِ: بِعِزَّتِکَ وَجَلَالِکَ لَا أَبْرَحُ أُغْوِیْ بَنِیْ آدَمَ مَا دَامَتِ الْأَرْوَاحُ فِیہِمْ، فَقَالَ اللّٰہُ: فَبِعِزَّتِی وَجَلَالِی! لَا أَبْرَحُ أَغْفِرُ لَہُمْ مَا اسْتَغْفَرُوْنِیْ)) (مسند أحمد: ۱۱۲۶۴)
۔ سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابلیس نے اپنے ربّ سے کہا: تیری عزت اور جلال کی قسم! جب تک بنو آدم میں روحیں موجود رہیں گی، میں ہمیشہ ان کو گمراہ کرتا رہوں گا، اللہ تعالیٰ نے کہا: مجھے میری عزت اور میرے جلال کی قسم! جب تک وہ مجھ سے بخشش طلب کرتے رہیں گے، میں ان کو بخشتا رہوں گا۔
Takhreej
(۵۴۷۹) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ ابویعلی: ۱۳۹۹، والحاکم: ۴/ ۲۶۱، والطبرانی فی الاوسط : ۸۷۸۳(انظر: ۱۱۲۴۴)
5479
Sahih
۔ (۵۴۸۰)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنِّی لَأَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ فِی الْیَوْمِ أَکْثَرَ مِنْ سَبْعِینَ مَرَّۃً وَأَتُوبُ إِلَیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۷۷۸۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک میں ایک دن میں ستر بار اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
Takhreej
(۵۴۸۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۳۰۷(انظر: ۷۷۹۳)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صفائے قلب اور دل سے مختلف عارضوں اور پردوں کو زائل کرنے کے لیے استغفار کرتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چاہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حضور دائمی ہو، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بشری تقاضوں کی طرف توجہ کرتے، جیسے کھانا پینا وغیرہ، جس سے کمال حضور میں کمی آجاتی، استغفار کے ذریعے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس صورت کا ازالہ کرتے، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عبدیت کے اظہار کے لیے، ربّ تعالیٰ کے کرم کا فقیر بننے کے لیے اور اپنی امت کو تعلیم دینے کے لیے استغفار کیا کرتے تھے۔ (نَسْأَلُ اللّٰہَ اَنْ یُطَھِّرَنَا مِنَ الذُّنُوبِ وَاَنْ یَسْتُرَ مَا لَنَا مِنَ الْعُیُوْبِ)
5480
Sahih
۔ (۵۴۸۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَمِعْتُہُ اسْتَغْفَرَ مِائَۃَ مَرَّۃٍ، ثُمَّ یَقُولُ: ((اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی، وَتُبْ عَلَیَّ، إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ، أَوْ إِنَّکَ تَوَّابٌ غَفُورٌ۔)) (مسند أحمد: ۵۳۵۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سنا، آپ نے سو دفعہ بخشش طلب کی اور پھر یہ دعا کی: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی، وَتُبْ عَلَیَّ، إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ۔ (اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما اور مجھ پر رجوع کر، بیشک تو ہی توبہ قبول کرنے والارحم کرنے والا ہے)۔ ایک روایت میں آخر میں إِنَّکَ تَوَّابٌ غَفُورٌ کے الفاظ ہیں۔
Takhreej
(۵۴۸۱) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ أبوداود: ۱۵۱۶، والترمذی: ۳۴۳۴، وابن ماجہ: ۳۸۱۴ (انظر: ۵۳۵۴)
5481
Sahih
۔ (۵۴۸۲)۔ عَنِ الْأَغَرِّ الْمُزَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّہُ لَیُغَانُ عَلٰی قَلْبِی، وَإِنِّی لَأَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ کُلَّ یَوْمٍ مِائَۃَ مَرَّۃٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۴۸۰)
۔ سیدنا اغر مزنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک شان یہ ہے کہ میرے دل پر بھی غفلت طاری ہو جاتی ہے اور میں ہر روز سو سو بار اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں۔
Takhreej
(۵۴۸۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۰۲(انظر: ۱۸۲۹۱)
Explanation
فوائد:… دل پر طاری ہونے والی غفلت سے مراد کسی عارضے کی بنا پر ذکر کے تسلسل کا منقطع ہو جانا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پاکیزہ دل اس انقطاع کو محسوس کر لیتا تھا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کا ازالہ کرتے تھے، کثرت کے ساتھ ذکر کرنے والے کو اس حدیث ِ مبارکہ کا عملی طور پر تجربہ ہوتا ہے، جب عظیم لوگوں کی عبادت کا وقت دوسرے جائز اور مباح امور میں صرف ہو جاتا ہے تو وہ اپنے مزاج میں اس کمی کو محسوس کرتے ہیں اور پھر اس کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
5482
Sahih
۔ (۵۴۸۳)۔ عَنْ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدَۃٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((الْعَبْدُ آمِنٌ مِنْ عَذَابِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ مَا اسْتَغْفَرَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۴۵۳)
۔ سیدنا فضالہ بن عبید سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بندہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے عذاب سے امن میں رہتا ہے، جب تک اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا رہتا ہے۔
Takhreej
(۵۴۸۳) تخریج: حسن بمجموع طریقیہ وشاھدہ (انظر: ۲۳۹۵۳)
5483
Sahih
۔ (۵۴۸۴)۔ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُکْثِرُ فِی آخِرِ أَمْرِہِ مِنْ قَوْلِ ((سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ۔)) قَالَتْ: فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا لِی أَرَاکَ تُکْثِرُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ؟ قَالَ: ((إِنَّ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ کَانَ أَخْبَرَنِی أَنِّی سَأَرٰی عَلَامَۃً فِی أُمَّتِی، وَأَمَرَنِی إِذَا رَأَیْتُہَا أَنْ أُسَبِّحَ بِحَمْدِہِ وَأَسْتَغْفِرَہُ، إِنَّہُ کَانَ تَوَّابًا فَقَدْ رَأَیْتُہَا {إِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ وَرَأَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِی دِینِ اللّٰہِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ إِنَّہُ کَانَ تَوَّابًا}۔ [سورۃ النصر])) (مسند أحمد: ۲۴۵۶۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی آخری زندگی میں کثرت سے یہ ذکر کرتے تھے: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ، میں نے کہا: کیا وجہ ہے کہ آپ یہ ذکر بہت کثرت سے کرنے لگ گئے ہیں: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک میرے ربّ نے مجھے یہ خبر دی تھی کہ میں عنقریب اپنی امت میں ایک علامت دیکھوں گا اور پھر مجھے یہ حکم بھی دیا کہ میں جب اس کو دیکھ لوں تو اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح بیان کروں اور اس سے بخشش طلب کروں، بیشک وہ توبہ قبول کرنے کرنے والا ہے، اور اب میں نے وہ علامت ان آیات کی صورت میں دیکھ لی ہے: {إِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ وَرَأَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِی دِینِ اللّٰہِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ إِنَّہُ کَانَ تَوَّابًا} جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے۔ اور تو لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق آتا دیکھ لے۔ تو اپنے رب کی تسبیح کرنے لگ حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت کی دعا مانگ، بیشک وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا ہے۔ (النصر: ۱۔۳)
Takhreej
(۵۴۸۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۸۴(انظر: ۲۴۰۶۵)
Explanation
فوائد:… دراصل سورۂ نصر میں یہ بتلایا گیا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حیات ِ مبارکہ کا آخری وقت آ گیا ہے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تسبیح و تحمید اور استغفار کا حکم دیا گیا ہے۔ جو لوگ بڑی عمر یا مخصوص بیماری کی وجہ سے موت کو قریب سمجھنے لگ جائیں وہ اس سورت میں دی گئی ہدایت پر عمل کریں۔
5484
Sahih