۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اس حال میں سویا کہ اس کے ہاتھ میں گوشت کی بو یا چکناہٹ ہو اور پھر اس وجہ سے وہ کسی تکلیف میںمبتلا ہو جائے تو وہ صرف اپنے آپ کو ملامت کرے۔
فوائد:… کھانے کے بعد ہاتھ دھونا مستحب ہے، بالخصوص سونے سے پہلے، چکنائی کی بو پا کر کوئی کیڑا مکوڑا بھی کاٹ سکتا ہے اور یہ کھانا خراب ہو کر کسی بیماری کا سبب بھی بن سکتا ہے، اس لیے کھانے کے بعد ہاتھ دھو لینے چاہییں اور منہ بھی صاف کر لینا چاہیے، جیسا کہ دوسری احادیث سے ثابت ہوتا ہے، اسلام ہر حالت میں نظافت اور پاکیزگی کی تاکید کرتا ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آگ ہر گز تمہارے گھروں میں رات نہ گزارنے پائے، کیونکہ یہ تمہاری دشمن ہے۔
فوائد:… آگ میں لوگوںکے لیے بڑے فائدے ہیں، لیکن دشمن کی طرح اس کے ضرر سے کبھی بھی امن میں نہیں رہا جا سکتا، اس نے کئی لوگوں کو جلایا، گھروں کو جلایا اور گھروں کے ساز و سامان کو جلایا، لہذا سوتے وقت گھر کے اندر آگ کے وجود کو ختم کر کے سونا چاہیے۔
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اللہ کا نام لے کر) دروازے بند کر دیا کرو، برتنوں کو الٹا کر دیا کرو، مشکیزوں کے منہ باندھ دیا کرو اور چراغوں کو بجھا دیا کرو، کیونکہ شیطانوں کو ہر گز یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ دیواروں کو پھلانگ کر تمہارے گھروں میںگھس آ ئیں۔
Takhreej
(۵۵۱۶) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۲۲۲۶۴)
Explanation
فوائد:… بسم اللہ پڑھ کر گھروں کے دروازے بند کیے جائیں، دیکھیں حدیث نمبر (۵۵۶۸)۔
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ میں ایک گھر مالکوں سمیت جل گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی صورتحال بتلائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ آگ تمہاری دشمن ہے، اس لیے جب تم سونے لگو تو اس کو بجھا دیا کرو۔
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دروازوں کو بند کر دیا کرو، مشکیزوں کے منہ باندھ دیا کرو، برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو اور چراغوں کو بجھا دیا کرو، کیونکہ شیطان نہ بند دروازے کو کھولتا ہے، نہ مشکیزے کی ڈوری کو کھولتا ہے، نہ برتن کا ڈھکن ہٹاتا ہے اور آگ کی وجہ سے فاسق جانور یعنی چوہیا گھروالوں پر آگ لگا دیتی ہے۔
۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سونے لگتے تو اپنا دایاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ قِنِی عَذَابَکَ یَوْمَ تَجْمَعُ عِبَادَکَ (اے اللہ! جس دن تو اپنے بندوں کو جمع کرے گا، اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچالینا)۔
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بستر پر آتے تو دایاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ دعا پڑھتے: رَبِّ قِنِیْ عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ(اے میرے ربّ! جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا، اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچالینا)۔ ایک روایت میں تَبْعَثُ کے بجائے تَجْمَعُ کے الفاظ کا ذکر ہے۔
۔ زوجۂ رسول سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، پھر انھوں نے بھی اسی قسم کی مرفوع روایت بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا تین بار پڑھتے تھے۔
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ سونے کا ارادہ کرتے تو دایاں ہاتھ سر کے نیچے رکھتے اور یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ قِنِی عَذَابَکَ یَوْمَ تَجْمَعُ عِبَادَکَ(اے اللہ! اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچانا، جس دن تو اپنے بندوں کو جمع کرے گا)۔
۔ سیدنا طہفہ غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن مساکین کی ضیافت کی تھی، میں بھی ان میں شامل تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہمانوں کے خیال کے ارادے سے رات کو ہمارے پاس آئے اور مجھے اس حال میں پایا کہ میں پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاؤں سے مجھے ٹھوکر لگائی اور فرمایا: اس طرح نہ لیٹا کر، اللہ تعالیٰ لیٹنے کی اس کیفیت کو ناپسند کرتاہے۔
Takhreej
(۵۵۲۳) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ أبوداود: ۵۰۴۰، وابن ماجہ: ۳۷۲۳، ۳۷۲۴(انظر: ۲۳۶۱۵)
۔ (دوسری سند) سیدنا طہفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک گروہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مہمان بنے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس رات گزاری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو ہمارے پاس تشریف لائے اور مجھے پیٹ کے بل لیٹے ہوئے پایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے جگایا اور فرمایا: یہ جہنمی لوگوں کے لیٹنے کی کیفیت ہے۔
Takhreej
(۵۵۲۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… پیٹ کے بل سونا ناجائز ہے، افضل یہ ہے کہ دائیں کروٹ پر سویا جائے۔
۔ سیدنا عمرو بن شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے، جبکہ وہ اپنے چہرے کے بل سویا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سونے کی یہ کیفیت اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسند ہے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے، جبکہ وہ پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس طرح لیٹنے کو پسند نہیں کرتا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تنہائی سے منع کیا ہے، یعنی آدمی کا اکیلا رات گزارنا اور تنہا سفرکرنا۔
Takhreej
(۵۵۲۷) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی فی صحیحتہ، أخرجہ البخاری: ۲۹۹۸ دون النھی عن ان یبیت الرجل وحدہ (انظر: )
Explanation
فوائد:… نفع و نقصان کا حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہے، لیکن اس نے لوگوں کے ظاہری حالات و احساسات کو مد نظر رکھ کر تحفظ کے قوانین وضع کیے ہیں، ایک قانوں یہ ہے کہ نہ تنہا سفر کیا جائے اور تنہا رات گزاری جائے ۔
۔ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے بستر پر آتا ہے اور کتاب اللہ کی ایک سورت تلاوت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو اس کی طرف بھیجتے ہیں، وہ اس کو ایذا پہنچانے والی ہر چیز سے اس کی حفاظت کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، جب بھی بیدار ہو۔
Takhreej
(۵۵۲۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام الراوی عن شداد بن اوس، وابو مسعود الجریری قد اختلط، وروایۃ یزید بن ھارون عنہ بعد اختلاطہ، أخرجہ الترمذی: ۳۴۰۷ (انظر: ۱۷۱۳۲)
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنے بستر پر آتے تو اپنی ہتھیلیوں کو جمع کر کے ان میں اس طرح پھونک مارتے کہ تھوڑی سی تھوک بھی ہوتی اور ان میں یہ سورتیں تلاوت کرتے: سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ دونوں ہاتھ جہاں تک ہو سکتا، اپنے جسم پر اس طرح پھیرتے کہ اپنے سر اور چہرے سے شروع کرتے، پھر جسم کے سامنے والے حصے پر پھیرتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ عمل تین بار دوہراتے تھے اور ہر رات کو یہ عمل کرتے تھے۔
۔ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سونے سے پہلے تسبیح والی سورتوںکی تلاوت کرتے اور فرماتے: ان سورتوں میں ایک ایسی آیت ہے،جو ایک ہزار آیتوں سے افضل ہے۔
فوائد:… اَلْمُسَبِّحَات (تسبیح والی سورتوں) سے مراد قرآن مجید کی وہ سورتیں ہیں، جن کی ابتداء میں {سُبْحَانَ، سَبَّحَ اور یُسَبِّحُ} آیا ہے اور یہ کل سات سورتیں ہیں: سورۂ بنی اسرائیل، سورۂ حدید، سورۂ حشر، سورۂ صف، سورۂ جمعہ، سورۂ تغابن اور سورۂ اعلی۔