مسنداحمد

Musnad Ahmad

نیند کے آداب اور اذکار کے ابواب

سونے سے پہلے وضو کرنے، دروازہ بند کرنے اور چراغ بجھانے وغیرہ کا بیان

۔ (۵۵۱۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ یَرْقُدَ تَوَضَّأَ وُضُوئَہُ لِلصَّلَاۃِ ثُمَّ یَرْقُدُ۔ (مسند أحمد: ۲۵۴۱۴)

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے تو نماز والا وضو کرتے اور پھر سو جاتے۔

۔ (۵۵۱۳)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ نَامَ وَفِی یَدِہِ غَمَرٌ وَلَمْ یَغْسِلْہُ فَأَصَابَہُ شَیْئٌ فَلَا یَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۹۵۳)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اس حال میں سویا کہ اس کے ہاتھ میں گوشت کی بو یا چکناہٹ ہو اور پھر اس وجہ سے وہ کسی تکلیف میںمبتلا ہو جائے تو وہ صرف اپنے آپ کو ملامت کرے۔

۔ (۵۵۱۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَبِیتَنَّ النَّارُ فِی بُیُوتِکُمْ فَإِنَّہَا عَدُوٌّ)) (مسند أحمد: ۵۳۹۶)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آگ ہر گز تمہارے گھروں میں رات نہ گزارنے پائے، کیونکہ یہ تمہاری دشمن ہے۔

۔ (۵۵۱۶)۔ عَنْ اَبِیْ أُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَجِیفُوا أَبْوَابَکُمْ، وَأَکْفِئُوا آنِیَتَکُمْ، وَأَوْکِئُوا أَسْقِیَتَکُمْ، وَأَطْفِئُوا سُرُجَکُمْ، فَإِنَّہُ لَنْ یُؤْذَنَ لَہُمْ بِالتَّسَوُّرِ عَلَیْکُمْ)) (مسند أحمد: ۲۲۶۲۰)

۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (اللہ کا نام لے کر) دروازے بند کر دیا کرو، برتنوں کو الٹا کر دیا کرو، مشکیزوں کے منہ باندھ دیا کرو اور چراغوں کو بجھا دیا کرو، کیونکہ شیطانوں کو ہر گز یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ دیواروں کو پھلانگ کر تمہارے گھروں میںگھس آ ئیں۔

۔ (۵۵۱۷)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: احْتَرَقَ بَیْتٌ بِالْمَدِینَۃِ عَلٰی أَہْلِہِ، فَحُدِّثَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِشَأْنِہِمْ، فَقَالَ: ((إِنَّمَا ہٰذِہِ النَّارُ عَدُوٌّ لَکُمْ، فَإِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوہَا عَنْکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۸۰۰)

۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ میں ایک گھر مالکوں سمیت جل گیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان کی صورتحال بتلائی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ آگ تمہاری دشمن ہے، اس لیے جب تم سونے لگو تو اس کو بجھا دیا کرو۔

۔ (۵۵۱۸)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ، وَأَوْکِئُوا الْأَسْقِیَۃَ، وَخَمِّرُوا الْإِنَائَ، وَأَطْفِئُوا السُّرُجَ، فَإِنَّ الشَّیْطَانَ لَا یَفْتَحُ غَلَقًا، وَلَا یَحُلُّ وِکَائً، وَلَا یَکْشِفُ إِنَائً، فَإِنَّ الْفُوَیْسِقَۃَ تُضْرِمُ عَلٰی أَہْلِ الْبَیْتِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۲۱۲)

۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دروازوں کو بند کر دیا کرو، مشکیزوں کے منہ باندھ دیا کرو، برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو اور چراغوں کو بجھا دیا کرو، کیونکہ شیطان نہ بند دروازے کو کھولتا ہے، نہ مشکیزے کی ڈوری کو کھولتا ہے، نہ برتن کا ڈھکن ہٹاتا ہے اور آگ کی وجہ سے فاسق جانور یعنی چوہیا گھروالوں پر آگ لگا دیتی ہے۔