TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نیند کے آداب اور اذکار کے ابواب - نیند کے آداب اور اذکار کے ابواب - Book 87 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 87 of Musnad Ahmad, with 9 chapters and 57 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

57 Hadith · 9 Chapters
سونے سے پہلے وضو کرنے، دروازہ بند کرنے اور چراغ بجھانے وغیرہ کا بیان
۔ (۵۵۱۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ یَرْقُدَ تَوَضَّأَ وُضُوئَہُ لِلصَّلَاۃِ ثُمَّ یَرْقُدُ۔ (مسند أحمد: ۲۵۴۱۴)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے تو نماز والا وضو کرتے اور پھر سو جاتے۔
Takhreej
(۵۵۱۲) تخریج: رجالہ ثقات رجال الشیخین (انظر: ۲۴۹۰۲)
5512
Sahih
سونے سے پہلے وضو کرنے، دروازہ بند کرنے اور چراغ بجھانے وغیرہ کا بیان
۔ (۵۵۱۳)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ نَامَ وَفِی یَدِہِ غَمَرٌ وَلَمْ یَغْسِلْہُ فَأَصَابَہُ شَیْئٌ فَلَا یَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۹۵۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو اس حال میں سویا کہ اس کے ہاتھ میں گوشت کی بو یا چکناہٹ ہو اور پھر اس وجہ سے وہ کسی تکلیف میںمبتلا ہو جائے تو وہ صرف اپنے آپ کو ملامت کرے۔
Takhreej
(۵۵۱۳) اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابوداود: ۳۸۵۲، والترمذی: ۳۲۹۷(انظر: ۱۰۹۴۰)
Explanation
فوائد:… کھانے کے بعد ہاتھ دھونا مستحب ہے، بالخصوص سونے سے پہلے، چکنائی کی بو پا کر کوئی کیڑا مکوڑا بھی کاٹ سکتا ہے اور یہ کھانا خراب ہو کر کسی بیماری کا سبب بھی بن سکتا ہے، اس لیے کھانے کے بعد ہاتھ دھو لینے چاہییں اور منہ بھی صاف کر لینا چاہیے، جیسا کہ دوسری احادیث سے ثابت ہوتا ہے، اسلام ہر حالت میں نظافت اور پاکیزگی کی تاکید کرتا ہے۔
5513
Sahih
سونے سے پہلے وضو کرنے، دروازہ بند کرنے اور چراغ بجھانے وغیرہ کا بیان
۔ (۵۵۱۴)۔ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنْ أَبِیہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَتْرُکُوا النَّارَ فِی بُیُوتِکُمْ حِینَ تَنَامُونَ۔)) (مسند أحمد: ۵۰۲۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سوتے وقت گھروں میں آگ نہ چھوڑا کرو۔
Takhreej
(۵۵۱۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۲۹۳، ومسلم: ۲۰۱۵(انظر: ۵۰۲۸)
5514
Sahih
سونے سے پہلے وضو کرنے، دروازہ بند کرنے اور چراغ بجھانے وغیرہ کا بیان
۔ (۵۵۱۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَبِیتَنَّ النَّارُ فِی بُیُوتِکُمْ فَإِنَّہَا عَدُوٌّ)) (مسند أحمد: ۵۳۹۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آگ ہر گز تمہارے گھروں میں رات نہ گزارنے پائے، کیونکہ یہ تمہاری دشمن ہے۔
Takhreej
(۵۵۱۵) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ ابوعوانہ: ۵/۳۳۵، والحاکم: ۴/۲۸۴(انظر: ۵۳۹۶)
Explanation
فوائد:… آگ میں لوگوںکے لیے بڑے فائدے ہیں، لیکن دشمن کی طرح اس کے ضرر سے کبھی بھی امن میں نہیں رہا جا سکتا، اس نے کئی لوگوں کو جلایا، گھروں کو جلایا اور گھروں کے ساز و سامان کو جلایا، لہذا سوتے وقت گھر کے اندر آگ کے وجود کو ختم کر کے سونا چاہیے۔
5515
Sahih
سونے سے پہلے وضو کرنے، دروازہ بند کرنے اور چراغ بجھانے وغیرہ کا بیان
۔ (۵۵۱۶)۔ عَنْ اَبِیْ أُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَجِیفُوا أَبْوَابَکُمْ، وَأَکْفِئُوا آنِیَتَکُمْ، وَأَوْکِئُوا أَسْقِیَتَکُمْ، وَأَطْفِئُوا سُرُجَکُمْ، فَإِنَّہُ لَنْ یُؤْذَنَ لَہُمْ بِالتَّسَوُّرِ عَلَیْکُمْ)) (مسند أحمد: ۲۲۶۲۰)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (اللہ کا نام لے کر) دروازے بند کر دیا کرو، برتنوں کو الٹا کر دیا کرو، مشکیزوں کے منہ باندھ دیا کرو اور چراغوں کو بجھا دیا کرو، کیونکہ شیطانوں کو ہر گز یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ دیواروں کو پھلانگ کر تمہارے گھروں میںگھس آ ئیں۔
Takhreej
(۵۵۱۶) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۲۲۲۶۴)
Explanation
فوائد:… بسم اللہ پڑھ کر گھروں کے دروازے بند کیے جائیں، دیکھیں حدیث نمبر (۵۵۶۸)۔
5516
Sahih
سونے سے پہلے وضو کرنے، دروازہ بند کرنے اور چراغ بجھانے وغیرہ کا بیان
۔ (۵۵۱۷)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: احْتَرَقَ بَیْتٌ بِالْمَدِینَۃِ عَلٰی أَہْلِہِ، فَحُدِّثَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِشَأْنِہِمْ، فَقَالَ: ((إِنَّمَا ہٰذِہِ النَّارُ عَدُوٌّ لَکُمْ، فَإِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوہَا عَنْکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۸۰۰)
۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ میں ایک گھر مالکوں سمیت جل گیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان کی صورتحال بتلائی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ آگ تمہاری دشمن ہے، اس لیے جب تم سونے لگو تو اس کو بجھا دیا کرو۔
Takhreej
(۵۵۱۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۲۹۴، ومسلم: ۲۰۱۶(انظر: ۱۹۵۷۱)
5517
Sahih
سونے سے پہلے وضو کرنے، دروازہ بند کرنے اور چراغ بجھانے وغیرہ کا بیان
۔ (۵۵۱۸)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ، وَأَوْکِئُوا الْأَسْقِیَۃَ، وَخَمِّرُوا الْإِنَائَ، وَأَطْفِئُوا السُّرُجَ، فَإِنَّ الشَّیْطَانَ لَا یَفْتَحُ غَلَقًا، وَلَا یَحُلُّ وِکَائً، وَلَا یَکْشِفُ إِنَائً، فَإِنَّ الْفُوَیْسِقَۃَ تُضْرِمُ عَلٰی أَہْلِ الْبَیْتِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۲۱۲)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دروازوں کو بند کر دیا کرو، مشکیزوں کے منہ باندھ دیا کرو، برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو اور چراغوں کو بجھا دیا کرو، کیونکہ شیطان نہ بند دروازے کو کھولتا ہے، نہ مشکیزے کی ڈوری کو کھولتا ہے، نہ برتن کا ڈھکن ہٹاتا ہے اور آگ کی وجہ سے فاسق جانور یعنی چوہیا گھروالوں پر آگ لگا دیتی ہے۔
Takhreej
(۵۵۱۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۲۸۰، ومسلم: ۲۰۱۲(انظر: ۱۵۱۴۵)
Explanation
فوائد:… صحیح مسلم کی روایت میں ہے: اگر برتن ڈھانپنے کے لیے کوئی چیز نہ ہو تو اللہ تعالیٰ کا نام لے کر کوئی لکڑی اس کے اوپر رکھ دے۔
5518
Sahih
نیند کے لیے لیٹنے کی کیفیت اور لیٹنے کا ارادہ رکھنے والے سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان اور جہنمی لوگوں کی طرح لیٹنے اور اس جیسے دوسرے امور کی ممانعت
۔ (۵۵۱۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : أَنَّہُ کَانَ إِذَا نَامَ وَضَعَ یَمِینَہُ تَحْتَ خَدِّہِ، وَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ قِنِی عَذَابَکَ یَوْمَ تَجْمَعُ عِبَادَکَ۔)) (مسند أحمد: ۳۷۹۶)
۔ سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سونے لگتے تو اپنا دایاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ قِنِی عَذَابَکَ یَوْمَ تَجْمَعُ عِبَادَکَ (اے اللہ! جس دن تو اپنے بندوں کو جمع کرے گا، اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچالینا)۔
Takhreej
(۵۵۱۹) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الترمذی فی الشمائل : ص ۱۳۷، وابن ابی شیبۃ: ۹/ ۷۶، وابویعلی: ۵۰۲۱(انظر: ۳۷۹۶)
Explanation
فوائد:… یہ دعا تین بار پڑھی جائے گی، جیسا کہ حدیث نمبر (۵۵۲۱) سے ثابت ہو رہاہے۔
5519
Sahih
نیند کے لیے لیٹنے کی کیفیت اور لیٹنے کا ارادہ رکھنے والے سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان اور جہنمی لوگوں کی طرح لیٹنے اور اس جیسے دوسرے امور کی ممانعت
۔ (۵۵۲۰)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ یَمَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ یَعْنِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا أَوٰی إِلَی فِرَاشِہِ وَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنٰی تَحْتَ خَدِّہِ وَقَالَ: ((رَبِّ قِنِی عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ، أَوْ تَجْمَعُ عِبَادَکَ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۶۳۳)
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے بستر پر آتے تو دایاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ دعا پڑھتے: رَبِّ قِنِیْ عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ(اے میرے ربّ! جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا، اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچالینا)۔ ایک روایت میں تَبْعَثُ کے بجائے تَجْمَعُ کے الفاظ کا ذکر ہے۔
Takhreej
(۵۵۲۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ الترمذی: ۳۳۹۸(انظر: ۲۳۲۴۴)
5520
Sahih
نیند کے لیے لیٹنے کی کیفیت اور لیٹنے کا ارادہ رکھنے والے سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان اور جہنمی لوگوں کی طرح لیٹنے اور اس جیسے دوسرے امور کی ممانعت
۔ (۵۵۲۱)۔ عَنْ حَفْصَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرْفُوْعًا مِثْلَہٗ وَفِیْہِ: یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ ثَلَاثًا۔ (مسند أحمد: ۲۶۹۹۴)
۔ زوجۂ رسول سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، پھر انھوں نے بھی اسی قسم کی مرفوع روایت بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا تین بار پڑھتے تھے۔
Takhreej
(۵۵۲۱) تخریج:حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۳۲، ۵۰۴۵(انظر: ۲۶۴۶۲)
5521
Sahih
نیند کے لیے لیٹنے کی کیفیت اور لیٹنے کا ارادہ رکھنے والے سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان اور جہنمی لوگوں کی طرح لیٹنے اور اس جیسے دوسرے امور کی ممانعت
۔ (۵۵۲۲)۔ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ، وَرَجُلٍ آخَرَ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ یَنَامَ تَوَسَّدَ یَمِینَہُ وَیَقُولُ: ((اَللّٰہُمَّ قِنِی عَذَابَکَ یَوْمَ تَجْمَعُ عِبَادَکَ۔)) قَالَ: فَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: وَقَالَ الْآخَرُ: یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ۔ (مسند أحمد: ۱۸۶۶۴)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ سونے کا ارادہ کرتے تو دایاں ہاتھ سر کے نیچے رکھتے اور یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ قِنِی عَذَابَکَ یَوْمَ تَجْمَعُ عِبَادَکَ(اے اللہ! اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچانا، جس دن تو اپنے بندوں کو جمع کرے گا)۔
Takhreej
(۵۵۲۲) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الترمذی: ۳۳۹۹(انظر: ۱۸۴۷۲)
5522
Sahih
نیند کے لیے لیٹنے کی کیفیت اور لیٹنے کا ارادہ رکھنے والے سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان اور جہنمی لوگوں کی طرح لیٹنے اور اس جیسے دوسرے امور کی ممانعت
۔ (۵۵۲۳)۔ عَنْ یَعِیشَ بْنِ طِھْفَۃَ الْغِفَارِیِّ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: ضِفْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیمَنْ تَضَیَّفَہُ مِنَ الْمَسَاکِینِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی اللَّیْلِ یَتَعَاہَدُ ضَیْفَہُ فَرَآنِی مُنْبَطِحًا عَلَی بَطْنِی فَرَکَضَنِی بِرِجْلِہِ، وَقَالَ: ((لَا تَضْطَجِعْ ہٰذِہِ الضِّجْعَۃَ، فَإِنَّہَا ضِجْعَۃٌ یُبْغِضُہَا اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۰۱۴)
۔ سیدنا طہفہ غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جن مساکین کی ضیافت کی تھی، میں بھی ان میں شامل تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مہمانوں کے خیال کے ارادے سے رات کو ہمارے پاس آئے اور مجھے اس حال میں پایا کہ میں پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے پاؤں سے مجھے ٹھوکر لگائی اور فرمایا: اس طرح نہ لیٹا کر، اللہ تعالیٰ لیٹنے کی اس کیفیت کو ناپسند کرتاہے۔
Takhreej
(۵۵۲۳) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ أبوداود: ۵۰۴۰، وابن ماجہ: ۳۷۲۳، ۳۷۲۴(انظر: ۲۳۶۱۵)
5523
Sahih
نیند کے لیے لیٹنے کی کیفیت اور لیٹنے کا ارادہ رکھنے والے سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان اور جہنمی لوگوں کی طرح لیٹنے اور اس جیسے دوسرے امور کی ممانعت
۔ (۵۵۲۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): أَخْبَرَنِی أَبِی أَنَّہُ ضَافَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَ نَفَرٍ قَالَ: فَبِتْنَا عِنْدَہُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ اللَّیْلِ یَطَّلِعُ فَرَآہُ مُنْبَطِحًا عَلٰی وَجْہِہِ فَرَکَضَہُ بِرِجْلِہِ فَأَیْقَظَہُ وَقَالَ: ((ہٰذِہِ ضِجْعَۃُ أَہْلِ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۶۳۰)
۔ (دوسری سند) سیدنا طہفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک گروہ کے ساتھ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مہمان بنے، ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس رات گزاری، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو ہمارے پاس تشریف لائے اور مجھے پیٹ کے بل لیٹے ہوئے پایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے جگایا اور فرمایا: یہ جہنمی لوگوں کے لیٹنے کی کیفیت ہے۔
Takhreej
(۵۵۲۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… پیٹ کے بل سونا ناجائز ہے، افضل یہ ہے کہ دائیں کروٹ پر سویا جائے۔
5524
Sahih
نیند کے لیے لیٹنے کی کیفیت اور لیٹنے کا ارادہ رکھنے والے سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان اور جہنمی لوگوں کی طرح لیٹنے اور اس جیسے دوسرے امور کی ممانعت
۔ (۵۵۲۵)۔ عن إِبْرَاہِیمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ أَنَّہُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ الشَّرِیدِ یَقُولُ: بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ عَلٰی رَجُلٍ وَہُوَ رَاقِدٌ عَلٰی وَجْہِہِ، فَقَالَ: ((ہٰذَا أَبْغَضُ الرُّقَادِ إِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۷۰۲)
۔ سیدنا عمرو بن شرید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے، جبکہ وہ اپنے چہرے کے بل سویا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سونے کی یہ کیفیت اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسند ہے۔
Takhreej
(۵۵۲۵) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۱۹۴۷۳)
5525
Sahih
نیند کے لیے لیٹنے کی کیفیت اور لیٹنے کا ارادہ رکھنے والے سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان اور جہنمی لوگوں کی طرح لیٹنے اور اس جیسے دوسرے امور کی ممانعت
۔ (۵۵۲۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَرَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِرَجُلٍ مُضْطَجِعٍ عَلٰی بَطْنِہِ، فَقَالَ: ((إِنَّ ہٰذِہِ لَضِجْعَۃٌ مَا یُحِبُّہَا اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۷۸۴۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے، جبکہ وہ پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس طرح لیٹنے کو پسند نہیں کرتا۔
Takhreej
(۵۵۲۶) تخریج: حدیث قوی، أخرجہ الترمذی: ۲۷۶۸(انظر: ۷۸۶۲)
5526
Sahih
نیند کے لیے لیٹنے کی کیفیت اور لیٹنے کا ارادہ رکھنے والے سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان اور جہنمی لوگوں کی طرح لیٹنے اور اس جیسے دوسرے امور کی ممانعت
۔ (۵۵۲۷)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اَنَّ النّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَھٰی عَنِ الْوَحْدَۃِ اَنْ یَبِیْتَ الرَّجُلُ وَحْدَہٗ اَوْ یُسَافِرَ وَحْدَہٗ۔ (مسند أحمد: ۵۶۵۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تنہائی سے منع کیا ہے، یعنی آدمی کا اکیلا رات گزارنا اور تنہا سفرکرنا۔
Takhreej
(۵۵۲۷) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی فی صحیحتہ، أخرجہ البخاری: ۲۹۹۸ دون النھی عن ان یبیت الرجل وحدہ (انظر: )
Explanation
فوائد:… نفع و نقصان کا حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہے، لیکن اس نے لوگوں کے ظاہری حالات و احساسات کو مد نظر رکھ کر تحفظ کے قوانین وضع کیے ہیں، ایک قانوں یہ ہے کہ نہ تنہا سفر کیا جائے اور تنہا رات گزاری جائے ۔
5527
Sahih
قرآن مجید کے اس حصے کا بیان، جو سونے سے پہلے تلاوت کیا جاتا ہے
۔ (۵۵۲۸)۔ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ رَجُلٍ یَأْوِی إِلٰی فِرَاشِہِ فَیَقْرَأُ سُورَۃً مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ إِلَّا بَعَثَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَیْہِ مَلَکًا یَحْفَظُہُ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ یُؤْذِیہِ حَتّٰی یَہُبَّ مَتٰی ھَبَّ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۲۶۲)
۔ سیدنا شداد بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے بستر پر آتا ہے اور کتاب اللہ کی ایک سورت تلاوت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو اس کی طرف بھیجتے ہیں، وہ اس کو ایذا پہنچانے والی ہر چیز سے اس کی حفاظت کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، جب بھی بیدار ہو۔
Takhreej
(۵۵۲۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام الراوی عن شداد بن اوس، وابو مسعود الجریری قد اختلط، وروایۃ یزید بن ھارون عنہ بعد اختلاطہ، أخرجہ الترمذی: ۳۴۰۷ (انظر: ۱۷۱۳۲)
5528
Zaeef
قرآن مجید کے اس حصے کا بیان، جو سونے سے پہلے تلاوت کیا جاتا ہے
۔ (۵۵۲۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا أَتٰی إِلٰی فِرَاشِہِ فِی کُلِّ لَیْلَۃٍ جَمَعَ کَفَّیْہِ ثُمَّ نَفَثَ فِیہِمَا وَقَرَأَ فِیہِمَا {قُلْ ہُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ} وَ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} وَ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} ثُمَّ مَسَحَ بِہِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِہِ یَبْدَأُ بِہِمَا عَلٰی رَأْسِہِ وَوَجْہِہِ، مَا أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِہِ یَفْعَلُ ذٰلِکَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ۔ (مسند أحمد: ۲۵۳۶۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب اپنے بستر پر آتے تو اپنی ہتھیلیوں کو جمع کر کے ان میں اس طرح پھونک مارتے کہ تھوڑی سی تھوک بھی ہوتی اور ان میں یہ سورتیں تلاوت کرتے: سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہ دونوں ہاتھ جہاں تک ہو سکتا، اپنے جسم پر اس طرح پھیرتے کہ اپنے سر اور چہرے سے شروع کرتے، پھر جسم کے سامنے والے حصے پر پھیرتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ عمل تین بار دوہراتے تھے اور ہر رات کو یہ عمل کرتے تھے۔
Takhreej
(۵۵۲۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۰۱۷، ۶۳۱۹ (انظر: ۲۴۸۵۳)
5529
Sahih
قرآن مجید کے اس حصے کا بیان، جو سونے سے پہلے تلاوت کیا جاتا ہے
۔ (۵۵۳۰)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا یَنَامُ حَتّٰی یَقْرَأَ الٓمٓ تَنْزِیلُ السَّجْدَۃَ، وَتَبَارَکَ الَّذِی بِیَدِہِ الْمُلْکُُُُُ۔ (مسند أحمد: ۱۴۷۱۳)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سورۂ سجدہ اور سورہ ملک کی تلاوت کیے بغیر نہیں سوتے تھے۔
Takhreej
(۵۵۳۰) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الترمذی: ۲۸۹۲(انظر: ۱۴۶۵۹)
5530
Sahih
قرآن مجید کے اس حصے کا بیان، جو سونے سے پہلے تلاوت کیا جاتا ہے
۔ (۵۵۳۱)۔ عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقْرَأُ الْمُسَبِّحَاتِ قَبْلَ أَنْ یَرْقُدَ، وَقَالَ: ((إِنَّ فِیہِنَّ آیَۃً أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ آیَۃٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۲۹۲)
۔ سیدنا عرباض بن ساریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سونے سے پہلے تسبیح والی سورتوںکی تلاوت کرتے اور فرماتے: ان سورتوں میں ایک ایسی آیت ہے،جو ایک ہزار آیتوں سے افضل ہے۔
Takhreej
(۵۵۳۱) تخریج: حسن، أخرجہ أبوداود: ۵۰۵۷، والترمذی: ۲۹۲۱، ۳۴۰۶(انظر: ۱۷۱۶۰)
Explanation
فوائد:… اَلْمُسَبِّحَات (تسبیح والی سورتوں) سے مراد قرآن مجید کی وہ سورتیں ہیں، جن کی ابتداء میں {سُبْحَانَ، سَبَّحَ اور یُسَبِّحُ} آیا ہے اور یہ کل سات سورتیں ہیں: سورۂ بنی اسرائیل، سورۂ حدید، سورۂ حشر، سورۂ صف، سورۂ جمعہ، سورۂ تغابن اور سورۂ اعلی۔
5531
Sahih

Chapters

9